اجتماعی

اجتماعی (8)




سید نثار علی ترمذی

آیت اللہ العظمی شیخ محمد حسین آل کاشف الغطا(قدس سرہ)
By Ayatullah Shaikh Muhammad Husayn Kashif al-Ghita Introduction Late Ayatullah Shaikh Muuammad Husayn Kashif al-Ghita is considered as one among the leading Muslims scholars. He was simultaneously skilled in Fiqh (jurisprudence), Arabic literature, philosophy, Hikmah (wisdom), Tafsir (exegesis) and Irfan (gnosticism) and was the first jurist who introduced comparative study of Fiqh at Hawza Ilmiyya in Najaf, Iraq. He penned several books including Asl al-Shia wa usuluha, Asl al-Shia wa Sunnah, Al-Ayat al-bayyinat, Tahrir al-majala, Al-Din wa l-Islam, Ayn al-Mizan, Al-Mawakib al-Husayniyya, Manasik Haj, Wajiza al-ahkam and Al-Urwa al-wuthqa. Aytullah Kashif al-Ghita was an ardent supporter of Muslim unity and used his writings, sermons and research papers to familiarize the nobles and the general masses of bringing different Muslim sects close to one another. The article under review is a reflection of the same belief and feeling. It has to be kept in mind while reading this paper that it was written almost 40 years earlier, but several points raised in it indicate that the situation is same as it was then. This piece of writing was selected by Nisar Ali Tirmzi to be published for the respected readers of the Monthly Payam.
دارالتقریب قاہرہ کے مجلے’’رسالۃ الاسلام‘‘ کے دوسرے سال کا پہلا شمارہ موصول ہوا جس قدر وقت اور فرصت مل سکی ہم نے اس کا مطالعہ کیا۔ اس شمارے کے آخری مقالے اور اس سے قبل کے شماروں کے مطالعے۔۔۔




ہفتے کی رات تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد دھرنے کے مقام پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نظام تعلیم کے لیے اپنے نقطہ نظر کو ایک مرتبہ پھر واضح انداز سے بیان کیا۔ وہ کہ رہے تھے : ’’ ہم اپنے ملک کے نظام تعلیم پر کام کریں گے اور یہاں ایک طرح کا تعلیمی نظام لے کر آئیں گے ۔ انگریزی میڈیم جہاں سے ممی ڈیڈی پیدا ہوتے ہیں ،اردو میڈیم اور دینی طریقہ تعلیم سب کو ختم کرکے ہم ایک ایسا تعلیمی نصاب دیں گے جس میں انگریزی بھی پڑھائی جائے گی ، اپنی زبان کی تعلیم بھی ہو گی اور دین بھی پڑھایا جائے گا۔ موجودہ تعلیمی نظام تین طرح کے ذہن اور اقوام پیدا کر رہا ہے ۔ ہم ایک نظام تعلیم کے ذریعے پاکستانیوں کو ایک قوم بنائیں گے۔۔۔۔‘‘





 
سید ثاقب اکبر نقوی

7 دسمبر کی صبح میں لاہور میں تھا، موبائل فون پر نظر پڑی تو کئی مس کالز تھیں اور کئی ایک پیغامات آئے ہوئے تھے۔ خواجہ شجاع عباس بچھڑ گئے تھے۔ ان کے بچھڑنے کی دہائی دی جا رہی تھی۔ جو پہلا جملہ بے ساختہ زبان پر آیا وہ قلم نے عام کر دیا۔کیا درد بھری صبح ہے، جو کبھی رخ نہ موڑتا تھا، آج رخ موڑ گیا۔ شجاع بھائی! آپ ایسے تو نہ تھے۔“ دل رنج و غم میں ڈوب گیا، عجیب دن چڑھا تھا، 7 دسمبر ہمیشہ اندوہ میں ڈوبا ہوا طلوع ہوگا۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

عجیب شخص رخصت ہوا کہ جس کے غم میں وہ بھی دلفگار ہیں، جنھیں زندگی بھر اس کی کسی بات سے اتفاق نہ رہا، ایسے میں ان کے رنج و الم کا کیا اندازہ جنھوں نے یہ گواہی دی: "لا نعلم منہ الا خیرا" یا اللہ! ہم تو اس سے خیر کے علاوہ کچھ جانتے ہی نہیں۔ گویا انہوں نے زندگی بھر اس کے وجود سے خیر ہی کو پھوٹتے دیکھا اور خوشبو ہی کو بکھرتے محسوس کیا۔ سبوخ سید صحافت کی دنیا میں جانا پہچانا نام ہے، انہوں نے یوں مرحوم کا ذکر کیا: "خواجہ شجاع عباس صاحب سے کافی نشستیں رہیں۔ زبردست آدمی تھے۔ تاریخی حوالے انہیں کافی از بر تھے۔ مجھے کبھی ان سے اتفاق نہ ہوسکا، لیکن زندگی میں کسی سے اتفاق ہونا ضروری تو نہیں۔"




’’سائنس: تلاش حق‘‘یہ کتاب ماہر طبیعیات ڈاکٹر حامد سلیم کی تصنیف ہے۔ اس کی تقریب رونمائی 18اکتوبر 2019 کو پاکستان اکیڈمی آف سائنسز(PAS) کے آڈیٹوریم (اسلام آباد) میں منعقد ہوئی۔ اکیڈمی کے ساتھ تقریب کے انعقاد کے لیے اسلام آباد سرکل نے ا شتراک کیا تھا۔ تقریب میں جناب سید ثاقب اکبر کے علاوہ پی اے ایس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان، پروفیسر ڈاکٹر ہود بھائی، تقریب کے مہمان خصوصی سینیٹر فرحت اللہ بابراور صاحب کتاب نے خطاب کیا۔ خوش آمدید اسلام آباد سرکل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الماس حیدر نقوی اورپی اے ایس کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اسلم بیگ نے کہا۔ ذیل میں کتاب کے بارے میں سید ثاقب اکبر کا اظہاریہ پیش کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)




 
سید اسد عباس

دنیا میں عوامی مظاہروں کا ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے، دنیا کے اکثر ملکوں میں عوام حکومت سے مطمئن نہیں ہوتے ہیں، تاہم عوام کی زندگیوں میں اچانک کوئی ایسا لمحہ آتا ہے جس کے بعد ان کے لیے صبر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مختلف ممالک میں سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف اپوزیشن کا کام کرتی ہیں اور احتجاج یا مظاہروں کی کال دیتی ہیں تاہم 2011ء کی عرب بہار کے وقت سے احتجاجات کی دنیا میں ایک نیا طریقہ کار سامنے آیا ہے، جس میں کوئی خاص سیاسی جماعت یا گروہ مظاہروں کے پیچھے نہیں ہوتا بلکہ احتجاج کرنے والے عوام کی قیادت کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہوتا ہے۔ زیادہ تر یہ احتجاج سوشل میڈیا پر منظم ہوتے ہیں اور پھر عوام سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔۔۔




سید علی عباس نقوی

پس منظر(تاریخی پہلو، تحلیل) (بیک گرائونڈ) (اینا لائسیس)
عوام اور طرح کی چیزوں کی عادی ہو گئے ہیں جیسے ان کی تربیت ہوئی تھی ان سے بہت دور چلے گئے تھے۔ حق کو باطل کے معیار دھندلا چکے تھے۔ دولت زیادہ ہو گئی، امت ایک بہت بڑی طاقت بن گئی۔ ایسے میں حکمرانوں کو خدا خوفی کاپہلو خدا کے سامنے جوابدہی، بلکہ عوام کے سامنے جوابدہی۔۔۔۔ وہ عدالتیں جو حضرت علیؑ کو پوچھ سکتی تھیں وہ مشکل ہو گئی تھیں۔ حق کی خاطر قیام، قربانی، ایثار، معاشرہ پورا کا پورا ختم ہو گیا تھا۔ ایسے میں ضروری تھا کہ وہ عام چیزوں کو بیدار نہیں کر سکتی تھیں۔ کوئی بہت بڑا واقعہ ہی ان کو ہلا سکتا تھا۔ پھر واقعہ بھی ایسا ہونا چاہیے تھا جسے دبایا نہ جا سکے، جسے روکا نہ جاسکے۔ پھر کوئی علاقائی واقعہ۔۔۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

واٹس ایپ تو عجیب مصیبت ہے۔ ہر گروپ میں ہر طرح کی فلمیں، آڈیوز، ویڈیوز اور بہت کچھ۔ ایک مخصوص موضوع پر گروپ بنتا ہے اور پھر موضوع تلاش کرنے سے بہت مشکل سے ملتا ہے۔ گروپ ساز بار بار گزارش کرتے ہیں کہ ”خواتین و حضرات! اس گروپ کا یہ موضوع ہے، اس کا یہ مقصد ہے“، لیکن قسم ہے جو ”معمولات ترسیل“ میں کوئی فرق پڑے۔ اوّل تو یہ لگتا ہے جیسے کسی نے یہ گزارش پڑھی ہی نہیں، لیکن پڑھی بھی ہو تو طرح طرح کے عذر ہیں مثلاً: فلاں نے بھی تو ایسی پوسٹ کی ہے، اس پوسٹ کا مقصد فقط اطلاع دینا ہے، وغیرہ۔ اگر پوسٹ کسی مذہبی نظریے یا شخصیت کے بارے میں ہے، اگرچہ گروپ کے موضوع سے ہٹ کر ہے تو پھر سمجھانے والے کی خیر نہیں، اسے آسانی سے دشمن دین اور دشمن مقدسات دین بنایا جاسکتا ہے۔ ہم نے خود بھی اس کا تجربہ کیا۔ ایک گروپ علمی و فکری تجزیات کے لیے بنایا۔ طرح طرح کی تصویریں، ویڈیوز، آڈیوز، تبصرے، خبریں، اشتہارات اور بہت کچھ اس میں آنے لگے۔ فرقہ وارانہ پوسٹیں الگ۔ آخر کار ہم نے دلچسپی چھوڑ دی۔

تازه کالم

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه کالمز