الجمعة, 01 نومبر 2019 07:50



جماعت اہل حرم پاکستان کے زیراہتمام جامعہ نعیمیہ اسلام آباد میں ایک کانفرنس ‘‘ رسول رحمت، مظہر اتحاد امت’’ کے عنوان سے منعقد ہوئی جس کی صدارت جماعت کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی نے کی۔ اس میں دیگر علماءاور دانشوروں کے علاوہ البصیرہ کے سربراہ سید ثاقب اکبر نے بھی خطاب کیا۔ ان کی گفتگو کو شعبہ تحقیق کی ریسرچ فیلو محترمہ عابدہ عباس نے سن کر قارئین کے لیے قرطاس پر منتقل کیا ہے۔ اسے ہم قارئین پیام کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔ (ادارہ)


ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے۔ پرودگار ہر روز ایک نئی شان میں ہوتا ہے جیسا کہ خود خدا نے خود قرآن میں کہا ہے کہ [ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ]

ہم کئی ایسے سیکولر نظام پر یقین رکھنے والے ممالک کو جانتے ہیں، جہاں کی قیادت کرپشن، اقربا پروری، رشوت ستانی کو فروغ دے کر دولت کے انبار اکٹھے کرتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لبنانی مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کو دیکھ کر یہ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ کسی اسلامی ملک کا اجتماع ہے۔ نوجوان مرد اور خواتین کے خلط ملط ہجوم (ثورہ ثورہ یعنی انقلاب انقلاب) پکارتے ہوئے لبنان کی سڑکوں، چوکوں اور چوراہوں میں جھوم رہے تھے۔ موسیقی کی دھنوں پر ناچ گانے کی محافل منعقد کی جا رہی تھیں، ان مظاہرین کی حالت اور اطوار واضح طور پر ان مظاہرین کے فکری پس منظر کی نشاندہی کر رہے تھے۔ ان مظاہرین میں اسی فکری پس منظر سے تعلق رکھنے والے عیسائی، مسلمان، شیعہ، سنی اور دروزی سبھی شامل تھے۔ مظاہرین کو سعد حریری کا استعفیٰ تو مل گیا لیکن لبنان میں نظام کی تبدیلی، سیکولر حکومت کا قیام، پورے لبنانی معاشرے کو یورپی معاشرے کی سطح تک لانا شاید فی الحال اس قدر آسان نہیں جبکہ لبنان میں حزب اللہ اور اس جیسے مذہبی گروہ فعال ہیں اور معاشرے پر گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
ہر نئے سورج کے ساتھ اس کے پاک اور نیک بندے بھی نئی شان سے اٹھتے ہیں ۔
مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام نے بہت ہی خوبصورت جملہ ارشاد فرمایا سورج کو خطاب کر کے کہ اے سورج تو گواہ رہنا میں نے تجھے ہمیشہ اٹھتے دیکھا ہے تو نے مجھے اٹھتے کبھی نہیں دیکھا۔
یہ جو ‘‘رسول رحمت، مظہر اتحاد امت’’ کا موضوع ہے حقیقت یہ ہے کہ آپ کے علاوہ کوئی ایسا نام نہیں ہے جو اس امت کو جوڑنے والا ہو،جو اس کو زندہ رکھنے والا ہو، جو اس کو حرکت دینے والا ہو ،جو اسے آبرو بخشنے والا ہو، جو اس کے لیے باعثِ عزت ہو۔ محمد مصطفیؐ کا نام عزت والا نام ہے۔
میں عام طور پہ اس بات کا قائل ہوں کہ قرآن کو صرف لفظوں کے ساتھ نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ اس میں غوروفکر اور تدبر کرنا چاہیے،یہ قرآن کا تقاضا ہے،قرآن کی خود دعوت ہے کہ اس میں غورو فکر اور تدبر کرنا چاہیے۔

میں علامہ اقبال کی ایک بات پڑھ رہا تھا، کسی نے کہا کہ بعض لوگ قرآن پڑھتے ہیں، سمجھتے نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی بات نہیں، سمجھتے نہیں تو بھی محمدی نسبت تو ہو پیدا ہو جاتی ہے،واقعاً جب ایک عام دیہاتی قرآن پڑھتا ہے اسے معانی کا تو نہیں پتا ہوتا لیکن یہ پتا ہوتا ہے کہ یہ کتاب ہے جو محمد مصطفی ؐکے دل پہ اتری ہے یہ جو مسلسل احساس ہے کہ یہ کتاب محمد مصطفی کےدل پہ اتری ہے یہ ایک خاص کیفیت ہے اور یہی کیفیت ایک دن انسان کو اس بات کی طرف متوجہ کردیتی ہے کہ نبی پاکؐ کا پیغام ایک الٰہی پیغام ہے، میں اسے سمجھنے کی کوشش کروں ۔

ایک اور نکتہ بہت اہم ہے اسی کانفرس کے عنوان کی نسبت سےکہ یہ جو کامل قرآن ہےجس سے معارف، اقدا ر اور افکار کی تکمیل ہوئی اس کے لیے اللہ تعالی نے رسولؐ کے سینے کا انتخاب کیا۔ علامہ اقبال کے والد کی ایک بات معروف ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میرے والد کی چند باتوں نے میری زندگی کو بدل دیا، ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں سحری کے وقت ایک روز قرآن کی تلاوت کر رہا تھا کہ میرے والد کمرے میں آئے اور کہا کہ اقبال اس قرآن کو یوں پڑھا کرو جیسے تمھارے اوپر نازل ہورہا ہو۔ میں ایک جملے کا اضافہ کروں گا: محمدؐ کو دل میں رکھو تو پھر دل پر قرآن اترنا شروع ہو جائے گا کیونکہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ جہاں محمدؐ ہوں وہاں قرآن نازل نہ ہو۔ اس سینے کو پاک رکھیں، محمدیؐ نسبت پیدا کریں پھر قرآن نے اس دل میں اترناہی ہے ۔ یہ نسبت بہت قوی ہے۔

دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں ہے جس کا نام شب و روز یوں گونجتا ہو جیسے محمد مصطفیؐ کا نام گونجتا ہے‘‘ اشہد ان محمد رسول اللہ’’۔دنیا میں مختلف مذاہب اور ادیان ہیں، ہر ایک کی اپنی عبادت گاہیں ہیں، ہر ایک کی عبادت کا اپنا طریقہ ہے لیکن کیا خوبصورت طریقہ ہے اس اذان کا جو آنحضرتؐ نے ہمیں سکھایا ہے ۔اس اذان میں پورے کا پورا دین بیان ہو گیا ہے، اپنے اجمال اور جمال کے ساتھ، آنحضرتؐ کا نام گونجتا ہے، ایک زندہ انسان کی زبان سے نکلتا ہے۔ ان سب نسبتوں کا قوی رہنا ضروری ہے۔ نسبت قوی ہونے کے تحت دین اور قرآن سمجھ آئے گا۔

قرآن کہتا ہے کہ ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے اس کی حمد کے ساتھ ،لیکن تم اس تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو،یہ تسبیح حقیقی ہے، ہر چیز حقیقت میں اللہ کی تسبیح کرتی ہے، قرآن کہتا ہے کہ تمام موجودات تسبیح کرتی ہیں لیکن تمھیں اس کی سمجھ نہیں آتی ،اسی طرح قرآن جب یہ کہتا ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبیؐ پہ درود بھیجتے ہیں، کب سے بھیجتے ہیں؟کب تک بھیجتے رہیں گے؟

اللہ اور اس کے فرشتے نبیؐ پہ درود بھیجتے ہیں، یہ جو لفظ انسان کہا گیا ہے، ہر دور میں ہر طرح کا انسان ہوتا ہے لیکن سب کی نوع ایک ہی ہے جب کہ جانور کی انواع مختلف ہیں اگر غورو فکر کیا جائے تو فرشتے کے بارے میں تفصیلات کے ساتھ احادیث اور قرآن میں بھی آیا ہے کہ فرشتے کی بہت مختلف انواع ہیں۔

ایک فرشتہ ان میں سے جبرائیل ہے، نبی پاک ؐنے ایک دفعہ جبرائیل سے کہا کہ میں تمھاری اصل حقیقت اور ماہیت کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ کہاں وہ فرشتہ جبرائیل جس کا ایک پریہاں سے عرش کی جانب چلا جائے،اُس پر کی حقیقت کیا ہے؟ ہم اس کو بھی بیان نہیں کر سکتے ہماری کیا بساط کہ ہم جبرائیل کے پر کی حقیقت کو بیان کر سکیں ،میری نعت کا ایک شعر ہے

کرتا ہے فرشتوں سے بڑے ناز سے باتیں کیا پھونک دیا آپ نے جبریل کے پر میں

فرشتے کا تصور جبرائیل سے شروع ہوتا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ دو فرشتے ہمارے کندھے پہ بیٹھ کر نیکی اور بدی لکھتے ہیں یہ حقیقت ہے، فرشتوں نے عرش الٰہی کو اٹھایا ہوا ہے، یہ سب حقیقت ہے۔ قرآن ان کو مدبراتِ امر کہتا ہے۔ کائنات کا ہر امر انجام دینے کے لیے اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا ہے۔ کوئی چیز چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی نہیں ہے جس کی تدبیر فرشتوں کے ذمے نہ ہو،فرشتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ کائنات کی وسعت ان پر تنگ پڑ گئی ہے۔

اب آپ سوچیے إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ اللہ اور فرشے نبیؐ پہ درود بھیجتے ہیں کائنات کے گوشے گوشے سے محمد مصطفیؐ پرتحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں، درود و سلام کی ہر طرف سے صدائیں بلند ہو رہی ہیں لیکن یہ کان بہت ناقص ہیں جو یہ صدائیں سننے سے عاجز ہیں ۔

حضرت علی ؑفرماتے ہیں جب پیغمبر اکرم ؐپر پہلی وحی نازل ہوئی، میں ہر وقت نبیؐ کے ساتھ ایسے ہوتا تھا جیسے اونٹنی کا چھوٹا بچہ اس کے ساتھ ساتھ ہوتاہے، تو نبی پاکؐ جب جا رہے ہوتے تھے تو شجر وحجر سے نبی پاک ؐپہ درود پڑھنے کی آوازیں آ رہی ہوتی تھیں۔ جنھیں اللہ نے سننے والے کان بخشے تھے وہ درود کی ان صدائوں کو سنتے تھے۔ اگر ہم اللہ اور فرشتوں کے ساتھ نبی پاکؐ پہ درود بھیجنے کے لیے شامل ہو جائیں تو ہمارے لیے یہ سعادت کی بات ہے۔ اس محمد مصطفیؐ کی امت ہونے کا شرف ہمیں بخشا گیا ہے کہ معراج کی روایات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں آپؐ نے انبیاء کی جماعت کروائی پہلے آسمان پر پہنچے تو فلاں نبی سے ملاقات ہوئی دوسرے آسمان پہ گئے تو فلاں نبی سے ملے تیسرے پہ گئے تو فلاں نبی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا،یہ آسمان کیا ہے؟

پہلا آسمان کیا ہے؟ دوسرا آسمان کیا ہے؟

ساتویں آسمان پہ پہنچے تو خلیل اللہ حضرت ابراہیمؑ سے ملاقات ہوئی پھراس کے بعد حضرت جبرائیل کے ساتھ آگے بڑھے سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنے کے بعد جبرائیل نے کہا کہ اے اللہ کے رسول آگے بڑھوں تو میرے پَر جلتے ہیں اس سے آگے نہ کوئی مقرب فرشتہ جا سکا ہے، نہ کو ئی بشر جا سکا ہے اس نبی کی امت بننے کا ہمیں شرف حاصل ہے۔ اس نبیؐ کی نبوت کی شہادت دینے کا شرف ہمیں حاصل ہے۔ ا س نبی کی شہادت کی گواہی دینے کے بعد ایک ذمہ داری ہمارے اوپر آجاتی ہے کہ ہم اس نبی کی امت میں داخل ہو گئے ہیں جسے امۃ کہا گیا ہے کہ تم نے امت وسط بننا ہے تم نے ساری کائنات پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ہے اور میرے عزیزو کس نے پہنچانا ہے یہ پیغام کہ قانون سب کے لیے مساوی ہے۔ جب ایک امیر زادی کا، بڑے نواب کی بیٹی کی چوری کا، معاملہ آپؐ کی بارگاہ میں پیش کیا گیا اور آپؐ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم جاری فرمایا تو لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ یہ تو اتنے بڑے سردار کی بیٹی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میری بیٹی فاطمہؑ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔ ختم نبوت کے ماننے والو پس قانونی مساوات کا پیغام دنیا کو کون پہنچائے گا ہمیں نبیؐ کی زندگی سے اخوت اور محبت کا درس ملتا ہے۔ خدادند عالم ہمیں اس پہ عمل کرنے کی تو فیق دے۔

Read 22 times Last modified on جمعرات, 14 نومبر 2019 10:37

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه مقالے

  • امریکی صدر ٹرمپ کا غیر اعلانیہ دورہ افغانستان
      گذشتہ رات (28 نومبر 2019ء کو) امریکی صدر ٹرمپ غیر اعلانیہ طور پر افغانستان کے بگرام ایئربیس پر پہنچے۔ ان کے ہوائی جہاز کو دو چھوٹے طیارے حفاظتی حصار میں رکھے ہوئے تھے۔ سکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر اس دورہ کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ بگرام ایئربیس پر ہی…
    Written on الجمعة, 29 نومبر 2019 17:56 in سیاسی Read more...
  • گذشتہ چند ایام پر ایک نظر
      گذشتہ چند دنوں میں پاکستان کس تکلیف سے گذرا، کسی سے پنہاں نہیں ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مقدمہ سپریم کورٹ میں جانا، اس مقدمے کی پیروی کے حوالے سے حکومت کے اقدامات، سمریوں پر سمریاں اور ان میں سامنے آنے والی اصطلاحی…
    Written on الجمعة, 29 نومبر 2019 11:41 in سیاسی Read more...