سید علی عباس نقوی

پس منظر(تاریخی پہلو، تحلیل) (بیک گرائونڈ) (اینا لائسیس)
عوام اور طرح کی چیزوں کی عادی ہو گئے ہیں جیسے ان کی تربیت ہوئی تھی ان سے بہت دور چلے گئے تھے۔ حق کو باطل کے معیار دھندلا چکے تھے۔ دولت زیادہ ہو گئی، امت ایک بہت بڑی طاقت بن گئی۔ ایسے میں حکمرانوں کو خدا خوفی کاپہلو خدا کے سامنے جوابدہی، بلکہ عوام کے سامنے جوابدہی۔۔۔۔ وہ عدالتیں جو حضرت علیؑ کو پوچھ سکتی تھیں وہ مشکل ہو گئی تھیں۔ حق کی خاطر قیام، قربانی، ایثار، معاشرہ پورا کا پورا ختم ہو گیا تھا۔ ایسے میں ضروری تھا کہ وہ عام چیزوں کو بیدار نہیں کر سکتی تھیں۔ کوئی بہت بڑا واقعہ ہی ان کو ہلا سکتا تھا۔ پھر واقعہ بھی ایسا ہونا چاہیے تھا جسے دبایا نہ جا سکے، جسے روکا نہ جاسکے۔ پھر کوئی علاقائی واقعہ۔۔۔




مفتی امجد عباس

سنی و شیعہ مصادر میں اِس مضمون کی ایک روایت وارد ہوئی ہے “لا تنزلوا النساء بالغرف ولا تعلموهن الكتابة” کہ عورتوں کو بالا خانوں میں نہ بیٹھنے دیا کرو اور اُنھیں لکھنا نہ سکھاؤ۔ اِن جملوں کے علاوہ بعض مقامات پر ساتھ یہ بھی ہے کہ اُنھیں “کڑھائی/ کپڑا بننا” سکھاؤ، سورہ نور کی تعلیم دو، سورہ یوسف نہ پڑھاؤ۔ شیعہ کتب میں یہ روایت معمولی سی تبدیلی کے ساتھ نبی کریم اور امام علی سے الکافی اور تہذیب الاحکام میں مذکور ہے جبکہ سُنی کتب میں یہ روایت حضرت عائشہ کی زبانی، نبی کریم سے معجم الاوسط للطبرانی، مستدرکِ حاکم۔۔۔




16جنوری 2018 کو یعنی آج سے ایک برس پہلے ایوان صدر میں ایک یادگار تقریب میں 1829 علماء اور دانشوروں کے دستخطوں کے ساتھ ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں میں دہشت گردی، انتہا پسندی ، تکفیریت اور خارجیت کی تمام شکلوں کومسترد کردیا گیا۔ اس فتویٰ کو پاکستان کے تمام اسلامی مسالک کے جید اور ذمہ دار علماء کی تائید حاصل ہے۔ دینی مدارس کی پانچوں تنظیموں کے سربراہوں کی تائید و امضاء نے اسے اور بھی معتبر کر دیا ہے۔ ہم نے گذشتہ برس اس پیغام کے سامنے آنے کے بعد یہ بات لکھی تھی کہ ’’پیغام پاکستان‘‘ کو یقینی طور پر قرارداد مقاصد کی عظیم الشان دستاویز کے بعد ایک بڑی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں قرارداد مقاصد کی ایک مرتبہ پھر تائید و توثیق ہی نہیں کی گئی بلکہ اس کی ضروری وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔ ہماری یہ بھی رائے ہے کہ اس سے پہلے اکتیس علماء کے بائیس نکات بھی تاریخ پاکستان میں اسلامی مسالک و مذاہب کے ا تحاد کی ایک اہم اساس، بیانیہ اور دستاویز کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ یقینی طور پر جب پاکستان میں دہشتگردی اور تکفیریت اپنے عروج پر تھی اور جب ایک گروہ کی طرف سے قرآن و سنت کی مختلف آیات وروایات کی۔۔۔




گذشتہ ماہ کے اختتام پر پیرس میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کا نام فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس واچ لسٹ کی گرے کیٹیگری میں شامل کر لیا گیا۔ اس پر عمل درآمد جون سے ہوگا۔ اس اقدام کے باعث پاکستان کو نئی سخت معاشی پابندیوںکا سامنا کرنا پڑے گا۔ گرے لسٹ میں ان ملکوں کا نام شامل کیا جاتا ہے جنھیں دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام میں تعاون نہ کرنے والے ممالک قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں پاکستان کے علاوہ اس وقت ایتھوپیا، عراق، سربیا، شام، ٹرینیڈیڈ اینڈ ٹوبیگو،تیونس، ویناٹو اور یمن شامل ہیں۔ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔اس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت، ترکی، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک سمیت 37ممالک شامل ہیں۔ خلیج تعاون کونسل میں سر Category سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ مذکورہ بالا واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمائے کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہو گی اور ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس فیصلے سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ اور مالی ساخت کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ ایشیا پیسیفک گروپ میں بھی پاکستان کی شمولیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔




16جنوری 2018کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا جب ایوان صدر میں 1829علماء اور اہل دانش کے دستخطوں اور تائید سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں دہشت گردی، انتہا پسندی، تکفیریت اور خارجیت کی تمام جدید وقدیم شکلوں کو مسترد کردیا گیا ہے۔ اس فتویٰ کی تائید و توثیق پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام، اسلامی علوم کے ماہرین اور ماضی میں شدت پسندی میں شہرت رکھنے والے بعض راہنما ئوں نے بھی کی ہے۔ پاکستان میں دینی مدارس کی پانچ باقاعدہ تنظیمیں ہیں جن میں وفاق المدارس العربیہ(دیوبندی)، تنظیم المدارس پاکستان(بریلوی)، رابطۃ المدارس العربیہ(جماعت اسلامی)، وفاق المدارس سلفیہ(اہل حدیث) اور وفاق المدارس شیعہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض اہم مدارس ہیں کہ جو بظاہر اپنے آپ کو کسی وفاق کا حصہ نہیں کہتے، اس مذکورہ فتویٰ جسے ’’پیغام پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا ہے کی تائید ان سب کی قیادت نے کی ہے۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا اور تاریخی اجماع ہے جس نے پاکستان کے روشن مستقبل کی ایک نوید سنائی ہے۔




سید نثار علی ترمذی

آیت اللہ العظمی شیخ محمد حسین آل کاشف الغطا(قدس سرہ)
By Ayatullah Shaikh Muhammad Husayn Kashif al-Ghita Introduction Late Ayatullah Shaikh Muuammad Husayn Kashif al-Ghita is considered as one among the leading Muslims scholars. He was simultaneously skilled in Fiqh (jurisprudence), Arabic literature, philosophy, Hikmah (wisdom), Tafsir (exegesis) and Irfan (gnosticism) and was the first jurist who introduced comparative study of Fiqh at Hawza Ilmiyya in Najaf, Iraq. He penned several کتابیں including Asl al-Shia wa usuluha, Asl al-Shia wa Sunnah, Al-Ayat al-bayyinat, Tahrir al-majala, Al-Din wa l-Islam, Ayn al-Mizan, Al-Mawakib al-Husayniyya, Manasik Haj, Wajiza al-ahkam and Al-Urwa al-wuthqa. Aytullah Kashif al-Ghita was an ardent supporter of Muslim unity and used his writings, sermons and research papers to familiarize the nobles and the general masses of bringing different Muslim sects close to one another. The article under review is a reflection of the same belief and feeling. It has to be kept in mind while reading this paper that it was written almost 40 years earlier, but several points raised in it indicate that the situation is same as it was then. This piece of writing was selected by Nisar Ali Tirmzi to be published for the respected readers of the Monthly Payam.
دارالتقریب قاہرہ کے مجلے’’رسالۃ الاسلام‘‘ کے دوسرے سال کا پہلا شمارہ موصول ہوا جس قدر وقت اور فرصت مل سکی ہم نے اس کا مطالعہ کیا۔ اس شمارے کے آخری مقالے اور اس سے قبل کے شماروں کے مطالعے۔۔۔

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه مقالے

  • امریکی صدر ٹرمپ کا غیر اعلانیہ دورہ افغانستان
      گذشتہ رات (28 نومبر 2019ء کو) امریکی صدر ٹرمپ غیر اعلانیہ طور پر افغانستان کے بگرام ایئربیس پر پہنچے۔ ان کے ہوائی جہاز کو دو چھوٹے طیارے حفاظتی حصار میں رکھے ہوئے تھے۔ سکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر اس دورہ کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ بگرام ایئربیس پر ہی…
    Written on الجمعة, 29 نومبر 2019 17:56 in سیاسی Read more...
  • گذشتہ چند ایام پر ایک نظر
      گذشتہ چند دنوں میں پاکستان کس تکلیف سے گذرا، کسی سے پنہاں نہیں ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مقدمہ سپریم کورٹ میں جانا، اس مقدمے کی پیروی کے حوالے سے حکومت کے اقدامات، سمریوں پر سمریاں اور ان میں سامنے آنے والی اصطلاحی…
    Written on الجمعة, 29 نومبر 2019 11:41 in سیاسی Read more...