جلوہ گری جمالِ کرم کی غضب کی تھی
پھر آنکھ! تیری عذر تراشی غضب کی تھی

 




رکھ کے انگشت غم کے سازوں پر
کوئی اُکسا رہا ہے نغموں پر

 




مدّاحیٔ خواجہؐ نہیں محنت کے ثمر میں
ہیں ساری کرامات بس اِک حُسنِ نظر میں

 




حاکمِ شام! تُو چل چال جو چل سکتا ہے
’’ابنِ زہراؑ رُخ کونین بدل سکتا ہے‘‘*

 



جب نہیں باد کا بھی کھڑکا
رہ رہ کر کیوں دل دھڑکا
چپ چپ فطرتِ نیم شبی
جانے یہ کیا آواز آئی




کوئی جو سمجھے تو سمجھے خیال و خواب کا ذکر
فلک پہ ہونے لگا میرے اضطراب کا ذکر

 




بہت اداس بہت دل فگار ہے یہ رات
نگاہ شوق میں سہمے ہوئے ستارے ہیں
ہر ایک لمحہ بہت بے قرار لگتا ہے




دم دہلیز ساقی کو دیا پیغام، رہنے دو
کسی کے ہاتھ بھیجا ہے تو اپنا جام رہنے دو

 




لب ہلے ‘ بولی یہ دیوار کہ آجا بی بی
کعبہ کہتا ہے کہ آمجھ میں سما جا بی بی

 




لے کے جاتا ہے پئے سیرِ منازل قرآن
وہ مقامات کہ مذکور ہوئے فی القرآن