Print this page
منگل, 15 جنوری 2008 01:57



یہ بات درست ہے کہ سانحہ ٔپشاور کے سوا عشرۂ محرم مجموعی طور پرامن سے گزر گیا۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے دہشت گردی کی ممکنہ کارروائیوں کوروکنے کے لئے موثر انتظامات کیے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ سارے ملک میں سیکیورٹی کے انتظامات پر عوام کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ خوف ووحشت کی یہ فضا کب تک قائم رہے گی۔ پورے ملک میں لوگ اور انتظامیہ خوف زدہ کیوں ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ فوج اورپولیس اس ملک میں سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوگئی ہے۔ سچی بات ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے پولیس کے ان اہل کاروں کے لئے دل بے چین رہتا ہے جو امن وامان کی بحالی اور سیکیورٹی کی ذمہ داریوں پرمامور ہوتے ہیں۔اس راستے میں سینکڑوں اپنی جانوںکا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔معمولی سی تنخواہ، انتہائی کم وسائل اور دہشت گردوں کے مقابلے میں کم تر دفاعی سازوسامان کے ساتھ جب یہ جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھے چوراہوںاور چوکوں میں کھڑے اور چیکینگ کرتے نظر آتے ہیں تو دل ڈر جاتا ہے۔۔۔

کہیں کوئی دہشت گرد آکر انھیں خاک وخون میں نہ تڑپا جائے۔ عاشورۂ محرم پورے ملک میں ایسی ہی کیفیت میں گزرا۔ کہیں کوئی خود کش بمبار نہ آجائے، کہیں کوئی حملہ نہ ہوجائے۔ ہر آدمی کی تلاشی، مردوں کی چیکنگ،عورتوں کی تلاشی، بوڑھوں کی چیکنگ اوربچوں کی تلاشی پھر جلوس میں شمولیت۔جلوسوں اور عوام کی بھاری اکثریت کے مابین پولیس، اسکائوٹس، رینجرز، فوج اور رضا کاروں کی کئی دیواریں حائل تھیں۔ ایسے میں ہر جلوس کی انتظامیہ کے ذمے تھا کہ کسی طرح روٹ مکمل کرلے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے بہت سے چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں شیعہ و سنی دونوں مکاتب فکر کے لوگ امام حسین علیہ السلام کی جرأت وشہامت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ہر جگہ اس سلسلے میں اپنی اپنی روایتیں اور طریقے ہیں۔ جلوس بھی بہت سے مقامات پر مشترکہ کے علاوہ جدا جدا بھی نکلتے ہیں۔امام عالی مقامؑ سے محبت وعقیدت کا طرح طرح سے اظہار ہوتا ہے لیکن اس مرتبہ ہر کہیں خوف کا عالم تھا۔ یہ بات سوچنے سے تعلق رکھتی ہے کہ یہ کیفیت کیوں ہے اور کب تک ہم اس کیفیت میں مبتلا رہیں گے۔ وہ کون لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ امام عالی مقامؑ کی یاد منائی جائے۔ کون لوگ مذہبی آزادی کے دشمن ہیں اور وہ کون ہیں جنھوں نے وحشت کی یہ فضا ملک کے طول وعرض پرمسلط کر رکھی ہے۔
محرم الحرام کی عزاداری کے پروگراموں پر ہی کیا بس ہے سیاسی اجتماعات ،سیاسی ریلیاں اورجلوس بھی غیرمحفوظ ہیں۔ اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن ایک خود کش حملے کی نذر ہوچکی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سربراہ کی سیاسی ریلی پر قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اکابر حکومت سیاسی رہنمائوں کو بڑے اجتماعات منعقد کرنے سے بازرہنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ان کی تجویز ہے کہ انتخابات کے لئے کارنر میٹنگزمیں عوام سے رابطہ کریں۔ حکمرانوں کی سیکیورٹی کے لئے بھی غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں ۔یہاں تک کہ پولیس اور انتظامیہ کا ایک بہت بڑا حصہ سیکیورٹی کے انتظامات اوراہم شخصیات کے تحفظ پرمامورہوگیا ہے اورعوام کے مسائل ،ڈاکوئوں، چوروں اور لٹیروں سے لوگوں کی حفاظت کا کام ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہے اورملک کے طول وعرض میں جرائم میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ گھرمیں کوئی اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے نہ گھرکے باہر۔ ہر آدمی اس فکر میں ہے کہ اپنے جان ومال کی حفاظت کیسے کرے۔ اس کیفیت سے سمگلر اورسرمایہ دار لٹیرے اپنے انداز سے سوئے استفادہ کررہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چند ہزار پولیس کے اہل کاراورچند لاکھ فوجی جوان سترہ کروڑعوام میں سے ہرایک کی حفاظت کیلئے متعین کی جاسکتے ہیں؟ ایسے میں سرحدیں غیر محفوظ ہوگئیں تو ان کیا بنے گا۔ کیا اس کیفیت کا کوئی علاج بھی ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا علاج حسینیؑ اقدام میں مضمرہے۔ امام حسینؑ نے خوف کی فضا کو توڑ دیا۔ آپ نے لوگوں پر طاری وحشت کا خاتمہ کردیا۔ اہل بیت ؑکے اسیروں نے رسن بستہ حالت میںکوفہ وشام کے سفاک حاکموں کواس طرح سے للکارا کہ ایوان ستمگر لرز اٹھے۔ ہمیں اس خوف کی دیوار کو گرانا ہوگا۔سارے عوام کومل کر خوف کی دیوارکو گرانا ہوگا۔ ورنہ خوف کادیو اوروحشت کا بھوت ہمارے چوکوں اورچوراہوں، گلیوں اور محلوں،مارکیٹوں اور بازاروںبلکہ گھروں کے اندر اسی طرح دندناتا پھرے گا۔ سترہ کروڑ عوام کو تھوڑے سے نقاب پوش یرغمال بنا کر رکھ لیں تو حیف ہے۔ آئیں جرأت اور ہمت کے ساتھ نکل کھڑے ہوں۔ شہیدوں کی سردار کی یاد منائی جائے اور وہ بھی خوف کے زیر سایہ؟ بہادروں کا نام لیا جائے تووہ بھی کانپتے ہوئے؟ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ فوج ، پولیس،سیاستدان اور عام لوگوں کے درمیان ہم آہنگی اوراعتماد کا رشتہ موجود ہو ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ مقبول قیادت کو سامنے آنے کا موقع دیاجائے تاکہ عوام میں وہ اپنی جڑیں ہونے کی وجہ سے انھیں متحرک کرسکے۔
اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنے کام کی طرف توجہ دے۔ خاص طور پر فوج اور ایجنسیاں اپنے کام کی طرف توجہ دیں۔ اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہوں۔ اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ عدلیہ کو انصاف کی فراہم کا موقع دیا جائے۔ ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ منصب، اقتدار اور سرمائے کے حریص ہیں انھیںیہ تجاویز اچھی نہیں لگیں گی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ان حالات میں عوام کی لوٹ مارمیں سرگرم درندے راستے میں حائل ہونے کی کوشش کریں گے کیونکہ انھیں تو ایسی ہی فضاکھل کھیلنے کا موقع دیتی ہے۔ لہٰذا عوام کی پھر ذمہ داری ہے کہ وہ راستے میں حائل تمام وحشی بھوتوں کوہٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور کسی کو اپنی مرضی کی حکومت کی تشکیل کے حق پرڈاکہ ڈالنے کا موقع نہ دیں۔بیرونی عناصر کی مداخلت کے راستوں کو بند کردیں اور ان کے ایجنٹوں کے ہاتھ کاٹ دیں ۔ایک حقیقی آزاد، پرامن اورخوشحال ملک کی تعمیر کا عزم کریں۔ یہ عزم خوف کے ہوتے ہوئے قائم نہیں رہ سکتا۔ خوف کے خاتمے کے لئے سب مل کر ’’یاحسینؑ‘‘ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوں اور حسینؑ کی جرأت کا پرچم مل کر تھام لیں۔ یہی اللہ کی رسی ہے۔ اسی سے تمسک ہمیں عزت وافتخار سے ہم آہنگ کر سکتا ہے۔

Read 41 times Last modified on بدھ, 06 نومبر 2019 02:00