سید اسد عباس

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قضیہ فلسطین فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ صہیونی اور ان کے سرپرست اسی طرح اس ریاست کو ناجائز اور خطے میں مسائل کا سرچشمہ قرار دینے والے تقریباً حتمی کاوشیں سرانجام دے رہے ہیں۔



 
سید اسد عباس

آج انسانیت ایک دوراہے پر کھڑی ہے، اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ کرونا ان کے لیے زیادہ خطرناک ہے یا بھوک اور معاشی تعطل۔ دنیا کا خیال تھا کہ چند ہفتوں کے لاک ڈاون سے کرونا کی وبا کو کنٹرول کر لیا جائے گا، کئی ممالک کو تو یہ توقع ہی نہیں تھی کہ کرونا ان کے ممالک پر یوں حملہ آور ہوگا۔ 



تحریر:افتخار گیلانی 

مشرق وسطیٰ میں جہاں اس وقت امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی عروج پر ہے، وہیں فلسطین کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ، یورپی یونین، ان کے عرب حکمران اور اسرائیل ایک فارمولے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں، جس کو ’ڈیل آف سنچری‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔  چند ماہ قبل دہلی کے دورے پر آئے ایک یہودی عالم ڈیوڈ روزن نے عندیہ دیا تھا کہ: 
’’سابق امریکی صدر بارک اوباما جس خاکے کو تیار کرنے میں ناکام ہو گئے تھے، ٹرمپ، سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے تعاون سے فلسطین کے حتمی حل کے قریب پہنچ گئے ہیں‘‘۔

سوموار, 27 اپریل 2020 04:40

کیا یہ وہی ایران ہے؟



 
سید اسد عباس

گذشتہ دنوں ایران نے اپنے ملک میں تیار ہونے والی سیٹلائیٹ نور کو اپنے ہی ملک میں تیار ہونے والے لانچر کے ذریعے کامیابی سے فضا میں پہنچا دیا، سیٹلائیٹ نے لانچ ہونے کے نوے منٹ بعد اپنے زمینی مرکز پر سگنل دینے شروع کر دیئے تھے۔

بدھ, 22 اپریل 2020 08:10

کویڈ 19 کے معاشی اثرات



 
سید اسد عباس

آج کل کویڈ 19 دنیا کے اعصاب پر سوار ہے، ایسے میں خبریں بھی کویڈ کی ہیں اور فیصلے بھی کویڈ کے لیے۔ کویڈ سے ہٹ کر کچھ کہا بھی جائے تو شاید بے وقت کی راگنی کے مترادف ہوگا۔ فی الحال تو دنیا کویڈ کے انسانی زندگی پر پڑتے والے اثرات پر غور کر رہی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔

تازہ مقالے