الجمعة, 01 نومبر 2019 08:00



تعارف:امیر المومنین علیہ السلام نے رسالت ماب ؐ کی صفات اور خصائل کو متعدد خطبات میں بیان کیا ہے جسے طوالت اور وقت کی کمی کے باعث مکمل طور پر درج نہیں کر پایا تاہم اس موضوع پر محققین اور صاحبان علم کے لیے دعوت ہے کہ وہ اس میدان میں قلم اٹھائیں اور نفس رسول ؐ جس طرح ختمی مرتبت کو دیکھتے تھے ، جیسے انھوں نے ان کے پیغام کو اخذ کیا معلوم کریں تاکہ معرفت امیر المومنین کی روشنی میں ہم بھی اپنے قلوب کو عشق پیغمبر سے منور کر سکیں ۔مولاعلی علیہ السلام کے کلام سے ایک بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ ؑ رسالت ماب کے مشن ، ان کی شخصیت ، ان کی رسالت ، ان کے مقام سے بہت گہرائی سے آگاہ تھے۔۔۔

،جیسا کہ انھوں نے ایک مقام پر فرمایا کہ اگر میں ان باتوں کو جو تم سے مخفی رکھی گئی ہیں تمہیں بتا دوں تو تم صحراؤں میں نکل جاؤ، گریہ و زاری کروااپنے سر و سینہ کو پیٹو۔ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے آقا و مولا نبی کریم ؐ کی زیادہ سے زیادہ معرفت حاصل کرے تاکہ ختمی مرتبت کا عشق ان کے سینے میں موجزن ہو ۔

گذشتہ دنوں افضلیت ختمی مرتبت سے متعلق ایک تحقیقی مقالہ نظر سے گذرا ۔ اس مقالے میں مولف نے انبیاء ماسبق کی قرآن میں درج کردہ صفات کا موازنہ قرآن میں ہی درج کردہ صفات خاتم النبین (ص) سے کیااور ثابت کیا کہ قرآن کے روسے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیسے ہر صفت اور خوبی میں افضل الانبیاء ہیں۔مقالے کے اختتام پر ایک پیرا جو مولف کی رسالت مآب(ص) سے محبت کا عکاس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ادبی شاہ پارہ ہے کو پڑھ کر بہت لطف آیا ۔ یہ پیرا آپ کے دلوں کی تسکین و فرحت کے لیے بعینہ پیش خدمت ہے۔
رحمۃ للعٰلمین ، حاکم دین متیں، وجہ قرآن مبین، زینتِ خلدِ بریں، شافع عالم، فخرِ رسولاں، رحمتِ یزداں، بادہ عرفاں، آیت رحمن، معنی رحمت، امن و محبت جس کی شریعت، عظمت آدم، نازش حوّا، حیرت موسیٰ، غیرت عیسیٰ، نور مقدم،شافعِ محشر، سرور عالم، محرم یزداں، جلوہ ایماں، حامل قرآں، زلف معطّر، فخرِ ملائک، رہبرِ دنیا، نورِ مجسّم، روحِ دو عالم، اہل نظر کے کعبہ اعظم، ساقی کوثر، مالکِ زم زم، روح منزہ، نفس مکرم، نازش ملّت، شانِ نبوت، تابشِ فطرت، ظلّ الٰہی، پیکر ایماں، شوکتِ انساں، حسنِ دو عالم، بحر عنایت، قلزم شفقت، منبع عرفاں، مخزنِ حکمت، ہادی صادق، رحمت خالق، مشعل ایمان، گلشنِ رضوان، مہرِ طریقت، شمّع شریعت اور صاحب تاج ختم نبوت قرار پاتے ہیں۔
عشق رسول (ص) سے منور ڈاکٹر طاہر مصطفی کی تحریر کے مطالعے کے بعد دل میں کسک اٹھی کہ مجھے بھی اظہار محبت کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ ذہن نے سوچا کہ وہ ہستی جو بذات خود علمی، فکری،نظریاتی اور عملی حوالے سے رسالت مآب کی تربیت و کفالت کا معجزہ ہے اور جسے عالم انسانیت میں سب سے زیادہ رسول اکرم (ص) کے قرب کا شرف حاصل ہے کے کلام کو سہارا بنایا جائے۔اتنی وضاحت کے بعد تو نام لینے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی لیکن اس خوف سے کہ کہیں ذہن بھٹکتے نہ رہیں ،عرض کرتا چلوں کہ اس شخصیت سے میری مراد امیر المومنین علی ابن ابی طالب کی ذات والا صفات کے سوا کوئی نہیں۔ تاریخ کہتی ہے کہ امیر المومنین دس سال کی عمر میں رسول اکرم (ص) کے زیر کفالت آئے۔ ایسا نہیں کہ اس سے قبل رسول پاک اور علی مرتضی (ع) ایک دوسرے سے انجان تھے۔ ان دونوں ہستیوں کی آپسی محبت اور قربت ہی کفالت کا باعث بنی ورنہ تو ابو طالب کے اور بھی کئی ایک بیٹے تھے۔ امیر المومنین (ع) اکثر اپنے خطبات و ارشادات میں اس قربت کی جانب اشارہ کرتے تھے۔نہج البلاغہ میں یہ جملہ درج ہے:
و قد علمتم موضعی من رسول اللہ (ص) بالقرابۃ القریبۃ و المنزلۃ الخصیصۃ وضعنی فی حجرہ وانا ولد (ولید)یضمنی الی صدرہ ویکنفنی فی فراشہ و یمسنی جسدہ ویشمنی عرفہ وکان یمضغ شئی ثم یلقمنیہ
تم جانتے ہوکہ رسول اللہ (ص) سے قریب کی عزیزداری اور مخصوص قدر و منزلت کی وجہ سے میرا مقام ان کے نزدیک کیا تھا میں بچہ ہی تھا کہ انھوں نے مجھے گود لے لیا تھا۔وہ مجھے اپنے سینے سے چمٹائے رکھتے تھے۔بستر میں اپنے پہلو میں جگہ دیتے تھے۔اپنے جسم مبارک کو مجھ سے مس کرتے تھے۔اپنی خوشبو مجھے سنگھاتے تھے۔پہلے آپ کسی چیز کو چباتے پھر اس کے لقمے بنا کر میرے منہ میں دیتے۔
امیر المومنین (ع) رسالت مآب کو کس نگاہ سے دیکھتے تھے، ان کے ہدف و مقصد کے بارے میں کیا سوچتے تھے۔ ان کے بارے میں کیسے اظہار خیال کرتے تھے ایک ایسا سوال ہے جو ہر ذہن انسانی کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ اس فکر میں ہر ذہن کے لیے غذا موجود ہے۔رسالت مآب (ص) ، امیر المومنین کی نظر میں ایک وسیع موضوع ہے ۔ جس پر بہرحال کام کیا جانا چاہیے۔ فارسی زبان میں اس حوالے سے کافی کام منظر عام پر آرہا ہے۔ بعض لوگوں نے نہج البلاغہ میں رسالت مآب کے حوالے سے امیر المومنین(ع) کے ارشادات، کلمات اور اظہارات کو جمع کیا ہے۔ کچھ حضرات نے اس سے بڑھ کر دیگر کتب احادیث کوبھی منبع بنایا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ امیر المومنین کی زندگی کے آثار کو خاص اس زاویہ سے دیکھتے ہوئے انھیں جمع کیا جائے اور ارشادات امیر المومنین(ع) کی شروح لکھی جائیں تاکہ رسالت مآب (ص) کی ہستی کو اس طرح سمجھا جا سکے جیسا کہ جناب امیر (ع) سمجھانا چاہتے تھے۔ علامہ سید حسنین رضا گردیزی نے اس حوالے سے ایک مقالہ تحریر کرکے اردو قارئین کے استفادہ کی ایک راہ ایجاد کی ہے ، جس پر مزید تفصیل سے کام کی ضرورت ہے۔
نہج البلاغہ جو امیر المومنین(ع) کے خطبات ، خطوط اور کلمات قصار پر مشتمل ایک مسودہ ہے، میں جناب امیر(ع) نے نبوت اور کار رسالت پر گفتگو کا ایک خاص اسلوب اپنایا۔ آپ نے متعدد خطبات میں انبیاء کی بعثت کے مقاصد، ان کی ضرورت اور اس بعثت کے اثرات پر گفتگو کی۔ اسی طرح جناب امیر(ع) نے رسالت مآب (ص) کی خدمات کا تعارف کروانے کے لیے بالعموم عالم انسانیت اور بالخصوص عرب معاشرے کی کیفیت و حالت کا بار بار تذکرہ کیا۔امیر المومنین(ع) نے اپنے خطبات میں رسالت مآب (ص) کی شخصیت کے حوالے سے بہت سے ایسے شبہات کا جواب بھی دیا جو بعد کی علمی مباحث میں پیش آ نے والے تھے۔
نہج البلاغہ کا پہلاخطبہ جو اپنے مطالب کے اعتبار سے ایک اہم تحریر ہے میں جناب امیر(ع) نبوت کی ضرورت و اہمیت کو یوں بیان کرتے ہیں:
واصطفی سبحانہ من ولدہ انبیاء اخذ علی الوحی میثاقھم و علی الرسالۃ امانتھم
اللہ نے (آدم )کی اولاد میں سے انبیاء کو منتخب کیا۔وحی پر ان سے عہد و پیمان لیا،تبلیغ دین کا انہیں امین بنایا۔
کیونکہ
بدل اکثر خلقہ عھد اللہ الیھم،فجھلو حقہ،واتخذالانداد معہ و اجتالتھم الشیاطین عن معرفتہ واقتطعتھم عن عبادتہ
اکثر لوگوں نے اللہ کا عہد بدل دیا تھا، پس وہ اس کے حق سے بے خبر ہوگئے،اوروں کو اس کا شریک بنا ڈالا، شیاطین نے اس کی معرفت سے انہیں روگرداں اور اس کی عبادت سے الگ کر دیا ۔
لہٰذا
بعث فیھم رسلہ و واتر الیھم انبیاء ہ لیستادوھم میثاق فطرتہ و یذکروھم منسی نعمتہ و یجتجوا علیھم بالتبلیغ و یثیروا لھم دفائن العقول و یروھم الایات المقدرۃ من سقف فوقھم مرفوع ومھاد تحتھم موضوع و معایش تحییھم اوجال تفنیھم واصاب تھرمھم احداث تتابع علیھم
(اللہ) نے ان میں اپنے رسول مبعوث کیے، مسلسل انبیاء بھیجے تاکہ ان (مخلوق) سے عہد فطرت کو پورا کروائیں۔ انہیں بھولی ہوئی نعمات یاد دلوائیں،تبلیغ کے ذریعے ان پر حجت تمام کریں۔ان کے لیے عقل کے دفینوں کو کھود نکالیں اور انھیں سروں پر بلند آسمان،پیروں کے نیچے بچھے فرش زمین ، زندہ رکھنے والے سامان معیشت، فنا کرنے والی مصیبتوں،بوڑھا کرنے والی بیماریوں اور پے در پے آنے والے حادثات میں اللہ کی نشانیاں دکھائیں۔
امیر المومین (ع) اسی خطبے میں ان انبیاء کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
رسل لا تقصر بھم قلۃ عددھم ولا کثرۃ المکذبین لھم۔من سابق سمی لہ من بعدہ اور غابر عرفہ من قبلہ
ان انبیاء کو تعداد کی کمی یا جھٹلانے والوں کی کثرت درماندہ و عاجز نہیں کرتی تھی۔ان میں کوئی سابق ایسا نہ تھا جس نے بعد میں آنے والے کا نام و نشان نہ بتایا اور بعد میں آنے والا کوئی ایسا نہ تھا جس کی پہچان پہلے والے نے نہ کروائی ہو۔
الی ان بعث اللہ سبحانہ محمدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ لانجاز عدتہ تمام نبوتہ ماخوذا علی النبیین میثاقہ مشھورۃ سماتہ کریما میلادہ
یہاں تک کہ پاک و منزہ پروردگار نے ایفائے عہد و اتمام نبوت کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ کو مبعوث کیا ۔جن کے متعلق نبیوں سے عہد و پیمان لیا جا چکا تھا ۔ جن کی علامات مشہور اور محل ولادت مبارک و مسعود تھا۔
امیر المومنین (ع) رسالت مآب کی آمد سے قبل انسانوں کے حالت اورکیفیت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
و اھل الارض (الارضین) یومئذ ملل متفرقہ و اھواء متشتتۃ و طریق (طوائف) متشتتۃ بین مشبہ للہ بخلقہ او ملحہ فی اسمہ او مشیر الی غیرہ
اس وقت اہل زمین متفرق مذاہب ،منتشر خواہشات اور الگ الگ راستوں پر گامزن تھے۔اس طرح سے کہ کچھ اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دیتے ،کچھ اس کے ناموں کوبگاڑدیتے کچھ اْسے چھوڑ کر اوروں کی طرف اشارہ کر تے تھے۔
بعثت سے قبل انسانی معاشرے کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
اس دور فتن میں دین کے بندھن شکستہ ، یقین کے ستون متزلزل ، اصول مختلف اور حالات پراگندہ تھے۔ان حالات سے بچ نکلنے کی راہیں مسدود تھیں ۔ ہدایت ناپید اور گمراہی ہمہ گیر تھی ۔ کھلے بندوں اللہ کے قوانین کی مخالفت ہوتی تھی۔ایمان بے سہارا تھا ۔ اس کے ستون منہدم ہو چکے تھے۔۔۔۔ہر جانب شیطان کے پھریرے لہراتے تھے۔دنیا ایک ایسا گھر تھی جو خود اچھا لیکن اس کے رہنے والے برے تھے۔عالم کے منہ میں لگام تھی جبکہ جاہل معزز و سرفراز تھا ۔
بعثت رسول (ص) علی (ع) کی نظر میں
جیسا کہ قبل ازیں بیان سے واضح ہے کہ امیر المومنین(ع) چاہتے ہیں کہ ہم رسالت (ص) ختمی مرتبت کو الٰہی نظام کے سلسلے کے تسلسل کے طور پر دیکھیں اور یہ جانیں کہ ختمی مرتبت(ص) کس بڑے ہدف کی تکمیل کے لیے دنیا میں تشریف لائے نیز یہ کہ ان کی آمد غیر متوقع نہیں بلکہ بدیہی اور اعلان شدہ تھی ۔ جس کے واضح شواہد بیان کیے جا چکے تھے۔ اسی طرح امیر المومنین بعثت رسول(ص) کو بھی ایک خاص انداز سے دیکھتے ہیں ۔ وہ بعثت رسول (ص) کے بارے میں فرماتے ہیں :
ارسلہ بالدین المشھور والعلم الماثور والکتاب المسطور و النور الساطع و الضیاء اللامع والامر الصادع، ازاحہ للشبھات و احتجاجاً للبینات و تحذیرا بالآیات و تخویفاً بالمثلات
اللہ نے رسالت مآب(ص) کومشہور دین، منقول نشان،مسطور کتاب،ضوفشاں نور،چمکتی ہوئی روشنی اورفیصلہ کن امر کے ساتھ بھیجا تاکہ شبہات کا ازالہ کیا جائے اور دلائل کے ذریعے حجت تمام کی جائے۔آیا ت کے ذریعے ڈرایا جائے اور عقوبتوں سے خوفزدہ کیا جائے۔
خانوادہ رسول ؐ
امیر المومنین (ع) نے اپنے کلام میں بتایا کہ کہ رسالت مآب (ص) کس خانوادے کا چشم و چراغ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نہ صرف رسالت مآب بلکہ ان کے آباؤ اجداد سبھی کریم و مطہر تھے۔ نہج البلاغہ میں یہ حقیقت ان الفاظ میں درج ہے:
فاستودعھم فی افضل مستودع و اقرھم فی خیر مستقر، تناسختھم کرائم الاصلاب الی مطھرات الارحام. کلما مضی منھم سلف قام منھم بدین اللہ خلف حتی افضت کرامۃ اللہ سبحانہ و تعالی الی محمد(ص) فاخرجہ من افضل المعاون منبتا و اعز الارومات مغرساً من الشجرۃ التی صدح منھا انبیاء و انتجب منھا امناء ہ عترتہ خیر العتر و اسرتہ خیر الاسر و شجرتہ خیر الشجر
(اللہ کریم نے انبیاکو) بہترین مقامات پر ودیعت رکھا اور بہترین منزل میں ٹھہرایا ، وہ بلند مرتبہ صلبوں سے پاکیزہ شکموں کی طرف منتقل ہوتے رہے ،جب ان میں سے کو ئی گزرنے والا گزر گیا تو دین خدا کی ذمہ داری بعد والے نے سنبھال لی یہاں تک کہ یہ الہیٰ شرف حضرت محمد(ص)تک پہنچا۔ اس نے انہیں بہترین نشوونما والے معدنوں اور ایسی اصلوں سے جو پھلنے پھولنے کے اعتبار سے بہت باوقار تھیں ،پیدا کیا اس شجرہ سے جس سے بہت سے انبیا ء پیدا کیے اور اپنے امین منتخب فرمائے ،پیغمبر کی عترت ،بہترین عترت اور ان کا خاندان شریف ترین خاندان ہے ،ان کا شجرہ وہ بہترین شجرہ ہے۔
تربیت رسول اللہ ؐ
رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تربیت کے حوالے سے مسلمانوں میں بہت سی اختلافی آرا پائی جاتی ہے امیر المومنین(ع) اس عنوان سے فرماتے ہیں :
لقد قرن اللہ بہ صلی اللہ علیہ و آلہ من لدن ان کان عظیماً اعظم ملک من ملائکتہ یسلک بہ طریق المکارم و محاسن اخلاق العالم لیلہ و نھارہ
پس اللہ نے عظیم ملائکہ میں سے ایک باعظمت ملک کو آپ کے ہمراہ کیا جو آپ کو عظمت و بزرگواری کی راہوں اور بلند اخلاق کی روز و شب راہنمائی کرتا تھا۔
اسوہ حسنۃ
و لقد کان فی رسول اللہ ﷺ کاف لک فی الاسوۃ و دلیل لک علی ذم الدنیا و عیبھا و کثرۃ مخازیھا و مساویھا؛ اذ قبضت عنہ اطرافھا و طئت لغیرہ اکنافھا و فطم عن رضاعھا و زوی عن زخارفھا... و لقد کان فی رسول اللہ ﷺمایدک علی مساوی الدنیا و عیوبھا اذجاع فیھا مع خاصتہ و زویت عنہ زخارفھا مع عظیم زلفتہ فلینظر ناظر بعقلہ اکرم اللہ محمداً بذلک ام اھانہ فان قال: اھانہ فقد کذب واللہ العظیم بالافک العظیم و ان قال: اکرم فلیعلم ان اللہ اھان غیرہ حیث بسط الدنیا و زواھا عن اقراب الناس منہ
یقیناًرسول اکرم (ص)کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ کی ذات دنیا کے عیوب اور اس کی ذلت و رسوائیوں کی کثرت کو دکھانے کے لیے راہنما ہے۔ اس لیے کہ آپ سے دنیا کے دامنوں کو سمیٹ لیا گیا اوردوسروں کے لیے اس کی وْسعتیں ہموار کر دی گئیں۔ آپ کو اس کے منافع سے الگ رکھا گیا اور اس کی آرائشوں سے کنارہ کش کر دیا گیا۔
امانت داری
امانت و دیانت رسالت ماب کی وہ خصوصیت ہے جس کا آپ نے اہل مکہ سے سب سے پہلے کلمہ پڑھوایا ۔ مکہ کے لوگ آپ ؐ کی امانت داری پر ایمان رکھتے تھے ۔ ہمیں تاریخ اسلام میں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں جس میں قریش نے امانت و دیانت رسول ؐ کی گواہی دی یعنی آپ ؐ نے رسالت کا اعلان کرنے سے قبل اہل معاشرہ پر ثابت کیا کہ وہ امانتوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ امیر المومنین ختمی مرتبت کی اسی صفت کو اس انداز سے بیان فرماتے ہیں :
ان اللہ بعث محمد(ص) نذیراً للعالمین و امیناً علی التنزیل۔۔۔
اللہ کریم نے حضور اکرم ؐ کو عالمین کے لیے متنبہ کرنے والا اور نازل ہونے والی اشیاء کا امین بنا کر بھیجا۔۔۔
حتی اوری قبسا لقابس و انار علما لحابس فھو امینک المامون۔۔۔
حتی کہ آپ ؐ نے روشنی ڈھونڈنے والوں کے لیے شعلے بھڑکائے اور راستہ کھو کر سواری کرنے والوں کے لیے نشانات روشن کیے(اے اللہ )وہ تیرے بھروسے کا امین ہے۔
دین کی راہ میں استقامت
ایک خطبے میں امیر کائنات رسالت ماب ؐ کا تعارف اس انداز سے فرماتے ہیں:
ارسلہ داعیا الی الحق و شاھداً علی الخلق فبلغ رسالات ربہ غیر وان و لا مقصر و جاھد فی اللہ اعداء ہ غیر واھن و لا معذر امام من اتقی و بصر من اھتدی۔۔۔
اللہ نے رسالت ماب ؐ کو حق کی جانب بلانے والا اور مخلوق پر شاھد بنا کر بھیجا پس رسالت ماب ؐ نے اپنے رب کے پیغام کو پہنچایا اس میں نہ سستی کی اور نہ کوتاہی، دشمنان خدا سے جہاد کیا اور اس راہ میں نہ کوئی کمزوری دکھائی اور نہ ہی کسی حیلے بہانے سے کام لیا آپ متقین کے امام اور ہدایت کے طلبگاروں کے لیے آنکھوں کی بصارت تھے ۔جو میں ان کے بارے میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو صحرا میں نکل جاتے اپنے اعمال پر گریہ کرتے اور اپنے کیے پر سر و سینہ پیٹتے۔
ایک اور مقام پرآپ کی استقامت اور دیگر صفات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اجعل شرائف صلواتک و نوامی برکاتک علی محمد عبدک و رسولک الخاتم لما سبق والفاتح لما انغلق والمعلن بالحق والدافع جیشات الاباطیل و الدامغ. صولات الاضالیل، کما حمل فا ضطلع قائماً بامرک مستوفزاً فی مرضاتک غیر ناکل من قدم و لا واہ فی عزم واعیاً لوحیک حافظاً لعھدک ماضیاً علی نفاذ امرک حتی اوری قبس القابس و اضاء الطریق للخابط وھدیت بہ القلوب بعد خوضات الفتن والاثام و اقام بموضحات الاعلام و نیرات الاحکام
اے اللہ اپنی پاکیزہ ترین اور مسلسل بڑھنے والی برکات کو اپنے بندے اور آخری رسول پر قرار دے جو سابق نبوتوں کو ختم کرنے والے، دل و دماغ کے بند دروازوں کو کھولنے والے ، حق کے ذریعے حق کا اعلان کرنے والے ،باطل کے جوش و خروش کو دفع کرنے والے اور گمراہیوں کے حملوں کا سر کچلنے والے ہیں۔ جو بوجھ جیسے ان کے حوالے کیا گیا تھا انھوں نے اسے اٹھایا تیرے امر کے ساتھ قیام کیا ۔تیری مرضی کی راہ میں تیز قدم بڑھاتے رہے ۔ نہ آگے بڑھنے سے انکار کیا نہ ان کے ارادوں میں کمزوری آئی ۔تیری وحی کو محفوظ کیا تیرے عہد کی حفاظت کی تیرے حکم کے نفاذ کی راہ میں بڑھتے رہے ۔یہاں تک کہ روشنی کی جستجو کرنے والوں کے لیے آگ روشن کردی اور گم راہ کے لیے راستہ واضح کر دیا ۔ان کے ذریعے دلوں نے فتنوں اور گناہوں میں غرق رہنے کے بعد بھی ہدایت پالی اور انھوں نے راستہ دکھانے والے نشانات اور واضح احکام قائم کر دیے۔ وہ تیرے امین بندے تیرے پوشیدہ علوم کے خزانہ دار ، روز قیام تیرے لیے گواہ ، حق کے ساتھ بھیجے ہوئے اور مخلوقات کی طرف تیرے نمائندہ تھے۔
شجاعت
قاتل مرحب و عنتر، فاتح خیبر و خندق،صاحب ذوالفقار حیدر کراد رسالت ماب ؐ کی شجاعت کا تذکرہ فرماتے ہوئے کہتے ہیں :
کنا اذا احمر الباس اتقینا برسول اللہ
جب جنگ کی سرخی بڑھ جاتی تھی تو ہم رسول اللہ کی پناہ میں آجایا کرتے تھے
و کان رسول اللہ اذا احمر الباس و احجم الناس قدم اھل بیتہ، فوقی بھم اصحابہ حر السیوف و الاسنۃ فقتل عبیدۃ بن الحارث یوم بدر و قتل حمزۃ یوم احد و قتل جعفر یوم موتۃ و اراد من لو شئت ذکرت اسمہ مثل الذی ارادوا من الشھادۃ و لکن آجالھم عجلت و منیتہ اجلت
جب جنگ میں شدت پیدا ہو جاتی اور لوگ پیچھے ہٹنے لگتے تو رسول اکرم ؐ اپنے رشتہ داروں کو آگے بڑھاتے تھے جو اپنے کو سپر بنا کر اصحاب کو تلوار اور نیزوں کی سختی سے محفوظ رکھتے تھے چنانچہ بدر میں عبیدۃ بن الحارث ، احد میں حمزہ ، موتہ میں جعفر قتل ہوئے ان میں سے ایک شخص جس کا نام نہیں لے سکتا نے ایسی ہی شہادت کا قصد کیا تاہم ان سب نے جلدی کی اور اس کی موت کو موخر کر دیا گیا ۔
رحلت رسول اللہ ﷺسے ہونے والا نقصان
بابی انت و امی یا رسول اللہ لقد انقطع بموتک مالم ینقطع بموت غیرک،من النبوۃ الانباء و اخبار السماء
میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اے رسول اللہ آپ کی رحلت سے نبوت اور آسمانی خبریں منعقطع ہو گئیں جو کسی اور کی موت سے نہیں ہوئیں۔
وصیت امیر المومنین
وصیتی لکم الا لا تشرکوا بااللہ شیاومحمد فلا تضیوا سنتہ اقیموا ھذین العمودین و اوقدواھذین المصباحین وخلاکم ذم
تم سب کو وصیت کرتا ہوں کہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا اور سنت رسول کو ضائع نہ کرنا ان دونوں ستونوں کو قائم رکھو، ان دونوں چراغوں کو روشن رکھواس کے بعد کسی مذمت کا اندیشہ نہیں ہے۔
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :
ان ولی محمدا من اطاع اللہ وان بعدت لحمتہ،وان عدو محمد من عصی اللہ وان قربت قرابتہ
محمد مصطفی ؐ کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے چاہے نسبی اعتبار سے کتنا دور ہی کیوں نہ ہو اور محمد مصطفی ؐ کا دشمن وہی ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے خواہ کتنا ہی قریبی ہو۔
امیر المومنین علیہ السلام نے رسالت ماب ؐ کی صفات اور خصائل کو متعدد خطبات میں بیان کیا ہے جسے طوالت اور وقت کی کمی کے باعث مکمل طور پر درج نہیں کر پایا تاہم اس موضوع پر محققین اور صاحبان علم کے لیے دعوت ہے کہ وہ اس میدان میں قلم اٹھائیں اور نفس رسول ؐ جس طرح ختمی مرتبت کو دیکھتے تھے ، جیسے انھوں نے ان کے پیغام کو اخذ کیا معلوم کریں تاکہ معرفت امیر المومنین کی روشنی میں ہم بھی اپنے قلوب کو عشق پیغمبر سے منور کر سکیں ۔مولاعلی علیہ السلام کے کلام سے ایک بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ ؑ رسالت ماب کے مشن ، ان کی شخصیت ، ان کی رسالت ، ان کے مقام سے بہت گہرائی سے آگاہ تھے ،جیسا کہ انھوں نے ایک مقام پر فرمایا کہ اگر میں ان باتوں کو جو تم سے مخفی رکھی گئی ہیں تمہیں بتا دوں تو تم صحراؤں میں نکل جاؤ، گریہ و زاری کروااپنے سر و سینہ کو پیٹو۔ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے آقا و مولا نبی کریم ؐ کی زیادہ سے زیادہ معرفت حاصل کرے تاکہ ختمی مرتبت کا عشق ان کے سینے میں موجزن ہو ۔ اس عنوان سے بہت سے افراد نے اپنے تئیں کوشش کی ہے تاہم میرے خیال میں رسالت ماب ؐ کی ہستی اور مشن کو بیان کرنے کا حق جس قدر امیر المومنین کو حاصل ہے کسی کو بھی نہیں ۔ ان فرامین اور اقوال کو گہرائی سے جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان جملوں میں چھپے موتیوں کو پایا جاسکے ۔

Read 42 times

تازه کالم

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه کالمز