سید اسد عباس

قائد اعظم محمد علی جناح کا تعلق خوجہ برادری سے تھا جو خوجوں کی اپنی روایات کے مطابق ہندو الاصل تھے۔ ہندو ذات لوہانہ، لوہرانہ یا لوہارنہ خوجہ برادری کی اصل ہے ۔ لوہانوں کی روایات کے مطابق وہ رام کے بیٹے لووا کی نسل سے ہیں۔ تیرھویں صدی عیسویں میں برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی آمد کے بعد اس قوم کے قبائل ملتان سے گجرات سمیت برصغیر پاک و ہند کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔ لوہانوں میں گجراتی لوہانے، پشتون لوہانے، بلوچ لوہانے ، سندھی لوہانے، کیچی لوہانے قابل ذکر ہیں۔ مختلف علاقوں میں پھیلنے کی وجہ سے اس ذات نے ہر علاقے کی زبان اور رسوم و روایات کو اپنایا تاہم کچھ رسوم و روایات ان کے مابین مشترک بھی ہیں۔ ہندو لوہانے کرشنا ، وشنو، سیتا، سری ناتھ جی، روی رندل ماتاجی، امبیکا، جلارم باپا، یوگی جی مہاراج کی پوجا کرتے ہیں ان کے خاندانی بتوں میں سے  ویر دادا یشراج، ہرکور با، سندھی شری سکوتر ماتا، دریا لال قابل ذکر ہیں۔ یہ ذات سورج کی بھی پوجا کرتی ہے ۔ 

Published in مهم شخصیات


 
سید اسد عباس

بھارت میں کچھ برسوں سے ایک نئی اصطلاح زبان زد عام ہے۔ لو جہاد یا محبت جہاد یا جہاد عشق۔ اس اصطلاح کو مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہندو انتہاء پسندوں نے ایجاد کیا ہے۔ انتہاء پسندوں کا دعویٰ ہے کہ مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں کو اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر انہیں مسلمان کرکے شادیاں کر رہے ہیں۔ جس کا مقصد بھارت میں ہندو آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ 966 ملین ہندو اور صرف 172 ملین مسلمانوں کے ملک میں حکومت کی جانب سے یہ جواز انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اگر کل ہی سب مسلمان مرد یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ ہندو خواتین سے شادی کریں گے اور انھیں مسلمان بنائیں گے، تب بھی بھارت کی آبادی کے تناسب میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آسکتی۔ بہرحال کسی بھی جنونی ہندو جماعت کی حکومت میں ایسی قبیح اور غیر دانشمندانہ حرکات بلکہ اس سے بھی بدتر اقدامات بعید از قیاس نہیں ہیں۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

ڈاکٹر کلب صادق 22 جون 1939ء میں لکھنؤ کے معروف اور علمی خانوادے، خاندان اجتہاد میں پیدا ہوئے۔ اس خاندان کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ اس نسل میں کئی ایک نوابغ اور علمی شخصیات پیدا ہوئیں۔ یہ خاندان سبزوار سے ہندوستان کے علاقے جائس میں آکر آباد ہوا۔ اسی خاندان کے بزرگ سید نصیرالدین کے سبب علاقے کا نام نصیر آباد پڑ گیا۔ کتاب مشجر المبارکہ کے مطابق سید نصیر الدین کا شجرہ: سید نصیر الدین بن سید علیم الدین بن علم الدین بن شرف الدین بن نجم الدین سبزواری بن علی بن ابو علی بن ابو یعلی محمد الدقاق بن ابو القاسم طاہر ثانی بن محمد الدانقی بن ابو القاسم طاہر بن امام علی نقی علیہ السلام بن امام محمد تقی علیہ السلام بن امام علی رضا علیہ السلام بن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بن امام جعفر صادق علیہ السلام بن امام محمد باقر علیہ السلام بن امام زین العابدین علیہ السلام بن امام حسین علیہ السلام بن امام علی علیہ السلام۔

Published in مهم شخصیات


 
سید اسد عباس

یہ نشان آئی آف پراویڈینس ہے۔ مسیحی عبادت گاہوں، فری میسنز اور الومیناٹی کی یادگار عمارتوں پر یہ نشان دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے ایک ڈالر کے نوٹ کی پچھلی طرف بھی یہی علامت موجود ہے اور تو اور یہ امریکہ کی سیل پر بھی کندہ ہے۔ یہ سیل امریکہ کی اہم دستاویزات، پاسپورٹ، جھنڈوں، امریکی صدر کی سیل پر بھی موجود ہوتا ہے۔ آنکھ کو ایک علامت کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ قدیم تہذیبوں میں موجود رہا ہے، ان میں ہندو تہذیب میں تیسری آنکھ والی مورتیاں، مصری تہذیب میں ہورس کی آنکھ، رے کی آنکھ شامل ہیں۔ ہورس کی آنکھ تحفظ، شاہی طاقت اور اچھی صحت کی علامت کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

گذشتہ چند ماہ سے بعض عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے اور روابط کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس عنوان سے ان عرب ممالک کا یہ موقف ہے کہ ان کے اس اقدام سے فلسطینیوں کے مسائل میں کمی واقعہ ہوگی اور وہ اسرائیل سے بہتر طور پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے بات کرسکیں گے۔ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے روابط اس شرط پر بحال ہوئے ہیں کہ وہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے ارادے کو ترک کر دے گا، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے اس ارادے کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا بلکہ اب بھی یہ آپشن ہماری میز پر موجود ہے۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور عربی و فارسی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی، جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ درس و تدریس کے علاوہ لاہور کی مسجد میں خطیب تھے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کے بعد شیخ الحدیث مولانا خادم حسین رضوی منظر عام پر آئے۔ اس رویئے اور بعد کے اقدامات کے سبب وہ ایک عالم دین سے زیادہ ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حرمت رسول (ص) کے لیے قربانی دینے والے شجاع بزرگ اور قائد کے طور پر سامنے آئے۔

Published in سیاسی
اتوار, 15 نومبر 2020 07:18

مسئلہ کشمیر اور گلگت بلتستان



 
سید اسد عباس

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اتوار یکم نومبر کو گلگت بلتستان کی آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جی بی کو عبوری صوبائی حیثیت اور آئینی حقوق دینے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم پاکستان کا واضح لفظوں میں کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مدِنظر رکھ کر کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس فیصلے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور کیا واقعی مسئلہ کشمیر کے حل میں یہ اقدام موثر ہوگا؟ پاکستان کے پاس اس اقدام کے علاوہ کیا آپشن ہے۔؟ تاریخی طور پر گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ لیکن 1948ء میں مقامی لوگوں کی مدد سے یہ پاکستان کے زیر کنٹرول آگیا۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

امریکہ کے حالیہ انتخابات متنازعہ حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی روکنے کیلئے درخواستیں دائر ہوچکی ہیں۔ مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں۔ امریکی آر ٹی ایس سسٹم جو کرونا کے سبب ڈاک ووٹ پر مشتمل تھا، فلاپ ہوچکا ہے۔ ایسی صورتحال میں بائیڈن آتا ہے یا ٹرمپ دونوں اس صورتحال میں نہیں ہونگے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں سے تجاوز کرسکیں اور اپنی من مانیاں کرتے پھریں۔ میں تو کہوں گا کہ بائیڈن اور ٹرمپ دونوں یہ انتخاب ہار چکے ہیں اور امریکی اسٹیبلشمنت جسکا بڑا حصہ صہیونیوں پر مشتمل ہے کامیاب ہوچکی ہے

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

جیسا کہ ہم نے اپنی گذشتہ تحریروں میں اعداد و شمار اور امریکی دانشوروں اور ماہرین کے اقوال کے ذیل میں دیکھا کہ امریکی ریاست، سیاست اور فوجی طاقت کے زوال کا عندیہ تقریباً ہر پیرائے سے عیاں ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال کرونا کے دوران امریکہ میں میڈیکل پراڈکٹس کی پیداواری صلاحیت کی کمی ہے، جس کے لیے یا تو امریکہ کو پیداوار بڑھانی تھی یا پھر ان مصنوعات کو چین سے درآمد کرنا تھا۔ چین گذشتہ کئی برسوں سے امریکی منڈی سمیت اینٹی بائیوٹکس کے خام مال کی برآمد میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔ چین نالج شیئرنگ، طبی سامان، عملے اور مالی اشتراک سے پوری دنیا کو اپنی کثیر الجہتی سفارتی امداد میں مسلسل توسیع کر رہا ہے۔ 

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
جیسا کہ ہم نے گذشتہ تحریر میں یہ جانا کہ خود امریکی لکھاریوں کے مطابق ان کے عروج کی بنیادیں معیشت، فوجی قوت اور ثقافتی برتری پر قائم ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم نے یہ دیکھا کہ بہت سے امریکی لکھاری امریکی عروج کو زوال میں بدلتا دیکھ رہے ہیں۔ اس بات کا اظہار انھوں نے اب اپنی تحریروں اور تقاریر میں کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر ہم امریکی ریاست کے عروج کی بنیادوں سے متعلق اعداد و شمار کو کھوجھیں تو ہم ہی نہیں کوئی بھی با آسانی دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ اور اس سے جڑا ہر نظام تنزل کا شکار ہے۔ اس بات میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ معاشی میدان میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے اور چین، جرمنی، برازیل، روس کی جانب سے اسے معاشی میدان میں بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔

Published in سیاسی

تازہ مقالے