سید نثار علی ترمذی 

تعصب کے نقصانات میں سے ایک یہ ہے کہ متعصب شخص بہت سی علمی شخصیات کو فقط تعصب کی بنیاد پر نظر انداز کر دیتا ہے یوں وہ نہ صرف  ایک علمی سرمایے سے بے بہرہ رہتا ہے وہیں وہ اپنی گھر کی واحد کھڑکی سے نظر آنے والی کائنات کو حتمی سمجھتا ہے جب کہ اس سے باہر تنگی داماں کے ازالے کا سامان کافی موجود تھا۔ آج مسلمانوں کے درمیان جو مسایٔل پیدا ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں ان کا ایک سبب یہی تعصب ہے۔ اپنے کو حق اور دوسرے کو باطل سمجھ کر ایک دوسرے کے علمی ذخیرے سے استفادہ نہیں کرتے بلکہ سنی سناتی باتوں سے بدگمانی کا پہاڑ کھڑا کرتے ہیں اور وراثت کی طرح نسلوں میں پروان چڑھاتے رہتے ہیں۔ اسی تعصب کا ایک شاخسانہ عالم اسلام کی ایک علمی شخصیت ڈاکٹر حمید اللہ کی ہے کہ جن کے افکار ایک دائرے کے اندر رہ گئے حالانکہ انھوں نے اپنی پوری زندگی تحقیق جستجو اور مستشرقین کے اعتراضات کے مدلل جواب دینے میں صرف کر دی۔زندگی بھر غیر مسلموںکے دلوں میں اسلام کی آبیاری کے علاوہ کچھ نہ کمایا۔ اللہ ان کی اس کاوش کو سرمایہ آخرت قرار دے ۔ آمین



تحریر: نثار علی ترمذی
مذکورہ بالا عنوان خود مولانا مودودیؒ نے تجویز کیا ہے اور کیا خوب کیا ہے۔ واقعی یہ ایک فتنہ ہے جس سے امت محمدی اس وقت دوچار ہے ۔خصوصاً پاکستان کے بسنے والے سب مسلمان اس فتنے کی زد میں ہیں۔ اگر یہ فتنہ زبانی حد تک ہوتا تو شاید یہ معاملہ اتنا تشویشناک نہ تھا ۔ مگر اب تو یہ فتنہ ناسور بن کر رہ گیا ہے۔ اس کی زد میں ہرسن و سال کے لوگ اور ہر مبارک اور متبرک جگہ آ چکی ہے کہ جہاں سے امن و آشتی اور صلح جوئی کی آوازیں اٹھنی تھیں وہاں سے اب ایک دوسرے کو کافر کہنے کے اعلانات ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مال و اسباب اور ناموس کو لوٹنے کے علاوہ قتل و غارت گری کے منصوبے بنتے بھی ہیں اور عمل بھی ہوتا ہے۔ اللہ نے اپنے حبیبؐ کو اس لیے مبعوث فرمایا کہ وہ لوگوں کو مسلمان بنائیں جبکہ ان کے امتی ان کے نام پر مسلمانوں کو کافر بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایک مومن کا خون حرم محترم کے تقدس سے بالاتر تھا  جبکہ آج ایک مومن کا خون اس بے دردی سے بہایا جاتا ہے کہ سرزمین پاک اب لہو لہان ہو چکی ہے۔ یہ خون مسلمانوں کا خون ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا ہے۔ نہ جانے یہ لوگ روز قیامت اپنے نبیؐ کو کیا منہ دکھائیں گے۔

جمعرات, 19 مارچ 2020 15:53

قرآن میں وحدت کا پیغام



قرآن مجید راہنما ہے۔ الٰہی راہنمائی ہے۔ یہ راہنمائی ایسی ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں۔ قرآن مجید تمام مسلمانوں کے درمیان متفقہ آسمانی کتاب ہے۔ اس میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے۔ اس کے ہر لفظ و حرف پر ایک مسلمان کا ایمان محکم ہے۔ کسی آیت کا انکار کفر ہے۔ اس کے ہر حکم پر عمل ضروری ہے۔ آج جس قدر امت پریشان بلکہ ذلیل و خوار اور انتشار و افتراق کے چنگل میں پھنس چکی ہے اس کا ایک سبب قرآن مجید سے دوری ہے۔ علامہ اقبالؒ جواب شکوہ میںاس مفہوم کو یوں ادا کرتے ہیں:

الجمعة, 28 جولائی 2017 17:08

اسلامی اتحاد کیسے قائم ہو؟




سید نثار علی ترمذی

آیت اللہ العظمی شیخ محمد حسین آل کاشف الغطا(قدس سرہ)
By Ayatullah Shaikh Muhammad Husayn Kashif al-Ghita Introduction Late Ayatullah Shaikh Muuammad Husayn Kashif al-Ghita is considered as one among the leading Muslims scholars. He was simultaneously skilled in Fiqh (jurisprudence), Arabic literature, philosophy, Hikmah (wisdom), Tafsir (exegesis) and Irfan (gnosticism) and was the first jurist who introduced comparative study of Fiqh at Hawza Ilmiyya in Najaf, Iraq. He penned several books including Asl al-Shia wa usuluha, Asl al-Shia wa Sunnah, Al-Ayat al-bayyinat, Tahrir al-majala, Al-Din wa l-Islam, Ayn al-Mizan, Al-Mawakib al-Husayniyya, Manasik Haj, Wajiza al-ahkam and Al-Urwa al-wuthqa. Aytullah Kashif al-Ghita was an ardent supporter of Muslim unity and used his writings, sermons and research papers to familiarize the nobles and the general masses of bringing different Muslim sects close to one another. The article under review is a reflection of the same belief and feeling. It has to be kept in mind while reading this paper that it was written almost 40 years earlier, but several points raised in it indicate that the situation is same as it was then. This piece of writing was selected by Nisar Ali Tirmzi to be published for the respected readers of the Monthly Payam.
دارالتقریب قاہرہ کے مجلے’’رسالۃ الاسلام‘‘ کے دوسرے سال کا پہلا شمارہ موصول ہوا جس قدر وقت اور فرصت مل سکی ہم نے اس کا مطالعہ کیا۔ اس شمارے کے آخری مقالے اور اس سے قبل کے شماروں کے مطالعے۔۔۔

تازہ مقالے