سید ثاقب اکبر نقوی

ہمارے گائوں میں ایک خاتون تھی، جو اکثر اپنی دیورانی اور جیٹھانی سے لڑتی رہتی تھی۔ اکثر وہ اپنے میکے چلے جانے کی دھمکی دیتی اور آخر کار دیورانی اور جیٹھانی منت سماجت کرکے اسے راضی کر لیتیں۔ ایک روز اس کی جھک جھک سے تنگ آکر دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب اگر یہ حویلی چھوڑنے کا کہتی ہے تو اسے ہم نہیں روکیں گی۔ وہ بھی غصے میں تھی اور گھر چھوڑ کر میکے جانے کے لیے روانہ ہوگئی۔ اسے کسی نے نہ روکا، کسی نے راضی کرنے کی کوشش نہ کی۔ کوئی منت سماجت کو نہ آیا۔ گھر سے گئے ہوئے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ وہ احتجاج کرتی ہوئی واپس داخل ہوئی۔ وہ کہہ رہی تھی ہائے! دیکھو مجھے کسی نے روکا بھی نہیں۔



 
سید اسد عباس

بھارت میں کچھ برسوں سے ایک نئی اصطلاح زبان زد عام ہے۔ لو جہاد یا محبت جہاد یا جہاد عشق۔ اس اصطلاح کو مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہندو انتہاء پسندوں نے ایجاد کیا ہے۔ انتہاء پسندوں کا دعویٰ ہے کہ مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں کو اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر انہیں مسلمان کرکے شادیاں کر رہے ہیں۔ جس کا مقصد بھارت میں ہندو آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔ 966 ملین ہندو اور صرف 172 ملین مسلمانوں کے ملک میں حکومت کی جانب سے یہ جواز انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ اگر کل ہی سب مسلمان مرد یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ ہندو خواتین سے شادی کریں گے اور انھیں مسلمان بنائیں گے، تب بھی بھارت کی آبادی کے تناسب میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آسکتی۔ بہرحال کسی بھی جنونی ہندو جماعت کی حکومت میں ایسی قبیح اور غیر دانشمندانہ حرکات بلکہ اس سے بھی بدتر اقدامات بعید از قیاس نہیں ہیں۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

مودی کو ویسے تو طرح طرح کے ناموں سے شہرت حاصل ہے، اسے گجرات کا قصاب بھی کہا جاتا ہے۔ یہی کشمیریوں کا بھی قاتل ہے۔ کبھی اس قصاب پر امریکہ میں داخلہ بند تھا۔ آج یہ قصاب طاقت کے نشے میں دھت اپنے ہم وطنوں کو طرح طرح سے ستا رہا ہے۔ یہ صرف اقلیتوں کا دشمن نہیں بلکہ کمزور اور پسماندہ ہندوئوں کی لوٹ مار کے مختلف ہتھکنڈے اختیار کر رہا ہے۔ یہ صرف بے رحم سرمایہ داروں کے مفاد کا سوچتا ہے جو اپنی دولت کی طاقت سے اسے برسراقتدار لائے ہیں۔ اسے عوام کو دھوکا دینے کے طریقے آتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہندوتوا ہے، یہ اپنے آپ کو ہندو مذہب کا محافظ ظاہر کرکے سادہ دل ہندو عوام کو انتہا پسند بناتا ہے اور پھر ان کے ووٹوں سے اقتدار قائم کرتا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

اس میں کوئی شک نہیں کہ سال رواں کے آغاز میں (2 جنوری 2020ء کو ) اسلامی جمہوریہ ایران کے مایہ ناز فرزند جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کیا گیا اور اب سال کے آخر میں ایک اور بڑی شخصیت جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو 27 نومبر 2020ء کو تہران کے مضافات میں ایک مقام پر بقول ایک سکیورٹی لیڈر پیچیدہ طریقے سے شہید کر دیا گیا ہے۔ محسن فخری زادہ کی شخصیت، اہمیت، کردار اور خدمات پر پوری دنیا میں تبصرے اور تجزیے جاری ہیں۔ دنیا میں واحد ملک اسرائیل ہے جس نے محسن فخری زادہ کی شہادت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، ورنہ حیران کن طور پر اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے بھی ایک انٹرویو میں جوہری سائنسدان شہید فخری زادہ کے قتل کو عالم اسلام کا نقصان قرار دیا ہے۔ اسرائیل نے فخری زادہ کے قتل کو علاقے اور دنیا کے لیے مفید قرار دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اسرائیل نے یورپی یونین کی جانب سے فخری زادہ کے قتل کی مذمت کرنے پر یورپی یونین سے ناراضی کا اظہار بھی کیا ہے۔



 
سید اسد عباس

یہ نشان آئی آف پراویڈینس ہے۔ مسیحی عبادت گاہوں، فری میسنز اور الومیناٹی کی یادگار عمارتوں پر یہ نشان دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے ایک ڈالر کے نوٹ کی پچھلی طرف بھی یہی علامت موجود ہے اور تو اور یہ امریکہ کی سیل پر بھی کندہ ہے۔ یہ سیل امریکہ کی اہم دستاویزات، پاسپورٹ، جھنڈوں، امریکی صدر کی سیل پر بھی موجود ہوتا ہے۔ آنکھ کو ایک علامت کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ قدیم تہذیبوں میں موجود رہا ہے، ان میں ہندو تہذیب میں تیسری آنکھ والی مورتیاں، مصری تہذیب میں ہورس کی آنکھ، رے کی آنکھ شامل ہیں۔ ہورس کی آنکھ تحفظ، شاہی طاقت اور اچھی صحت کی علامت کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔



 
سید اسد عباس

گذشتہ چند ماہ سے بعض عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے اور روابط کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس عنوان سے ان عرب ممالک کا یہ موقف ہے کہ ان کے اس اقدام سے فلسطینیوں کے مسائل میں کمی واقعہ ہوگی اور وہ اسرائیل سے بہتر طور پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے بات کرسکیں گے۔ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے روابط اس شرط پر بحال ہوئے ہیں کہ وہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے ارادے کو ترک کر دے گا، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے اس ارادے کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا بلکہ اب بھی یہ آپشن ہماری میز پر موجود ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

2 جنوری کو بغداد سے القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے کمانڈر مہندس ابو مہدی کی امریکہ کے ہاتھوں شہادت کی بہت بڑی خبر کے بعد سال کے آخر میں ان دنوں پھر بڑی بڑی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ بڑی خبروں کا اصل سرچشمہ وائٹ ہائوس میں بیٹھے ڈونلڈ ٹرمپ کا دماغ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو اصولی طور پر 21 جنوری 2021ء کو وائٹ ہائوس کو ترک کرنا ہے لیکن وہ مسلسل ایسی تدابیر پرغور کر رہے ہیں یا ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں، جن سے انھیں کچھ عرصہ مزید اقتدار رہنے کا موقع مل جائے۔ تاہم انھیں جتنے دن بھی ملیں گے، وہ اپنے عالمی سطح کے طاغوتی منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے تیز رفتاری سے اقدام کرتے رہیں گے۔



 
سید اسد عباس

شیخ الحدیث علامہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور عربی و فارسی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی، جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ درس و تدریس کے علاوہ لاہور کی مسجد میں خطیب تھے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت کے بعد شیخ الحدیث مولانا خادم حسین رضوی منظر عام پر آئے۔ اس رویئے اور بعد کے اقدامات کے سبب وہ ایک عالم دین سے زیادہ ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حرمت رسول (ص) کے لیے قربانی دینے والے شجاع بزرگ اور قائد کے طور پر سامنے آئے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

مولانا خادم حسین رضوی خادم نہیں مخدوم ہیں۔ وہ جب بھی لائو لشکر کے ساتھ تشریف لائے، حکومت نے ان کے چائو چونچلے اور ناز نخرے برداشت کیے۔ ان کی گالیاں گھی کی نالیاں قرار پائیں۔ ان کے کوسنے لوریاں بن گئے۔ بندوق والے بے چارے لشکر مخدوم کی واپسی کا کرایہ دینے کے ’’جرم‘‘ میں جناب قاضی فائز عیسیٰ کے عتاب کا شکار ہوئے۔ ان کا عتاب ہے کہ کم ہونے کو نہیں آتا اور مخدوم ملت کا غصہ ہے کہ ایک بات پر کم ہوتا ہے تو دوسری طرف چڑھ آتا ہے۔ گویا فوارے کا پانی ہے آرام سے اترتا ہے تو نئے جوش سے چڑھتا ہے۔ مخدوم رضوی جو ان کے ماننے والوں کی نظر میں پیر طریقت بھی ہیں اور رہبر شریعت بھی، ان کی ہر ناسزا بھی سر جھکا کر سن لی جاتی ہے۔



 
سید اسد عباس

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اتوار یکم نومبر کو گلگت بلتستان کی آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جی بی کو عبوری صوبائی حیثیت اور آئینی حقوق دینے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم پاکستان کا واضح لفظوں میں کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مدِنظر رکھ کر کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس فیصلے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور کیا واقعی مسئلہ کشمیر کے حل میں یہ اقدام موثر ہوگا؟ پاکستان کے پاس اس اقدام کے علاوہ کیا آپشن ہے۔؟ تاریخی طور پر گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ لیکن 1948ء میں مقامی لوگوں کی مدد سے یہ پاکستان کے زیر کنٹرول آگیا۔

تازہ مقالے

تلاش کریں

کیلینڈر

« January 2021 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30 31

تازہ مقالے