بدھ, 16 جنوری 2019 01:50



16جنوری 2018 کو یعنی آج سے ایک برس پہلے ایوان صدر میں ایک یادگار تقریب میں 1829 علماء اور دانشوروں کے دستخطوں کے ساتھ ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں میں دہشت گردی، انتہا پسندی ، تکفیریت اور خارجیت کی تمام شکلوں کومسترد کردیا گیا۔ اس فتویٰ کو پاکستان کے تمام اسلامی مسالک کے جید اور ذمہ دار علماء کی تائید حاصل ہے۔ دینی مدارس کی پانچوں تنظیموں کے سربراہوں کی تائید و امضاء نے اسے اور بھی معتبر کر دیا ہے۔ ہم نے گذشتہ برس اس پیغام کے سامنے آنے کے بعد یہ بات لکھی تھی کہ ’’پیغام پاکستان‘‘ کو یقینی طور پر قرارداد مقاصد کی عظیم الشان دستاویز کے بعد ایک بڑی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں قرارداد مقاصد کی ایک مرتبہ پھر تائید و توثیق ہی نہیں کی گئی بلکہ اس کی ضروری وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔ ہماری یہ بھی رائے ہے کہ اس سے پہلے اکتیس علماء کے بائیس نکات بھی تاریخ پاکستان میں اسلامی مسالک و مذاہب کے ا تحاد کی ایک اہم اساس، بیانیہ اور دستاویز کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ یقینی طور پر جب پاکستان میں دہشتگردی اور تکفیریت اپنے عروج پر تھی اور جب ایک گروہ کی طرف سے قرآن و سنت کی مختلف آیات وروایات کی۔۔۔

مختلف تفسیروں اور تعبیروں سے سوئے استفادہ کی وجہ سے معاشرہ فکری الجھنوں کے ساتھ ساتھ خوف و وحشت کے مہیب سایوں میں آچکا تھا، ضروری ہو گیا تھا کہ ایک مرتبہ پھر تمام دینی طبقات اور اہل دانش اس کے مقابلے میں اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کرنے کے لیے اکٹھے ہوں۔ پیغام پاکستان اس ضرورت کو ہی پورا نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ ریاست اور حکومت کا بھی پورے اعتماد کے ساتھ شریک ہوجانا، گذشتہ ایسی تمام کوششوں سے اسے وقیع تر بناتا ہے۔
علامہ اقبال نے اجتہاد کے بارے میں اپنے شہرۂ آفاق خطبے میں اجماع کی عصری شکل پر بات کی ہے۔ ان کے خیال میں منتخب پارلیمنٹ دور حاضر میں اجماع کے لیے سب سے بہتر پلیٹ فارم ہے۔ ہماری رائے میں پیغام پاکستان کو بھی اجماع کی ایک جامع اور معتبر صورت قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی کہنا مناسب ہوگا کہ تکفیری دہشتگردوں نے ماضی کے بعض فتووں کا سہارا لے کر عوام الناس کے ایک طبقے کو گمراہ کر دیا تھا۔ یقینی طور پر جب بڑے بڑے ناموں کے ساتھ تکفیریت پر مشتمل فتوے عوام کے سامنے پیش کیے جائیں تو وہ کم ازکم تشویش اور اضطراب میں ضرور مبتلا ہو جاتے ہیں اور جذباتی لوگوں کو ایسے میں تشدد پر بھی اکسایا جا سکتا ہے۔ یہی کام ان خطرناک گروہوں نے انجام دیا ہے۔ یہ امر تاسف آور ہے کہ عصر حاضر میں بھی ان وحشی تکفیریوں کو بعض شدت پسند مفتیوں کے فتووں کا سہارا مل گیا تھا۔ اس صورت حال میں پیغام پاکستان کے عنوان سے یہ فتوی سامنے آنا بہت حوصلہ افزا ہے جس میں کہا گیا ہے:’’ہم متفقہ طور پر اسلام اور برداشت کے نام پر انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں۔‘‘
ہم سمجھتے ہیں کہ اس درجے پر اجتماعی فتوی کے سامنے آنے کے بعد ماضی کے یا انفرادی اور یا پھر کسی ایک ادارے کے وہ تمام فتوے منسوخ قرار پاتے ہیں جن کا معنی و مفہوم پیغام پاکستان میں دیے گئے فتوے سے متصادم ہو۔ اس فتوے کو اس کے مقابلے میں آنے والے تمام فتووں کے ناسخ کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ تمام اسلامی مذاہب کے معتبر ترین علماء کی اجتماعی دینی دانش اور فہم کا غماز فتویٰ ہے۔ لہٰذا اس سے متصادم ہر فتویٰ منسوخ یا باطل قرار پائے گا۔ اس فتوے کے مطابق کوئی بھی جنگ حکمران کی اجازت کے بغیر شروع نہیں کی جاسکتی، اسلام میں قتال اورجنگ کی اجازت دینے کی مجاز صرف اور صرف حکومت وقت ہے۔ اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے کے خلاف سب وشتم، اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے کا کوئی جواز نہیں اور اس اختلاف کی بنا پر قتل و غارت گری، اپنے نظریات کو دوسروں پر جبر کے ذریعے مسلط کرنا، ایک دوسرے کی جان کے درپے ہونا بالکل حرام ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو اسلامی نظریاتی کونسل کی اس سفارش کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ پیغام پاکستان کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے اس کی بھی تائید حاصل کی جائے۔ اس سلسلے میں چاہے ایک قرارداد کے ذریعے سے یا پھر ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے اسے ایک سرکاری دستاویز بنا دیا جائے۔ اس صورت میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جائے گی۔ یہ بات لائق اطمینان ہے کہ انتہاء پسندی اور دہشتگردی کے ستائے ہوئے عالم اسلام میں پیغام پاکستان کو تازہ ہوا کا ایک جھونکا سمجھاگیا ہے۔ کئی ایک ممالک کے علمائے کرام اور ذمہ دار حکام نے اس کی تائید کی ہے اور اس کے مطالب کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیتے ہوئے اپنے ملک کے لیے بھی مفید جاناہے۔ اگر حکومت مختلف ممالک کے ذمہ دار نمائندوں اور مفتیان کرام کا ایک عالمی اجلاس بلا کر اس دستاویز کو پیش کرکے ان کی آراء لے سکے تو اسے عالمی سطح کی ایک دستاویز کی حیثیت حاصل ہو سکتی ہے، اس پر مزید غورخوض کی ضرورت ہے اور اس تجویز کو قابل عمل بنا کر اقدام کیا جاسکتا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ جہاں خواص میں اس کی پذیرائی ہوئی ہے وہاں پاکستان کے میڈیا نے اسے وہ اہمیت نہیں دی جو آج کے دور میں اس فتوے کو حاصل ہونا چاہیے تھی اور خاص طور پر پاکستانی معاشرے کے لیے اس کی جس قدر ضرورت تھی۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ابھی بہت سے اذہان ان معاملات پر گومگو میں ہیں۔ گمراہ عناصر کی بھی ایک تعداد ابھی تک موجود ہے۔ بہت سی جگہوں پر راکھ کے نیچے ابھی چنگاریاں باقی ہیں۔ اتنا ہی نہیں پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسندی کے جو واقعات اب بھی گاہے گاہے ہوتے رہتے ہیں، ظاہر کرتے ہیں کہ ایسی دستاویز شائع کرکے اطمینان سے بیٹھ جانا خطرے سے آنکھ موند لینے کے مترادف ہے۔

Read 31 times Last modified on بدھ, 06 نومبر 2019 01:54

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه مقالے