الجمعة, 08 نومبر 2019 13:48



مجلس بصیرت

تحریر: انجم خلیق

انجم خلیق پاکستان کے بلند مرتبہ شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔ نعت، منقبت، سلام، قصیدہ، غزل، نظم اور دیگر اصناف سخن میں ان کے کلام کو اہل سخن اساتذہ تحسین و آفرین پیش کر چکے ہیں۔ صحافت اور ابلاغ عامہ بھی ان کی مہارت کے میدان ہیں۔ ان کے متعدد شعری مجموعے مختلف اصناف میں شائع ہو چکے ہیں۔ ’’شب کی شناسائی ‘‘ کی تقریب رونمائی کے لیے لکھے گئے ان کے کلمات قارئین پیام کی خدمت میں پیش کیے جارہے ہیں۔ (ادارہ)

شب یعنی رات، شام کے بعد طلوع ہونے والا وہ پہر ہے جو کائنات احساس و بصارت میں تیرگی کا پرچم لیے یوں ظہور کرتا ہے کہ پھر اندھیرے کے علاوہ کسی کو بھی اور کچھ نظر ہی نہیں آتا۔۔۔

لمحوں اور ثانیوں کو جوڑ جوڑ کر کئی گھنٹوں پر محیط یہ کاروان ظلمت و ظلمات تاریکی کی بکل مارے ہوتا ہے مگر اپنی آخری سرحد پر آتے آتے یہ کاروان ایک احساس تلافی کے ساتھ کائنات احساس وبصارت کو صبح کی روشنی کا نورانی تحفہ دے جاتا ہے۔
شب کا یہ سفر ہم سب کا سفر ہے، مگر اس کا اثر سب پر یکساں نہیں ہوتا۔ شب دراصل ایک سناٹے، ایک تحیر، ایک طلسم، ایک راز، ایک اسرار، ایک دفینے کا نام ہے جو سب شب باشوں پر اپنا آپ کھولتی ہی نہیں۔ بہتوں کے لیے تو یہ ایک مشقت سے تھک کر دوسری مشقت تک خود کو تیار کرنے کے لیے فراہم کردہ وقفۂ آرام ہے جسے بس وہ سو کر ہی گزار دیتے ہیںلیکن وہ جو شب کے سر بستہ راز جاننے کے لیے اس کے دل میں اترنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، بس ان پر ہی رات کے راز آشکار ہوتے ہیں۔
فی زمانہ ان شب زندہ داروں میں ایک صوفی منش شخصیت کا نام ثاقب اکبر ہے جس پر ورودِ شب ہوا تو اسی طمطراق سے تھا جیسا ہمہ شما پر ہوتا ہے اور انھوں نے بھی شبِ تار کا سواگت اسی طرح بانہیں پھیلا کر کیا تھا جیسے زمانہ شباب میں کیا جاتا ہے لیکن ان کے اندر کے پیر کہن سال نے انھیں اپنا کچھ ایسا مرید کیا کہ شب آشنائی کا دورِ انجمن آرائی انھیں کھینچ کھانچ کر خالقِ روز و شب کے سامنے جبیں سائی اور اس کی تخلیقات احسن التخلیق یعنی ذوات محمدؐ و آل محمدؑ کے در پر کاسۂ گدائی لیے مودب کھڑا رہنے پر مجبور نہیں، مامور ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی کائنات احساس و بصارت کو دولت احساس و بصیرت سے معمور کر گیا۔
لیکن یہاں بھی کچھ کچھ کنزاً مخفیاً والا معاملہ آڑے آیا ہوگا کہ ثاقب اکبر نے اپنی غزلیہ شاعری کا مجموعہ مدون کرنے کی دیوانگی کرلی اور پھر یہ راز بھی مزید راز نہ رہ سکا کہ یہ آتش بھی کبھی جوان تھا اور شب کی شناسائی کے مراحل میں اس پر بھی وہ وہ راز آشکار ہوئے ہیں جن کا ذکر انھوں نے اس کتاب کی ڈھیروں غزلوں میں اچھا خاصہ بے تکلف ہو کر کیا ہے۔
اب جب شعروں کے انتخاب نے انھیں رسوا کر ہی دیا ہے تو چلیے ہم بھی ان جھماکوں کا لطف لیتے ہیںجو تیرہ شبوں میں بھی شب باشوں کی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی چکا چوند رکھتے ہیں کہ حسن کی شعلہ باری سے انکار ہوتا ہی کسے ہے۔ اب جو ثاقب اکبر کے ہاں یہ شعر ملتے ہیں تو کچھ انہونی تو نہیں۔ وہ کہتے ہیں:
کھلی کتابیں کلام و اُصول و منطق کی
رُخ نگار جو دیکھا تو چھوڑ آئے ہیں
اور یہ کہ:
چاند چھپنے لگا ہے بادل میں
بات بننے لگی ہے، بات کرو

اور یہ کہ:
اور بھول جائوں ساتویں چکر پہ بار بار
اک بار جو اجازتِ طوفِ مکاں ملے
یا پھر یہ کہ کسی حسنِ دل آویزکی ادائوں پر اس شدت سے وہ آنا دل کا، بقول ثاقب ذرا کیفیت وارفتگی ملاحظہ کیجیے:
مجھے یاد کچھ نہیں ہے تجھے کب سے میں نے چاہا
تجھے جب سے میں نے چاہا، مجھے یاد کیا رہا ہے
اور اب ذرا ان کے ذوقِ حُسن شناسی کی داد بھی دیجیے، کہتے ہیں:
خرد کا کام نہیں انتخابِ ماہ رُخاں
نگاہ چاہیے اک، خالِ دلبری کے لیے
اور یہ کہ :

اس کی زیبائی رخسار کو دیکھا ہوتا
ہوتی حیرت نہ تجھے حُسن غزل خوانی پر
لیکن میں عرض کرتا چلوں کہ قدرت نے جسے شاعر بنانا ہوتا ہے اس کا شعور، احساس، فکر، خیال، مشاہدہ، جذبہ، اثر پذیری اور اثر آفرینی سب کچھ عام طرح کے شب زندہ داروں اور شب باشوں سے ذرا مختلف ہی ہوتا ہے۔ کلامِ ثاقب میں بھی ہمیں بار بار یہ جداگانہ احساس نمایاں نظر آتا ہے کہ وارداتِ قلبی میں حُسن کی بے نیازیوں، عشق کی بے تابیوں، وصل کی آرزوئوں، ہجر کی کٹھنائیوں، محبوب کی حیلہ سازیوں اور زمانے کی بے اعتنائیوں میں روایتاً الجھنے کے باوجود شب کی شناسائی کا شاعر بطور شاعر بھی اپنے دانشورانہ منصب، مرتبے، مقام اور ذمہ داریوں سے صرف نظر نہیں کرتا جبھی تو غم جاناں کے ساتھ ساتھ اسے غم دوراں کا بھی مکمل ادراک ہے۔ شہر آشوب، زمانے کی غلط بخشیاں، معاشرتی ناہمواریاں جب اس کے احساس خیر کو کچو کے لگاتی ہیں تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ
فقیہ شہر کے فتووں کے تیر کھائے ہیں
تو شہریار سے بھی اختلاف کر لوں گا
پھر وہ بڑے دکھ سے کہتا ہے:
وہی معزز کہ جن سے لفظوں کی آبرو بھی پناہ مانگے
وجوب ٹھہرا ہے اُن کے ناموں سے پہلے عزت مآب رکھنا

یایہ کہ:
ہم دُھن پہ نظر رکھیں، تم دَھن پہ نظر رکھو
ہم اپنا دھرم رکھیں، تم اپنا دھرم رکھنا
اور یہاں آن کر یہ حسّاس قلمکار کس دکھ، کس کرب مگر کس قلندرانہ ذمہ داری کے ساتھ تمام اہل قلم کو ابتری اور ابتلا کے اس دور میں ایک نوشتۂ دیوار سجھانے کی سعی کرتے ہوئے کہتا ہے:
بجھتے ہوئے حرفوں نے دیوار پہ لکھا ہے
اے اہلِ قلم روشن یہ شمع قلم رکھنا
اور دیکھیے ایک صاحب حال اور صاحب نظر شاعر کے قلم سے کیا پتے کی بات آشکار ہوتی ہے کہ
ہم نے جھیلے ہیں اپنے سینے پر
آپ نے انقلاب دیکھے ہیں
اس میں شک نہیں کہ ثاقب اکبر کے شعر پڑھتے ہوئے حسن و عشق کے بیانیہ میں روایت زیادہ اور انفرادیت کم ہے لیکن ایک بات جو بہت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے وہ ان کی شعری گرائمر سے غیر معمولی آ گہی اور رموز فن پر بھرپور دسترس، قوافی کا فنکارانہ انتخاب، صحتِ ردیف کا اہتمام، لفظیات کا سلیقہ اور تراکیب کی تقدیس کا لحاظ ہے، جو ہمارے نزدیک مضامینِ شعر کی ندرت سے کہیں بڑھ کر کسی شعر کی معیار بندی کے لیے اہم اور ضروری عوامل ہیں۔
فنی کمالات کے آئینہ دار، ثاقب کے چند شعر دیکھیے:
مصرعے ٹوٹ ٹوٹ کر اُترے
درد نے آج پھر نڈھال کیا
شاعر اس بات سے اتفاق کریں گے کہ کم ہی شاعر ہیں جو مصرعے کو اس طرح ’’ع‘‘ کے اعلان کے ساتھ باندھنے کا کشٹ اٹھاتے ہیں۔ اب صحتِ ردیف کے حوالے سے بھی ایک فنی کمال دیکھیے۔ روشنی دوں گا، تازگی دوں گا کے قافیہ اور ردیف میں ثاقب کی ایک غزل کا مطلع ہے:
خبر نہ تھی کہ میں دل دے کے ہوش بھی دوں گا
اور اپنی جاں کے لیے ایک غم خریدوں گا
شاعر اعجاز بیاں، علامہ اقبال کی ایک خوبصورت اور بہت ہی منفرد بحر میں لکھی غزل کا مطلع ہے:
میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات میں
اس غزل کی زمیں میں ثاقب اکبر کا کمال فن ایک خوبصورت تلمیح کے ساتھ دو آتشہ ہو کر سامنے آتا ہے، کہ کہتے ہیں:
کون صنم پرست ہے اور ہے کون بت شکن
یہ بھی تو ایک راز ہے سینۂ سومنات میں
اور یہاں پر بہت استحقاق سے ایک لطیف سی طنز بھی نو مشقان سخن پر یہ کہہ کر کر گئے ہیں کہ:
عروض سیکھیں جنھیں شاعری سے مطلب ہے
مجھے تو حرف ترے عشق نے سجھائے ہیں
صاحبانِ نظر، اصناف سخن میں غزل بطور خاص ایسی ظالم صنف ہے جو ایک طرف صاحب غزل کے مقام و معیار فن پر سند ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کے نظریہ فن کے ساتھ ساتھ اس کے عقیدہ و عقیدت کی دو ٹوک عکاس بھی ہوتی ہے۔ شب کی شناسائی کے شاعر کے ساتھ بھی ان کی غزلوں کے اکثر اشعار نے کچھ ایسا ہی کیا ہے۔ رہ رہ کر ہمیں ایسے شعر نظر آ رہے ہیں جو ثاقب اکبر کے دل و دماغ پر چھائی اس ہستی کے خدوخال اجاگر کرنے میں کوشاں ہیں جس کے خدوخال ہیں ہی نہیں۔ بجز اس کے کہ اس نے کچھ ہستیوں کو اپنی ذات کا پَر تو بنا کر ہمارے سامنے اپنی صفات کے مظاہر بنا کر بھیجا۔ ان کیفیات کے حامل شعر پڑھتے ہوئے ہی مجھے اپنے تجزیاتی مضمون کا عنوان ’’ شب کی شناسائی سے رب کی شناسائی تک‘‘ رکھنا پڑا۔ ثاقب کے تصوف اور عشق حقیقی سے معمور چند شعر دیکھیے:
خواب دے ایسا کہ آنکھوں سے چرا لے نیندیں
درد ایسا جو مجھے شب کی شناسائی دے

جرم سے کم بھی اگر میں نے سزا پائی ہے
تیری رحمت کی مری آنکھ تمنائی ہے

گر کثرت ظہور نے اُس کو چھپا دیا
باطن میں اُس کو ڈھونڈنے والا کہاں ملے

مانگتا ہے جو اُسے دہر کی دانش دے دے
جو تجھے دیکھے فقط، مجھ کو وہ بینائی دے

ہاں ترا ناز ہے تسلیم کا خوگر ہونا
حرف ’’لا‘‘ کا ہے تقاضا کبھی انکار بھی کر

ربط سورج سے ہے جو کرنوں کا
اپنی نسبت ہے وہ مدینے سے

بوترابی کے لیے خاک نشینی زیبا
اور تھوڑے ہیں! جنھیں تخت دے، سلطاں کردے

جو داستان نہ مورخ کے علم میں آئی
اُفق سے اُٹھ کے شفق میں سما گئی ہو گی

ہم نے وہ غم بھی بصد شوق سنبھالے ہوئے ہیں
پچھلی صدیوں نے جو اِس پار اچھالے ہوئے ہیں

اب اس کے بعد بھی اگر یوں سب کے سامنے کھل کر بلکہ اپنے شعروں کی بدولت کھل کھلا کر ثاقب یہ گلہ کر رہے ہیں کہ:
ہزار صفحوں پہ اک حرفِ مدّعا نہ لکھا
ورق سیاہ کیے، دل کا ماجرا نہ لکھا
تو جناب یہ ان کی غلط فہمی ہے، تاڑنے والے یوں بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں اور ثاقب صاحب! آپ کی حدیثِ عشق کا بیان تو اس قدر دل آویز ہے کہ ہم جو آپ جیسے صوفی ہیں بھی نہیں، ہمیں تو آپ کی ہر واردات کچھ اپنی اپنی سی، کچھ خود پر گزری ہوئی سی ہی محسوس ہوئی ہے بلکہ اب جو اتنے عرصے بعد آپ نے اپنی غزل گوئی کے رخِ روشن سے نقاب اٹھائی ہے تو ہماراانہی کے لفظوں میں کہنا بنتا ہے کہ
ثاقب تجھے سنانے کی فرصت نہیں ملی
عنواں تھا بے مثال، کہانی غضب کی تھی
اور ثاقب صاحب،بشکل شعر غضب ڈھانے میں، غزل کے ساتھ ساتھ کچھ تھوڑا سا حصہ آپ کی نظموں نے بھی ڈالا ہے، خاص طور پر وہ نظمیں جن کے عنوان ہیں ،ذوق تخلیق، فکرِ اقبال، جانے یہ کیا آواز آئی، نورانی سا پتھر،مجھ میں یہ ہنر بھی ہے، بے حسی کا نوحہ ،موج احساس اور مہرلب، جس نے مجھے تو ایک ثانیے کے لیے مہر بلب ہی کر دیا تھا۔ اب جو اس محفل میں لب کشائی کی ہے تو وہ اس احساس کے ساتھ کہ ایک بے لاگ تجزیہ ہر اس کتاب کا حق ہے جو پڑھنے والے کو پوری کتاب پڑھنے پر مجبور کرنے کا ہنر، مواد اور مصالحے رکھتی ہے اور میں نے یہ کتاب پوری پڑھی ہے، حضرت علامہ کے پیام مشرق کے چند فارسی قطعات کے منظوم اردو ترجمے سمیت، جنھو ںنے ایک بار پھر میرا یہ ایمان تازہ کر دیا کہ اقبال شعر لکھتے نہیں تھے، شعر ان پر آیتوں کی طرح اترتے تھے۔ اب یہ دوسری بات ہے کہ آیت کا ترجمہ جس زبان میں بھی ہو، اس کا مفہوم تو کھول سکتا ہے، تلاوت پر آمادہ نہیں کر سکتا۔ تاہم شب کی شناسائی سے یہ راز تو کھل ہی گیا ہے کہ بقول ثاقب اکبر
پرورش نُور کی ہوتی ہے تہِ پردۂ شب
مطلعِ صبح جو اُبھرے گا سنہرا ہو گا

 

Read 27 times Last modified on الجمعة, 08 نومبر 2019 13:52

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31