بدھ, 30 دسمبر 2020 16:28

پیام شمارہ جنوری

اجمال پیام


پیام شمارہ ماہ جنوری 2021 پی ڈی ایف کی صورت میں مطالعہ کرنے کے لیے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں ۔ شکریہ !

Published in Payam 2020
بدھ, 23 دسمبر 2020 09:39

مومنِ صادق کی وفات



ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی 
فاضل ندوۃ العلماء، رہنما جماعت اسلامی ہند

مشہور شیعہ عالم اور دانش ور مولانا کلب صادق (ولادت 1939) گزشتہ شب واقعی وفات پاگئے۔ وہ 82 برس کے تھے۔ ان کی وفات کی اطلاع ان کے صاحب زادے سبطین صاحب نے دی۔"واقعی " کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا کہ ایک ہفتہ قبل اسی طرح کی خبر عام ہوگئی تھی، جو غلط ثابت ہوئی تھی۔ الہ آباد کے میرے ایک بزرگ کرم فرما ڈاکٹر سرفراز عالم نے 18 نومبر کی دوپہر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مجھے ان کی وفات کی خبر دی۔ اُس وقت تک سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر پوری دنیا میں پھیل چکی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں ان کا دوبارہ فون آیا اور انھوں نے اس کی تردید کی۔ بہرحال اس غلط خبر سے مولانا کی عالمی سطح پر مقبولیت کا بہ خوبی اندازہ ہوگیا تھا۔ کیوں کہ نہ صرف ملک کے مسلم اور غیر مسلم تمام طبقات نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا تھا، بلکہ بیرونِ ملک میں بھی انہیں اچھے الفاظ میں یاد کیا گیا تھا۔

Published in مهم شخصیات



سید نثار علی ترمذی 

تعصب کے نقصانات میں سے ایک یہ ہے کہ متعصب شخص بہت سی علمی شخصیات کو فقط تعصب کی بنیاد پر نظر انداز کر دیتا ہے یوں وہ نہ صرف  ایک علمی سرمایے سے بے بہرہ رہتا ہے وہیں وہ اپنی گھر کی واحد کھڑکی سے نظر آنے والی کائنات کو حتمی سمجھتا ہے جب کہ اس سے باہر تنگی داماں کے ازالے کا سامان کافی موجود تھا۔ آج مسلمانوں کے درمیان جو مسایٔل پیدا ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں ان کا ایک سبب یہی تعصب ہے۔ اپنے کو حق اور دوسرے کو باطل سمجھ کر ایک دوسرے کے علمی ذخیرے سے استفادہ نہیں کرتے بلکہ سنی سناتی باتوں سے بدگمانی کا پہاڑ کھڑا کرتے ہیں اور وراثت کی طرح نسلوں میں پروان چڑھاتے رہتے ہیں۔ اسی تعصب کا ایک شاخسانہ عالم اسلام کی ایک علمی شخصیت ڈاکٹر حمید اللہ کی ہے کہ جن کے افکار ایک دائرے کے اندر رہ گئے حالانکہ انھوں نے اپنی پوری زندگی تحقیق جستجو اور مستشرقین کے اعتراضات کے مدلل جواب دینے میں صرف کر دی۔زندگی بھر غیر مسلموںکے دلوں میں اسلام کی آبیاری کے علاوہ کچھ نہ کمایا۔ اللہ ان کی اس کاوش کو سرمایہ آخرت قرار دے ۔ آمین

Published in مهم شخصیات



سلمان رشید

تحریک پاکستان کے رہنما اور بالآخر 14 اگست 1947ء کو نئی تشکیل شدہ ریاستِ پاکستان کے گورنر جنرل بننے کے بعد ، ہمارے بابائے قوم قائدِاعظم محمد علی جناح نے ہمارے نظریاتی بانی علامہ محمد اقبال کی طرح ایک وحدتِ اسلام کے نظرئیے کا اشتراک کیا جبکہ علامہ اقبال وہ  عظیم مفکر ، فلسفی  اور شاعر ہیں جس نے مسلم دنیا میں بہت سارے انقلابات کو متاثر کیا۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے نام پر یہ فیشن بن گیا ہے کہ مسلم دنیا میں پاکستان کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک تنگ نظریہ ہو جس کے نعرے لگائے گئے جیسے پہلے پاکستان یا سب سے پہلے پاکستان جبکہ یہ نظریہ بانیانِ پاکستان کے نظریات کے خلاف ہے۔ خاص طور پر قائدِ اعظم یہ چاہتے تھے کہ پاکستان مسلم دنیا کیلئے قائدانہ کردار ادا کرے۔ آپ نے فرمایا کہ یاد رکھنا ہم ایک ایسی ریاست کی تشکیل کر رہے ہیں جو پوری اسلامی دنیا کی منزل کا تعین طے کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کرے گی۔

Published in مهم شخصیات



حکیم سرور سہارنپوری
آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس منعقدہ 15 نومبر 1942 ء میں قائد اعظم نے وہ بصیرت افروز اور چشم کشا خطاب کیا جس کی ضیا باری سے آج بھی تاریخ پاکستان روشن ہے۔ قائد اعظم نے فرمایا :
 مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمد للہ ، قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا ۔

Published in مهم شخصیات
سوموار, 07 دسمبر 2020 11:57

اداریہ پیام دسمبر



کسی مقصد کے لیے جینا اور اس پر ہر چیز کو قربان کر دینا، انسانی تاریخ کا حصہ رہا ہے، ہم اپنے اردگرد بھی بہت سے ایسے افراد کو جانتے ہوں گے، جنھوں نے اپنی زندگیوں کو کسی نہ کسی مقصد کے لیے وقف کیا اور اسی کے تحت اپنے جیون بتا گئے۔ تقریباً سبھی انسان اس صلاحیت کے حامل ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو کسی مقصد کے لیے وقف کر دیں۔ والدین اپنے بچوں کے لیے اپنی صلاحیات کو وقف کر دیتے ہیں، ان میں سے بھی ماں زیادہ اس صلاحیت کی حامل ہوتی ہے۔ بعض افراد کی سوچ اپنی ذات سے نکل کر کسی دوسرے انسان کے لیے ایسا کرتی ہے۔ بعض لوگ معاشرے کے ایک طبقے کی فلاح و بہبود کو اپنا ہم و غم بنا لیتے ہیں۔ مدر ٹریسا، عبد الستار ایدھی اور سینکڑوں ان جیسے انسان جو انسانیت کی بہتری کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ایسے لوگ انسانوں کی نظر میں قابل احترام ہوتے ہیں۔ ایسے شخص کی معاشرے میں تاثیر جس قدر زیادہ ہو اور اس کے مقصد سے جس قدر انسان متاثر ہوں، اسی قدر اس کے احترام کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ بہرحال یہ بدیہی ہے کہ محنت، لگن، جدوجہد اور قربانی کے جذبے کے بغیر یہ مقام حاصل کرنا ممکن نہیں۔

Published in مهم شخصیات


 
سید ثاقب اکبر نقوی

علامہ اقبال عالمی سطح کے ایک مفکر کی حیثیت سے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اس دور کی عالمی حرکیات کو پہچانا، ان کی ماہیت کو سمجھا، سماج پر اس کے اثرات پر گہری نظر ڈالی اور انسانی معاشرہ مستقبل میں کس سمت کو اختیار کرے گا، کے بارے میں اپنی رائے پیش کی۔ انھوں نے جہاں مغربی تہذیب کا تجزیہ کیا اور اس کی اٹھان اور تشکل میں سرمایہ داری نظام کی کارفرمائی کا جائزہ لیا، وہاں اس کے ردعمل میں پیدا ہونے والی اشتراکیت کو بھی اپنا موضوع سخن بنایا۔ ان دونوں اقتصادی اور سماجی نظاموں، نیز ان کے تصور کائنات کا تجزیہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنا نقطہ نظر بھی پیش کیا، جو یقینی طور پر ان کے فہم اسلام سے ماخوذ ہے۔ اس کے لیے ان کی فکر کا بنیادی ماخذ اور سرچشمہ قرآن حکیم ہے۔

Published in سیاسی
سوموار, 09 نومبر 2020 14:52

اقبال، ایک نابغۂ روزگار(1)



 
سید ثاقب اکبر نقوی

آج (9 نومبر 2020ء) علامہ اقبال کا یوم ولادت منایا جا رہا ہے۔ وہ 9 نومبر1877ء کو سیالکوٹ میں حکیم نور محمد کے ہاں متولد ہوئے۔ اس وقت کون جانتا تھا کہ آج ایک عام مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ کل کو اپنے دور کے نوابغ میں شمار کیا جائے گا۔ علامہ اقبال کو شاعرِ مشرق، حکیم الامت، مصور پاکستان اور دانائے روزگار جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ جس دور میں تشریف لائے، برصغیر انگریز سامراج کی غلامی سے گزر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر پر انگریزوں کا اقتدار ہمہ گیر بھی ہوچکا تھا اور گہرا بھی۔ عالم اسلام زبوں حالی کا شکار تھا اور رہا سہا مسلم اقتدار زلزلوں کی زد میں تھا۔ علامہ اقبال کے دیکھتے دیکھتے ترکوں کی عثمانی خلافت زمین بوس ہوگئی۔ انھوں نے اپنی جوانی میں جنگ عظیم اول کی تباہ کاریوں کا مشاہدہ کیا۔ مغربی تہذیب کی چکا چوند پورے عالم کو متاثر کر رہی تھی۔ افکار کہنہ لرزہ براندام تھے۔ سائنس اور کائنات کے مادی تصور کی بنا پر تشکیل پانے والی مغربی تہذیب نئی نسلوں کے ذہنوں کو مسخر کر رہی تھی۔ صدیوں سے رائج تصورات و افکار ایک بڑے چیلنج کے سامنے دفاعی حیثیت سے کھڑے تھے۔

Published in سیاسی



تحریر:سید ثاقب اکبر 

ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقائوں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنمائوں کے جرأت مندانہ اوردوٹوک موقف سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔

Published in القدس

تازہ مقالے