سید ثاقب اکبر نقوی

طلبہ کا یہ کہنا بجا ہے کہ 18 سال کی عمر میں ووٹ کا حق ہے تو سیاست کا حق کیوں نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ انجمن سازی ایک آئینی حق ہے اور وہ سیاستدان جنھیں 1973ء کے آئین پر مان ہے اور وہ اسے ایک مقدس دستاویز قرار دیتے ہیں اور ان میں سے وہ بھی ہیں،،،




 
سید ثاقب اکبر نقوی

گذشتہ رات (28 نومبر 2019ء کو) امریکی صدر ٹرمپ غیر اعلانیہ طور پر افغانستان کے بگرام ایئربیس پر پہنچے۔ ان کے ہوائی جہاز کو دو چھوٹے طیارے حفاظتی حصار میں رکھے ہوئے تھے۔ سکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر اس دورہ کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ بگرام ایئربیس پر ہی افغان صدر کو بھی بلا لیا گیا تھا اور وہیں پر ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کروائی گئی۔۔۔




 
سید اسد عباس

گذشتہ چند دنوں میں پاکستان کس تکلیف سے گذرا، کسی سے پنہاں نہیں ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مقدمہ سپریم کورٹ میں جانا، اس مقدمے کی پیروی کے حوالے سے حکومت کے اقدامات، سمریوں پر سمریاں اور ان میں سامنے آنے والی اصطلاحی غلطیاں۔ عدالت عظمیٰ کا ان سمریوں کے حوالے سے ردعمل، قانونی ماہرین کی آراء، سب کچھ پاکستان میں نیا تھا۔ پاکستان میں کسی بھی چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہ تھا۔۔۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

جب دین کو ایک انسانی تہذیب کے طور پر نہ دیکھا جائے تو پھر مذہبی کتابوں میں موجود عبارات میں سے انفرادی طور پر احکام و مسائل کے استنباط اور استخراج کا طریقہ رواج پا جاتا ہے۔ ہر شخص مختلف عبارتوں سے اپنے ذوق اور انداز فکر کے مطابق مفاہیم اخذ کرتا ہے۔ اپنی پسندیدہ شخصیات یا جن کی عظمت کا تصور ذہن پر چھایا ہوتا ہے۔۔۔




 
سید ثاقب اکبر نقوی

واٹس ایپ تو عجیب مصیبت ہے۔ ہر گروپ میں ہر طرح کی فلمیں، آڈیوز، ویڈیوز اور بہت کچھ۔ ایک مخصوص موضوع پر گروپ بنتا ہے اور پھر موضوع تلاش کرنے سے بہت مشکل سے ملتا ہے۔ گروپ ساز بار بار گزارش کرتے ہیں کہ ”خواتین و حضرات! اس گروپ کا یہ موضوع ہے، اس کا یہ مقصد ہے“، لیکن قسم ہے جو ”معمولات ترسیل“ میں کوئی فرق پڑے۔ اوّل تو یہ لگتا ہے جیسے کسی نے یہ گزارش پڑھی ہی نہیں، لیکن پڑھی بھی ہو تو طرح طرح کے عذر ہیں مثلاً: فلاں نے بھی تو ایسی پوسٹ کی ہے، اس پوسٹ کا مقصد فقط اطلاع دینا ہے، وغیرہ۔ اگر پوسٹ کسی مذہبی نظریے یا شخصیت کے بارے میں ہے، اگرچہ گروپ کے موضوع سے ہٹ کر ہے تو پھر سمجھانے والے کی خیر نہیں، اسے آسانی سے دشمن دین اور دشمن مقدسات دین بنایا جاسکتا ہے۔ ہم نے خود بھی اس کا تجربہ کیا۔ ایک گروپ علمی و فکری تجزیات کے لیے بنایا۔ طرح طرح کی تصویریں، ویڈیوز، آڈیوز، تبصرے، خبریں، اشتہارات اور بہت کچھ اس میں آنے لگے۔ فرقہ وارانہ پوسٹیں الگ۔ آخر کار ہم نے دلچسپی چھوڑ دی۔




 
سید اسد عباس

اسماعیلیہ بھی دیگر شیعہ مسالک کی طرح امام علیؑ کو امامِ منصوص مانتے ہی وہ شیعہ اثنا عشریہ کے پہلے چھ اماموں کی امت کے قائل ہیں؛ بعدازاں وہ امام جعفر صادقؑ کے بعد ان کے بڑے بیٹے اسماعیل یا اسماعیل کے بیٹے محمد کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔اس طرح وہ سات اماموں کی امامت کے قائل ہیں۔ یہ عقیدہ تمام اسماعیلی فرقوں میں مشترک ہے۔ گذشتہ قسط میں جناب مفتی امجد عباس نے اسماعیلیہ کی تاریخ، فرقوں اور ان کے بنیادی اعتقادات کا اجمالی جائزہ پیش کیا تھا۔ زیر نظر مقالے میں معاصر اسماعیلی فرقوں؛ آغا خانیوں اور بوہروں کی آبادی اور ان کے عقائد و نظریات کا اختصار سے جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آئندہ دروزیہ کے عقائد و نظریات کا جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔ مفتی امجد عباس اس سے قبل زیدیہ، اباضیہ اور نور بخشی فرقہ کے حوالے سے بھی ایسے مضامین تحریر کر چکے ہیں۔ یہ مضامین ان فرقوں کو جاننے کے لیے ایک اہم تعارفی منبع ہیں۔ (ادارہ)

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه مقالے