سید ثاقب اکبر نقوی

ویسے تو گذشتہ کئی برس سے اربعین حسینیؑ کے موقع پر پوری دنیا سے عشاق کشاں کشاں کربلا میں پہنچ رہے تھے، دل و دماغ سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ یہ کسی نئے انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ کروڑوں انسان امام حسینؑ کی خدمت میں سلامِ نیاز پیش کرنے کے لیے جس والہانہ انداز سے گوشہ و کنار عالم سے اکٹھے ہو رہے تھے، انسان کو حیرت زدہ کر دینے کے لیے کافی تھا۔ پھر اس کے ساتھ مشی اور اربعین واک کے سلسلے، بات کچھ زیادہ ہی آگے بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ کئی کئی دن پیدل چل کر خواتین و حضرات روز اربعین حسینؑ سید الشہداء کی بارگاہ میں عرض ادب اور اظہار عقیدت کے لیے پہنچتے تھے۔

Published in مذهبی
سوموار, 14 ستمبر 2020 12:03

کربلا یعنی اطاعت الہی



تحریر: سیدہ ندا حیدر
"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ " اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔ (4: ‎النساء‎، آیت: 59) اطاعت بالذات اللہ کی ہوتی ہے، رسولؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے لیے واحد ذریعہ اور سند ہے۔ اولی الامر کی اطاعت رسولؐ کی اطاعت کے ساتھ منسلک ہے، اس لیے اس اطاعت کو رسولؐ کی اطاعت پر عطف کیا ہے۔ اولی الامر سے مراد آئمہ اہلِ البیت علیہم السلام ہیں۔ جس طرح رسولؐ کی ہر بات وحئ الٰہی کے مطابق ہوتی ہے، بالکل اسی طرح آئمہ اہل البیت علیہم السلام ہر بات سنت رسولؐ کے مطابق کرتے ہیں۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: میری حدیث میرے پدر بزرگوار کی حدیث ہے، ان کی حدیث میرے جد بزرگوار کی حدیث ہے، ان کی حدیث رسول خدا ؐکی حدیث ہے۔ (بحار الانوار 2: 179) چنانچہ رسول اللہؐ نے متعدد احادیث میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ان کے بعد کن کی طرف رجوع کرنا ہو گا:

 



تحریر: سید حیدرنقوی
مقالہ کے حصہ اول میں ہم نے اہل سنت منابع کی روشنی میں "امام مہدیؑ، امام حسن ؑ کی نسل سے" پر گفتگو کی۔ اس سلسلے میں اہل سنت اکابر علمائے کرام، فقہاء، محدثین، مورخین، ادباء، مفکرین اور مفسرین کے اقوال نقل کیے گئے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام کی نسل مبارک سے ہیں اور وہ امام حسن عسکریؑ کے فرزند ارجمند ہیں۔ مقالہ کے اس حصے میں ہم نے ضروری سمجھا کہ مختصر طور پر رسول اکرمﷺ کے خلفاء کے سلسلے کو بھی بیان کرتے چلیں کیونکہ علماء، محققین اور مورخین کے کئی ایسے اقوال ذکر کیے جا رہے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ارجمند اور اسی طرح امامؑ کے تمام اجداد کا ذکر کیا گیا ہے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ رسول اللہﷺ کے جانشینوں کا ذکر کیا جائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام، امام حسن ؑ یا امام حسینؑ کی نسل مبارک سے ہیں۔



کتاب کا تعارف
تحریر: ثاقب اکبر

امام حسین علیہ السلام محبوب خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کی نسبت سے ساری امت کو محبوب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر ان کے حضور محبتوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اوراسلام کے لیے ان کی عظیم قربانی کو دین مبین کی بقا کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ہم اسلام ٹائمز کے ناظرین کی خدمت میں اہل سنت کے متعدد اکابر و نامور علما کی امام حسین علیہ السلام سے محبت کے اثبات کے لیے ان کی لکھی ہوئی کتابوں کا تعارف پیش کر چکے ہیں۔ پیش نظر سطور میں ہم معاصر شخصیات میں سے ایک ایسی شخصیت کی کتاب کا تعارف پیش کررہے ہیں جو بلند مرتبہ صوفی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ خاندان حضرت سلطان العارفین سلطان باہوؒ سے نسبت کی وجہ سے پاکستان کے عامۃ المسلمین میں ایک خاص محبوبیت رکھتا ہے۔ خود حضرت سلطان العارفین ؒکے بعض اشعار امام حسین علیہ السلام کے بارے میں زبان زدخاص و عام ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

Published in دین اسلام



تحریر: ڈاکٹر سید مقیل حسین میاں
تعارف:
سید موصوف نے واقعہ کربلا پر طویل مرثیے لکھے ہیں جن میں ایک مرثیہ ایک سو تینتیس ابیات اور دوسرا دو سو تینتیس ابیات پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے میدان کربلاء کے مختلف حالات،کیفیت شہادت امام مظلوم ؑ اورحضرت جبرئیلؑ کا خبرشہادت کو مدینہ میں حضور سرور کونینؐ اور مخدومہ کونین سلام علیھا کی بارگاہ میں لے آنا اور ارواح پنجتن پاکؑ کی کربلاء آمد کو احسن انداز میں قلم بند کیا ہے۔ سید میر انور شاہؒ نے اپنے پیر ومرشد امام ہشتم حضرت امام علی رضاؑ کی شہادت پر دوسو تہتر ابیات پرمشتمل ایک  کلام ارشاد فرمایا ہے جس میں آپ نے امام روؤف کے حالات و کرامات ، مدینہ چھوڑنے ، مشہد(ایران) آمد اور یہاں مامون عباسی کا امام کے برتاؤ اور پھر امام کی شہادت پر فرزند امام حضرت امام محمد تقی ؑ کا معجزہ کے ذریعے مدینہ سےمشہد آنا اور بابا کے صحابی خاص حضرت ابوصلتؒ کے ساتھ مل کر اپنے بابا علی ابن موسیٰ رضاؑ کی تجہیز وتکفین کرنے کی کیفیت کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ 

Published in دین اسلام



تحریر: سید اسد عباس
مقدمہ:انسانی تاریخ اور اس میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور حادثات اپنی نوعیت کے اعتبار سے  چاہے جس قدر نئے ہوں، اکثر ایسے حادثات یا واقعات کی نظیر تاریخ انسانیت میں ضرور ملتی ہے تبھی تو کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ انسانی تاریخ میں خون ریزی کا پہلا واقعہ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل ہے۔ آج بھی انسانی ہوس کی بھینٹ چڑھنے والا ہر بے گناہ مقتول ہابیل کی یاد تازہ کرتا ہے اور قاتل قابیل کے کردار کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے۔  اسی طرح بعض تاریخی واقعات اور حادثات نہ فقط انسان کی انفرادی روش سے متعلق ہوتے ہیں بلکہ یہ واقعات نسل انسانی کی منزل اور سمت کے تعین میں بھی راہنمائی مہیا کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا، اس کی وجوہات، پس منظر ، اثرات اور امام حسین علیہ السلام کے اقدامات بھی انسانی تاریخ کی ایسی انوکھی مثال ہیں جس سے بلاتفریق مذہب و ملت انسانوں نے راہنمائی لی۔ اس عظیم سانحہ کے بعد جب بھی کوئی انسان ایسی مشکل سے دوچار ہوا جہاں اسے اصولوں اور زندگی میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا پڑا تو امام حسین علیہ السلام کا اسوہ ہمیشہ ایک معیار کے طور پر اس شخص کے پیش نظر رہا۔

Published in دین اسلام



تحریر: سید حیدرنقوی
حضرت امام مہدیؑ کا وجود:
نجات دھندہ کا تصور تقریباً تمام قدیم تہذیبوں میں موجود ہے۔یہ تصور اسلام سے قبل کی کتب میں بھی ملتا ہے۔ زرتشتی، ہندو، مسیحی، یہودی وغیرہ سب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دنیا کے ختم ہونے کے قریب ایک نجات دہندہ کا ظہور ہوگا جو دنیا میں انصاف پر مبنی حکومت قائم کرے گا۔ اسلامی متون میںیہ تصور اس لیے نہیں آیا کہ اس سے پہلے یہ موجود تھا بلکہ یہ عقیدہ احادیث سے ثابت ہے۔ نبی کریمﷺ اور اہل بیت علیہم السلام سے منقول احادیث و روایات کی وجہ سے یہ تصور زیادہ واضح و روشن ہے۔ مسلمان اس نجات دہندہ کو  امام مہدیؑ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ قیامت کے قریب ظہور فرمائیں گے۔ مسلمانوں امام مہدیؑ کے بارے میں جن امور میں اختلاف پایا جاتا ہے ایک تو ان کی ولادت باسعادت کے بارے میں ہے کہ وہ بعض اہل سنت اس کے قائل ہیں کہ ان کی ولادت ابھی نہیں ہوئی اگرچہ بیشتر اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی ولادت ہوچکی ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ امام مہدی علیہ السلام کاامام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہونا ہے جبکہ کئی اہل سنت علماء اور مورخین نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ امام مہدیؑ اولاد امام حسین علیہ السلام میں سے ہیں اور وہ ان کی نویں نسل سے امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔

ہفته, 29 آگست 2020 09:51

کربلایعنی اطاعت الٰہی



تحریر: سیدہ ندا حیدر
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔
(4 : ‎النساء‎،آیت :59)

Published in دین اسلام



انجینئر محمد علی مرزا عصر حاضر میں پاکستان میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ ہم نے زیادہ تر مشاہیر اور بزرگ علماء کے افکار گذشتہ صفحات میں پیش کیے ہیں۔ تاہم ہماری رائے میں معاصرفکر کی نمائندہ تحریروں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اندازہ رہے کہ آئندہ کی امت اسلامیہ کی فکری ساخت کن دھاروں پر تشکیل پا رہی ہے۔ انجینئر محمد علی مرزا کی کاوشوں پر بھی ہماری نظر ہے۔ ان کے دروس اور سوشل میڈیا پر ان کے افکار سے استفادہ کرنے والوں کا حلقہ خاصا وسیع ہوچکا ہے۔ ویسے تو ان کا تعلق اہل حدیث کے مسلک سے ہے تاہم وہ اپنی آزاد اندیشی اور جرأت اظہار کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور عملی طور پر کسی لگے بندھے مسلک کے بجائے اپنے مطالعہ قرآن و حدیث اور سیرت و تاریخ سے  ماخوذ نتائج پیش کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے امام حسینؑ اور کربلا کے حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا ہے اور کہا ہے۔



شرح اربعین امام حسینؓ شیخ عبداللہ دانش کی تالیف ہے جو مسجدالبدر نیویارک کے خطیب ہیں۔ کتاب کی ترتیب و تخریج کا کام قاری ابوبکرالعاصم نے کیا ہے اور اسے نہایت خوبصورتی سے اعلیٰ جلد اور کاغذ کے ساتھ العاصم اسلامک بکس لاہور پاکستان کے زیر اہتمام شائع کیا ہے۔ کتاب اکتوبر2015میں پہلی مرتبہ چھپی ہے جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے اس میں امام حسینؑ کے بارے میں چالیس احادیث کو بنیاد سخن قرار دیا گیا ہے۔ 

تازہ مقالے