منگل, 03 كانون1/ديسمبر 2019 17:31



 
سید ثاقب اکبر نقوی

طلبہ کا یہ کہنا بجا ہے کہ 18 سال کی عمر میں ووٹ کا حق ہے تو سیاست کا حق کیوں نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ انجمن سازی ایک آئینی حق ہے اور وہ سیاستدان جنھیں 1973ء کے آئین پر مان ہے اور وہ اسے ایک مقدس دستاویز قرار دیتے ہیں اور ان میں سے وہ بھی ہیں،،،

الجمعة, 29 نومبر 2019 17:56



 
سید ثاقب اکبر نقوی

گذشتہ رات (28 نومبر 2019ء کو) امریکی صدر ٹرمپ غیر اعلانیہ طور پر افغانستان کے بگرام ایئربیس پر پہنچے۔ ان کے ہوائی جہاز کو دو چھوٹے طیارے حفاظتی حصار میں رکھے ہوئے تھے۔ سکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر اس دورہ کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ بگرام ایئربیس پر ہی افغان صدر کو بھی بلا لیا گیا تھا اور وہیں پر ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کروائی گئی۔۔۔

جمعرات, 28 نومبر 2019 15:38



 
سید ثاقب اکبر نقوی

جب دین کو ایک انسانی تہذیب کے طور پر نہ دیکھا جائے تو پھر مذہبی کتابوں میں موجود عبارات میں سے انفرادی طور پر احکام و مسائل کے استنباط اور استخراج کا طریقہ رواج پا جاتا ہے۔ ہر شخص مختلف عبارتوں سے اپنے ذوق اور انداز فکر کے مطابق مفاہیم اخذ کرتا ہے۔ اپنی پسندیدہ شخصیات یا جن کی عظمت کا تصور ذہن پر چھایا ہوتا ہے۔۔۔

منگل, 19 نومبر 2019 10:57



 
سید ثاقب اکبر نقوی

واٹس ایپ تو عجیب مصیبت ہے۔ ہر گروپ میں ہر طرح کی فلمیں، آڈیوز، ویڈیوز اور بہت کچھ۔ ایک مخصوص موضوع پر گروپ بنتا ہے اور پھر موضوع تلاش کرنے سے بہت مشکل سے ملتا ہے۔ گروپ ساز بار بار گزارش کرتے ہیں کہ ”خواتین و حضرات! اس گروپ کا یہ موضوع ہے، اس کا یہ مقصد ہے“، لیکن قسم ہے جو ”معمولات ترسیل“ میں کوئی فرق پڑے۔ اوّل تو یہ لگتا ہے جیسے کسی نے یہ گزارش پڑھی ہی نہیں، لیکن پڑھی بھی ہو تو طرح طرح کے عذر ہیں مثلاً: فلاں نے بھی تو ایسی پوسٹ کی ہے، اس پوسٹ کا مقصد فقط اطلاع دینا ہے، وغیرہ۔ اگر پوسٹ کسی مذہبی نظریے یا شخصیت کے بارے میں ہے، اگرچہ گروپ کے موضوع سے ہٹ کر ہے تو پھر سمجھانے والے کی خیر نہیں، اسے آسانی سے دشمن دین اور دشمن مقدسات دین بنایا جاسکتا ہے۔ ہم نے خود بھی اس کا تجربہ کیا۔ ایک گروپ علمی و فکری تجزیات کے لیے بنایا۔ طرح طرح کی تصویریں، ویڈیوز، آڈیوز، تبصرے، خبریں، اشتہارات اور بہت کچھ اس میں آنے لگے۔ فرقہ وارانہ پوسٹیں الگ۔ آخر کار ہم نے دلچسپی چھوڑ دی۔

ہفته, 02 نومبر 2019 08:39



’’سائنس: تلاش حق‘‘یہ کتاب ماہر طبیعیات ڈاکٹر حامد سلیم کی تصنیف ہے۔ اس کی تقریب رونمائی 18اکتوبر 2019 کو پاکستان اکیڈمی آف سائنسز(PAS) کے آڈیٹوریم (اسلام آباد) میں منعقد ہوئی۔ اکیڈمی کے ساتھ تقریب کے انعقاد کے لیے اسلام آباد سرکل نے ا شتراک کیا تھا۔ تقریب میں جناب سید ثاقب اکبر کے علاوہ پی اے ایس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان، پروفیسر ڈاکٹر ہود بھائی، تقریب کے مہمان خصوصی سینیٹر فرحت اللہ بابراور صاحب کتاب نے خطاب کیا۔ خوش آمدید اسلام آباد سرکل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الماس حیدر نقوی اورپی اے ایس کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اسلم بیگ نے کہا۔ ذیل میں کتاب کے بارے میں سید ثاقب اکبر کا اظہاریہ پیش کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه مقالے