سوموار, 02 نومبر 2020 09:53

ماہنامہ پیام وسیرت النبیؐ



تدوین و ترتیب : سید اسد عباس
ماہنام پیام ۱۹۹۷ء سے شائع ہورہا ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے قارئین تک علی و فکری مطالب کو بہم پہنچایا جائے تاکہ تشنگان علم کی آبیاری کی سبیل جاری رہی۔ زیر نظر تحریر میں ہم نے ماہنامہ پیام کے دستیاب شماروں میں شائع ہونے والے سیرت النبی ؐ سے متعلق مقالات کی ایک Category کو مرتب کیا ہے نیز اس عنوان سے ماہنامہ پیام کے خصوصی شماروں کا الگ سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ امید ہے یہ Category قارئین کے لیے مفید اور لائق تشویق ہوگی۔ اشاریہ یا Category سازی کا یہ کام قبلا پروفیسر عارف حسین نقوی مرحوم انجام دیا کرتے تھے آج ان کے تشکیل دئیے ہوئے اشاریوں سے استفادے کا سلسلہ جاری ہے۔ مقالات کی تلاش اور موضوعات کے تعین مین یہ اشاریے نہایت مفید ہیں۔ اللہ کریم مرحوم پروفیسر عارف حسین نقوی کو اس علمی خدمت پر اجر عظیم عنایت فرمائے۔

ہفته, 31 أكتوبر 2020 15:49

اداریہ پیام نومبر



آمد مصطفی مرحبا مرحبا
افضل الاناس، خیر البشر، ختم الرسل، رحمت دو جہاں، ہادی انس و جاں، داور بے کساں، منجی بشر،احمد ، محمد، مصطفی ، طہ،یس،،مزمل جس کا خود خالق کائنات ثناء خواں ہےاس کی بھلا کوئی انسان کیا تعریف و توصیف بیان کرے۔ ہماری زبان اور قلم میں وہ سکت ہی نہیں کہ اس ہستی کے وصف کو بیان کرسکیں۔ممدوح خدا ہونا ہی وہ وصف ہےکہ پوری انسانیت اس ہستی کے گن گاتی رہی ۔ ماہ ربیع الاول کائنات کی اس بہار کی آمد کا مہینہ ہے۔ یہ اس گل سرسبد کے کھلنے کا موسم ہے جس کی خشبو نے طول تاریخ میں اقوام عالم کو پاکیزگی اور لطافت سے معطر کر دیا۔ یہ اس نور کے ظہور کی گھڑی ہے جس نے دنیا کے گوش و کنار کوتوحید کی کرنوں سے روشن کر دیا۔ اہل ایمان کے دل اس مبارک گھڑی میں خوش کیوں نہ ہوں ؟ کیوں نہ اس بدر کے طلوع کا جشن منائیں اور خوشی کے عالم میں گنگناتے پھریں :
طَلَعَ الْبَدرُ عَلَیْنَا
مِنْ ثَنِیّا تِ الْودَاعٖ
وَجَبَ الشّْکرُ عَلَیْنا
مَا دَ عَا لِلّٰہِ دَا عٖ 



 
سید اسد عباس

جیسا کہ ہم نے اپنی گذشتہ تحریروں میں اعداد و شمار اور امریکی دانشوروں اور ماہرین کے اقوال کے ذیل میں دیکھا کہ امریکی ریاست، سیاست اور فوجی طاقت کے زوال کا عندیہ تقریباً ہر پیرائے سے عیاں ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال کرونا کے دوران امریکہ میں میڈیکل پراڈکٹس کی پیداواری صلاحیت کی کمی ہے، جس کے لیے یا تو امریکہ کو پیداوار بڑھانی تھی یا پھر ان مصنوعات کو چین سے درآمد کرنا تھا۔ چین گذشتہ کئی برسوں سے امریکی منڈی سمیت اینٹی بائیوٹکس کے خام مال کی برآمد میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔ چین نالج شیئرنگ، طبی سامان، عملے اور مالی اشتراک سے پوری دنیا کو اپنی کثیر الجہتی سفارتی امداد میں مسلسل توسیع کر رہا ہے۔ 



 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں یہ جانا کہ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سے امریکی لکھاری امریکی عروج کو زوال میں بدلتا دیکھ رہے ہیں۔ اس بات کا اظہار انھوں نے اب اپنی تحریروں اور تقاریر میں کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر ہم امریکی ریاست کے عروج کی بنیادوں سے متعلق اعداد و شمار کو کھوجھیں تو ہم ہی نہیں کوئی بھی با آسانی دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ اور اس سے جڑا ہر نظام تنزل کا شکار ہے۔ اس بات میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ معاشی میدان میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے اور چین، جرمنی، برازیل، روس کی جانب سے اسے معاشی میدان میں بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔



 
سید اسد عباس

معروف امریکی فلسفی اور لکھاری نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ امریکی زوال کی ابتدا جنگ عظیم دوئم کے بعد سے ہوچکی ہے۔ عروج اور زوال ایک وسیع مفہوم ہیں عروج کو اگر فقط مادی نگاہ سے دیکھا جائے تو مادی میدانوں میں ترقی یا تنزلی کو ہی عروج و زوال کے پیمانے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اگر مادی کے ساتھ ساتھ معنوی اور سماجی ترقی اور تنزلی کو بھی مدنظر رکھا جائے تو عروج و زوال کے معنی بدل جائیں گے۔ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ امریکہ میں بہت سے ایسے دانشور موجود ہیں، جو اس بات کے قائل ہیں کہ امریکہ زوال پذیر ہے اور موجودہ دہائی میں اس زوال میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔

تازہ مقالے