سید اسد عباس

بھارت میں کچھ برسوں سے ایک نئی اصطلاح زبان زد عام ہے۔ لو جہاد یا محبت جہاد یا جہاد عشق۔ اس اصطلاح کو مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہندو انتہاء پسندوں نے ایجاد کیا ہے۔ انتہاء پسندوں کا دعویٰ ہے کہ مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں کو اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر انہیں مسلمان کرکے شادیاں کر رہے ہیں۔ جس کا مقصد بھارت میں ہندو آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ 966 ملین ہندو اور صرف 172 ملین مسلمانوں کے ملک میں حکومت کی جانب سے یہ جواز انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اگر کل ہی سب مسلمان مرد یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ ہندو خواتین سے شادی کریں گے اور انھیں مسلمان بنائیں گے، تب بھی بھارت کی آبادی کے تناسب میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آسکتی۔ بہرحال کسی بھی جنونی ہندو جماعت کی حکومت میں ایسی قبیح اور غیر دانشمندانہ حرکات بلکہ اس سے بھی بدتر اقدامات بعید از قیاس نہیں ہیں۔

Published in سیاسی


 
سید ثاقب اکبر نقوی

مودی کو ویسے تو طرح طرح کے ناموں سے شہرت حاصل ہے، اسے گجرات کا قصاب بھی کہا جاتا ہے۔ یہی کشمیریوں کا بھی قاتل ہے۔ کبھی اس قصاب پر امریکہ میں داخلہ بند تھا۔ آج یہ قصاب طاقت کے نشے میں دھت اپنے ہم وطنوں کو طرح طرح سے ستا رہا ہے۔ یہ صرف اقلیتوں کا دشمن نہیں بلکہ کمزور اور پسماندہ ہندوئوں کی لوٹ مار کے مختلف ہتھکنڈے اختیار کر رہا ہے۔ یہ صرف بے رحم سرمایہ داروں کے مفاد کا سوچتا ہے جو اپنی دولت کی طاقت سے اسے برسراقتدار لائے ہیں۔ اسے عوام کو دھوکا دینے کے طریقے آتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہندوتوا ہے، یہ اپنے آپ کو ہندو مذہب کا محافظ ظاہر کرکے سادہ دل ہندو عوام کو انتہا پسند بناتا ہے اور پھر ان کے ووٹوں سے اقتدار قائم کرتا ہے۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

ڈاکٹر کلب صادق 22 جون 1939ء میں لکھنؤ کے معروف اور علمی خانوادے، خاندان اجتہاد میں پیدا ہوئے۔ اس خاندان کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ اس نسل میں کئی ایک نوابغ اور علمی شخصیات پیدا ہوئیں۔ یہ خاندان سبزوار سے ہندوستان کے علاقے جائس میں آکر آباد ہوا۔ اسی خاندان کے بزرگ سید نصیرالدین کے سبب علاقے کا نام نصیر آباد پڑ گیا۔ کتاب مشجر المبارکہ کے مطابق سید نصیر الدین کا شجرہ: سید نصیر الدین بن سید علیم الدین بن علم الدین بن شرف الدین بن نجم الدین سبزواری بن علی بن ابو علی بن ابو یعلی محمد الدقاق بن ابو القاسم طاہر ثانی بن محمد الدانقی بن ابو القاسم طاہر بن امام علی نقی علیہ السلام بن امام محمد تقی علیہ السلام بن امام علی رضا علیہ السلام بن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام بن امام جعفر صادق علیہ السلام بن امام محمد باقر علیہ السلام بن امام زین العابدین علیہ السلام بن امام حسین علیہ السلام بن امام علی علیہ السلام۔

Published in مهم شخصیات
اتوار, 15 نومبر 2020 07:18

مسئلہ کشمیر اور گلگت بلتستان



 
سید اسد عباس

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اتوار یکم نومبر کو گلگت بلتستان کی آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جی بی کو عبوری صوبائی حیثیت اور آئینی حقوق دینے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم پاکستان کا واضح لفظوں میں کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مدِنظر رکھ کر کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس فیصلے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور کیا واقعی مسئلہ کشمیر کے حل میں یہ اقدام موثر ہوگا؟ پاکستان کے پاس اس اقدام کے علاوہ کیا آپشن ہے۔؟ تاریخی طور پر گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ لیکن 1948ء میں مقامی لوگوں کی مدد سے یہ پاکستان کے زیر کنٹرول آگیا۔

Published in سیاسی


 
سید ثاقب اکبر نقوی

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے۔ ہمارے وزیراعظم اسے نازی ازم کا انڈین برانڈ سمجھتے ہیں، کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
گذشتہ قسط میں ہم نے کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے گذشتہ ایک سال میں کیے گئے چند اقدامات کا تذکرہ کیا، درج ذیل تحریر انہی اقدامات کے بیان کا تسلسل ہے۔ معروف کشمیری صحافی پیرزادہ مدثر شفیع جیلانی کے مطابق قابض حکام نے حال ہی میں مقبوضہ علاقے میں ایک نئی تعمیراتی پالیسی کی بھی منظوری دی ہے، جس کے تحت کسی بھی علاقے کو ”اسٹریٹجک" نوعیت کا علاقہ قرار دیا جاسکتا ہے، جہاں بھارتی فوج بلا رکاوٹ تعمیرات کرنے کے علاوہ دیگر سرگرمیاں انجام دے سکتی ہے اور اس کے لیے اسے انتظامیہ سے کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

Published in سیاسی


 
سید اسد عباس

بھارت پر حاکم انتہاء پسند ہندو جماعت بی جے پی نے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی راہ میں حائل بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35 اے کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 5 اگست 2019ء کو یعنی ایک برس قبل ختم کیا، اگرچہ یہ دفعات بھی کشمیریوں کے اطمینان کے لیے آئین کا حصہ بنائی گئی تھیں، جو غیر قانونی ہی تھیں، تاہم اس سے کشمیر کے باسیوں کو کم از کم یہ تحفظ حاصل تھا کہ باہر سے کوئی ہندوستانی باشندہ آکر ان کی ریاست میں زمین نہیں خرید سکتا یا مسلم اکثریتی آبادی کے تناسب کو بدلنے کا کوئی حربہ بروئے کار نہیں لایا جاسکتا ہے، تاہم اب ہندوستان کی راہ میں ایسی کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔

Published in سیاسی
الجمعة, 26 جون 2020 09:53

کشمیر کی حالت زار اور راہ حل



 
سید اسد عباس

کشمیری پانچ اگست 2019ء سے اپنے گھروں میں قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارتی فوج نے وادی میں، مارکیٹیں، بزنس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کر رکھی ہے، ادویات کی کمی کی وجہ سے مریض جان سے ہاتھ دھونے لگے ہیں۔ اپنے گھروں میں بھی کشمیریوں کو سکھ کا سانس لینے کی اجازت نہیں ہے۔

Published in سیاسی
سوموار, 22 جون 2020 16:02

آہنی سلاخوں سے جنگ



 
سید اسد عباس

گذشتہ دنوں لداخ کی وادی گلوان میں چین اور بھارت کی افواج کے مابین ہونے والی جھڑپ میں ایک کرنل سمیت بیس بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد بھارتی فوجی چین کی گرفت میں چلے گئے، جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔

Published in سیاسی
الجمعة, 29 مئی 2020 14:30

چین کی لداخ میں پیشقدمی



 
سید اسد عباس

بھارت اور چین کا سرحدی تنازع قدیم ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان تین ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش میں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

Published in سیاسی

تازہ مقالے