سوموار, 28 أكتوبر 2019 14:43

نجف سے کربلا پیادہ روی کی سرسری تاریخ




سید اسد عباس

دنیا میں پہلا شخص جس نے کسی دوسرے شہر سے قبر امام حسین علیہ السلام کی جانب سفر کیا، صحابی رسول ص حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ہیں، آپ چہلم سید الشہداء کے موقع پر مدینہ سے سفر کرکے کربلا تشریف لائے اور چند روز اس مقام پر قیام کیا، دوسرا قافلہ جو اس قبر کی زیارت کے لیے کربلا میں اترا اسیران کوفہ و شام کا قافلہ ہے، جو رہائی کے بعد مدینہ جاتے ہوئے کربلا میں چند روز مقیم رہے۔ توابین بھی کوفہ سے کربلا آئے اور نہر فرات پر انھوں نے غسل شہادت کے بعد اپنی تحریک کا آغاز کیا، جس کا نعرہ یا لثارات الحسینؑ تھا۔ زیارت امام حسین علیہ السلام کا یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے ۔۔۔

ہر صاحب توفیق نے قبر حسین علیہ السلام پر حاضری کے ذریعے امامؑ عالی مقام کے مزار اقدس پر اپنی عقیدتوں کے پھول نچھاور کیے۔ مسلمان تو ایک جانب غیر مسلم بھی اس زیارت پر حاضری کو اپنے لیے شرف گردانتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند سے سکھوں کے روحانی پیشوا گرونانک بھی کربلا اور دیگر عتبات عالیہ پر حاضر ہوئے اور یہ سلسلہ یقینا تا قیام قیامت جاری و ساری رہے گا۔ 2016ء میں مجھے بھی قبر امام حسین علیہ السلام اور عتبات عالیہ نجف، کاظمین و سامرہ کی زیارت کی سعادت نصیب ہوئی، بصرہ سے نجف اور کربلا، نجف و کربلا سے کاظمین و سامرہ راستے میں مجھے بہت سے ایسی عمارتیں نظر آئیں جن پر لفظ موکب لکھا ہوا دیکھا۔ ذہن میں سوال ابھرا کہ فقط اربعین کے پیدل سفر کے لیے بھلا ان عمارتوں کی کیا ضرورت تھی، یہ کام تو عارضی قیام گاہوں میں بھی انجام دیا جاسکتا تھا، تاہم ماہ صفر میں اپنے قیام کے دوران میں مجھے معلوم ہوا کہ عراقی تو سارا سال ہی اس سفر میں رہتے ہیں۔ معصومینؑ کی شہادت اور ولادت کی مناسبت سے وہ لوگ پیدل قریبی مزار پر حاضر ہوتے ہیں۔ عراق میں قیام کے دوران اربعین یعنی 20 صفر گزر گئی اور اٹھائیس صفر آگئی جو کہ شیعہ منابع کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور امام حسن علیہ السلام کا روز رحلت ہے، 27 کی شام ہی ہم نے دیکھا کہ پیدل چلنے والوں کے قافلے حلہ اور مضافات سے حرم امیر المومنین علیہ السلام کی جانب گامزن ہیں اور وہ موکب جو 22 یا 23 صفر کو بند ہو گئے تھے، ایک مرتبہ پھر آباد ہو چکے ہیں۔ پیدل چلنے والے لوگ ان مقامات پر رہائش پذیر ہیں، وہی مشی کا ماحول ہے جو دنیا کے گوش و کنار سے آنے والے اربعین کے موقع پر ملاحظہ کرتے ہیں۔ عراق میں زیارت کے اس پیدل سفر کو مشی کہا جاتا ہے، جس کا اربعین کے موقع پر خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد مشی کے لیے آنے والے محبان اہل بیت کی تعداد میں ہر برس اضافہ ہی ہو رہا ہے، دنیا میں انسانوں کے اجتماعات کا حساب و کتاب رکھنے والوں کے مطابق اربعین حسینیؑ دنیا کا دوسرا بڑا اجتماع ہے، جس میں حاضرین کی تعداد کروڑوں میں ہوتی ہے۔ مشی عموما نجف سے کربلا کی جانب کی جاتی ہے، جو قریبا اسی کلومیٹر سے کچھ زائد کا فاصلہ ہے۔ عزاداران امام حسین علیہ السلام بلا تفریق مذہب و ملت یہ سفر پیدل طے کرتے ہیں۔ آج کل اس مقصد کے لیے ایک الگ سے راہ مختص ہے، جس کے ہر چپے پر موکب موجود ہیں جہاں ان عزاداران سید الشہداء کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ موکبوں کا یہ سلسلہ نجف سے کربلا تک ہی نہیں، عراق کے چپے چپے بالخصوص مقام ہائے زیارت کے گرد و نواح میں پھیلا ہوا ہے۔ بیرونی دنیا سے آنے والے احباب تو نجف سے کربلا تک ہی پاپیادہ سفر کرتے ہیں، تاہم عراق کے رہنے والے افراد کی ایک کثیر تعداد بصرہ، سامرہ، کاظمین، حلہ، کوفہ سے کربلا تک کا سفر پا پیادہ کرتے ہیں۔ نجف سے کربلا کی جانب اس پا پیادہ سفر کی منظم روایت کا آغاز تیرھویں صدی ہجری ہے، شیعہ مجتہد شیخ مرتضیٰ انصاری نے کیا۔ شیعہ محدث میرزا حسین نوری بھی ہر سال پیدل امام حسینؑ کی زیارت کرتے تھے۔ سید محمد مہدی بحر العلوم اہل طوریج کے دستہ عزا کے ساتھ ہمیشہ پیدل زیارت کیلئے جایا کرتے تھے۔ اسی طرح شیخ جعفر کاشف الغطاء پابندی کے ساتھ پیدل زیارت پر جایا کرتے تھے۔ پیدل سفر کا آغاز ان روایات کی وجہ سے ہوا، جس میں پا پیادہ حج کرنے اور زیارت امام حسین علیہ السلام کی تشویق دلوائی گئی ہے۔ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام نے خود سواری موجود ہونے کے باوجود حرم خدا تک کا سفر متعدد مرتبہ پا پیادہ کیا، آج عزادارن امامؑ مظلوم پا پیادہ ان کے حرم پر حاضری کو جاتے ہیں۔ مشی کا یہ سفر حج بیت اللہ کی مانند مختلف نسلوں، اقوام اور گروہوں کے مسلمانوں کے ایک عظیم الشان اجتماع کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے، جس میں سیاہ لباس زیب تن کیے عشاق حسین علیہ السلام پیدل چل کر امام حسین علیہ السلام سے اپنی وابستگی اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ گذشتہ برسوں کی مانند اس برس بھی یقینا لاکھوں زائرین امام حسین علیہ السلام اربعین کے موقع پر کربلا میں حاضری دیں گے۔ خدا وند کریم زائرین حرم امام کے اس سفر کو آسان اور محفوظ بنائے اور دنیاوی و اخروی سعادتوں کا باعث قرار دے۔ آمینامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی سپیشل فورسز نے داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو قتل کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بغدادی نے خودکش جیکٹ پہنی ہوئی تھی وہ پھٹنے سے بغدادی کی شناخت ممکن نہیں ہے، دھماکے کے سبب سرنگ بغدادی کے اوپر گری جس کے سبب اس کی باقیات بھی نہیں مل پائی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس مشن کے لیے ہمیں روس، عراق ، کردوں کا تعاون حاصل رہا، یہ ایک مشکل مشن تھا جسے بغیر کسی نقصان کے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بغدادی ہماری افواج کے حملے کے سبب چلا رہا تھا اور پھر جب اس نے دیکھا کہ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ بغدادی پر حملے کا واقعہ شام کے علاقے ادلب میں پیش آیا جہاں اس وقت شامی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ ابو بکر البغدادی کے مارے جانے کی اطلاعات اس سے قبل بھی کئی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں روس، ایران، عراق اور شام سبھی نے ابوبکر کے قتل کا دعوی کیا ہے تاہم اب چونکہ امریکہ کہ رہا ہے کہ بغدادی مارا گیا ہے تو دنیا کو یقین کرنا چاہیے کہ اب دوبارہ بغدادی کا تذکرہ کہیں سننے کو نہیں ملے گا۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک وجہ تو یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بڑے دہشت گرد پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کا بھی دعوی کیا تھا، جس کے بعد اسامہ کے بارے کوئی خبر سننے میں نہیں آئی، دونوں واقعات میں ان دہشتگرد تنظیموں کے سربراہان کے جسم عوام تک نہیں پہنچے، مشرق و مغرب کے عوام کو فقط انہی خبروں پر ہی یقین کرنا تھا جو امریکہ ایک ڈرامائی صورت میں بیان کر رہا تھا۔ اسامہ بن لادن کی لاش تو ملی تھی تاہم اسے سمندر برد کر دیا گیا، تاہم بغدادی کی لاش کو بے نام و نشان کرنے کے لیے اس مکان کو ہی مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا، جس میں بغدادی ساکن تھا۔ دوسری وجہ اسامہ بن لادن اور بغدادی کے منظر عام پر آنے یا لائے جانے کے حوالے سے سامنے آنے والے حقائق ہیں۔ افغان جہاد میں اسامہ اور مغرب کا یارانہ اور پھر جہاد کے خاتمے کے بعد ان کی دشمنی اور اسامہ کا پراسرار قتل اس حوالے سے بہت کچھ تحریر کیا جاچکا ہے۔ ایسے ہی بغدادی کے بارے بھی اطلاعات موجود ہیں کہ کیسے وہ عراق کی ایک جیل میں امریکیوں کے ہاتھ چڑھا، کیسے اسے ایک منصوبہ کے تحت بعثی فوجی قیدیوں کے ہمراہ رکھا گیا اور پھر ان سب قیدیوں کو ایک ایک کرکے چھوڑ دیا گیا۔ اسی ابوبکر بغدادی نے 2010 میں کیسے ان قیدیوں نے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی اور کس طرح یہ لوگ عراق کے ایک وسیع علاقے پر قابض ہوئے یہ سب باتیں تاریخ کا حصہ ہیں۔ روس نے تو مغرب اور داعش کے روابط کے عملی ثبوت بھی فراہم کیے کہ کیسے شام کے علاقوں سے تیل نکل کر ترکی جاتا ہے اور وہاں سے یورپ اور مغرب کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ اب ظاہر ہے جس کو خود بنایا اور ختم کیا اس کے بارے میں بھلا امریکہ کی اطلاع کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ یہ امر واضح ہے کہ داعش امریکا کا ماسٹر پیس تھا جو بربریت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا، گلے کاٹنا، خواتین کو باندیاں بنانا اور ان کی منڈیاں لگانا، بچوں کو قتل کرنا، بچوں سے قتل کروانا، زندہ جلانا یہ وہ واقعات ہیں جنھوں نے ان کی پوری دنیا میں دہشت بٹھائی۔ ایک تیر سے کئی شکار عوام ویسے خوفزدہ ہو گئے، فوجیں بھیجنے، ممالک کو اپنے زیر تسلط لانے اور اسلحہ بیچنے کا بہترین جواز مل گیا اور اسلام کی بدنامی تو بونس میں۔ داعش شاید آج بھی موجود ہوتے اور ان کی خلافت کی سرحدیں اردن، ایران اور دیگر اسلامی ممالک کو چھو رہی ہوتیں تاہم اللہ نے اپنے خصوصی فضل و کرم کے ساتھ ایک ایسے مقاومتی گروہ کو پیدا کیا جس نے اس گروہ کے خاتمے کا آغاز کیا۔ داعش کی دہشت و بربریت اس گروہ مقاومت کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ ابو بکر البغدادی کو عراق میں شکست کا سامنا ہوا تو ان کو شام پہنچایا گیا تاکہ وہاں جا کر خلافت اسلامیہ کے بچے کھچے حصے کو سنبھالیں۔ شام میں مقاومت پہلے سے جاری تھی البغدادی یہاں بھی پاوں نہ جما سکا۔ شام سے داعش کے خاتمے کا تمغہ امریکہ، کرد اور جبہۃ النصرۃ بھی اپنے سینے پر سجاتے ہیں، تاہم درحقیقت ان کی کمر عراق میں توڑی گئی جہاں ان کی خلافت قائم تھی۔ شام میں تو یہ بطور فراری ہی آئے تھے، ہاں یہاں موجود داعش کو روس نے فقط تین ماہ میں زیر زمین جانے پر مجبور کر دیا۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک امر ہے کہ مغرب کو مسلمانوں میں سے ایسے لوگ با آسانی دستیاب ہو جاتے ہیں، جن کو بوقت ضرورت استعمال کیا جاتا ہے اور پھر ان کا خاتمہ کرکے دنیا میں اپنی بہادری کے جھنڈے گاڑے جاتے ہیں۔ اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری، ابو مصعب الزرقاوی اور ابوبکر البغدادی اسی قبیل کے لوگ تھے، جو نکلے تو جہاد کرنے تھے اور ان کی انتہا بطور دہشت گرد ہوئی تاہم ان کے اس سفر کے دوران اور اس ذریعے سے مسلم ریاستوں پر جو افتاد گرائی گئی وہ بھی کسی سے پنہاں نہیں ہے۔ افغانستان روس کے جانے کے کئی برسوں بعد بھی آج تک اپنے قدمون پر کھڑا نہیں ہو پایا ہے۔ عراق، شام ، لیبیا، مصر، یمن اور سوڈان کے حالات بھی کسی سے پنہاں نہیں ہیں۔ یہ سب وہ ممالک ہیں جہاں کسی نہ کسی دور میں القاعدہ اور داعش کے ٹھکانے تھے۔ آج ان ممالک کے عوام کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملتی ہے۔ القاعدہ اور داعش تو وہ نام ہیں جو دنیا کے سامنے آئے ہیں، اس طرح کی دسیوں فرقہ وارانہ اور مذہبی تنظیمیں موجود ہیں، جو مختلف عناوین سے متعدد اسلامی ممالک میں موجود ہیں اور ان ممالک نیز دنیا کے امن کے لیے ایک مسلسل خطرہ ہیں۔ ان سب تنظیموں کے مشترکات میں سے ایک نکتہ اشتراک ان سب کا افغان جہاد میں شریک رہنا ہے۔ افسوسناک تر یہ ہے کہ امریکہ اور مغرب کے پاس ان جہادی بغدادیوں کے علاوہ سیاسی بغدادی بھی بکثرت موجود ہیں۔ ایک گیا تو اس کی جگہ دوسرے نے لے لی۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اب کسے مسلمانوں کے خلیفہ کے طور پر متعارف کرواتا ہے اور اس کو اپنے انجام تک پہنچنے میں کتنا وقت اور خون مسلم درکار ہوگا۔ ہم منتظر ہیں آپ بھی انتظار کیجیے۔

Read 42 times Last modified on جمعرات, 14 نومبر 2019 10:30

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه مقالے

  • امریکی صدر ٹرمپ کا غیر اعلانیہ دورہ افغانستان
      گذشتہ رات (28 نومبر 2019ء کو) امریکی صدر ٹرمپ غیر اعلانیہ طور پر افغانستان کے بگرام ایئربیس پر پہنچے۔ ان کے ہوائی جہاز کو دو چھوٹے طیارے حفاظتی حصار میں رکھے ہوئے تھے۔ سکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر اس دورہ کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ بگرام ایئربیس پر ہی…
    Written on الجمعة, 29 نومبر 2019 17:56 in سیاسی Read more...
  • گذشتہ چند ایام پر ایک نظر
      گذشتہ چند دنوں میں پاکستان کس تکلیف سے گذرا، کسی سے پنہاں نہیں ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مقدمہ سپریم کورٹ میں جانا، اس مقدمے کی پیروی کے حوالے سے حکومت کے اقدامات، سمریوں پر سمریاں اور ان میں سامنے آنے والی اصطلاحی…
    Written on الجمعة, 29 نومبر 2019 11:41 in سیاسی Read more...