منگل, 05 نومبر 2019 14:35



 

گذشتہ تحریر میں یہ بات سامنے آئی کہ سوشل میڈیا کے ذریعے برپا ہونے والی تحریکوں کے پیچھے جدید تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوان ہوتے ہیں، جو معاشرے کے بنیادی اور عوامی مسائل پر بات کرتے ہیں، رائے عامہ کو ہموار کرتے ہیں اور ان کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر لاتے ہیں۔ ان نوجوانوں کی سوچ کا منبع ان کا تعلیمی نظام ہے، جس سے وہ نکل کر آرہے ہوتے ہیں، وہی نظام ان کے مابین نقطہ اشتراک بن جاتا ہے۔ جمہوریت، سیکولر نظام، قانون کی حکمرانی، کرپشن کا خاتمہ، عوامی مسائل پر اظہار نظر وہ چیزیں ہیں جو ان نوجوانوں اور عوام کو ایک سوچ اور محور پر لاتی ہیں۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک خاص طرز فکر کے حامل افراد کی ایک تحریک جنم لے لیتی ہے۔۔۔

عوام کو اپنے مسائل سے سروکار ہوتا ہے، وہ تحریک میں افرادی قوت کا کام کرتے ہیں۔ تحریک کا فلسفہ، حکمت عملی اور پلان وضع کرنا انہی تعلیم یافتہ نوجوانوں کا کام ہوتا ہے۔
ہم نے دیکھا کہ لبنان کے سوشل میڈیا پر لبنان میں نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کو اپنے عوامی مسائل کا حل سیکولر حکومت کی صورت میں نظر آیا۔ ان سوشل میڈیا فلاسفرز کا خیال ہے کہ ملک کے تمام تر مسائل کی اصل وجہ ملک میں رائج فرقہ وارانہ نظام ہے، جس کے سبب ہر گروہ اور جماعت کا لیڈر اپنے ہی مسلک کی بہتری اور ترقی کے لیے کام کرتا ہے، اسی فرقہ وارانہ نظام کے سبب میرٹ کا خون ہوتا ہے اور اقربا پروری کے سبب عوام کی ایک بڑی اکثریت تنزلی کا شکار ہوتی ہے۔ ان سوشل میڈیا فلاسفرز نے لبنان کے مسائل کو فقط ایک آنکھ سے دیکھا ہے اور وہ آنکھ یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والے سیکولرزم کی آنکھ تھی، شاید ان نوجوانوں کے ذہنوں میں یورپ کے کسی ملک کا تصور تھا اور وہ ملک میں جمہوری غیر فرقہ وارانہ حکومت کا تقاضا کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے، حالانکہ اگر وہ گہرائی سے دیکھتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ عادلانہ نظام کا قیام کسی طرز حکومت کے سبب نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے باکردار افراد درکار ہوتے ہیں خواہ ان کا مسلک و مکتب کوئی بھی ہو۔

ہم کئی ایسے سیکولر نظام پر یقین رکھنے والے ممالک کو جانتے ہیں، جہاں کی قیادت کرپشن، اقربا پروری، رشوت ستانی کو فروغ دے کر دولت کے انبار اکٹھے کرتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لبنانی مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کو دیکھ کر یہ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ کسی اسلامی ملک کا اجتماع ہے۔ نوجوان مرد اور خواتین کے خلط ملط ہجوم (ثورہ ثورہ یعنی انقلاب انقلاب) پکارتے ہوئے لبنان کی سڑکوں، چوکوں اور چوراہوں میں جھوم رہے تھے۔ موسیقی کی دھنوں پر ناچ گانے کی محافل منعقد کی جا رہی تھیں، ان مظاہرین کی حالت اور اطوار واضح طور پر ان مظاہرین کے فکری پس منظر کی نشاندہی کر رہے تھے۔ ان مظاہرین میں اسی فکری پس منظر سے تعلق رکھنے والے عیسائی، مسلمان، شیعہ، سنی اور دروزی سبھی شامل تھے۔ مظاہرین کو سعد حریری کا استعفیٰ تو مل گیا لیکن لبنان میں نظام کی تبدیلی، سیکولر حکومت کا قیام، پورے لبنانی معاشرے کو یورپی معاشرے کی سطح تک لانا شاید فی الحال اس قدر آسان نہیں جبکہ لبنان میں حزب اللہ اور اس جیسے مذہبی گروہ فعال ہیں اور معاشرے پر گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب حزب اللہ کے سربراہ نے اس ثورۃ کے بارے میں حقائق کو واضح کیا اور حزب اللہ کے جوانوں نے ثورۃ کے خیام کو اکھاڑا تو یہ ثورۃ حکومت کے بجائے سید حسن نصراللہ اور حزب اللہ کی مخالفت پر اتر آئی اور عوام سے دور ہوگئی، کیونکہ عوام جانتے ہیں کہ اگر ان کی عزت و ناموس محفوظ ہے اور ان کی جانیں سلامت ہیں تو یہ سب حزب اللہ کی قربانیوں کے سبب ہے۔ ایسے ہی عراق میں ایک برس میں دودھ کی نہریں بہانے کا سوچنے والے گہری سازش کا شکار ہیں۔ سوشل میڈیا کی تحریکیں اور ان کا زمین پر اظہار ایک پیچیدہ عمل ہے، سطحی دانشمندی کے پیچھے ایک مکمل تعلیمی اور فکری نظام ہے، جس کو عوامی مسائل کے بیان اور مغربی ممالک کی مثالوں کے ذریعے قوت دی جاتی ہے، ایسے میں خارجی عناصر جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں، جو نہایت غیر محسوس انداز میں انجام دیا جاتا ہے۔
عراق میں مظاہرین کے مابین ڈالر تقسیم کرتی خواتین کی ویڈیوز تو سبھی نے دیکھیں، سوشل میڈیا کے اکاونٹس کو لنک کرنا، ضرورت کے مطابق درکار مواد کا مہیا کرنا اور پھیلانا بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ایران میں انقلاب سبز کے دوران میں ایک نوجوان لڑکی کی موت کی ویڈیو ہم سب کی نظر سے گزری ہوگی۔ وہ لڑکی کیسے قتل ہوئی، کس نے اسے گولی ماری، فوری طور پر اس پر کوئی غور و فکر نہیں کیا گیا بلکہ مظاہرین جو حکومتی مشینری سے ٹکرا رہے تھے، کے موبائل فونز پر اس خاتون کی ویڈیو کا پہنچ جانا مظاہروں میں شدت لانے اور مظاہرین کو بھڑکانے کے لیے کافی تھا۔

ہمیں جاننے کی ضرورت ہے کہ مغربی طاقتیں آج ملکوں کے حالات اور ان کی سیاست پر اثر انداز ہونے کے لیے ان تمام جدید وسائل کا استعمال کر رہی ہیں، جو انہی کی پیداوار ہیں۔ فیس بک، وٹس ایپ، ٹوئیٹر، ٹیلیگرام اور اس جیسی دیگر سہولیات جو ہم مفت سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں، اگر مصر، تیونس، لیبیا، ایران، عراق، سعودیہ، بحرین، یمن اور دیگر ممالک میں آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھی جائیں تو شاید ہمیں اندازہ ہو کہ ہمیں بحیثیت قوم اور ملت ان سہولیات کی بڑی قیمتیں ادا کرنی پڑ رہی ہیں۔ یہ تو فقط ان کے سیاسی اثرات ہیں، اگر اخلاقی اثرات کو دیکھا جائے تو وہ بھی کسی طور کم نہیں ہیں۔

بہرحال سوشل میڈیا پر جنم لینے والی اس سطحی دانشمندی کے پاس مسائل کے حل کا کوئی عملی طریقہ موجود نہیں ہوتا، عوامی قوت سے اگرچہ کار حکومت میں خلل پیدا کر لیا جاتا ہے اور بعض اوقات حکومت کو الٹنے میں کامیابی مل جاتی ہے، تاہم اگلا مرحلہ ان کی فکر اور اختیار سے باہر ہوتا ہے۔ جدید تہذیب کے یہ انڈے اپنے فکری معماروں کے مقاصد کی تکمیل کر چکنے کے بعد غیر ضروری ہو جاتے ہیں۔ عوامی مسائل کم ہونے کے بجائے زیادہ ہو جاتے ہیں، بعض جگہ تو خانہ جنگی کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے، جو تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ لیبیا، یمن، شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اسی جانب حزب اللہ کے زعیم سید حسن نصراللہ نے اشارہ کیا اور اسی کا خوف عراق میں لاحق ہے۔

Read 46 times

تازه کالم

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه کالمز