سوموار, 28 أكتوبر 2019 18:30

اگلا خلیفه کون ہو گا؟




سید اسد عباس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی سپیشل فورسز نے داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو قتل کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بغدادی نے خودکش جیکٹ پہنی ہوئی تھی وہ پھٹنے سے بغدادی کی شناخت ممکن نہیں ہے، دھماکے کے سبب سرنگ بغدادی کے اوپر گری جس کے سبب اس کی باقیات بھی نہیں مل پائی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس مشن کے لیے ہمیں روس، عراق ، کردوں کا تعاون حاصل رہا، یہ ایک مشکل مشن تھا جسے بغیر کسی نقصان کے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بغدادی ہماری افواج کے حملے کے سبب چلا رہا تھا اور پھر جب اس نے دیکھا کہ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ بغدادی پر حملے کا واقعہ شام کے علاقے ادلب میں پیش آیا جہاں اس وقت شامی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ ابو بکر البغدادی کے مارے جانے کی اطلاعات اس سے قبل بھی کئی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں روس، ایران، عراق اور شام سبھی نے ابوبکر کے قتل کا دعوی کیا ہے تاہم اب چونکہ امریکہ کہ رہا ہے کہ بغدادی مارا گیا ہے تو دنیا کو یقین کرنا چاہیے کہ اب دوبارہ بغدادی کا تذکرہ کہیں سننے کو نہیں ملے گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک وجہ تو یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بڑے دہشت گرد پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کا بھی دعوی کیا تھا۔

تازہ مقالے