انسان اپنے پروردگار کے حسن تخلیق کا شاہکار ہے۔{ FR 797 }   وہ انسان جو احسن تقویم میں پیدا کیا گیا ہے۔{ FR 798 }
جسے اس زمین پر اپنے مقصد تخلیق کو پورا کرتے ہوئے کمال کی طرف بڑھنا ہے۔ اس منزل کمال کے حصول کے لیے اللہ نے اسے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس مقصد کو پانے کے لیے زمین بلکہ کائنات کے وسائل اور امکانات اس کے دست تصرف میں دیے ہیں۔{ FR 799 } اشرف المخلوق ہونے کے ناتے دیگرتمام مخلوقات بھی انسانی مقصد کے حصول کے ذریعہ اور معاون و مددگار کے طور پر تخلیق کی گئی ہیں۔



پاکستان کے بننے کے بعد بعض ایسی دستاویزات سامنے آئی ہیں جن کو بجا طور پر ایک افتخار کے ساتھ پوری قوم کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے اسی طرح ان دستاویزات کو پاکستان سے باہر بھی اپنی نظریاتی اساس نیز ایک مثال کے طور پر دکھایا جاسکتا ہے ۔ یہ ایسی دستاویزات ہیں جو پاکستان کی نظریاتی اساس کو بیان کرتی ہیں ۔ ان میں اکتیس علماء کے بائیس نکات ہیں، جس میں تمام مسالک کے علماء نے اسلامی ریاست کے خدوخال کو بیان کیا ہے ۔  اس کے بعد قرارداد مقاصد جو بعد میں پاکستان کے آئین کا حصہ بنی کو بھی اہم دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے ۔ 


 
سید ثاقب اکبر نقوی

شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کی برسی کے دن قریب آرہے ہیں اور اس موقع پر ایک معروف استاد کی طرف منسوب یہ بیان سامنے آیا ہے کہ شہید حسینی جمہوریت کے میدان میں نہیں کودنا چاہتے تھے مگر دو شخصیات نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ ایک شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی اور دوسرے علامہ افتخار حسین نقوی امام خمینی ٹرسٹ والے۔ یہ بیان اسلامی تہذیب کے زیر عنوان تحریک بیداری کے ایک پیج پر موجود ہے۔ اس بیان کی صحت یا عدم صحت سے قطع نظر ہم چاہتے ہیں کہ تاریخ کا درست ریکارڈ سامنے آجائے۔



 
سید اسد عباس

موسم حج آن پہنچا، تاہم اس مرتبہ حج گذشتہ روایات سے ہٹ کر انجام دیا جائے گا۔ کرونا کے سبب حکومت سعودیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس مرتبہ دنیا بھر سے مسلمان حج کی سعادت سے بہرہ ور نہیں ہوسکیں گے۔ سعودیہ میں مقیم افراد نیز سعودیہ کے اقامہ ہولڈر ہی اس سعادت سے فیضیاب ہوں گے۔ حج کے حوالے سے یقیناً ایس او پیز کی تیاری بھی جاری ہوگی۔ یہ شاید کعبۃ اللہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ حج کو ایسی پابندیوں کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے۔



تحریر: سیدہ ندا حیدر
ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ دعا کیا ہوتی ہے؟ اور اگر ہم دعا پڑھیں تو ہمیں اس کا کیا نتیجہ ملنا چاہیے۔؟
دعا کا مطلب: پکارنا یا صدا بلند کرنا
دعا پڑھنے کے درج ذیل مختلف موارد ہوتے ہیں، جیسا کہ:
* ہم حصول ثواب کی نیت سے دعا پڑھتے ہیں۔
* کسی منت کے لیے دعا پڑھتے ہیں۔
* مشکل سے نجات کے لیے دعا پڑھتے ہیں۔ وغیرہ۔۔۔



تحریر: سید حیدر نقوی
کتنا ہی خوبصورت اور کیا پر معنیٰ جملہ ہے، اس جملے پر ہم جس قدر غور و فکر کرتے جائیں، ہمارے لیے نئے سے نئے روحانیت کے باب کھلتے جائیں گے، یعنی ہم اپنے وجود کا احساس کرنے لگیں گے، ایسا وجود جو نرم و ملائم ہو کر عرفاء کا ہم سفر بن جاتا ہے۔ کاش! ہم اس کے صحیح مفہوم سے آشنا ہو جائیں۔ کاش! پروردگار، اس جملے کو ہم درک کرسکیں۔کاش! ظہور ہمارے لیے ظاہر ہو۔ یہ لفظ ظہور اپنے اندر کتنی خوبصورتی کو سمیٹے ہوئے ہے۔



تحریر: سید حیدر نقوی
وہ روایات جن میں امام مہدی علیہ السلام کا مخصوص ایام یا اوقات میں ذکر زیادہ فضیلت کا حامل ہے، ان کے بارے میں کتاب نجم الثاقب میں یوں بیان کیا گیا ہے:
اول: شب قدر
دوم: جمعہ کا دن
سوم: عاشور کا دن



تحریر: سید ثاقب اکبر

حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کی پکار پر لبیک کہی۔ اس کی کبریائی کے زمزمے گنگنائے اور اس کے گھر کا طواف کیا۔ کیا اس کی آواز پر لبیک کہنے کے بعد اب اس کے غیر کی آواز پر لبیک کہنا جائز ہے؟ اس کی کبریائی کا زمزمہ دل و جاں کے ساز پر گنگنانے کے بعد اب کسی غیر کی عظمت وقوت کا گیت گایا جاسکتا ہے؟ اس کے گھر کا طواف کرنے کے بعد اس کے غیر کے گھر کا طواف کرنا روا ہے؟ جس پیغمبر اعظم ؐ نے فرمایا تھا کہ حج گناہوں کو یوں دھو دیتا ہے جیسے پانی میل کچیل کو صاف کر دیتا ہے۔ اس کے فرمان کے مطابق اگر اپنی روح کی میل کچیل صاف کر لی جائے حج ادا ہوتاہے۔ایسے ہی مطالب پر مشتمل مدیر اعلی ماہنامہ پیام کا یہ اصلاح شدہ مضمون قارئین پیام کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے ۔یہ مضمون جناب سید ثاقب اکبر کی نئی شائع ہونے والی کتاب معاصر مذہبیات سے ماخوذ ہے۔(ادارہ)



تالیف :شہید محمد باقر الصدر
مترجم : مفتی امجد عباس

تعارف:شہید باقر الصدر عراق کے معروف علمی خانوادے خاندان صدر کے چشم و چراغ ہیں ، آپ نے جوانی میں ہی علم و آگہی کی منازل کو طے کیا اور عراقی معاشرے کے ساتھ دنیا بھر میں نام پیدا کی آپ کی کتب فلسفتنا اور اقتصادنا اپنے متعلقہ موضوع پر لکھی گئی اچھوتی کتب ہیں جن کا کئی ایک زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے نجف سے فارغ التحصیل کئی ایک جید علمائے کرام شہید باقر الصدر کے شاگردوں میں سے ہیں جن میں علامہ سید ساجد علی نقوی قابل ذکر ہیں ۔ زیر نظر تحریر شہید محمد باقر الصدر کی کتاب ’’ نظرۃ عامۃ فی العبادات‘‘ سے ماخوذ ہے جس میں شہید باقر الصدر نے حج کے ہماری زندگیوں پر اثرات پر قلم اٹھایا ہے شہید باقر الصدر تحریر کرتے ہیں کہ’’ حج کے ذریعے وحدتِ امت و اسلامی اخوت کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ اس موقع پر آئے حجاج کی نہ تو زبان ایک ہوتی ہے، نہ رسم و رواج ایک جیسے، نہ علاقہ ایک، نہ ذہنی سطح اور رنگ ایک؛ ہاں اِن سب کا عقیدہ ایک ہوتا ہے۔ سب حاجیوں کی روش اور اعمال بجا لانے کا طریقہ ایک جیسا ہوتا ہے اور اِن سب کا ایک ہی ہدف؛ اللہ کی راہ میں قربانی دینا ہوتا ہے‘‘۔مفتی امجد نے اس مضمون کا ترجمہ مفہوم کے اعتبار سے کیا ہے۔ امید ہے یہ تحریر قارئین پیام کو پسند آئے گی۔(ادارہ)



تحریر: شہید مرتضی مطہری 
ترجمہ: عباس ہمدانی 

تعارف:اسلام ہمیں یعنی مختلف قوموں کو جو نہ ایک نسل سے ہیں، نہ ایک زبان بولتے ہیں، نہ ایک رنگ کے ہیں اور نہ ایک حکومت اور قومیت رکھتے ہیں ایک سرزمین پر انتہائی روحانی آمادگی کے ساتھ جمع کرتا ہے۔ یہ ایک بے مثال اجتماع ہے، ایک ایسا اجتماع جو تعداد کے حوالے سے کم نظیر یا شائد بے نظیر لیکن کوالٹی کے لحاظ سے یقیناً بے نظیر ہے۔ کیونکہ یہ بالکل نیچرل ہے اور اسکے پیچھے کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے۔ یہ ایسا اجتماع ہے جو کسی لالچ کے بغیر ہے، بلکہ ہر لالچ کو ترک کرنے کے بعد ہے، ایک ایسا اجتماع جو عیش و عشرت اور تفریح کی خاطر بھی نہیں ہے۔ آج اسکی مشکلات اگرچہ کافی حد تک کم ہو گئی ہیں لیکن پھر بھی مشکلات کے ہمراہ ہے۔ ایک ایسا اجتماع ہے جس میں کم از کم عارضی طور پر ذاتی افتخارات اور انا پرستی کو ترک کر دیا جاتا ہے۔ سب افراد ایک سوچ اور ایک ذکر اور ایک لباس اور ایک عمل کے ساتھ ایک راستے پر قدم اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 

تازہ مقالے