علوم قرآنی

علوم قرآنی (12)



سربراہ البصیرہ، سید ثاقب اکبر کی عصر حاضر کے مذہبی مباحث پر مشتمل کتاب ’’معاصر مذہبیات‘‘ زیر طبع ہے۔ اس کے مباحث سے چند اقتباسات،ماہنامہ پیام کے قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔ید ثاقب اکبر صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ اُن کی ذات جدید و قدیم علوم کا حَسِیں امتزاج ہے۔ آپ ایک طرف اسلام کے تہذیبی، ثقافتی، مذہبی اور روحانی ورثے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں تو دوسری طرف اپنے وسیع تجربے اور علم کی بنا پر عہدِ حاضر کے بدلتے تقاضوں اور ضروریات سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں۔ا



بیان کی حقیقت:
 
گذشتہ مباحث میں ہم نے ’’اصولِ فقہ‘‘ میں ’’بیان‘‘ کی مختلف صورتوں کا مطالعہ کیا جس میں ہم نے دیکھا کہ یہ تمام صورتیں الفاظ اور تراکیب نیز ان کی صورتوں کے گرد گھومتی ہیں۔ اصول فقہ پر موجود وسیع لٹریچر کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں صرف ایک ہی جہت سے نصوص کا مطالعہ کیا گیا ہے جو الفاظ اوراس کے منطقی فہم سے متعلق اوراس میں ’’منطق ارسطا طالیس‘‘ سے کام لیا گیا ہے۔ جبکہ نصوص کے ’’معاشرتی فہم‘‘کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔



بیان التفسیر:
علمائے اصول کے نزدیک بیان تفسیر کا مطلب ہے’’بیان مافیہ خفاء‘‘ جس لفظ، ترکیب اور محاورے میں خفاء پایا جاتا ہو اُسے واضح کرنے کا نام بیان تفسیر ہے(۱) اس ضمن میں علماء مشترک و مجمل ،مشکل اور خفی کا ذکر کرتے ہیں۔ واضح ہوکہ فخرالاسلام بزدوی اور شمس الائمۃ سرخسی نے صرف مشترک و مجمل دو صورتوں کا ذکر کیا ہے بعد کے علماء نے اس میں وسعت دی چنانچہ البزدوی کے شارح عبدالعزیز البخاری نے کہا’’ھو بیان مافیہ خفاء من المشترک والمجمل و نحوھما‘‘ یعنی مشترک ،مجمل اور اسی طرح کی دوسری صورتوں میںجو خفاء پایاجاتا ہے اس کو بیان کرنے کا نام بیان التفسیر ہے۔(۲) چنانچہ ملا خسرو نے واضح طور پر لکھا ہے کہ ’’و ان تخصیص المشایخ المشترک والمجمل بالذکر تسامح‘‘ مشائخ نے محض مشترک ومجمل کا جو ذکر کیا ہے تو یہ تسامح ہے۔(۳



عصر حاضر میں اسلام کی متحرک اور قابل عمل تصویر اُس وقت تک پیش نہیں کی جاسکتی اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں بنایا جا سکتا جب تک زمان و مکان کے بدلتے ہوئے تقاضوں کی روشنی میں قرآن و سنت کے فہم کی سمت متعین نہ کی جائے۔ اس مقالے میں ان بنیادوں اور مختلف پہلوئوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو براہ راست قرآن و سنت کے فہم پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن ان کے اثر انداز ہونے کی نوعیت پر زبردست اختلا ف ہے،



عصر حاضر میں اسلام کی متحرک اور قابل عمل تصویر اُس وقت تک پیش نہیں کی جاسکتی اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں بنایا جا سکتا جب تک زمان و مکان کے بدلتے ہوئے تقاضوں کی روشنی میں قرآن و سنت کے فہم کی سمت متعین نہ کی جائے۔ اس مقالے میں ان بنیادوں اور مختلف پہلوئوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو براہ راست قرآن و سنت کے فہم پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن ان کے اثر انداز ہونے کی نوعیت پر زبردست اختلا ف ہے،



حرفِ آغاز
رسول اکرمؐ کی پیامبری ونبوت کو آپؐ سے ماقبل کے انبیاء کی نبوت کے تسلسل میں دیکھنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ قرآن حکیم میں فرمایا گیا ہے:



قرآن حکیم کی دعوت کا رخ عقل انسانی کی طرف ہے۔اس نے فکر کو اپیل کی ہے اور عقل کو حرکت میں آنے کی دعوت دی ہے۔



ہمارے ہاں دین سے قلبی وابستگی رکھنے والوں کی کمی نہیں ۔بہت بڑی تعداد میں آج بھی لوگ دینی خدمت کے جذبے سے بہت سے کام کرتے ہیں۔دین ومذہب کے نام پر بھاری رقمیں خرچ کی جاتی ہیں۔مذہب کے نام پر ہونے والے کاموں اور فعالیتوں کے پیچھے ’’اہل خیر‘‘کا مذہبی جذبہ ہی کار فرما ہے۔



’’استاد شہید مطہر ی لکھتے ہیں کہ مجموعی طور پر انسا ن کمال کی طر ف بڑھتا رہتا ہے ‘‘۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ عین ممکن ہے تاریخ کے کسی ایک موڑ پر انسان گذشتہ چند سالوں کی نسبت زوال یافتہ ہو لیکن مجموعی طور پر ایک بڑی مدت کی نسبت سے انسان نے ترقی ہی کا سفر طے کیا ہو تا ہے۔



انسان اگر اشرف مخلوقات ہے اور اگر اس کا وجود کائنات میں حرکت وارتقا کے تسلسل کے نتیجے میں ہے تو پھر کائنات میں زمین سے ہٹ کر حیات کا وہ تصور جو اس زمین پرہے،کہیں اور بعید دکھائی  دیتاہے۔

تازہ مقالے