الجمعة, 08 نومبر 2019 11:40



مجلس بصیرت

مجلس بصیرت کی ایک نشست کی روداد

مجلس بصیرت کی ایک نشست کی روداد
مجلس بصیرت کے نام سے علمی محافل کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے 12اکتوبر 2019 کو شعائر الٰہی کی حقیقت کے زیر عنوان ایک نشست اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ اس کے آغاز میں سید ثاقب اکبر نے موضوع کو متعارف کروانے کے لیے چند کلمات ادا کیے جن کے خلاصے سے قارئین کے لیے رپورٹ کا آغاز کیا جاتا ہے۔اس رپورٹ کو محترمہ عابدہ عباس نے سن کر لکھا ہے، ان کے شکریے کے ساتھ رپورٹ پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

منگل, 13 مارچ 2018 02:12



گذشتہ ماہ کے اختتام پر پیرس میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کا نام فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس واچ لسٹ کی گرے کیٹیگری میں شامل کر لیا گیا۔ اس پر عمل درآمد جون سے ہوگا۔ اس اقدام کے باعث پاکستان کو نئی سخت معاشی پابندیوںکا سامنا کرنا پڑے گا۔ گرے لسٹ میں ان ملکوں کا نام شامل کیا جاتا ہے جنھیں دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام میں تعاون نہ کرنے والے ممالک قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں پاکستان کے علاوہ اس وقت ایتھوپیا، عراق، سربیا، شام، ٹرینیڈیڈ اینڈ ٹوبیگو،تیونس، ویناٹو اور یمن شامل ہیں۔ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔اس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت، ترکی، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک سمیت 37ممالک شامل ہیں۔ خلیج تعاون کونسل میں سر Category سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ مذکورہ بالا واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمائے کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہو گی اور ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس فیصلے سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ اور مالی ساخت کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ ایشیا پیسیفک گروپ میں بھی پاکستان کی شمولیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

منگل, 15 جنوری 2008 01:57



یہ بات درست ہے کہ سانحہ ٔپشاور کے سوا عشرۂ محرم مجموعی طور پرامن سے گزر گیا۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے دہشت گردی کی ممکنہ کارروائیوں کوروکنے کے لئے موثر انتظامات کیے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ سارے ملک میں سیکیورٹی کے انتظامات پر عوام کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ خوف ووحشت کی یہ فضا کب تک قائم رہے گی۔ پورے ملک میں لوگ اور انتظامیہ خوف زدہ کیوں ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ فوج اورپولیس اس ملک میں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوگئی ہے۔ سچی بات ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے پولیس کے ان اہل کاروں کے لئے دل بے چین رہتا ہے جو امن وامان کی بحالی اور سیکیورٹی کی ذمہ داریوں پرمامور ہوتے ہیں۔اس راستے میں سینکڑوں اپنی جانوںکا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔معمولی سی تنخواہ، انتہائی کم وسائل اور دہشت گردوں کے مقابلے میں کم تر دفاعی سازوسامان کے ساتھ جب یہ جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھے چوراہوںاور چوکوں میں کھڑے اور چیکینگ کرتے نظر آتے ہیں تو دل ڈر جاتا ہے۔۔۔

بدھ, 17 جنوری 2018 01:55



16جنوری 2018کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا جب ایوان صدر میں 1829علماء اور اہل دانش کے دستخطوں اور تائید سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں دہشت گردی، انتہا پسندی، تکفیریت اور خارجیت کی تمام جدید وقدیم شکلوں کو مسترد کردیا گیا ہے۔ اس فتویٰ کی تائید و توثیق پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام، اسلامی علوم کے ماہرین اور ماضی میں شدت پسندی میں شہرت رکھنے والے بعض راہنما ئوں نے بھی کی ہے۔ پاکستان میں دینی مدارس کی پانچ باقاعدہ تنظیمیں ہیں جن میں وفاق المدارس العربیہ(دیوبندی)، تنظیم المدارس پاکستان(بریلوی)، رابطۃ المدارس العربیہ(جماعت اسلامی)، وفاق المدارس سلفیہ(اہل حدیث) اور وفاق المدارس شیعہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض اہم مدارس ہیں کہ جو بظاہر اپنے آپ کو کسی وفاق کا حصہ نہیں کہتے، اس مذکورہ فتویٰ جسے ’’پیغام پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا ہے کی تائید ان سب کی قیادت نے کی ہے۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا اور تاریخی اجماع ہے جس نے پاکستان کے روشن مستقبل کی ایک نوید سنائی ہے۔

بدھ, 16 جنوری 2019 01:50



16جنوری 2018 کو یعنی آج سے ایک برس پہلے ایوان صدر میں ایک یادگار تقریب میں 1829 علماء اور دانشوروں کے دستخطوں کے ساتھ ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں میں دہشت گردی، انتہا پسندی ، تکفیریت اور خارجیت کی تمام شکلوں کومسترد کردیا گیا۔ اس فتویٰ کو پاکستان کے تمام اسلامی مسالک کے جید اور ذمہ دار علماء کی تائید حاصل ہے۔ دینی مدارس کی پانچوں تنظیموں کے سربراہوں کی تائید و امضاء نے اسے اور بھی معتبر کر دیا ہے۔ ہم نے گذشتہ برس اس پیغام کے سامنے آنے کے بعد یہ بات لکھی تھی کہ ’’پیغام پاکستان‘‘ کو یقینی طور پر قرارداد مقاصد کی عظیم الشان دستاویز کے بعد ایک بڑی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں قرارداد مقاصد کی ایک مرتبہ پھر تائید و توثیق ہی نہیں کی گئی بلکہ اس کی ضروری وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔ ہماری یہ بھی رائے ہے کہ اس سے پہلے اکتیس علماء کے بائیس نکات بھی تاریخ پاکستان میں اسلامی مسالک و مذاہب کے ا تحاد کی ایک اہم اساس، بیانیہ اور دستاویز کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ یقینی طور پر جب پاکستان میں دہشتگردی اور تکفیریت اپنے عروج پر تھی اور جب ایک گروہ کی طرف سے قرآن و سنت کی مختلف آیات وروایات کی۔۔۔