الجمعة, 08 نومبر 2019 11:40



مجلس بصیرت

مجلس بصیرت کی ایک نشست کی روداد

مجلس بصیرت کی ایک نشست کی روداد
مجلس بصیرت کے نام سے علمی محافل کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے 12اکتوبر 2019 کو شعائر الٰہی کی حقیقت کے زیر عنوان ایک نشست اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ اس کے آغاز میں سید ثاقب اکبر نے موضوع کو متعارف کروانے کے لیے چند کلمات ادا کیے جن کے خلاصے سے قارئین کے لیے رپورٹ کا آغاز کیا جاتا ہے۔اس رپورٹ کو محترمہ عابدہ عباس نے سن کر لکھا ہے، ان کے شکریے کے ساتھ رپورٹ پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

سید ثاقب اکبر قرآن حکیم میں جن موضوعات کو بہت اہمیت دی گئی ہے ان میں سے ایک شعائر الٰہی کا موضوع ہے۔ اس سلسلے میں قرآن مجید میں چار آیات آئی ہیں جن میں شعائر اللہ کا کلمہ استعمال کیا گیا ہے۔ ان آیات میں سے بھی اس آیت ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّـهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ (الحج:۲۳) کی طرف علماءنے زیادہ توجہ کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہے کہ ہم شعائر اللہ کی تعظیم کریں نیز یہ کہ ان کی تعظیم کرنا قلوب کے تقویٰ کی علامت ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف پہلوﺅں سے گفتگو کی ہے۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ شعائر توقیفی ہیں اور صرف انہی امور یا چیزوں کو شعائر اللہ کہا جا سکتا ہے جن کی نشان دہی قرآن میں کی گئی ہے۔ ہماری رائے یہ ہے کہ وہ تو شعائر اللہ ہیں ہی لیکن شعائر اللہ کا مفہوم وسیع ہے۔ ایسی تمام چیزیں یا امور جو قوت سے خدا کی یاد دلاتے ہوں اور جن کا ذکر اور خیال آتے ہی انسان خدا کی طرف مائل اور متوجہ ہو جائے یا جو چیزیں بے ساختہ، خدا کی یاد دلاتی ہوں، شعائر اللہ ہیں۔ اس بحث کا ایک اور پہلو مغرب کی بے خدا تہذیب کے شعائر پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے، جب مغرب میں زندگی کے امور سے خدا کو بے دخل کر دیا گیا تو بہت سارے ایسے کاموں اور امور کو رواج دیا گیا کہ جنھیں اختیار کرنے سے خدا کی طرف انسان مائل نہیں ہوتا جبکہ خدا پرستی پر استوار تہذیب میں ایسی چیزوں کی نقالی نہیں کی جا سکتی۔ اس سلسلے میں اسلام بہت غنی اور بھرپور ہے۔ آج کی بحث میں ہم اِن تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور تمام احباب اس سلسلے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ مفتی امجد عباس مفسرین نے چند توجہیات بیان کی ہیں، بعض نے یوں مراد لیا ہے کہ اللہ کے شعائر کی تعظیم سے زیادہ اہمیت تقوی کی ہے قرآن نے بھی ایک جگہ کہا ہے کہ اللہ کو تمھارا قربانی کا گوشت نہیں پہنچتا وہ تقویٰ کو زیادہ پسند کرتا ہے تمھیں پرہیزگار ہونا چاہیے چنانچہ بعض مترجمین نے اس آیت کا ترجمہ یوں کرنے کی کوشش کی ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم بھی درست ہے لیکن اس کے ساتھ مربوط تقویٰ ہے اس کو اہمیت ہے بعض نے اس آیت کی وضاحت یوں بیان کی ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم وہی کر سکتا ہے جس کے اندر تقویٰ ہو، ہر وہ چیز جو اللہ کے قریب کردے، اس کی یاد دلائے اسے ‘‘شعائراللہ’’ کا نام دیا جاسکتا ہے حج کے ذیل میں یہ آیت بیان کی گئی ہے کہ صفاء و مروہ کو بھی اللہ کے شعائر میں سے قرار دیا گیا ہے قربانی کے جانور کو بھی شعائر میں سے قرار دیا گیا ہے ‘‘بُدنیٰ’’ کا ذکرکیا گیا ہے بعض مفسرین جن میں شیخ محسن نجفی بھی شامل ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی چیز کو شعائر میں قرار دینا اللہ کے اختیار میں ہے، اونٹنی کو بھی اللہ نے شعائر میں سے قرار دیا ہے ،اونٹنی کی قربانی کا جب یہودی مذاق اڑاتے تھے تو اس شبہ کے ازالے کے لیے قرآن نے یہ لفظ بیان کیا،،لفظ شعائر وسعت کا حامل ہے ہر وہ چیز ہر وہ عبادت کا طریقہ ہر وہ نشانی جو اللہ تعالی کی یاد دلائے اُسے شعائر اللہ کہا جاسکتا ہے اور دین کا تعلق دل سے ہے، احترام کا تعلق دل سے ہے اور جو بھی چیزیں، جو بھی ایام ہوں، جوبھی مقامات ہوں اللہ کی بندگی کا اعتراف کرواتے ہیں ان کو شعائر کہا گیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے اگر ہمارے دل میں احترام ہو اللہ کی بندگی کا اعتراف ہو وہ مناسک عبادات ہوں الہی احکامات ہوں جن کی ہم تعظیم کرتے ہیں پورا دین اس میں شامل ہو جائے گا جیسے نماز روزہ بھی شعائر اللہ میں سے ہیں۔ بعض چیزوں کو مسلمانوں کے شعار میں سے سمجھا جاتا ہے جیسے بہت سی چیزوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ فلاں مسلک کا شعار ہے تو آیا ان چیزوں کو بھی شعائر اللہ کہا جاسکتا ہے اس پہ گفتگو کی ضرورت ہے۔ لیکن بظاہر قرآن نے ان بنیادی چیزوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کی یاد دلاتی ہیں باقی جو ادیان ہیں ان کے جو اساسی مبادیات ہیں جیسے ایمان باللہ ہے اور آخرت پہ ایمان ہے ان کو شعائر اللہ کا نام دیا جاسکتا ہے پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل ہمارے ہاں جو شعائر اللہ کی اصطلاح ہےیہ باقی مذاہب میں یہودیت ،مسیحیت اور غیر الہامی مذاہب میں نظر نہیں آتی ،یہ امتیاز صرف قرآن کو حاصل ہے یہ قرآن اور اسلام کی صفت ہے کہ اس نے یہ اصطلاح بیان کی ہے قرآن نے یہ اصطلاح چار آیات میں بیان کی ہے اسے سورہ بقرہ کی آیت ۱۵۸ میں بیان کیا گیا ہے ،اس کے بعد سورہ مائدہ کی دوسری آیت میں یہ کلمہ استعمال ہوا، اس کے علاوہ سورہ حج میں دو جگہ استعمال ہوا ہے لفظ شعائر اللہ، سورہ حج کی دو آیات میں استعمال ہوا ہے ،اس کا مادہ ش،ع،ر ہے یہ جو شعائر اللہ ہے یہ عربی زبان کا مرکب اضافی ہے گویا یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی تخلیق جس کی تفصیل جس کی تجویز جس کا نفاذ اللہ تعالی کی طرف سےہے اور اللہ کے لیے ہے اور بندوں کی بہبو د کے لیے ہے اگر ہم شعائر اللہ کا نفاذ کریں گے تو اللہ کی اطاعت بھی ہو گی اور بندوں کی بہبود بھی ہو گی یہ شعائر اللہ کا جو نظام ہے یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے تمام پہلووں کا احاطہ کرتا ہے یہ جو چاروں آیات ہیں سب حج اور عمرے سے متعلق ہیں یعنی جب اللہ کے گھر آپ داخل ہوتے ہیں اس کے لیے کچھ لوازمات اور مناسک کا ذکر کیا گیا ہے اور تین آیات کا تعلق براہ راست قربانی سے ہے اور ایک آیت سعی سے متعلق ہے حج ایک مکمل ترین عبادت ہے نہ صرف مکمل ترین عبادت ہے بلکہ حج کی عبادت حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی بھی اپنے اندر ضمانت رکھتی ہے حج میں نماز کا بھی ذکر موجود ہے روزے کا ذکر بھی موجود ہے، مال خرچ کرنے کا ذکر بھی موجود ہے ،اسلام میں جو عبادات ہیں یا تو وہ بدنی ہیں یامالی ہیں یا دونوں چیزیں بدنی بھی ہیں اور مالی بھی ہیں یہ صرف حج ہے جو نہ صرف مکمل عبادت ہے بلکہ مالی پہلو بھی رکھتا ہے۔ قرآن نے جو اصطلاح بتائی ہے کہ آپ اس میں سے خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں اور یہ بھی کہا ہے کہ قربانی کا گوشت آپ سے جو مانگنے آتے ہیں ان کو بھی دیں اور جو نہیں مانگنے آتے ان کو بھی دیں تو اس میں حقوق العباد کا پہلو بڑے وسیع پیمانے پر شامل ہے ہم اسے حج کی قربانی یا گوشت تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ ہماری زندگیوں میں جو لوگ ہم سےمطالبہ کرتے ہیں سوال کرتے ہیں تو ان سب کی کفالت شعائر اللہ کے حوالے سے کرنا ہو گی۔ جب ہم لفظ شعائر اللہ کہتے ہیں تو اس میں خوبی یہ ہے کہ سورہ مائدہ کی دوسری آیت میں قرآن نے، یبتغون من فضل اللہ کی بات ہے کہ جب آپ شعائر اللہ پر عمل کریں تو اللہ کی رضا اور خوشنودی اس میں تلاش کریں اس میں شعائراللہ کا مفہوم یہ بھی ہے کہ آپ جب بھی اس آیت کے اس حصے پر عمل کر رہے ہوں تو کوئی اپنی ذاتی غرض،کوئی منصب کی تلاش، کوئی رتبے کی حاجت اس میں شامل نہیں ہونی چاہیے۔ یہ محض اللہ کی رضا کے لیے ہو گا۔ اللہ کی رضا کے ساتھ یہ اصطلاح حقوق العباد کے لیے بھی ضمانت فراہم کرتی ہے اس لیے یہ حقوق العباد کو بھی شامل ہے۔ قرطبی نے ،طبری نے اور دیگر مفسرین نے شعائر کو شعیرۃ کی جمع کبیرۃ کے وزن پہ قرار دے کر اس کا معنی آیت یا نشانی یا علامت بیان کیا ہے۔ آیت کا مفہوم قرآن میں وسیع تر موجود ہے اوراس آیت کےمفہوم کے بہت سارے پہلو ہیں۔ سورہ روم کی سات آٹھ آیات و من آیاتہ سے شروع ہوتی ہیں۔ سورہ آل عمران ہو یا سورہ توبہ کو دیکھیے ان میں کسی نا کسی حوالے سے آیات اللہ کا ذکر موجود ہے لیکن جو سورہ حم سجدہ کی آخری سے پہلی آیت ہے یہ آیت اس کے ساتھ زیادہ مربوط ہوتی ہے اور اپنا ربط و ضبط قائم کرتی ہے تو اگر اس سے مراد وہ آیات ہیں بقول قرطبی کے جو حق و باطل میں تمیز کرنے کے لیے ہماری رہنمائی کرتی ہیں تو پھر ہمیں اس سے مراد یہ ضرور لینا ہے کہ اس شعائر اللہ سے اللہ تعالی کی وہ نشانیاں وہ آیات وہ علامتیں مراد ہیں جو حق و باطل میں فرق کر کے ہمیں حق کا راستہ دکھاتی ہیں اور باطل سے بچنے کی تمیز عطا کرتی ہیں سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ یہ بھی اسی طرف ایک رہنمائی ہے کہ جب ہم شعائر اللہ پر عمل کریں گے تو پھر ہم اپنی ذات میں، انفس اور آفاق دونوں میں غور کریں گے پھر دونوں میں ہر طرف ہمیں تو ہی تو نظر آئے گا تو شعائر اللہ کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی کائنات میں ہمیں میسر ہے وہ سب اللہ تعالی کا عطا کردہ ہے اس کو استعمال کرنا، اس سے استفادہ کرنا اور دوسرے انسانوں کے لیے اس کو مفید بنانا یہ اللہ کی رضا ہے اور اللہ کا ہی عطا کردہ ہے اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ بعض مفسرین نے بات کہنے کی کوشش کی ہے کہ اس سے محارم مراد ہیں یہ جو قرآن میں سورہ مائدہ کی دوسری آیت ہے اس آیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہا گیا ہے اس میں جو اللہ نے کہا ہے کہ اے ایمان والو، تم اللہ کے شعائر کو، قربانی کے جانوروں کو اور جن کو قربانی کی نشانی لگادی گئی ہے یا جو پر امن حالت میں بیت اللہ کی طرف سفر کر رہے ہیں ان کے لیے رکاوٹ کا باعث نہ بنو اس روک تھام کے لیے محارم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اگر ہم محارم کی بات کرتے ہیں اور شعائر اللہ سے محارم اللہ مراد لیتے ہیں یعنی جو چیزیں اللہ تعالی نے ہمیں منع کر رکھی ہیں کہ نہ کریں اور کچھ چیزوں کے کرنے کا کہا ہے تو حلت و حرمت یعنی حلال اور حرام کا جو نظام موجود ہے وہ پھر اس شعائر اللہ سے ابھر کر ہمارے سامنے آئے گا۔ شعائر اللہ ایک وسیع تر اصطلاح ہے اور اس اصلاح میں ہمارا وہ روحانی نظام، دینی نظام یا دینی ضابطہ حیات کے مختلف نظام جسے ہم سیاسی، معاشی، معاشرتی، اخلاقی نظام کہتے ہیں، یہ سارے نظام اس کا حصہ ہیں۔ اس مرکب اضافی کی نسبت اللہ کی طرف ہے اور جو انسان نہیں جانتا تھا اس کا علم بھی اللہ نے ہی سکھایا ہے اسی لیے شعائر اللہ کو ہمیں وسیع تر تناظر میں دیکھنا ہوگا اور وسیع تر تناظر میں رکھتے ہوئے بھی چند اصولوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا کہ جو اللہ کا قانون ہے اس میں ہم نے کسی مخلوق کو برتری عطا نہیں کرنی اسی طرح ہم نے یہ بات بھی دیکھنی ہے کہ ہمارے جو دینی احکام ہیں ان میں کسی حکم پر منفی اثرات یا رد یا زد نہ پڑتی ہو۔ ایک بات ہم نے یہ دیکھنی ہے کہ جو بھی نیا قاعدہ، نیا اصول، نئی شعیرہ، یا نئی علامت یا نئی چیز تلاش کریں گے وہ کسی بھی طرح انسانی مفاد کے خلاف نہ جائے بلکہ انسانی مفاد کے حق میں ہو۔ میں اس اصطلاح کے بارے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ شعائر اللہ ایک وسیع تر اصطلاح ہے۔ حافظ طاہر اسلام عسکری سب سے پہلی بات یہ کہ قرآن مجید کی جو بھی اصطلاح ہے یا جو لفظ ہے اس کے اندراصولی طور پر یہ ہونا چاہیے یا جو تفسیر قرآن کے ضوابط میں شامل ہے کہ ایک لفظ اگر الگ استعمال ہوا ہے تو اس کی امتیازی حیثیت کو سامنے لانا چاہیے۔ لفظ شعائر کی الگ امتیازی حیثیت ہے اس کو اجاگر کرنا چاہیے یہاں خاص طور پر اس کا معنی ابتدائی اصلی اور حقیقی ہوتا ہے، ایک معنی اس کا توسیعی، اضافی ہوتا ہے لیکن اس کا بنیادی اور اصطلاحی معنی نمایاں ہونا ہے اللہ کے وہ بنیادی معالم، نشانات اس سے مراد ہیں۔ قرآن کا یہ بھی ایک امتیاز ہے کہ بعض آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ مناسک حج اس کے اولین مصداق ہیں۔ ان کے اندر ظاہری علامات ملتی ہیں جیسے اونٹ کی قربانی کے بارے میں قرآن میں ذکر کیا گیا ہے اس جانور کا جو خون بہایا جائے گا وہ اللہ کے نام پر بہایا جائے گا اس میں بھی نشانی اور علامت موجود ہے اگر اس کو ہم پھیلائیں تو اس کی گنجائش موجود ہے لیکن اس پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے کہ جس میں اسلام کی شناخت کا تصور ابھرے ہر وہ چیز اس میں شامل ہے لیکن وہ چیز جس کوانسان دیکھے تو کہےکہ یہ اسلام میں سے ہے یہ شعائر اللہ میں سے ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں جو علماء نے بیان کی ہیں ایک جس کا تعلق مکان سے ہے ایک جس کا تعلق زمان سے ہے اور یہ جو مساجد ہیں ان کا تعلق مکان سے ہے کیوں کہ مساجد میں اللہ تعالی کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس کی دی گئی تعلیمات کے مطابق اس کی پرستش کی جاتی ہے اس کے بعد اذان بھی شعائر اللہ میں شامل ہوتی ہے اس لیے مساجد کو شعائر اللہ میں سے قرار دیا گیا ہے ہمارے ہاں تفرقہ، فرقہ واریت، اور مکاتب کا اختلاف شدید ہے۔ شیعہ، سنی اختلاف کی شدت پائی جاتی ہے۔ مفتی رشید احمد گنگوہی اور اشرف علی تھانوی کا ایک واقعہ ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ ایک علاقے میں شیعہ مسلمان رہتے ہیں اور وہ تعزیہ نکالتے ہیں اور ہندو ان کو روکتے ہیں تو آپ بتائیں کہ یہ ٹھیک ہے؟ انھوں نے کہا کہ نہیں وہاں ہندوؤں سے جنگ کرنی چاہیےہے کیوں کہ اس علاقے کے اندر مسلمانوں کی علامت ہی یہی ہے۔ وہ بطور مسلمان یہ کام کرتے ہیں اور ہندو بھی اس لیے روکتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا کوئی کام ہے۔ اب ظاہر ہے یہاں فرقہ پیچھے چلا جاتا ہے اسی طرح یورپ میں جو حجاب پر پابندی لگائی جاتی ہے تو حجاب پر پابندی لگانا شعائر اللہ پر پابندی لگانا ہے کیوں کہ حجاب ہمارے دین اور اسلام کی علامت ہے۔ اسی تناظر میں مسجد کے میناروں پر پابندی یہ کوئی فرض واجب یہاں تک کے مستحب بھی نہیں ہے۔ نبی کریمؐ کے زمانے میں کوئی مینار تو نہیں تھا مسجد میں، لیکن ذکر آتا ہے حدیث میں جیسا کہ حضرت عیسیؑ کے نزول کے بارے میں آپؐ نے فرمایا کہ وہ جو مینار ہو گا دمشق کی مسجد کا وہاں پہ نزول ہو گا تو آج اگر سوئیٹزرلینڈ کی مسجد کے میناروں پر پابندی لگتی ہے تو یہ شعائر اسلامی پر پابندی ہے۔ آج اگر حجاب کرنے پر جرمانہ لگایا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کا شعائر اللہ پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اسی طرح داڑھی کا مسئلہ ہے جیسا کہ چین کے اندر مسلمانوں پر اس حوالے سے سختی کی جاتی ہے، اس لحاظ سے داڑھی بھی شعائر اسلام میں سے ہے۔ یہ سب اسلام کی علامتیں ہیں، جہاد بھی شعائر اسلام میں سے ہے۔ یہ وہ مکانی یا جسمانی یا محسوس نشانیاں ہیں دوسرے جو ہمارے زمانی شعائر ہیں ان میں سب سے بڑا شعار رمضان ہے۔ رمضان کا جب مہینہ آتا ہے تو پوری دنیا میں مسلمان صبح سے شام تک بھوکے پیاسے رہتے ہیں یہ ایک علامت ہے ہمارے دین کی۔ اس کا تعلق زمانے کے ساتھ ہے یہ ایک خاص علامت ہے ہمارے دین کی۔ اسی طرح حج ہے وہ ساری علامتیں جن سے دین کا تعارف ہوتا ہے وہ ساری شعائر اسلامی ہیں۔ وہ محسوس چیزیں جن کا تذکرہ کیا گیا ہے یا جن سے اسلام کی علامات کا اظہار ہو شعائر اسلامی کا پتا چلے۔ علامہ سید امتیاز رضوی پہلی چیز یہ کہ قرآن مجید کا جو اسلوب ہے، جو پیغام ہے وہ اپنے آپ کو دین ابراہیمؑ سے جوڑنے کا ہے بلکہ سارے انبیاء سے جوڑتا ہے خصوصاًحضرت ابراہیمؑ سےجو کہ توحید کے علمبردار ہیں ان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میری نظر میں قرآن حکیم میں جو شعائر اللہ کی اصطلاح ہے اور حج کا تذکرہ ہے اصل میں حج خود دین ابراہیمؑ سے انسان کو جوڑتا ہے۔ اصل میں اسلام کا جو پیغام ہے وہ (کفر و شرک کی) آلودگیوں سے صاف کرنا اور جو اصل دین اور (توحید کی دعوت دینا ہے) جو سب انبیاء کا بھی اصل دین ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب اس طرح کی تحریک اٹھتی ہے تو اس میں افراط و تفریط کی بہت زیادہ گنجائش رہتی ہے۔ لوگ ایک طرف سے اپنے آپ کو ٹھیک کرتے ہیں تو دوسری خرابی میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو اس تناظر میں بھی یہ ملحوظ ہونا چاہیے جب دین اسلام کا پیغام آیا تو ہر چیز سے خود کو قطع تعلق کر لینا کیوں کہ حج پہلے بھی تھا قربانی پہلے بھی تھی صفاء و مروہ کی سعی پہلے بھی تھی طواف پہلے بھی تھا۔ تفاسیر کی کتب میں مذکور ہے کہ بعض لوگوں نے بالکل چھوڑ دیا تھا قربانی کا احترام کرنا اور قربانی کو وقت سے پہلے ہی راستے میں ہی کھا جاتے تھے اور بعض لوگ اتنا احترام کرتے تھے کہ نہ اس جانور پر بیٹھتے تھے نہ اس پہ سواری کرتے تھے نہ اس کا دودھ دوہتے تھے نہ پیتے تھے لہذا اس میں اعتدال کا راستہ بھی ہونا چاہیے یہ جو لفظ شعائر اللہ ہے اللہ کی یاد دلاتا ہے ایسی چیزیں جو خدا کی یاد دلاتی ہیں اور توحید کے خلاف نہیں ہیں پہلے گفتگو ہو چکی ہے کہ ہر وہ چیز جو خد کی یاد دلائے اور خدا سے جوڑے رکھے اس کو شعائر اللہ میں سے قرار دیا گیا ہے لیکن میں ایک نکتبہ بتانا چاہوں گا کہ شعائر اللہ کو کسی اور اضافت کے ساتھ بھی نہ جوڑا جائے اس کو شعائر اسلام بھی نہ کہا جائے یعنی جو ادیان گزشتہ رہے ہیں یا افراد گزرے ہیں ان میں یہ آلودگیاں آئی ہی اسی وجہ سے ہیں۔ جب اور بڑھ گئی تو پھر نبی کو آنا پڑا اور ان مسائل کو درست کرنا پڑا لہذا اگر شعائر اللہ کے علاوہ شعائر اہل سنت، شعائر اسلام، شعائراہل تشیع کو لایا جائے تو اس میں پھر بہت زیادہ افراط و تفریط پیدا ہو جاتا ہے۔ معیار وہی رکھنا چاہیے جو اصل معیار ہے کہ جو چیز ہمیں اللہ کی یاد دلائے اور توحید سے جوڑے رکھے۔ یہ جو تقویٰ قلوب کی بات آئی ہے کیوں کہ اصل میں اس کا تعلق انسان کے دل سے ہے البتہ ظواہر کی بھی اہمیت ہے دین میں عرف کی بہت اہمیت ہے اگر عرف یہ سمجھے کہ یہ مسجد خدا کی علامت ہے اور اس سے اللہ کی یاد نہیں آتی بلکہ اپنے مسلک کی یا دآتی ہے مثلا اپنے ملک کی یاد آتی ہے تو اس کو بھی شعائراللہ کہنا درست نہیں ہے۔ چاہے مسجد ہی کیوں نہ ہو اسی طرح اگر کسی پرچم سے شعائر اللہ کی یاد آتی ہے تو اس کو شعائراللہ کہا جا سکتا ہے اگر پرچم سے بھی شعار اللہ کی یاد نہیں آتی تو اس کو بھی شعائراللہ میں سے قرار دینا درست نہیں ہے۔ اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ علامہ سید نعیم الحسن نقوی شعائر اللہ کو اتنی وسعت نہ دیں کہ خود شعائراللہ اور آیات الٰہی میں خلط واقع ہو جائے کیوں کہ جیسا کہ سابقہ گفتگو میں وسعت کی وضاحت کی گئی ہے مثلاً شعائر حسینی وغیرہ، جب تک ان شعائر کے معانی نہیں سمجھے جاتے، ان کی روح کو نہیں سمجھا جاتا تو جھگڑے رہتے ہیں۔ تو وہ لوگ جو زیادہ روشن فکر ہو جاتے ہیں اس روشن فکری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ظواہر کا بھی انکار کر دیتے ہیں۔ اگر ہم طواف کو دیکھیں تو ایک ہندو کا کہنا کہ اگر ہم کالی دیوی کی پوجا کریں تو یہ شرک ہو گیا اور اگر تم حجر اسود کو چومو تو یہ عبادت میں شمار ہو گا تو یہاں پر پتھر کو جو چومنے کا کہا گیا ہے وہ اور رمی جمرات یہ سب خدا کے حکم سے ہے جب تک ان کے معانی نہیں سمجھے جاتے تب تک خدا تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے اس طرح مناسک حج شعائراللہ میں سے ہیں تو کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان حج کر کے واپس آئے تو اسی مشرکانہ فکر کے ساتحھ اور خدا سے دوری کیساتھ ہو۔ آپ اگر حج پر گئے ہیں اور اس کی روح کو جانتے ہیں تو طواف کی روح کو بتایا گیا ہے کہ تمھاری تمام تر فعالیت، یہ سات چکر عبادت اس میں تمام مرکز ومحور صرف اللہ کی ذات ہو۔ سعی صفاء و مروہ تمھاری ساری دوڑ دھوپ اللہ کے لیے ہو۔ جب تک روح کو نہ سمجھا جائے اور وہ مقام جہاں پہ اتحاد اور وحد ت ہونا تھا وہاں انسان گئے اور شعائر الٰہی کو سمجھے بغیر ایک ظاہری عمل انجام دیا اسی مشرکانہ فکر کو لیے واپس آگئے، یوں دین ابراہیمؑ کی پیروی نہ کی۔ اگر مقام ابراہیمؑ پر نماز پڑھی تو توحید پرست ہونا چاہیے تھا۔ جب تک انسان کے اندر طہارت نہ ہو تو انسان شعائر اللہ تک نہں پہنچ سکتا یعنی تو حید پرست نہیں بن سکتا جب تک شعائر اللہ تک نہیں پہنچیں گے تب تک وحدت تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ علامہ سید سبطین شیرازی یہ شعائر اللہ اس مرکز کی طرف دعوت ہے ان سب کی بازگشت اللہ تعالی کی طرف ہے اب مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں نے شعائر اللہ کو تو لے لیا لیکن اس کی روح سے غافل ہوگئے ظواہر کو لے لیا گیا لیکن اس کی جو اصل اصطلاح تھی اس کو چھوڑ دیا گیا اگر کوئی چیز اللہ کی ذات اور اس کی وحدانیت کے لیے دلیل بن جاتی ہے تو اس کو شعائر اللہ کا نام دیا جاتا ہے جیسا کہ رمضان کا زکر بھی کیا گیا ہے کہ یہ شعائر الٰہی میں سے ہے تو اس طرح ہم شعائر حسینی سے بھی روگردانی نہیں کر سکتے اگر صفاء و مروہ میں سعی ہوئی ہے تو کربلا میں بھی سعی ہوئی ہے ان سب کو مسلکوں سے بالا تر ہو کر سمجھنا ہے۔ سب چیزوں کی بازگشت توحید کی طرف ہونی چاہیے تاکہ انسان کا رشتہ و ناتہ اللہ سے برقرار رہے۔ علامہ سید حسنین گردیزی شعائر اللہ کے معنیٰ کو بہت وسعت دی گئی ہے۔ اس چیز کو دیکھنا ہے کہ ایک چیز کو شعائر اللہ میں کیسے قرار دیا دیا گیا ہے مثلاً صفاء و مروہ دو پہاڑیاں ہیں کس وجہ سے وہ شعائر اللہ میں سے قرار پائیں۔ قربانی ایک عام جانور کی ہوتی ہے لیکن کیا وجہ بنی کہ وہ شعائر اللہ میں سے بن گیا؟ اسی طرح اذان بھی جس کو شعائر اسلام میں سے کہا گیا ہے کیوں کہ اذان بھی وحی الٰہی سے ہے اس کا آغاز بھی خدا سے ہے اور انجام بھی خدا سے ہے۔ سب سے اہم ترین بات اس موضوع کے حوالے سے کہ جب اللہ کسی چیز کی طرف ترغیب دلاتا ہے یا تو امر ہوتا ہے یا نہی ہوتی ہے۔ آیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک طرف لاتحلوا کی بات آئی ہے یعنی نہیں کی گئی ہے دوسری طرف امر کی بات ہے کہ آیت کے پیش نظر شعائر اللہ کی تعظیم کرنے اور بجا لانے کا کہا گیا ہے یعنی شعائراللہ کا احترام کرنے کا کہا گیا۔ ممکن ہے ایک چیز شعائراللہ میں سے ہو لیکن ہمیں اس کا شعائراللہ میں سے ہونا معلوم نہ ہو اور ہم اس کی بے احترامی کر رہے ہو تو یہ خدا اور قرآن کے حکم کی مخالفت میں شمار ہوتا ہے۔ صفاء و مروہ کی جو اصل روح اور قربانی کی جو اصل روح ہے اس کو سمجھنا چاہیے۔ کربلا میں بھی امام حسینؑ کی قربانی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امام حسین نے بھی قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ خدا کی ذات موجود ہے تو یہ عظیم قربانی اسی عظمت کی وجہ سے شعائر اللہ قرار پائے گی۔ کربلا توحید کی تجلی گاہ ہے کربلا میں توحید جلوہ گر نظر آتی ہے اور لاکھوں زائرین بھی جب کربلا جاتے ہیں تو وہ بھی سب خدا کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں اورخدا کی یاد سے اپنے آپ کو جوڑتے ہیں۔ امام حسینؑ کے آخری سجدے کے دوران جو خدا سے گفتگو ہے کہ اے خدا میں نے تمام مخلوقات کو چھوڑ دیا تیری خاطر اور اپنے بچوں کو تیری توحید پہ قربان کر دیا تاکہ میں تیرا دیدار کر سکوں یہ جو توحید کی منزل ہے اور عرفان کی منزل ہے یہ اور کہیں نظر نہیں آتی جو ہمیں کربلا میں نظر آتی ہے۔ اگر ایک عام جانور کو شعائر الٰہی میں سے کہا گیا ہے تو جس نے اتنی بڑی قربانی دی ہے، توحید کو بچایا ہے اس کو شعائر الٰہی میں سے کیوں نہیں کہا جاسکتا؟ جس طرح اس جانور کی تعظیم کا ذکر ہے اسی طرح اس شعائراللہ کی تعظیم کرنے کا بھی کہا گیا ہے خانہ کعبہ اور باقی جگہوں کے علاوہ کربلا بھی جہاں اللہ کی بہت زیادہ عبادت ہوتی ہے بہت ہی عظیم شعائر اللہ میں سے ہے۔ حافظ طاہر اسلام عسکری وہ چیزیں جو انسان کو کسی بھی ذریعے سے اللہ کی طرف توجہ دلاتی ہیں اور اللہ سے جوڑتی ہے انھیں شعائر اللہ کہا جاتا ہے تو اس میں سب سے پہلے انبیاء اور اللہ کی نازل کردہ کتا بیں کو شامل کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ انسان کی جو فطرت ہے وہ بھی اسی زمرے میں آتی ہے اسی تناظر میں اللہ کا گھر خانہ کعبہ ،رسولؐ کا روضہ اور بیت المقدس کا تحفظ بھی شعائراللہ میں شامل ہے اسی طرح باقی تمام مقامات مقدسہ بھی شعائر اللہ میں سے ہیں ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ شعائر اللہ توقیفی ہیں اور ان کو توقیفی ہی رکھنا بہتر ہے۔ شعائر اسلام کے ذیل میں جو بحث ہے اس پہ گفتگو کرنی چاہیے اگر ہم قرآن کی فکر کی روشنی میں دیکھیں تو محسوس چیزوں کی بھی بہت اہمیت ہے حضرت موسیؑ چالیس دن کے لیے طور پہ گئے لوگ کہتے تھے ہمیں کوئی ایسا خدا لا کر دیں جس کی ہم پرستش کریں پھر ان کے لیے بچھڑا بنا دیا گیا اور انہوں نے جب دیکھا تو فوراً گمراہ ہو کر اس کی پوجا کرنے لگے اگر غور کیا جائے تو محسوس چیزوں کی طرف رجوع ہماری فطرت میں شامل ہے اور اسلام بھی فطرت کے خلاف مذہب نہیں ہے۔ ایک حدیث ہے کہ دین اسوقت تک قائم رہے گا جب تک کعبہ قائم ہےآپ نے کعبہ کو علامات دین میں سے پیش کیا اس لحاظ سے اگر اس فکر کو ہم تھوڑا سا آگے بڑھا کردیکھیں تو یہ محسوس چیزیں انسان کو مذہب کے ساتھ جوڑنے کے لیے بہت موثر ہوتی ہیں لیکن اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اللہ نے جو محسوس چیزوں کو شعائر اللہ کے ساتھ جوڑا ہے اس کی حکمت کو سمجھنا چاہیے لیکن ذریعہ درست ہونا چاہیے غلط ذریعہ نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ غلط ذریعے کو پیش کر کے کہیں کہ یہ بھی اللہ کی طرف لے کر جارہا ہے وہ ذریعہ استعمال کرنا چاہیے جو شریعت میں جائز ہو شعائر امام حسینؑ کے ضمن میں ایک بات یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر محرم اور امام حسینؑ کا ذکر لوگوں کو دین اور خدا سے جوڑے تو یہ بھی شعائر الٰہی کا بہت ہی موثر ذریعہ ہے ۔ علامہ محمد تہامی بشرعلوی شعائر اللہ کی گفتگو کے ضمن میں دو تناظر سامنے آتے ہیں ایک داخلی تناظر ہے ہے مثلاً نماز اسلام کا شعار بن سکتی ہےیا نہیں ، اس پہ شاید پوری امت کا اجماع ہو اتفاق ہو اور ایک خارجی تناظر ہے مثلاً آیا تعزیہ وغیرہ اسلام کا شعار بن سکتا ہے یا نہیں اس پہ شاید سب کا اجماع نہ ہو، اختلاف بھی ہو۔ ایک اور نکتہ کہ شعائر آیا پہلے سے موجود ہیں؟ یا انھیں دریافت کرنا ہے؟ اگر ہم اس کی تعیین کی کوشش کریں تو پھر اس کا معیار کیا ہو گا؟ آیا اس کی تعیین شریعت کی نصوص کی روشنی میں ہو گی یا اس کی تعیین علت کے حصول سے جوڑی جائے گی یا عرفی تعیین سے مدد لی جائے گی؟ جیسے مسجد ہے اس کونصوص میں ہم دیکھیں تو اس طرح کی مسجد ہمیں نہیں ملے گی لیکن عرف میں ایک علامت بن گئی ہے اس کا دائرہ کیا ہوگا کہ عرف میں ایک چیز اگر دین کی علامت بن جائے تو آیا وہ قابل قبول ہو گی یا نہیں؟ دوسری بات داڑھی اور حجاب کی ہے اگر ہم مسلکی شعائر کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچیں کہ ان میں شعائر کی اصل وجہ کیا ہے؟ اس میں انسان کا اپنا کردار بھی شامل ہے اور حقوق العباد بھی شامل ہیں کہ اللہ کی خلق کردہ مخلوق کے ساتھ اچھا برتائو بھی شعائراللہ میں سے قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ بھی شعائر الٰہی کا عظیم عنصر ہے ۔ مفتی رفیع اللہ قریشی شعائر میں سے وہ چیزیں ہیں جو عبارت النص ہیں جن پر کسی کو کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے نہ ہی ان پر اختلاف کی کوئی گنجائش ہے جیسے قربانی ہے اور حج کا معاملہ ہے جس کو اللہ نے خود شعائر اللہ کہہ دیا ہے۔ کچھ چیزیں جن کو ہم عبارت النص کے ساتھ تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ شعائر الہی میں سے ہیں لیکن دلالت النص کے ساتھ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ شعائر الٰہی میں سے ہیں جیسے کہ ارکان اسلام ہیں فطرت الہی ہے ان تمام چیزوں کاشمار بھی دلالت النص کی رو سے شعائر الہی میں شمار ہوتا ہے تیسری وہ چیزیں ہیں جو نہ تو عبارت النص سے ہیں نہ ہی دلالت النص سے ہیں ان کو عرفی کہا جا سکتا ہے یا مسلکی کہہ لیں یا تعصبی کہہ لیں ۔ پھر ان میں بھی ہمیں غور کرنا چاہیے کہ جو چیزیں جو ظنی ہیں یا تعصبی ہیں ان پہ غور وفکر کرنا چاہیے کچھ چیزیں جو عرفی ہیں وہ درست ہیں لیکن کچھ تعصبی اور ظنی چیزوں کو شعائر میں سے قرار دینا یہ درست نہیں ہے ان تعصبی چیزوں کو اسلام کے ساتھ جوڑنا بالکل درست نہیں ہے اور وہ چیزیں جن کی وجہ سے تعصب پھیلتا ہے اگرچہ وہ درست ہوں پھر بھی انھیں روکنا چاہیے جن کی وجہ سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہو ۔ علامہ سید اسجد منیر کاظمی شعائراللہ کا لفظ بہت ہی وسیع ترین لفظ ہے اور تفاسیر کی دنیا میں اس کے چالیس معانی ذکر کیے گئے ہیں اس کی سب سے اہم ترین تعریف جو مولانا فراہی نے اپنی کتاب میں کی ہےہر وہ چیز جو بھگوڑے انسان کوخالق سے ملا دے اس کو شعائر اللہ میں سے کہا جاتا ہے۔ آج کی دنیا میں اگر دین میں بہت ساری بدعات کو داخل کیا جا رہا ہے تو یہ شعائراللہ کی تو ہین ہے اور اس کو اس کے حقیقی منصب سے توڑ دیا جائے گا تو اس طرح اسلام کے اندر نئی بدعات کا دروازہ کھل جائے گا۔ اسلام کے بٹنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دین متین کے جو شعائر الٰہی ہیں ان کو سب نے اپنے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے جو الہی دین ہے سب اس کو اپنی مرضی سے ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ المیزان میں حضرت امام محمد باقرؑ سے نقل کیا گیا قول ہے کہ شعائراللہ وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے واجب کردہ ہے۔ یہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے بالکل متعین ہیں ان میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے چار بڑے شعائر کا ذکر کیا ہے سب سے پہلے انبیاء کی ذات کو انھوں نے شعائر الہی قرار دیا ہے، قرآن مجید فرقان حمید کو شعائر قرار دیا ہے، صفاء و مروہ کو شعائر قرار دیا ہے، بُدنیٰ کو شعائر قرار دیا ہے حج کو شعائر قرار دیا ہے۔ تفسیر عزیزی کے مصنف شاہ عبد العزیز دہلویؒ نے اس کی اٹھارہ قسمیں بیان فرمائی ہیں لیکن مختصر سی بات کہ شعائر اللہ وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے واجب قرار دئیے ہیں کوئی انسان ان میں اپنی مسلکی اور تفرقے والی چیز شامل نہیں کر سکتا اگر ایسا کیا جائے گا تو نئے دروازے کھلیں گے نئی خرافات اور بدعات آئیں گی جن کی روک تھام بہت مشکل ہو جائے گی جناب شہباز علی عباسی وہ ظاہری اور محسوس امور جن کی وجہ سے یا جن اشیاء کی وجہ سے خالصتاً ہمارا دھیان اللہ رب العزت کی طرف جائے انھیں شعائر الہی میں سے کہا گہا ہے۔ ایک اہم نکتہ کہ حق اور باطل کے درمیان شعائراللہ کا نزول ہوا ہے جو چار آیات ہیں ان کو اگر دیکھا جائے تو یہ بت پرستی سے روکنے کے لیے نازل ہوئی ہیں یعنی باطل کی مخالفت کے لیے شعائراللہ نازل ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو دین ابراہیمؑ کے پیروکار خود حج بھی کرر ہے تھے اور قربانی کے جانور بھی خرید رہے تھے۔ نیز طواف بھی کر رہے تھے لیکن مسلمانوں کو منع کیا گیا کہ جب یہ حج کر نے کے لیے آئیں تو ان کو کسی کام سے روکنا نہیں ہے اصولی طور پر ان احکام میں کیا چیزیں پنہاں جن کی طرف ہماری توجہ جانی چاہیے ہم افراط اور تفریط کا کیوں شکار رہے ہیں کیا وجہ ہے کہ ہم شعائر اللہ سے نکل کر شعائر مسلک کے سامنے آجاتے ہیں کیا وجہ ہے کہ ہمیں اس بات کا سہارا لینا پڑتا ہے کہ یہ فلاں مسلک کی دلیل ہے یہ ہمارے مسلک کا شعار ہے یہ آپ کے مسلک کا شعار ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ شعائر اللہ توقیفی ہیں کم از کم تینتیس مفسرین نے کہا ہے کہ شعائراللہ توقیفی ہیں دوسری اصولی بات جو ہمیں مدنظر رکھنی ہے کہ شعائر اللہ کے اندر پنہاں کیا ہے؟کیا یہ ہمارے متقی اور پرہیزگار ہونے میں موثر کردار ادا کرتی ہیں یا نہیں؟ آخری بات یہ کہ وہ چیزیں جو ہمیں عبادت سے متمسک کریں اور ہمارے اندر خشیت الہی پیدا کریں وہ شعائراللہ کہلائیں گی وہ تاریخ جس کو دہرانے سے ہمارے نوجوان اسلام سے متمسک ہوتے ہیں اور ان کے اندر اسلام اور عبادت کا ذوق و شوق پیدا ہوتا ہے تو ان کو ہم شعائر الہی کہیں گے۔

Read 28 times Last modified on الجمعة, 08 نومبر 2019 12:18

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31