سید ثاقب اکبر نقوی

کرونا کے دور میں لگتا ہے کہ بہت کچھ بدل گیا ہے اور شاید بہت کچھ بدل جائے، کیونکہ پیش گوئیاں تو یہ ہو رہی ہیں کہ کرونا کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا۔ حکومتوں کی ترجیحات تبدیل ہوگئیں اور روابط کے انداز بدل گئے۔

سوموار, 11 مئی 2020 15:52

صدی کا سودا: صہیونی سو(100) دا



تحریر:سید ثاقب اکبر 

2017 سے صدی کا سودا(Deal of the Century) کے تذکرے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک یہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا حتمی اور جدید حل ہے۔ ہم اسے صدی کا سودا کے بجائے صہیونی سو(100)دائو پر مشتمل ایک پُر فریب جال خیال کرتے ہیں۔ 



 
سید ثاقب اکبر نقوی

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2017ء میں سعودی عرب کی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور مہنگا منصوبہ پیش کیا، جس کا عنوان وژن 2030ء رکھا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ پراجیکٹ جدید معیارات کے مطابق اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا۔



تحریر:خالد امائرے مشرقی بیت المقدس 

اکسٹھ برس قبل انسانی تاریخ کے بڑے جرائم میں سے ایک جرم اس وقت وقوع پذیر ہوا کہ جب یورپ کے نازی یہودیوں نے مغربی قوتوں کے تعاون سے فلسطین پر قبضہ جما لیا اور یہاں کے مقامی باشندوں کو دنیا کے چار کونوں میں منتشر کردیا-فلسطین میں وحشیوں نے وسیع پیمانے پر قتل عام کیا اورارض فلسطین میں ظلم و زیادتی اور اجتماعی قتل و غارت کی وہ داستانیں رقم ہوئیں کہ جو چند سال پہلے یورپ میں وقوع پذیر ہوئی تھیں- مجرم غاصبوں نے اسرائیل کو جنم دیا جو ایک نسل پرست ریاست ہے جس کی بنیاد نسلی تطہیر، اراضی پر قبضے، لوگوں کو نکال باہر کرنے اور دروغ گوئی پر ہے-فلسطین کی سرزمین پر بدی کی ریاست اسرائیل کا قیام عصمت دری کا واقعہ ہے-



تحریر:سید ثاقب اکبر 

ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقائوں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنمائوں کے جرأت مندانہ اوردوٹوک موقف سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔