زیر عرش احمدؐ کا جیسے کوئی بھی ہمتا نہیں
جوں عدیل سیدۂ فاطمہ زہراؑ نہیں




وکیل و قاضی کو اپنے خلاف کر لوں گا
میں جرمِ آگہی کا اعتراف کر لوں گا

 




ماتم شہ میں جو ہم ہاتھ اُٹھا دیتے ہیں
پایۂ تختِ ستم شاہی ہلا دیتے ہیں

 




جاں کی بازی ہے گرچہ مات رہے
آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ رہے

 




سب اجالے ، سب دیے اُس کی ضیا پاشی پہ ماند
ہاں وہی جو ایک کہلایا بنی ہاشم کا چاند

 




انسان کا غم کھانا انساں کا بھرم رکھنا
غم خانے کے مخزن میں محفوظ یہ غم رکھنا

 




مالکِ چادرِ عصمت ہے اور تطہیر کی ملکہ ہے 
باپ نے جس کو عطا کردی خلعت اُمّ ابیھا ہے

 




کہاں یہ نعتِ نبیؐ اور کہاں یہ ذات مری
مدد کو آئیے مولائے کائنات مری

 




میں کیوں کہوں کہ ترے بن بسر نہیں ہوتی
ضرور ہوتی ہے، ہوتی ہے پر نہیں ہوتی

 




کیا نام دوں جنابؐ کی اس نعت ناب کو
یاسین کا خطاب رسالت ماٰبؐ کو