سیاسی

سیاسی (9)




”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی ہیں نہ دوستیاں۔ دوام صرف ضرورت اور مفاد کو ہے۔ بھارت امریکا کی جانب کھچے گا تو پاکستان، چین اور روس میں قربت بڑھے گی۔“ یہ الفاظ وسعت اللہ خان کے ہیں، جو انہوں نے 17 اکتوبر 2015ء بی بی سی اردو ڈاٹ کام میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں لکھے ہیں، جس کا عنوان تھا ”پاک روس معاشقہ۔“ روزنامہ پاکستان میں چھپنے والے عمر جاوید کے ایک مضمون کا عنوان ہے ”پاک روس تعلقات میں مثبت تبدیلیاں۔“ یہ مضمون 29 جون 2019ء کو شائع ہوا۔۔۔




یمن کے حوالے سے آنے والی مختلف خبریں رفتہ رفتہ مستقبل کی تصویر واضح کر رہی ہیں۔ ہم اس مضمون میں ان خبروں پر ایک نظر ڈالیں گے اور ان سے نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کریں گے۔ گذشتہ جمعرات(31 اکتوبر 2019ء) کو کئی پہلوﺅں سے پیشرفت دکھائی دی۔ مختلف طرح کی خبریں آتی رہیں۔ اچانک صورت حال میں ڈرامائی تبدیلیاں بھی ہوتی رہیں۔ اس سے ایک دو دن پہلے کی خبریں بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ یمن کے کئی قبائل جو صنعا کی انصار اللہ کی حکومت سے ابتدا میں الگ ہوگئے تھے یا دوسرے گروہ سے مل گئے تھے، آہستہ آہستہ اس حکومت سے مل رہے ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد قبائل نے صنعا کی حکومت کے ساتھ وفاداری کے معاہدے کیے ہیں۔۔۔




28 صفر 1441ھ کو جب عالم اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یوم وفات اور ان کے فرزند ارجمند سبط اکبر امام حسن علیہ السلام کا یوم شہادت منایا جا رہا تھا، لبنان سے عصر حاضر کے ایک عظیم محقق اور عالم آیت اللہ سید جعفر مرتضیٰ عاملی کی رحلت کی خبر پہنچی۔ وہ ایک ماہ کی علالت کے بعد اس روز اپنے آبائے اطہار کی خدمت میں جا پہنچے۔ آیت اللہ جعفر مرتضیٰ عاملی کا تعلق جنوبی لبنان سے تھا۔ وہ حضرت حسین ذوالدمعہ بن زید بن علی بن حسین کی نسل پاک سے تھے۔ وہ 25 صفر 1364 ہجری کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے والد گرامی علامہ مرتضیٰ عاملی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔۔۔




گذشتہ بدھ (9 اکتوبر 2019ء) کو ترک افواج نے اپنی جنوبی اور شام کی شمالی سرحد کی طرف پیش قدمی شروع کی اور اس کا مقصد شام کے شمالی علاقے سے ایس ڈی ایف (سیرین ڈیموکریٹک فورسز) کے اقتدار کا خاتمہ قرار دیا، جو ترک حکومت کے بقول ترکی کی کالعدم کرد تنظیم کردستان ورکز پارٹی کی توسیع ہے، جو ترکی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے گذشتہ کئی دہائیوں سے سرگرم عمل ہے۔ ترکی کے صدر اردغان نے شام کے اندر ترکی کے بارڈر پر کرد علاقوں کو اپنا سیکورٹی زون بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کو اس سیکورٹی زون میں آباد کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ترکی کے صدر اردغان اور امریکی صدر ٹرمپ کے مابین ہونے والی گفتگو کے بعد ترکی نے یہ فیصلہ کیا، کیونکہ صدر ٹرمپ نے اس خطے سے امریکی افواج نکالنے کا اعلان کردیا تھا۔۔۔




سید اسد عباس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی سپیشل فورسز نے داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو قتل کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بغدادی نے خودکش جیکٹ پہنی ہوئی تھی وہ پھٹنے سے بغدادی کی شناخت ممکن نہیں ہے، دھماکے کے سبب سرنگ بغدادی کے اوپر گری جس کے سبب اس کی باقیات بھی نہیں مل پائی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس مشن کے لیے ہمیں روس، عراق ، کردوں کا تعاون حاصل رہا، یہ ایک مشکل مشن تھا جسے بغیر کسی نقصان کے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بغدادی ہماری افواج کے حملے کے سبب چلا رہا تھا اور پھر جب اس نے دیکھا کہ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ بغدادی پر حملے کا واقعہ شام کے علاقے ادلب میں پیش آیا جہاں اس وقت شامی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ ابو بکر البغدادی کے مارے جانے کی اطلاعات اس سے قبل بھی کئی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں روس، ایران، عراق اور شام سبھی نے ابوبکر کے قتل کا دعوی کیا ہے تاہم اب چونکہ امریکہ کہ رہا ہے کہ بغدادی مارا گیا ہے تو دنیا کو یقین کرنا چاہیے کہ اب دوبارہ بغدادی کا تذکرہ کہیں سننے کو نہیں ملے گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک وجہ تو یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بڑے دہشت گرد پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کا بھی دعوی کیا تھا۔




16جنوری 2018 کو یعنی آج سے ایک برس پہلے ایوان صدر میں ایک یادگار تقریب میں 1829 علماء اور دانشوروں کے دستخطوں کے ساتھ ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں میں دہشت گردی، انتہا پسندی ، تکفیریت اور خارجیت کی تمام شکلوں کومسترد کردیا گیا۔ اس فتویٰ کو پاکستان کے تمام اسلامی مسالک کے جید اور ذمہ دار علماء کی تائید حاصل ہے۔ دینی مدارس کی پانچوں تنظیموں کے سربراہوں کی تائید و امضاء نے اسے اور بھی معتبر کر دیا ہے۔ ہم نے گذشتہ برس اس پیغام کے سامنے آنے کے بعد یہ بات لکھی تھی کہ ’’پیغام پاکستان‘‘ کو یقینی طور پر قرارداد مقاصد کی عظیم الشان دستاویز کے بعد ایک بڑی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں قرارداد مقاصد کی ایک مرتبہ پھر تائید و توثیق ہی نہیں کی گئی بلکہ اس کی ضروری وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔ ہماری یہ بھی رائے ہے کہ اس سے پہلے اکتیس علماء کے بائیس نکات بھی تاریخ پاکستان میں اسلامی مسالک و مذاہب کے ا تحاد کی ایک اہم اساس، بیانیہ اور دستاویز کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ یقینی طور پر جب پاکستان میں دہشتگردی اور تکفیریت اپنے عروج پر تھی اور جب ایک گروہ کی طرف سے قرآن و سنت کی مختلف آیات وروایات کی۔۔۔




گذشتہ ماہ کے اختتام پر پیرس میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کا نام فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس واچ لسٹ کی گرے کیٹیگری میں شامل کر لیا گیا۔ اس پر عمل درآمد جون سے ہوگا۔ اس اقدام کے باعث پاکستان کو نئی سخت معاشی پابندیوںکا سامنا کرنا پڑے گا۔ گرے لسٹ میں ان ملکوں کا نام شامل کیا جاتا ہے جنھیں دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام میں تعاون نہ کرنے والے ممالک قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں پاکستان کے علاوہ اس وقت ایتھوپیا، عراق، سربیا، شام، ٹرینیڈیڈ اینڈ ٹوبیگو،تیونس، ویناٹو اور یمن شامل ہیں۔ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔اس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت، ترکی، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک سمیت 37ممالک شامل ہیں۔ خلیج تعاون کونسل میں سر Category سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ مذکورہ بالا واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمائے کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہو گی اور ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس فیصلے سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ اور مالی ساخت کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ ایشیا پیسیفک گروپ میں بھی پاکستان کی شمولیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔




16جنوری 2018کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا جب ایوان صدر میں 1829علماء اور اہل دانش کے دستخطوں اور تائید سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں دہشت گردی، انتہا پسندی، تکفیریت اور خارجیت کی تمام جدید وقدیم شکلوں کو مسترد کردیا گیا ہے۔ اس فتویٰ کی تائید و توثیق پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام، اسلامی علوم کے ماہرین اور ماضی میں شدت پسندی میں شہرت رکھنے والے بعض راہنما ئوں نے بھی کی ہے۔ پاکستان میں دینی مدارس کی پانچ باقاعدہ تنظیمیں ہیں جن میں وفاق المدارس العربیہ(دیوبندی)، تنظیم المدارس پاکستان(بریلوی)، رابطۃ المدارس العربیہ(جماعت اسلامی)، وفاق المدارس سلفیہ(اہل حدیث) اور وفاق المدارس شیعہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض اہم مدارس ہیں کہ جو بظاہر اپنے آپ کو کسی وفاق کا حصہ نہیں کہتے، اس مذکورہ فتویٰ جسے ’’پیغام پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا ہے کی تائید ان سب کی قیادت نے کی ہے۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا اور تاریخی اجماع ہے جس نے پاکستان کے روشن مستقبل کی ایک نوید سنائی ہے۔




سید اسد عباس

عزیز و محترم قارئین! میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ کیسا نظام حکومت ہے کہ جس میں سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے اور اس سے بہرہ انسان دونوںکو ایک ہی پلڑے یعنی ووٹ میں تولا جاتا ہے۔سیاسیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر کا بھی ایک ووٹ اور غلام حسین جو لوگوں سے پوچھتا پھرتا ہے کہ ووٹ کسے دینا چاہیے کا بھی ایک ہی ووٹ۔شاید علامہ اقبال نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

تلاش کریں

کیلینڈر

« November 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30  

تازه مقالے

  • اسماعیلیہ ایک مختصر تعارف(2)
    اسماعیلیہ بھی دیگر شیعہ مسالک کی طرح امام علیؑ کو امامِ منصوص مانتے ہی وہ شیعہ اثنا عشریہ کے پہلے چھ اماموں کی امت کے قائل ہیں؛ بعدازاں وہ امام جعفر صادقؑ کے بعد ان کے بڑے بیٹے اسماعیل یا اسماعیل کے بیٹے محمد کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔اس…
    Written on ہفته, 09 نومبر 2019 08:32 in مذهبی Read more...
  • پاکستان اور روس رفتہ رفتہ قریب آرہے ہیں
    ”معاملہ سیدھا سیدھا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں نہ مستقل دشمنیاں ہوتی ہیں نہ دوستیاں۔ دوام صرف ضرورت اور مفاد کو ہے۔ بھارت امریکا کی جانب کھچے گا تو پاکستان، چین اور روس میں قربت بڑھے گی۔“ یہ الفاظ وسعت اللہ خان کے ہیں، جو انہوں نے 17 اکتوبر 2015ء…
    Written on الجمعة, 08 نومبر 2019 14:08 in سیاسی Read more...