سوموار, 14 ستمبر 2020 12:03

کربلا یعنی اطاعت الہی



تحریر: سیدہ ندا حیدر
"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ " اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔ (4: ‎النساء‎، آیت: 59) اطاعت بالذات اللہ کی ہوتی ہے، رسولؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے لیے واحد ذریعہ اور سند ہے۔ اولی الامر کی اطاعت رسولؐ کی اطاعت کے ساتھ منسلک ہے، اس لیے اس اطاعت کو رسولؐ کی اطاعت پر عطف کیا ہے۔ اولی الامر سے مراد آئمہ اہلِ البیت علیہم السلام ہیں۔ جس طرح رسولؐ کی ہر بات وحئ الٰہی کے مطابق ہوتی ہے، بالکل اسی طرح آئمہ اہل البیت علیہم السلام ہر بات سنت رسولؐ کے مطابق کرتے ہیں۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: میری حدیث میرے پدر بزرگوار کی حدیث ہے، ان کی حدیث میرے جد بزرگوار کی حدیث ہے، ان کی حدیث رسول خدا ؐکی حدیث ہے۔ (بحار الانوار 2: 179) چنانچہ رسول اللہؐ نے متعدد احادیث میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ان کے بعد کن کی طرف رجوع کرنا ہو گا:

 



تحریر: سید حیدرنقوی
مقالہ کے حصہ اول میں ہم نے اہل سنت منابع کی روشنی میں "امام مہدیؑ، امام حسن ؑ کی نسل سے" پر گفتگو کی۔ اس سلسلے میں اہل سنت اکابر علمائے کرام، فقہاء، محدثین، مورخین، ادباء، مفکرین اور مفسرین کے اقوال نقل کیے گئے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام کی نسل مبارک سے ہیں اور وہ امام حسن عسکریؑ کے فرزند ارجمند ہیں۔ مقالہ کے اس حصے میں ہم نے ضروری سمجھا کہ مختصر طور پر رسول اکرمﷺ کے خلفاء کے سلسلے کو بھی بیان کرتے چلیں کیونکہ علماء، محققین اور مورخین کے کئی ایسے اقوال ذکر کیے جا رہے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ارجمند اور اسی طرح امامؑ کے تمام اجداد کا ذکر کیا گیا ہے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ رسول اللہﷺ کے جانشینوں کا ذکر کیا جائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام، امام حسن ؑ یا امام حسینؑ کی نسل مبارک سے ہیں۔



تحریر: سید حیدرنقوی
حضرت امام مہدیؑ کا وجود:
نجات دھندہ کا تصور تقریباً تمام قدیم تہذیبوں میں موجود ہے۔یہ تصور اسلام سے قبل کی کتب میں بھی ملتا ہے۔ زرتشتی، ہندو، مسیحی، یہودی وغیرہ سب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دنیا کے ختم ہونے کے قریب ایک نجات دہندہ کا ظہور ہوگا جو دنیا میں انصاف پر مبنی حکومت قائم کرے گا۔ اسلامی متون میںیہ تصور اس لیے نہیں آیا کہ اس سے پہلے یہ موجود تھا بلکہ یہ عقیدہ احادیث سے ثابت ہے۔ نبی کریمﷺ اور اہل بیت علیہم السلام سے منقول احادیث و روایات کی وجہ سے یہ تصور زیادہ واضح و روشن ہے۔ مسلمان اس نجات دہندہ کو  امام مہدیؑ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ قیامت کے قریب ظہور فرمائیں گے۔ مسلمانوں امام مہدیؑ کے بارے میں جن امور میں اختلاف پایا جاتا ہے ایک تو ان کی ولادت باسعادت کے بارے میں ہے کہ وہ بعض اہل سنت اس کے قائل ہیں کہ ان کی ولادت ابھی نہیں ہوئی اگرچہ بیشتر اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی ولادت ہوچکی ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ امام مہدی علیہ السلام کاامام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہونا ہے جبکہ کئی اہل سنت علماء اور مورخین نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ امام مہدیؑ اولاد امام حسین علیہ السلام میں سے ہیں اور وہ ان کی نویں نسل سے امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔

ہفته, 25 جولائی 2020 16:04

ندبہ در فراق امام المہدیؑ



تحریر: سیدہ ندا حیدر
ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ دعا کیا ہوتی ہے؟ اور اگر ہم دعا پڑھیں تو ہمیں اس کا کیا نتیجہ ملنا چاہیے۔؟
دعا کا مطلب: پکارنا یا صدا بلند کرنا
دعا پڑھنے کے درج ذیل مختلف موارد ہوتے ہیں، جیسا کہ:
* ہم حصول ثواب کی نیت سے دعا پڑھتے ہیں۔
* کسی منت کے لیے دعا پڑھتے ہیں۔
* مشکل سے نجات کے لیے دعا پڑھتے ہیں۔ وغیرہ۔۔۔



تحریر: سید حیدر نقوی
کتنا ہی خوبصورت اور کیا پر معنیٰ جملہ ہے، اس جملے پر ہم جس قدر غور و فکر کرتے جائیں، ہمارے لیے نئے سے نئے روحانیت کے باب کھلتے جائیں گے، یعنی ہم اپنے وجود کا احساس کرنے لگیں گے، ایسا وجود جو نرم و ملائم ہو کر عرفاء کا ہم سفر بن جاتا ہے۔ کاش! ہم اس کے صحیح مفہوم سے آشنا ہو جائیں۔ کاش! پروردگار، اس جملے کو ہم درک کرسکیں۔کاش! ظہور ہمارے لیے ظاہر ہو۔ یہ لفظ ظہور اپنے اندر کتنی خوبصورتی کو سمیٹے ہوئے ہے۔



تحریر: سید حیدر نقوی
وہ روایات جن میں امام مہدی علیہ السلام کا مخصوص ایام یا اوقات میں ذکر زیادہ فضیلت کا حامل ہے، ان کے بارے میں کتاب نجم الثاقب میں یوں بیان کیا گیا ہے:
اول: شب قدر
دوم: جمعہ کا دن
سوم: عاشور کا دن



تحریر: سید حیدر نقوی
روشن مستقبل کی اُمیدانسانوں کے لیے اپنی بقاء و ارتقاءکا ایسا روح افزاء تصور ہے جس کے لیے انسان اپنے اوپر آنے والی کئی مشکلات کو ہنسی خوشی برداشت کرجاتا ہے۔ اگر انسانیت کا مستقبل روشن ہی نہ ہو اور انسان کی اس سلسلے میں اُمید باقی نہ رہے تو وہ اپنے حال کو اپنےہی ہاتھوں برباد کربیٹھے گا۔



تحریر: سید حیدر نقوی
مقدمہ:
امن کے لفظی معنی چین، اطمینان، سکون و آرام نیز صلح، آشتی و فلاح کے ہیں۔ اسی طرح امن بجائے خود لفظ اسلام میں داخل ہے، جس کے معنی ہیں دائمی امن و سکون اور لازوال سلامتی کا مذہب۔( ابن منظور، لسان العرب، 13: 23) ایمان عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا مادہ ’’ا۔ م۔ ن‘‘ (امن) سے لیا گیا ہے۔ لغت کی رو سے کسی خوف سے محفوظ ہو جانے، دل کے مطمئن ہو جانے اور انسان کے خیر و عافیت سے ہمکنار ہونے کو اَمن کہتے ہیں۔



تحریر: سیدہ زینب بنت الھدی
خدائے بزرگ و برتر نے یہ کائنات خلق کی تو وجہ تخلیق کائنات بھی خلق کیے اور وہ ہستیاں ایسی ہیں، جن کے بغیر دنیا کا نظام نہیں چل سکتا۔ خدا کی محبت کے بغیر کبھی بھی کائنات خالی نہیں رہی، ہر دور میں خدا کی حجت دنیا میں موجود رہی اور ابھی بھی خدا کی آخری حجت باقی ہے۔ جس کے انتظار میں قیامت رُکی ہوئی ہے۔



تحریر: سیدہ ندا حیدر
نظریہ مہدویت ایسا موضوع ہے، جو صدیوں سے انسانوں کے درمیان زیر بحث رہا ہے۔ اس اعتقاد کے ساتھ انسان کا مستقبل روشن ہے، یہ عقیدہ کسی ایک قوم، کسی فرقے یا کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مہدویت ایک ایسی عالمگیر حکومت کا نام ہے کہ جس کی بنیاد تمام انسانوں کے مابین عدل و انصاف اور اخلاق و محبت پر ہوگی۔ مہدویت ایسی آواز ہے، جو کہ ہر روشن خیال انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ ایسی امید ہے، جو زندگی کو تروتازہ اور غم و اندیشہ سے دور کرکے نور الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔

تازہ مقالے