سوموار, 05 آگست 2013 11:43

اپنے مستقبل پر مہرلگائیں




سید اسد عباس

عزیز و محترم قارئین! میں اکثر سوچتا ہوں کہ یہ کیسا نظام حکومت ہے کہ جس میں سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے اور اس سے بہرہ انسان دونوںکو ایک ہی پلڑے یعنی ووٹ میں تولا جاتا ہے۔سیاسیات میں پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر کا بھی ایک ووٹ اور غلام حسین جو لوگوں سے پوچھتا پھرتا ہے کہ ووٹ کسے دینا چاہیے کا بھی ایک ہی ووٹ۔شاید علامہ اقبال نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے


یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ نظام ہائے حکومت میں سے آج کی تاریخ تک، اپنی تمام تر خامیوں کے باوجودجمہور کی رائے سے بننے والے نظام حکومت کو ہی بہترین نظام تصور کیا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جمہوری نظام حکومت میں موجود خامیوں کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے ؟انسانی فکر تاحال اس حوالے سے کوئی حقیقی راہ حل پیش کرنے سے قاصر ہے۔بہر حال ترقی کی جانب سفر جاری ہے۔ کسی ملک میں انتخابی ادارے تشکیل دے کر یہ خامی دور کی جاتی ہے تو کہیںمتعدد اداروں کو ایک دوسرے پر نگران بنا کر جمہوری نظام میں رہ جانے والی کمیوں کو دور کیا جاتا ہے۔ مجھے اس دعوے پر بھی کوئی شک نہیں کہ انسانی معاشرے کے امور کومنصفانہ انداز سے چلانے اور اس کے لیے عادلانہ قوانین وضع کرنے کے لیے بہترین افراد الہی نمائندے ہی ہیں۔ ان نمائندوں کی عدم موجودگی یقینا انسانیت کے لیے ایک آفت ہے اور آج کا انسانی معاشرہ اسی آفت سے دوچار ہے۔ یہاںچند ایک سوالات جنم لیتے ہیں۔پہلا یہ کہ اس زمانے میں کہ جب انسانوں کے مابین کوئی الہی نمائندہ موجود نہیں عوام کس کو منتخب کریں؟دوسرا یہ کہ اگر ووٹ ہی عوام کے مستقبل کے تعین کا ذریعہ ہے تو عوام کسے ووٹ دیں؟تیسرا یہ کہ کیا دینی جماعتیں، علماء اور دین کے نام پر سیاست کرنے والے افراد ہی ان الہی نمائندوں کا نعم البدل ہیں؟سوال اور بھی بہت ہیں جنہیں سمیٹنا شاید اس مضمون کی استطاعت سے باہر ہو۔ میری نظر میں علم دین کسی بھی مذہبی حکومت کو چلانے کے لیے اہم ہے تاہم اس سے بھی اہم تر وہ انسانی خصائل ہیں جو الہی نمائندوں کا خاصہ ہوتی ہیں۔آپ میں سے شاید ہی کوئی شخص ہو جو اس بات سے اختلاف کرے کہ تمام تر الہی نمائندے بالخصوص وہ جنہوں نے حکومتیں قائم کیں کی قابل ذکر خصوصیات میں سے اہم ترین خدا خوفی، سچائی ،عدالت، امانت و دیانت،مساوات،جذبہ خدمت خلق، ایثار، شجاعت اور اسی قبیل کی دیگر صفات تھیں۔ ظلم پر مبنی معاشروں میں اوپر سے لے کر نچلے درجے تک ان خصوصیات کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حکمران عوام سے جھوٹ بولتے ہیں، ان کے مال میں بد دیانتی کرتے ہیں، اقرباء پروری سے کام لیتے ہیں ،معاشرے میں عدل و انصاف نہیں ہوتا یعنی امیر کے لیے الگ قانون اور غریب کے لیے الگ قانون، ایسے حکمران انتہائی بزدل ہوتے ہیں چونکہ ان میں خدا خوفی کے بجائے اپنے مفادات کے ضائع ہو جانے کا خوف زیادہ ہوتا ہے۔انہیں مخلوق خدا کے مسائل سے بھی سروکار نہیں ہوتا ۔بجلی آئے نہ آئے، صاف پانی ملے نہ ملے زندگی کی ضروریات عام انسان کی دسترس سے باہر ہو ں یا سینکڑوں میتیںسڑکوں پر پڑی انصاف کی کی بھیک مانگتی رہیں انہیں اپنے جاہ و جلال سے غرض ہوتی ہے جبکہ اس کے برعکس خوف خدا رکھنے والے حکمران راتوں کو چین سے نہیں سو سکتے کہ مبادا میرے شہر میں کوئی شخص بھوکا نہ سو رہا ہو۔ مجھے اندازہ ہے کہ میری آج کی تحریر انتہائی سنگین ہو چکی ہے تاہم میری نظر میں معاملہ ہے ہی اتنا سنگین۔پاکستانی قوم چند دنوں بعد اپنے اس اختیار کا استعمال کرنے جا رہی ہے جس کے استعمال کا حق اسے پانچ سال قبل یعنی 2008میں دیا گیا تھا لیکن اس حق کے استعمال کے نتائج اس مملکت کے عوام نے پانچ سال تک بھگتے۔بھگتے کا لفظ میں نے پاکستان کے عام شہری کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا ورنہ تو کئی ایسے بھی ہوں گے جو ان پانچ سالوں سے بہت لطف اندوز ہوئے اور انھوں نے خوب مال سمیٹا۔ میرا نہیں خیال کہ کسی ذی شعور انسان کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ11مئی 2013 کو کیا ہونے والا ہے تاہم کچھ ایسے بھی ہیں جو انتخابات کے سلسلے میں بجنے والی مختلف دھنوں پر محو رقص ہیں۔وہ اسی طرح ناچتے گاتے 11مئی کو انہی لوگوں کے نشانوں پر مہر تصدیق ثبت کر آئیں گے جن کے سبب انہیں پانچ سال جہنم جیسے حالات کاسامنا کرنا پڑا۔ مجھ سے کئی لوگوں نے سوال کیا کہ ہمیں ووٹ کسے دینا چاہیے وہ جواب جو میں ہر شخص کو دیتا رہا اس کالم کے ذریعے اپنے قارئین کو بھی پیش کرتا ہوں ممکن ہے کسی کو فائدہ دے اور اس شخص کا ایک ووٹ ملک کی تقدیر سنوارنے میں کوئی کردار ادا کرسکے۔ووٹ دیتے ہوئے دو چیزوں کو مدنظر رکھیں۔پہلے مرحلے میں آپ نے اس پارٹی کا انتخاب کرنا ہے جو ملکی سطح کی جماعت ہو اور جس کا منشور، پروگرام اور ماضی آپ کی نظر میں پاکستان کے مستقبل کے لیے فائدہ مند ہو۔

Read 34 times Last modified on منگل, 05 نومبر 2019 11:55

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه مقالے