ہفته, 02 نومبر 2019 08:39



’’سائنس: تلاش حق‘‘یہ کتاب ماہر طبیعیات ڈاکٹر حامد سلیم کی تصنیف ہے۔ اس کی تقریب رونمائی 18اکتوبر 2019 کو پاکستان اکیڈمی آف سائنسز(PAS) کے آڈیٹوریم (اسلام آباد) میں منعقد ہوئی۔ اکیڈمی کے ساتھ تقریب کے انعقاد کے لیے اسلام آباد سرکل نے ا شتراک کیا تھا۔ تقریب میں جناب سید ثاقب اکبر کے علاوہ پی اے ایس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان، پروفیسر ڈاکٹر ہود بھائی، تقریب کے مہمان خصوصی سینیٹر فرحت اللہ بابراور صاحب کتاب نے خطاب کیا۔ خوش آمدید اسلام آباد سرکل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الماس حیدر نقوی اورپی اے ایس کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اسلم بیگ نے کہا۔ ذیل میں کتاب کے بارے میں سید ثاقب اکبر کا اظہاریہ پیش کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)

کتاب کے تین اہم حصے ہیں ایک حصہ علم طبیعیات کے تاریخی ارتقا کے بارے میںہے۔ اس میںفزکس کی یافتوں اور دریافتوں کو اچھی اردو میں بیان کیا گیا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ سائنسی علوم و افکار کو اچھی اور شستہ اردو میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں سائنسی علوم کی اردو زبان میں تدریس کی جائے تو طالب علم بہتر طریقے سے ان سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔
کتاب میں ایک اور اہم باب شاعری سے متعلق ہے جس میں شاعری کے اصول و ضوابط، عروض و بحور اور تقطیع وغیرہ کے موضوعات پر مثالوں کے ساتھ اظہار خیال کیا گیا ہے۔ رباعی پر عمدگی سے بات کی گئی ہے۔ یہ حصہ اور کتاب کے دیگر مضامین واضح کرتے ہیں کہ ڈاکٹر حامد سلیم ایک اچھے شاعر بھی ہیں اور ان کے تعارف میں بھی یہ بات بیان کی گئی ہے کہ زیر نظر کتاب سے پہلے ان کا ایک مجموعہ کلام بھی شائع ہوچکا ہے۔
کتاب کا تیسرا حصہ سماجی موضوعات کا حامل ہے، ان میں سے بعض ابواب ابتدا میں دیے گئے ہیں اور زیادہ تر کتاب کے آخر میں شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سائنس کی اہمیت، مذہبی معاشرے اور مولویوں کی تنگ نظری اور جمود کا ذکر کیا گیا ہے۔
بظاہر ان تینوں حصوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ علم طبیعیات کے بارے میں مواد اسے ایک خالص سائنسی کتاب قرار دیتا ہے۔ شاعری کے اصول و ضوابط سے متعلق باب ان افراد کے لیے ہے جو شاعری کے بارے میں کچھ سدھ بدھ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور سماجی موضوعات مصنف کے درد دل یا معاشرتی مسائل کے بارے میں ان کے فہم کو بیان کرتے ہیں۔ لہٰذا کتاب کے نام کو دیکھ کر کتاب کے اندر موجود ان موضوعات کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کتاب دراصل تین جدا جدا رسائل کی حامل ہے جنھیں الگ الگ بھی شائع کیا جاسکتا تھا۔
’’سائنس: تلاش حق‘‘ میں مذہب کے اصلی موضوعات پر قبول و ناقبول دونوں رویے موجود ہیں، جو چاہے مصنف کو مومن ثابت کردے اور جو چاہے ملحد ثابت کردے۔ مصنف کچھ کہنا چاہتے بھی ہیں اور کہہ بھی نہیں پاتے۔ انھیں دین کے اصل موضوعات پر اپنا موقف علمی پیرائے میں واضح طور پر بیان کرنا چاہیے۔ وہ اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
کتاب میں موجود ڈاکٹر حامد سلیم کے بعض اچھے اور خوبصورت شعرانھیں ایک اچھا شاعر ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ البتہ سائنسی افکار کو شعر کے پیرائے میں بیان کرنا ان کی خصوصیت ہے۔ اس سے پہلے نحویوں، صرفیوں، فلسفیوں اور اخلاقی مربیوں نے اپنے اپنے موضوعات پر شاعری کررکھی ہے۔عقائد کے بعض ماہرین نے بھی شعر میں بات کی ہے، فلسفی موضوعات کو بھی بعض نے اشعار میں بیان کیا ہے۔ ملّا سبزواری کی ’’منظومہ‘‘ کے اشعار فلسفی افکار پر مشتمل ہیں۔ خالص سائنسی موضوعات پر شاعری کرنا ایک مشکل کام ہے البتہ ایسی شاعری، شاعری کی حیثیت سے عوام میں پذیرائی حاصل نہیں کر سکتی۔
مصنف کی رائے میں مذہب کی تعلیمات کو عام ذہن رکھنے والے افراد ہی قبول کرتے ہیں اور گہرائی میں جانے والے ذہین افراد انھیں قبول نہیں کرسکتے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ دنیا میں بہت سے ذہین ترین افراد ایسے گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں جو دین کی تعلیمات سے مطمئن ہوتے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے سائنسدانوں نے بھی دینی تصورات کو قبول کیا ہے۔ ان سائنسدانوں کو ذہین ترین سمجھا گیا ہے۔ وہ شعور کے مادہ پر تقدم کے قائل ہیں اور مذہب کی اصل بات اسی اعلیٰ شعور سے متعلق ہے۔ ڈاکٹر حامد سلیم صاحب خود جس دنیا سے تعلق رکھتے ہیں وہاں تو بہت سے لوگوں نے شعور کے مادہ پر تقدم کو قبول کیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ سائنس کی حدود کا تعین ضروری ہے۔ سائنسدان کو مذہب اور فلسفے پر بات کرنے کے لیے مذہب اور فلسفے کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہوگا۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ مذہب کا موضوع بہت سادہ ہے، اس کے بارے میں گہری ترین کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اسی کی ایک مثال ابن عربی کی فصوص الحکم ہے۔ اسی کتاب کو دیکھ کر کسی نے ابن عربی کو محی الدین اور کسی نے ممیت الدین کہا ہے۔ اس کتاب کے بارے میں استاد مطہری کی رائے ہے کہ اگر محی الدین کے شاگرد صدر الدین قونوی اس کی شرح نہ لکھتے تو دنیا میں کوئی اسے سمجھنے والا نہ ہوتا۔ اب اس شرح کے بعد بھی ایک وقت میں دنیا میں تین چار سے زیادہ افراد اسے سمجھنے والے نہیں ہوتے۔
یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ معیارات و ذرائع علم کی بحث دین کے بنیادی افکارکے سلسلے میں بہت اہم ہے ۔ اس پر فلسفہ الٰہیات کے ماہرین کے نقطۂ نظر کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ اس علم کو علم المعرفہ اور علم العلم بھی کہا جاسکتا ہے۔ انگریزی میں اسے epistemology کہتے ہیں۔ فارسی میں بعض نے اسے علم شناخت بھی کہا ہے۔ چنانچہ استاد مطہری کی کتاب ’’مسئلہ شناخت‘‘ اسی موضوع پر ہے۔ اس میں بحث کی جاتی ہے کہ کیا مشاہدے اور تجربے کے علاوہ بھی علم کا کوئی ذریعہ ہے، یعنی عالم محسوسات سے ماورا، عقل اور وحی کے منبع علم ہونے کی بحث اسی علم سے متعلق ہے۔
یہ امر بھی واضح ہونا چاہیے کہ غیب سے اہل دین کی مراد عالم غیب، جہان باطن اور ماورائے طبیعیات ہے۔ پہلے مرحلے میں ہماری رائے یہ ہے کہ حواس سے غیب دنیا پر عالم محسوسات کے علماء فتویٰ نہ دیں کیونکہ یہی وہ عالم غیب ہے جس کے بارے میں مذہب کا دعویٰ ہے:
لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ(انعام:۱۰۳) اسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔
لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ(شوری:۱۱) اس کی مثل کوئی نہیں۔
یہ بات قبول کی جانا چاہیے کہ سائنس پر بات کرنے کا بنیادی حق بھی سائنسدانوں ہی کا ہے، جنھوں نے عالم محسوسات کی شناخت کے لیے ریاضتیں کی ہیں اور زحمتیں اٹھائی ہیں اور مشاہدے، دلیل اور تجربے کی بنیاد پر بات کی ہے، وہ پوری انسانیت کی طرف سے لائق قدر ہیں۔
دوسرے مرحلے میں ہم کہتے ہیں کہ کائنات کا چونکہ پیدا کرنے والا اور اس نظام کو چلانے والا ایک ہے اس لیے تمام علوم ایک دن ایک نکتے پر مرتکز ہو جائیں گے۔
دینی نقطہ نظر سے حواس کی دنیا اور حواس کے ذریعے معلوم ہونے والی حقیقتوں کو ان کی اصل نہیں کہا گیا۔ رسول اسلامؐ یہ دعا کیا کرتے تھے:
ربنا ارنا الاشیا کما ھی۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں اشیاء کو ایسے دکھا جیسی وہ ہیں۔
البتہ مسلم فلسفیوں کا اور صدرائی فلسفے کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ سائنس حق کا ایک رخ ہے، یا حق کا مادی مظہر ہے کل حق نہیں۔
حق کی تلاش میں سرگرداں اگر کوئی شخص ماننے یا نہ ماننے کے درمیان ہے تو ہمارے نزدیک اس کے لیے یہ اعتراف کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ مجھے ابھی فلاں حقیقت کا ادراک نہیں ہو سکا یا فلاں سوال کا جواب ابھی مجھے نہیں مل سکا۔
ہماری رائے میں جیسے بلا دلیل کسی چیز کو قبول کرنا نادرست رویہ ہے، ایسے ہی بلا دلیل کسی چیز کو رد کرنا بھی نادرست ہے۔ کچھ ایسے سوالات باقی رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں جن کے بارے میں ہم کہیں کہ ان کا جواب فی الوقت ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک بلا دلیل ایمان بھی قابل قبول نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے علما کہتے ہیں کہ اصول دین ہر شخص کو خود سے سمجھ کر اختیار کرنا چاہئیں۔ البتہ ہر آدمی ضروری نہیں کہ ایک جیسی دلیل سے قائل ہو جائے۔ عام آدمی ممکن ہے کہ کسی سادہ سی دلیل سے قائل ہو جائے لیکن ایک فلسفی ذہن کے لیے دقیق دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کتاب پر مختصر سے تبصرے کے بعد ہمیں یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں سائنس کی دریافتوں کا احترام بھی ہے اور اقرار بھی۔ تاہم اگر یونانیوں نے کسی موضوع پر پہلے قلم فرسائی کی ہے، صحیح یا غلط ،اس پر بات کرنا ضروری ہے تاکہ تاریخ مربوط دکھائی دے تو دینی متون میں جو ایسی حقیقتیں پہلے سے آ گئی ہے جن پر سائنس یا سائنسدان بعد میں پہنچے ہیں تو ان کا ذکر بھی کیا جانا چاہیے۔ آئیے قرآن حکیم کی چند آیتیں ملاحظہ کرتے ہیں:
اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰھُمَا وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآئِ کُلَّ شَیْئٍ حَیٍّ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ(انبیاء:۳۰)
جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین اکٹھے تھے پھر ہم نے انھیں جدا کر دیا اور ہم نے پانی کے ذریعے سے ہرشے کو زندگی بخشی، کیا وہ ایمان نہیں لاتے۔
یہاں ہمیں صرف یہ کہنا ہے کہ آج فزکس جو کہتی ہے کہ یہ تمام کہکشائیں کسی ایک نقطہ سے پھوٹی ہیں تو قرآن نے بہت پہلے یہ بات بتا دی تھی کہ زمین و آسمان اکٹھے تھے پھر انھیں ہم نے جدا جدا کر دیا۔
یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآئَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ(انبیاء:۱۰۴)
جس دن آسمان کو یوں لپیٹ دیا جائے گا جیسے کتابوں کے طومار کو لپیٹ دیا جاتا ہے، جیسے ہم نے خلقت کی ابتدا کی تھی ایسے ہم اس کو پلٹائیں گے ہمارا یہ وعدہ ہے یقیناً ہم ایسا کرکے رہیں گے۔
یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ قرآن کے نزدیک کائنات جیسے ایک نقطہ میں سمٹی ہوئی تھی اور پھر اسے پھیلا دیا گیا آئندہ پھر اسے لپیٹ لیا جائے گا جیسے طومار لپیٹ لیے جاتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جس پر ابھی سائنسدان نہیں پہنچے۔ بعض نے یہ بات کی ہے لیکن مجموعی طور پر سائنس ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچی۔ یہ قرآن ہے جو کہہ رہا ہے کہ جیسے ہم نے اس کائنات کی ابتدا کی تھی ویسے ہی اس کو پلٹا دیں گے۔ اس آیت کے آخر میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ ہم ایسا کر کے رہیں گے۔
وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ (یٰس:۳۸)
سورج اپنے مدار کے گرد گردش کرتا ہے اور یہ اللہ کا بنایا ہوا پیمانہ ہے جو زبردست علم والا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب چار سو سال پہلے یہ کہا گیا کہ زمین اس کائنات میں اس نظام شمسی کا محور اور مرکز نہیں ہے بلکہ زمین کا محور اور مرکز شمس ہے اور پھر یہ سورج بھی اپنے پورے نظام کے ساتھ مل کر کسی اور مرکز کے گرد گردش کرتا ہے، قرآن نے بہت پہلے سورج کی گردش کا ذکر کرکے اپنے تقدم کو واضح کر دیا ہے۔
وَالسَّمَآئَ بَنَیْنٰہَا بِاَیْدٍ وَّ اِِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ (۔ذاریات:۴۷)
اور آسمان کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں۔
یہ آیت بھی واضح کرتی ہے کہ کائنات ابھی پھیل رہی ہے اور وسعت اختیار کیے چلی جارہی ہے اور یہ اللہ کے حکم اور ارادے سے ہو رہا ہے۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍ (حج:۳)
اور انسانوں میں ایک ایسا بھی ہے جو اللہ کے بارے میں بغیر علم کے جھگڑا کرتا ہے اور ہر مردود شیطان کی پیروی کیے چلا جاتا ہے۔
یہ آیت ہم نے اس لیے درج کی ہے تاکہ وہ افراد جو اپنے علم کی حدود سے ماورا اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں وہ متوجہ ہوں کہ یہ راستہ درست نہیں ہے۔ اپنے علم پر بات کرنے کا ہر کسی کو حق ہے لیکن جو چیز اس کے علم سے ماورا ہے اس پر یا بات نہ کرے یا اس کے بارے میں اپنی لا علمی کا اظہار کرے۔
شعر و سخن کی دنیا سے کچھ علاقہ اس ناچیز کو بھی ہے اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ ڈاکٹر حامد سلیم کے چند خوبصورت اشعار پر بات ختم کروں۔ ان کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ ہو:
خامشی بھی سُر ہے گویا سازِ عالم ساز کا
بے زبانی پھول کی اک رنگ ہے آواز کا
اس پر علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آتا ہے:
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر
ڈاکٹر صاحب کا ایک اور شعر:
کیسی آشفتہ مزاجی ہے نہ پوچھ
اپنے رونے پہ ہنسی آتی ہے
خاکسار کا ایک شعر ہے:
جاں بھی بہ لب ہنسی بھی بہ لب دونوں ایک ساتھ
قسمت ہنسا ہنسا کے رلائے تو کیا کروں
ڈاکٹر حامد سلیم کا ایک اور شعر دیکھیے:
باغ ہستی میں نہیں چین کے ساماں پیدا
پھول ہر رنگ میں ہوتا ہے پریشاں پیدا
ہمارے مشاہدے میں تو پہلے کلی ہوتی ہے جو پریشان نہیں ہوتی، یہ تو اس دنیا کی آب و ہوا ہے جو اسے پریشاں کر دیتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے رباعی جیسی مشکل صنف سخن پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔ اس کے بارے میں آخر میں انھوں نے بتایا ہے کہ اس کا ایک عمومی وزن لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِہے، اسی وزن پر ان کی ایک رباعی ہے:
خورشد سے گل رنگِ شفق لیتے ہیں
اسباب اجل سے ہے بہار ہستی

شعلے سے بھی کیا کارِ ادق لیتے ہیں
ہم موت سے جینے کا سبق لیتے ہیں
اس رباعی پر ہمارا تبصرہ ہے:
لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

Read 28 times Last modified on جمعرات, 14 نومبر 2019 10:26

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه مقالے