’’سائنس: تلاش حق‘‘یہ کتاب ماہر طبیعیات ڈاکٹر حامد سلیم کی تصنیف ہے۔ اس کی تقریب رونمائی 18اکتوبر 2019 کو پاکستان اکیڈمی آف سائنسز(PAS) کے آڈیٹوریم (اسلام آباد) میں منعقد ہوئی۔ اکیڈمی کے ساتھ تقریب کے انعقاد کے لیے اسلام آباد سرکل نے ا شتراک کیا تھا۔ تقریب میں جناب سید ثاقب اکبر کے علاوہ پی اے ایس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان، پروفیسر ڈاکٹر ہود بھائی، تقریب کے مہمان خصوصی سینیٹر فرحت اللہ بابراور صاحب کتاب نے خطاب کیا۔ خوش آمدید اسلام آباد سرکل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الماس حیدر نقوی اورپی اے ایس کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اسلم بیگ نے کہا۔ ذیل میں کتاب کے بارے میں سید ثاقب اکبر کا اظہاریہ پیش کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)




یہ بات درست ہے کہ سانحہ ٔپشاور کے سوا عشرۂ محرم مجموعی طور پرامن سے گزر گیا۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے دہشت گردی کی ممکنہ کارروائیوں کوروکنے کے لئے موثر انتظامات کیے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ سارے ملک میں سیکیورٹی کے انتظامات پر عوام کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ خوف ووحشت کی یہ فضا کب تک قائم رہے گی۔ پورے ملک میں لوگ اور انتظامیہ خوف زدہ کیوں ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ فوج اورپولیس اس ملک میں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوگئی ہے۔ سچی بات ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے پولیس کے ان اہل کاروں کے لئے دل بے چین رہتا ہے جو امن وامان کی بحالی اور سیکیورٹی کی ذمہ داریوں پرمامور ہوتے ہیں۔اس راستے میں سینکڑوں اپنی جانوںکا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔معمولی سی تنخواہ، انتہائی کم وسائل اور دہشت گردوں کے مقابلے میں کم تر دفاعی سازوسامان کے ساتھ جب یہ جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھے چوراہوںاور چوکوں میں کھڑے اور چیکینگ کرتے نظر آتے ہیں تو دل ڈر جاتا ہے۔۔۔




16جنوری 2018 کو یعنی آج سے ایک برس پہلے ایوان صدر میں ایک یادگار تقریب میں 1829 علماء اور دانشوروں کے دستخطوں کے ساتھ ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں میں دہشت گردی، انتہا پسندی ، تکفیریت اور خارجیت کی تمام شکلوں کومسترد کردیا گیا۔ اس فتویٰ کو پاکستان کے تمام اسلامی مسالک کے جید اور ذمہ دار علماء کی تائید حاصل ہے۔ دینی مدارس کی پانچوں تنظیموں کے سربراہوں کی تائید و امضاء نے اسے اور بھی معتبر کر دیا ہے۔ ہم نے گذشتہ برس اس پیغام کے سامنے آنے کے بعد یہ بات لکھی تھی کہ ’’پیغام پاکستان‘‘ کو یقینی طور پر قرارداد مقاصد کی عظیم الشان دستاویز کے بعد ایک بڑی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں قرارداد مقاصد کی ایک مرتبہ پھر تائید و توثیق ہی نہیں کی گئی بلکہ اس کی ضروری وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔ ہماری یہ بھی رائے ہے کہ اس سے پہلے اکتیس علماء کے بائیس نکات بھی تاریخ پاکستان میں اسلامی مسالک و مذاہب کے ا تحاد کی ایک اہم اساس، بیانیہ اور دستاویز کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ یقینی طور پر جب پاکستان میں دہشتگردی اور تکفیریت اپنے عروج پر تھی اور جب ایک گروہ کی طرف سے قرآن و سنت کی مختلف آیات وروایات کی۔۔۔




سید اسد عباس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی سپیشل فورسز نے داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو قتل کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بغدادی نے خودکش جیکٹ پہنی ہوئی تھی وہ پھٹنے سے بغدادی کی شناخت ممکن نہیں ہے، دھماکے کے سبب سرنگ بغدادی کے اوپر گری جس کے سبب اس کی باقیات بھی نہیں مل پائی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس مشن کے لیے ہمیں روس، عراق ، کردوں کا تعاون حاصل رہا، یہ ایک مشکل مشن تھا جسے بغیر کسی نقصان کے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بغدادی ہماری افواج کے حملے کے سبب چلا رہا تھا اور پھر جب اس نے دیکھا کہ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ بغدادی پر حملے کا واقعہ شام کے علاقے ادلب میں پیش آیا جہاں اس وقت شامی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ ابو بکر البغدادی کے مارے جانے کی اطلاعات اس سے قبل بھی کئی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں روس، ایران، عراق اور شام سبھی نے ابوبکر کے قتل کا دعوی کیا ہے تاہم اب چونکہ امریکہ کہ رہا ہے کہ بغدادی مارا گیا ہے تو دنیا کو یقین کرنا چاہیے کہ اب دوبارہ بغدادی کا تذکرہ کہیں سننے کو نہیں ملے گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک وجہ تو یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بڑے دہشت گرد پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کا بھی دعوی کیا تھا۔




سید اسد عباس

دنیا میں پہلا شخص جس نے کسی دوسرے شہر سے قبر امام حسین علیہ السلام کی جانب سفر کیا، صحابی رسول ص حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ہیں، آپ چہلم سید الشہداء کے موقع پر مدینہ سے سفر کرکے کربلا تشریف لائے اور چند روز اس مقام پر قیام کیا، دوسرا قافلہ جو اس قبر کی زیارت کے لیے کربلا میں اترا اسیران کوفہ و شام کا قافلہ ہے، جو رہائی کے بعد مدینہ جاتے ہوئے کربلا میں چند روز مقیم رہے۔ توابین بھی کوفہ سے کربلا آئے اور نہر فرات پر انھوں نے غسل شہادت کے بعد اپنی تحریک کا آغاز کیا، جس کا نعرہ یا لثارات الحسینؑ تھا۔ زیارت امام حسین علیہ السلام کا یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے ۔۔۔




گذشتہ بدھ (9 اکتوبر 2019ء) کو ترک افواج نے اپنی جنوبی اور شام کی شمالی سرحد کی طرف پیش قدمی شروع کی اور اس کا مقصد شام کے شمالی علاقے سے ایس ڈی ایف (سیرین ڈیموکریٹک فورسز) کے اقتدار کا خاتمہ قرار دیا، جو ترک حکومت کے بقول ترکی کی کالعدم کرد تنظیم کردستان ورکز پارٹی کی توسیع ہے، جو ترکی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے گذشتہ کئی دہائیوں سے سرگرم عمل ہے۔ ترکی کے صدر اردغان نے شام کے اندر ترکی کے بارڈر پر کرد علاقوں کو اپنا سیکورٹی زون بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کو اس سیکورٹی زون میں آباد کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ترکی کے صدر اردغان اور امریکی صدر ٹرمپ کے مابین ہونے والی گفتگو کے بعد ترکی نے یہ فیصلہ کیا، کیونکہ صدر ٹرمپ نے اس خطے سے امریکی افواج نکالنے کا اعلان کردیا تھا۔۔۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« January 2020 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
    1 2 3 4 5
6 7 8 9 10 11 12
13 14 15 16 17 18 19
20 21 22 23 24 25 26
27 28 29 30 31    

تازہ مقالے