سیاسی

سیاسی (26)




 
سید ثاقب اکبر نقوی

29 دسمبر 2019ء کو امریکی فضائیہ نے شام کی سرحد کے قریب صوبہ الانبار کے ضلع القائم میں عراق کی سرکاری ملیشیاء الحشد الشعبی کے ایک بریگیڈ کتائب حزب اللہ کی چھائونی پر فضائی حملہ کیا،




 
سید ثاقب اکبر نقوی

گذشتہ رات (28 نومبر 2019ء کو) امریکی صدر ٹرمپ غیر اعلانیہ طور پر افغانستان کے بگرام ایئربیس پر پہنچے۔ ان کے ہوائی جہاز کو دو چھوٹے طیارے حفاظتی حصار میں رکھے ہوئے تھے۔ سکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر اس دورہ کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ بگرام ایئربیس پر ہی افغان صدر کو بھی بلا لیا گیا تھا اور وہیں پر ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کروائی گئی۔۔۔




28 صفر 1441ھ کو جب عالم اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یوم وفات اور ان کے فرزند ارجمند سبط اکبر امام حسن علیہ السلام کا یوم شہادت منایا جا رہا تھا، لبنان سے عصر حاضر کے ایک عظیم محقق اور عالم آیت اللہ سید جعفر مرتضیٰ عاملی کی رحلت کی خبر پہنچی۔ وہ ایک ماہ کی علالت کے بعد اس روز اپنے آبائے اطہار کی خدمت میں جا پہنچے۔ آیت اللہ جعفر مرتضیٰ عاملی کا تعلق جنوبی لبنان سے تھا۔ وہ حضرت حسین ذوالدمعہ بن زید بن علی بن حسین کی نسل پاک سے تھے۔ وہ 25 صفر 1364 ہجری کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے والد گرامی علامہ مرتضیٰ عاملی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔۔۔




سید اسد عباس

عزیز و محترم قارئین! میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ کیسا نظام حکومت ہے کہ جس میں سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے اور اس سے بہرہ انسان دونوںکو ایک ہی پلڑے یعنی ووٹ میں تولا جاتا ہے۔سیاسیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر کا بھی ایک ووٹ اور غلام حسین جو لوگوں سے پوچھتا پھرتا ہے کہ ووٹ کسے دینا چاہیے کا بھی ایک ہی ووٹ۔شاید علامہ اقبال نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے




سید اسد عباس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی سپیشل فورسز نے داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو قتل کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بغدادی نے خودکش جیکٹ پہنی ہوئی تھی وہ پھٹنے سے بغدادی کی شناخت ممکن نہیں ہے، دھماکے کے سبب سرنگ بغدادی کے اوپر گری جس کے سبب اس کی باقیات بھی نہیں مل پائی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس مشن کے لیے ہمیں روس، عراق ، کردوں کا تعاون حاصل رہا، یہ ایک مشکل مشن تھا جسے بغیر کسی نقصان کے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بغدادی ہماری افواج کے حملے کے سبب چلا رہا تھا اور پھر جب اس نے دیکھا کہ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ بغدادی پر حملے کا واقعہ شام کے علاقے ادلب میں پیش آیا جہاں اس وقت شامی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ ابو بکر البغدادی کے مارے جانے کی اطلاعات اس سے قبل بھی کئی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں روس، ایران، عراق اور شام سبھی نے ابوبکر کے قتل کا دعوی کیا ہے تاہم اب چونکہ امریکہ کہ رہا ہے کہ بغدادی مارا گیا ہے تو دنیا کو یقین کرنا چاہیے کہ اب دوبارہ بغدادی کا تذکرہ کہیں سننے کو نہیں ملے گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک وجہ تو یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بڑے دہشت گرد پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کا بھی دعوی کیا تھا۔




گذشتہ ماہ کے اختتام پر پیرس میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کا نام فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس واچ لسٹ کی گرے کیٹیگری میں شامل کر لیا گیا۔ اس پر عمل درآمد جون سے ہوگا۔ اس اقدام کے باعث پاکستان کو نئی سخت معاشی پابندیوںکا سامنا کرنا پڑے گا۔ گرے لسٹ میں ان ملکوں کا نام شامل کیا جاتا ہے جنھیں دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام میں تعاون نہ کرنے والے ممالک قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں پاکستان کے علاوہ اس وقت ایتھوپیا، عراق، سربیا، شام، ٹرینیڈیڈ اینڈ ٹوبیگو،تیونس، ویناٹو اور یمن شامل ہیں۔ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔اس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت، ترکی، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک سمیت 37ممالک شامل ہیں۔ خلیج تعاون کونسل میں سر Category سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ مذکورہ بالا واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمائے کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہو گی اور ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس فیصلے سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ اور مالی ساخت کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ ایشیا پیسیفک گروپ میں بھی پاکستان کی شمولیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

ان دنوں ملی یکجہتی کونسل کے وفد کے ساتھ ایران میں ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ گویا اک نئے انقلاب کا آغاز ہوگیا ہے۔




 
سید اسد عباس

تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہنے والے، دنیا کے امیر ترین اشخاص میں سے ایک فرد اور پاکستانی عدلیہ میں کرپشن کے الزام میں سزا پانے والے قیدی نواز شریف جو کہ ضمانت پر رہا ہوئے خراب صحت کی بنیاد پر پاکستان کو خیر باد کہ کر چلے گئے۔ حکومت وقت نے کوشش کی ان سے کوئی شورٹی بانڈ لے لیا جائے تاہم لاہور کی ہائی کورٹ نے ان کو بیان حلفی پر ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی۔ میاں نواز شریف کی صحت کے حوالے سے اچانک شور و غوغا شروع ہوا، میڈیا پر ن لیگ کے سیاستدانوں اور ڈاکٹروں نے بتایا کہ میاں صاحب کا علاج ملک میں نہیں ہوسکتا۔ ان کا جرم، خاندانی پس منظر، ان پر لگے ہوئے جرمانے سب کچھ فراموش کر دیا گیا۔۔۔




 
سید اسد عباس

عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بننے کے پہلے روز سے ہی پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز کی ایک ریاست بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ ابھی کل ہی رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روز ولادت کی مناسبت سے عمران خان نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ ’’ہمارے رسول محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قانون کی بالادستی، انسانی حقوق، رحم، قابلیت و اہلیت جیسے اوصاف سے مزین تحصیل علم کو مقدس فریضے کے طور پر اپنانے والی جدید ’’ریاست مدینہ‘‘ کی بنیاد ڈالی، جو بھی ریاست یہ راہنما اصول اپنائے گی، یقیناً عروج پائے گی۔‘‘ ایک اور ٹوئیٹر پیغام میں عمران خان نے لکھا:




گذشتہ بدھ (9 اکتوبر 2019ء) کو ترک افواج نے اپنی جنوبی اور شام کی شمالی سرحد کی طرف پیش قدمی شروع کی اور اس کا مقصد شام کے شمالی علاقے سے ایس ڈی ایف (سیرین ڈیموکریٹک فورسز) کے اقتدار کا خاتمہ قرار دیا، جو ترک حکومت کے بقول ترکی کی کالعدم کرد تنظیم کردستان ورکز پارٹی کی توسیع ہے، جو ترکی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے گذشتہ کئی دہائیوں سے سرگرم عمل ہے۔ ترکی کے صدر اردغان نے شام کے اندر ترکی کے بارڈر پر کرد علاقوں کو اپنا سیکورٹی زون بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کو اس سیکورٹی زون میں آباد کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ترکی کے صدر اردغان اور امریکی صدر ٹرمپ کے مابین ہونے والی گفتگو کے بعد ترکی نے یہ فیصلہ کیا، کیونکہ صدر ٹرمپ نے اس خطے سے امریکی افواج نکالنے کا اعلان کردیا تھا۔۔۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« January 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
    1 2 3 4 5
6 7 8 9 10 11 12
13 14 15 16 17 18 19
20 21 22 23 24 25 26
27 28 29 30 31    

تازہ مقالے