الجمعة, 08 نومبر 2019 13:41



مجلس بصیرت

محفل مسالمہ 2019 بسلسلہ برسی سید اکبر علی شاہ نقوی البخاری


زیر اہتمام : البصیرہ
روداد از :سید اسد عباس
البصیرہ ہر برس صدر نشین البصیرہ جناب سید ثاقب اکبر کے والد بزرگوار سید اکبر علی شاہ نقوی البخاری کی برسی کی مناسبت سے ماہ محرم میں مسالمہ کا انعقاد کرتا ہے جس میں راولپنڈی اسلام آباد کے معروف شعرائے کرام بارگاہ امام حسین علیہ السلام شہدائے کربلا کی شان میں اپنا نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں یہ محفل گذشتہ کئی برسوں سے اسلام آباد میں منعقد ہورہی ہے اور اسلام آباد کی بڑی ادبی محافل میں سے ایک ہے۔ اس برس بھی اس محفل کا انعقاد 14محرم الحرام کی شب کو البصیرہ کے دفتر میں ہوا۔ جس کی صدارت معروف شاعر جناب سید نصرت زیدی ۔۔۔

نے کی اس محفل میں کراچی سے آئے ہوئے مہمان مولانا اکبر درس، معروف دانشور اور شاعر پروفیسر احسان اکبر اور پروفیسر جلیل عالی مہمان خصوصی تھے ۔ اس تقریب کی نظامت کے فرائض معروف نعت خواں اور شاعر پیر عتیق چشتی نے انجام دیئے ۔ تلاوت کلام پاک قاری انعام الحق نے اور نعت رسول مقبول ڈاکٹر نصیر چشتی نے پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ محفل میں ادبی ذوق کے حامل شخصیات، علماء، دانشوروں اور شعراء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس محفل میں پڑھے گئے گلام کا خلاصہ پیش قارئین ہے۔

سید نصرت زیدی


علامہ غلام اکبر درس
معروف اسلامی سکالر علامہ غلام اکبر درس جو کراچی سے خصوصی طور پر تشریف لائے تھے نے اپنا کلام پیش کیا ، نعت کے چند اشعار حسب ذیل ہیں:
روز محشر تیری سرکار میں سب شیخ و سبی
ملتی ہوں گے وہ تجھ سے پئے درماںطلبی
دیکھ کر تجھ کو کہ اٹھے گا ہر ایک نبی
مرحبا سید مکی و مدنی العربی
دل و جاں باد فدایت کہ عجب خوش لقبی

علامہ اکبر درس نے اپنے جد امجد شیخ الحدیث مولانا عبد الکریم درس کے چند اشعار بھی پیش کیے
پوشش کعبہ سیاہ ہونے کا باعث کھل گیا
ماتم سبط نبی اللہ کے بھی گھر میں ہے
مولانا عبد الکریم کے ایک اور کلام کا شعر
نہ ہے روئے زمیں سبز نہ ہے چرخ بریں نیلا
زمین و آسماں نے غم میں بدلے پیرہن کالے

پروفیسر احسان اکبر
معروف دانشور اور شاعر پروفیسر احسان اکبر نے جو کلام پیش کیا اس کا ایک شعر حسب ذیل ہے
وراثتوں میں تیری تیرا خانوادہ بھی تھا
میں جان سکتا ہوں اے شافع امم تیرا غم
فرات وقت جو پہلے اچھال دیتا ہمیں
سنبھالتے تیری مشکیں ، تیرا علم ، تیراغم

پروفیسر جلیل عالی
معروف شاعر اور دانشور پروفیسر جلیل عالی کے اشعار سے ایک انتخاب
بندگان ریا کی نگاہوں مین شام و سحر اور تھے
اور اہل صفا کے رموز قیام و سفر اور تھے
گو رہ عشق میں شان پہلے بھی بے مثل تھی آپ کی
کربلا میں مگر سرخرو تھے سواء معتبر اور تھے

ایک سلام سے چند اشعار
دام دنیا نہ کوئی پیچ گماں لایا ہے
سوئے مقتل تو اسے حکم اذاں لایا ہے
خون شبیر سے روشن ہیں زمانوں کے چراغ
شمر نسلوں کی ملامت کا دھواں لایا ہے

سید ثاقب اکبر
البصیرہ کے صدر نشین کے بارگاہ امام عالی مقام میں پڑھے گئے اشعار سے ایک انتخاب درج ذیل ہیں:

ان کی حکمت سے بصیرت سے نہ الجھے کوئی
نام دشمن کو یہ دشنام بنا دیتے ہیں
کیوں نہ گھبرائے عدو ان کے کھلے ہاتھوں سے
جو رسن بستہ بھی ایوان ہلا دیتے ہیں
حیف انسان ہو اور فیض سے محروم رہے
یہ تو مٹی کو بھی تاثیر شفا دیتے ہیں

گفتار تیری صادق کردار تیرا ۔۔۔۔
والعادیات ذبحا والی نظم

میاں تنویر قادری
معروف نعت گو شاعر میاں تنویر قادری نے یہ کلام ترنم کے ساتھ پڑھا :

حسین لاش تیری بے کفن پڑی ہوگی
بہن کے سر سے تو چادر بھی چھن گئی ہوگی
صدائے ماتم شبیر جب اٹھی ہوگی
اجل بھی ایک طرف سر کو پیٹتی ہوگی
حسین ؑ ہے سر نیزہ برنہ سر زینبؑ
الہی اور کیا قیامت کی گھڑی ہوگی
ضرور اصغرواکبر پلٹ کے آئیں گے
یہ خواب صغری مدینہ میں دیکھتی ہوگی
زمانہ اس کو بھجانے کی فکر میں ہوگا
بہ نوک نیزہ جو اک شمع جل رہی ہوگی
غم حسین ؑ میں جو آنکھ اشک بار نہیں
نجات اس کی نہ تنویر قادری ہوگی


انجم خلیق
معروف شاعر جناب انجم خلیق نے جو شعر تقریب میں ہدیہ قارئین کیے ان میں سے ایک انتخاب حسب ذیل ہے:
جب کوئی رستہ میری بخشش کا ڈھونڈا جائے گا
اے غم شبیر تو میرے بہت کام آئے گا

گھر کی رونق دیکھنا فرش عزا بچھنے کے بعد
کوئی مہماں شام سے کوئی نجف سے آئے گا

جناب انجم خلیق نے ایک طویل مسدس بھی پیش کیا جس کا ایک بند پیش قارئین ہے۔
ہاشمیت سے مزین تیرا شجرہ آقا
قوت بازوئے حیدر تیرا ورثہ آقا
سب شہیدوں کا ہے آقا تیرا آقا آقا
تو شہنشاہ وفا اہل ولا کا آقا
خود کو یوں وقف کیا تو نے برائے شبیر
لکھ دیا خون سے میثاق وفائے شبیر
اسلم ساغر

ذکر ال رسول ہوتا ہے
لمحہ لمحہ قبول ہوتا ہے
محفل پاک ہو رہی ہو جہاں
رحمتوں کا نزول ہوتا ہے
ہو جو راکب حسین ابن علی
ایسے سجدوں کو طول ہوتا ہے
اس کے علاوہ بھی جناب اسلم ساغر نے کلام پڑھا جسے اختصار کے سبب تحریر نہیں کیا جارہا

ہزار گردش دوراں کے باوجود ابھی
سر کنار افق سرخ رنگ باقی ہے
یزید صفحہ ہستی سے ہو گیا معدوم
یزیدیت سے مگر اب بھی جنگ باقی ہے

سلام کے چند اشعار
بنا چراغ ہدی کربلا کی مٹی سے
بکھر رہی ہے ضیاء کربلا کی مٹی سے
وہ جس میں آب بقائے دوام ملتا ہے
وہ جام خلق ہوا کربلا کی مٹی سے
کبھی وہ جس کے مقدر میں ٹوٹ پھوٹ نہیں
بنا وہ ظرف وفا کربلا کی مٹی سے
اثر میں جو دم عیسی سے بھی سوا ٹھہرے
بنی وہ خاک شفا ء کربلا کی مٹی سے


خرم خلیق
نماز عشق سر کربلا کچھ اور ہی ہے
ادا کچھ اوروہاں ہے فضا کچھ اور ہی ہے
فرات نے جو حقیقت بتائی تب جانا
ہم اور سمجھے تھے لیکن وفا کچھ اور ہی ہے
لغات کرب و بلا دیکھ کر ہوئی حیرت
فنا کے اور ہیں معنی بقا ء کچھ اور ہی ہے
یہاں جو پھیلی ہے خرم و ہ روشنی تو نہیں
بجھے دیے نے بتایا ضیاء کچھ اور ہی ہے

شیدا چشتی
عبادت ناز کرتی ہے سیادت ناز کرتی ہے
علی کے نونہالوں پر شہادت ناز کرتی ہے
یہی اصحاب دیں بھی ہیں یہی ہیں راہنما سب کے
انہی تطہیر والوں پر امامت ناز کرتی ہے
حسینی قافلے والوں کا صدق زار کیا کہنے
کہ جن کی جانثاری پر صداقت ناز کرتی ہے

محبوب ظفر

محترمہ تبسم اخلاق ملیح آبادی
نے درج ذیل اشعار
چہرہ میرے حسین کا کھلتا گلاب ہے
وقت سحر افق پہ نیا آفتاب ہے
فہم و فراست اور تدبر ہے ان کا نام
ان کا ہر ایک قول و عمل انقلاب ہے
پیارے نبی کے پیارے نواسے کے فرق پر
حق اورصداقتوں کی نئی آب و تاب ہے
یہ کربلا کی بات کوئی داستاں نہیں
خون جگر سے لکھی ہوئی اک کتاب ہے
خون شہید رائیگاں جاتا نہیں کبھی
تاریخ میں رقم یہ درخشندہ باب ہے
چھوڑاہے جب سے سنت عالی مقام کو
اقوام کے سروں پہ مسلسل عذاب ہے


پیر عتیق احمد چشتی
نے نظامت کے دوران اشعار ہدیہ سید الشہداء کیے جن میں سے ایک انتخاب حسب ذیل ہے
گود میں شاہ مدینہ کی جو پل سکتا ہے
حق کی خاطر وہ مدینہ سے نکل سکتا ہے
پیاس مرغوب شہ کرب و بلا ہے ورنہ
چشمہ کو ثر کا اشارے سے ابل سکتا ہے
میری تقدیر بدلنی مشکل تو نہیں
ابن زہراء رخ کونین بدل سکتا ہے
جو بھی شبیر کی نسبت سے مشرف ہے عتیق
تاج شاہی کو وہ پائوں سے مسل سکتا ہے


نصیر زندہ


وفا چشتی
ہم فقیروں پہ عجب رحمت باری ہوئی ہے
مسند پرسہ شبیر ہماری ہوئی ہے
بس وہی جانتا ہے ہجرت شبیر کا دکھ
جس نے اک رات مدینے میں گزاری ہوئی ہے

سلام کے چند اشعار
کیونکر کہیں بھلا کہ کوئی کم نصیب ہیں
اللہ کا کرم ہے کہ ہم غم نصیب ہیں
خوش وقتیوں میں ہر کوئی ساتھی ہے دوست ہے
چیدہ چنیدہ ہیں جو محرم نصیب ہیں
بنجر زمیں پہ اگتی نہیں ہے ولا کی فصل
اہل ولاء کے دل بھی خوشا نم نصیب ہیں
دس دن بھی رو نہ پائیں جو قتل حسین پر
وہ سارا سال ہی ماتم نصیب ہیں

ڈاکٹر نصیر چشتی کی جانب سے پڑھے گئے اشعار سے ایک انتخاب پیش قارئین ہے

جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے
خون حسین کا رنگ نکھرتا جاتا ہے
جب بھی ابر برسنے پر آمادہ ہو
اس کے آگے پانی بھرتا جاتا ہے

سجاد لاکھا
صحافی اور شاعر سجاد لاکھا نے بارگاہ امام عالی مقام میں جو کلام پیش کیا اس کے چند اشعار درج ذیل ہیں:
قدم قدم پہ ہے اک کربلا تو سوچتا ہوں
حسین آج ہی جیسے سفر پہ نکلے ہیں
قطعات
ادب ہے شرط جو لینا ہے نام ابن علی
زمانہ جان چکا ہے مقام ابن علی
کچھ آرزو نہیں اس کے سوا کہ محشر میں
فرشے مجھ کو پکاریں غلام ابن علی

ملا ہے جو بھی مجھے ان کی خاک پا سے ملا
میں اہل بیت سے مل کر میرے خدا کو ملا
یزید عصر کو للکارنا ڈٹے رہنا
یہ حوصلہ مجھے مظلوم کربلا سے ملا

حکیم محمود الزمان
لب پر نبی کے وصف کا جب تک سخن رہا
انوار کی فضائوں میں میرا بدن رہا
خوشنودی نبی کے لیے میرے سامنے
یا اسوۃ حسین رہا یا حسن رہا

طاہر یاسین طاہر
معروف کالم نگار اور صحافی طاہر یاسین طاہر کے کلام سے ایک انتخاب
حضرت کے نواسے کا علمدار کا غم ہے
زینب کی ردا شام کے بازار کا غم ہے
غم ہے مجھے مقتل کو چلے عون و محمد
زینب کو مگر عابد بیمار کا غم ہے
اکبر تیری جرات پہ لکھے نوحے قصیدے
صغری کے مگر وعدہ دیدار کا غم ہے

ایک اور سلام کے چند اشعار

ردا جن کے در پہ حیا لینے آئی
ستمگر انہی کی ردا کھینچتے ہیں
عزادار آئیں گے سجدہ کریں گے
حسین اس لیے نقش پا کھینچتے ہیں

نامعلوم شاعر
گلوں سے سج گیا ہے آج لالہ زار کربلا
حسین تیرے دم سے ہے یہ اعتبار کربلا
ابد کی سرخ شام تک وہ دن کبھی نہ آئیں گے
نواسہ رسول نے جو دن گزارے کربلا
حسینو ڈٹے رہو یزیدیت کے سامنے
بنو تو حر بنو اگر کبھی پکارے کربلا
یہ دین آج تک انہی دیوں کی روشنی میں ہے
خیام ضو فشاں ہوئے تھے جو کنارے کربلا

ناصر منگل
استاد ناصر منگل نے یوں اپنے کلام کا آغاز کیا
مقام آدم کا ارتقائی نشان اوج کمال زینب
حسینیت کا عروج زینب یزیدیت کا زوال زینب
جواب ہے تو جواب لائو ہے سر کٹا کر بھی کون زندہ
زمانے بھر کے یزید زادوں سے پوچھتی ہے سوال زینب

سلام کے چند اشعار جو ناصر منگل صاحب نے تقریب میں پڑھے
جو آدمی مریض غم کربلا نہیں

مثل یزید ہے وہ بشر باخدا نہیں
نوک سناں پہ جھوم کے شبیر نے کہا
بیعت کا سرکٹا ہے میرا سر کٹا نہیں
لب پہ ہو یا حسین تو دل میں یزید ہو
ایسی عبادتوں کی سزا ہے جزا نہیں

ہابیل نقوی
نوجوان شاعر اور سید اکبر علی شاہ کے پوتے سید ہابیل نقوی نے درج ذیل کلام پیش کیا
حسین وہ جو ہر ایک دل میں بندگی جڑ دے
بجھا کے سارے چراغوں کو روشنی کر دے
بچے گا خاک کوئی لڑ کے اس کے لشکر سے
کہ جس کی فوج سے اصغر سا کھلبلی کر دے
ہوا جو مد مقابل ادب سے حر سا کوئی
مٹا کے پیاس دلوں میں وہ تشنگی بھر دے

ہابیل نقوی کے ایک اور سلام کے چند اشعار حسب ذیل ہیں
یوں نہ گر اجر رسالت کو بھلایا جاتا
سر امامت کا نہ نیزے پہ اٹھایا جاتا
تشنہ رہ جاتا نہ یوں پھر لب ساحل پر آب
پانی اک بار جو اصغر کو پلایا جاتا
کر دیا ٹکڑے ہی ٹکڑے وہ بدن اکبر کا
فرق احمد سے نہ تھا جس کا دلایا جاتا ہے

 

 

Read 31 times Last modified on الجمعة, 08 نومبر 2019 13:47

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31