اهل بیت علیهم السلام

اهل بیت علیهم السلام (36)



تحریر: سیدہ ندا حیدر
ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ دعا کیا ہوتی ہے؟ اور اگر ہم دعا پڑھیں تو ہمیں اس کا کیا نتیجہ ملنا چاہیے۔؟
دعا کا مطلب: پکارنا یا صدا بلند کرنا
دعا پڑھنے کے درج ذیل مختلف موارد ہوتے ہیں، جیسا کہ:
* ہم حصول ثواب کی نیت سے دعا پڑھتے ہیں۔
* کسی منت کے لیے دعا پڑھتے ہیں۔
* مشکل سے نجات کے لیے دعا پڑھتے ہیں۔ وغیرہ۔۔۔



تحریر: سید حیدر نقوی
کتنا ہی خوبصورت اور کیا پر معنیٰ جملہ ہے، اس جملے پر ہم جس قدر غور و فکر کرتے جائیں، ہمارے لیے نئے سے نئے روحانیت کے باب کھلتے جائیں گے، یعنی ہم اپنے وجود کا احساس کرنے لگیں گے، ایسا وجود جو نرم و ملائم ہو کر عرفاء کا ہم سفر بن جاتا ہے۔ کاش! ہم اس کے صحیح مفہوم سے آشنا ہو جائیں۔ کاش! پروردگار، اس جملے کو ہم درک کرسکیں۔کاش! ظہور ہمارے لیے ظاہر ہو۔ یہ لفظ ظہور اپنے اندر کتنی خوبصورتی کو سمیٹے ہوئے ہے۔



تحریر: سید حیدر نقوی
وہ روایات جن میں امام مہدی علیہ السلام کا مخصوص ایام یا اوقات میں ذکر زیادہ فضیلت کا حامل ہے، ان کے بارے میں کتاب نجم الثاقب میں یوں بیان کیا گیا ہے:
اول: شب قدر
دوم: جمعہ کا دن
سوم: عاشور کا دن



تحریر: سید حیدر نقوی
روشن مستقبل کی اُمیدانسانوں کے لیے اپنی بقاء و ارتقاءکا ایسا روح افزاء تصور ہے جس کے لیے انسان اپنے اوپر آنے والی کئی مشکلات کو ہنسی خوشی برداشت کرجاتا ہے۔ اگر انسانیت کا مستقبل روشن ہی نہ ہو اور انسان کی اس سلسلے میں اُمید باقی نہ رہے تو وہ اپنے حال کو اپنےہی ہاتھوں برباد کربیٹھے گا۔



تحریر: سید حیدر نقوی
مقدمہ:
امن کے لفظی معنی چین، اطمینان، سکون و آرام نیز صلح، آشتی و فلاح کے ہیں۔ اسی طرح امن بجائے خود لفظ اسلام میں داخل ہے، جس کے معنی ہیں دائمی امن و سکون اور لازوال سلامتی کا مذہب۔( ابن منظور، لسان العرب، 13: 23) ایمان عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا مادہ ’’ا۔ م۔ ن‘‘ (امن) سے لیا گیا ہے۔ لغت کی رو سے کسی خوف سے محفوظ ہو جانے، دل کے مطمئن ہو جانے اور انسان کے خیر و عافیت سے ہمکنار ہونے کو اَمن کہتے ہیں۔



تحریر: سیدہ زینب بنت الھدی
خدائے بزرگ و برتر نے یہ کائنات خلق کی تو وجہ تخلیق کائنات بھی خلق کیے اور وہ ہستیاں ایسی ہیں، جن کے بغیر دنیا کا نظام نہیں چل سکتا۔ خدا کی محبت کے بغیر کبھی بھی کائنات خالی نہیں رہی، ہر دور میں خدا کی حجت دنیا میں موجود رہی اور ابھی بھی خدا کی آخری حجت باقی ہے۔ جس کے انتظار میں قیامت رُکی ہوئی ہے۔

تازہ مقالے