اتحاد بین المسلمین

اتحاد بین المسلمین (3)



پس منظر
راقم کی ایک کتاب ’’پاکستان کے دینی مسالک‘‘  2010 کے آخر میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے مختلف مسالک کے علمائے کرام کا نقطۂ نظر شامل کیا گیا ہے۔ بعض علمائے کرام سے اس سلسلے میں راقم نے انٹرویو کیا اور بعض نے تحریری طور پر اپنی رائے سے آگاہ کیا۔ علاوہ ازیں بعض کی تحریروں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ سب قابل احترام علماء نے امت اسلامی کے مختلف مکاتب فکر کے مابین اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے نیز انھوں نے دوسروں کو کافر قرار دینے کے رویے کی بھی مذمت کی ہے۔ اس باب میں ہم مذکورہ کتاب سے اس ضمن میںان کی آراء قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہے ہیں:



دینی مسالک کے مابین قربت کی ضرورت 
اس میں شک نہیں کہ مختلف دینی مسالک کے ماننے والوں کا عمومی رویہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کی بات نہیں سنتے بلکہ  اپنی محفلوں میں دوسروں کو آنے کی دعوت تک نہیںدیتے ۔ اس غیر صحت مندانہ رجحان سے غیر صحت مندانہ معاشر ہ تشکیل پاچکا ہے ۔ اس صورت حال کا ازالہ بحیثیت قوم بقا کے لیے ناگزیر ہے ۔ اس سلسلے میں ہم ذیل میں چند معروضات پیش کرتے ہیں :



الف:   تاریخی تناظر میں 
سیاسی‘ مذہبی اور کلامی حوالے سے مسلمانوں میں مختلف نکتہ ہائے نظر کا وجود نیا نہیں ۔ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے فوری بعد سے تاریخ کی واضح شہادتیں اختلاف نظر کے بارے میں دکھائی دیتی ہیں مختلف آئمہ فقہ کے پیروکار پوری تاریخ اسلام میں موجود رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔

تازہ مقالے