سوموار, 04 جنوری 2021 23:28


 
سید اسد عباس

ہم سب جانتے ہیں کہ قاسم سلیمانی ایک ایرانی جرنیل تھے، انھوں نے اپنی عسکری زندگی کا آغاز عراق اور ایران کے مابین لڑی گئی جنگ میں ایک رضاکار کی حیثیت سے کیا۔ قاسم اس جنگ کے آغاز کے وقت تعمیرات کے شعبے سے منسلک تھے اور کرمان کے محکمہ آب رسانی میں بطور ٹھیکیدار کام کر رہے تھے۔ جب جنگ کا آغاز ہوا تو قاسم سلیمانی نے اپنی ذمہ داری کا ادراک کرتے ہوئے سپاہ افتخار نامی تنظیم کی رکنیت اختیار کی۔ اس جنگ کے دوران میں ہی سردار سلیمانی نے کرمان کے عسکری دستوں پر مشتمل ایک بٹالین تشکیل دی، جو بعد میں 41 ثاراللہ بریگیڈ میں بدل گئی۔ وہ اس لشکر کی تشکیل 1982ء سے لیکر 1997ء تک اس بریگیڈ کے سربراہ رہے۔

ان کی سپہ سالاری میں اس لشکر نے ایران عراق جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ایران عراق جنگ کے خاتمے کے بعد لشکر 41 ثاراللہ قاسم سلیمانی کی قیادت میں کرمان واپس آگیا اور ایران کی مشرقی سرحدوں کو استعمال کرنے والے سمگلروں اور منشیات فروشوں کے خلاف سرگرم عمل ہوگیا۔ قاسم سلیمانی کی جنگی اور انتظامی کارکردگی کا سلسلہ جاری رہا، آپ کو 1998ء میں سپاہ پاسدران کی قدس فورس کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔

سپاہ قدس کی تعداد، سرگرمیوں کے بارے آزاد ذرائع سے زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ امریکہ نے سپاہ پاسداران اور سپاہ قدس پر پابندیاں لگا رکھی ہیں اور ان کے مطابق یہ ایک عالمی دہشت گرد تنظیم ہے۔ کینیڈا، اسرائیل، سعودی عرب اور بحرین نے بھی اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق سپاہ قدس، سپاہ پاسداران کا ایک حصہ ہے، جس کو قدس کی آزادی کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس سپاہ کے نام سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس سپاہ کا کام قدس کی آزادی کی سبیل کرنا ہے، یعنی اس سپاہ کا دائرہ کار ایران اور اس کی سرحدوں سے باہر ہے۔ اطلاعات کے مطابق سپاہ پاسدران کے اس شعبے کا آغاز ایران عراق جنگ کے دوران ہوا، یہ یونٹ ابتداء میں ایک انٹیلیجنس یونٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ ایران عراق جنگ کے بعد جب سپاہ پاسداران کو مسلح افواج کا حصہ قرار دیا گیا تو سپاہ قدس اس کی ایک مکمل علیحدہ سروس کے طور پر وجود میں آئی۔ عراق آپریشن کے سربراہ امریکی جنرل کے بقول سپاہ قدس، سی آئی اے اور امریکی افواج کی مشترکہ آپریشنل کمانڈ کے امتزاج جیسی فورس ہے، جس کا مقصد اپنی سرحدوں سے ماوراء سرگرمیوں کو انجام دینا ہے۔

امریکی افواج کی ایک سائٹ کے مطابق سپاہ قدس غیر ریاستی عوامل منجملہ لبنان کی حزب اللہ، فلسطین میں حماس اور اسلامی جہاد، یمن میں حوثیوں، عراق، شام اور افغانستان میں شیعہ عسکری تنظیموں کی مدد کرتی ہے۔ مغربی ممالک کی اطلاعات کے مطابق بوسنیا کے مسلمانوں کی مدد میں بھی اس سپاہ کا کردار رہا ہے۔ امریکی انٹیلیجنس افسر ڈیوڈ ڈاونسی کے مطابق سپاہ قدس کے آٹھ ڈائریکریٹس ہیں۔ مغربی ممالک، سابقہ سوویت یونین، عراق، افغانستان، پاکستان اور ہندوستان، اسرائیل لبنان اور اردن، ترکی، شمالی افریقہ، جزیرہ عرب۔ اس فورس کی تعداد کے بارے میں بھی مختلف اندازے ہیں۔ بعض کے نزدیک ان کی تعداد 2000 نفوس ہے، جس میں سے 800 مرکزی عہدیدار ہیں۔ ایک دوسرے اندازے کے مطابق ان کی تعداد 30000 سے پچاس ہزار کے قریب ہے۔ امریکی صحافی ڈیکسٹر فلیکنز کے مطابق اس سپاہ کے اراکین کی تعداد دس ہزار سے بیس ہزار ہے۔ یہ سبھی تقریباً اندازے ہیں۔ بہرحال سپاہ قدس کی تعداد جتنی بھی ہے، اس کی پیشہ وارانہ اور تنظیمی صلاحیتیں جو بھی ہیں، ایک بات واضح ہے کہ یہ فورس امت مسلمہ کے مسائل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تشکیل دی گئی۔

جب جنرل قاسم سلیمانی کو سپاہ قدس کا سربراہ مقرر کیا گیا، اس وقت افغانستان میں طالبان کے عروج کا زمانہ تھا۔ ایران عراق جنگ اور کردستان کی لڑائی کے تجربے کی بنیاد پر قاسم سلیمانی کو اس سپاہ کے لیے منتخب کیا گیا۔ موساد کے سابق سربراہ میئر داگان کے بقول: وہ (قاسم سلیمانی) ہر پہلو سے نظام پر نگاہ اور گرفت رکھنے والا ہے اور شاید وہی ایک ہے جسے میں سیاسی فطین کہہ رہا ہوں۔” درج بالا معلومات کے تناظر میں قاسم سلیمانی کی ایران سے باہر مقبولیت کوئی معمہ نہیں رہ جاتی۔ ایک ایسی سپاہ جو مسلمانوں بالخصوص اپنی آزادی اور مسائل کے حل کے لیے مقاومت کرنے والے مسلمان گروہوں کی مدد کے لیے سرگرم عمل ہو اور اس سپاہ کی کمک کے سبب مقاومتی گروہوں کی فعالیت اور کارکردگی میں اضافہ ہو کر سربراہ کا معروف ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔

قاسم نے افغانستان میں امریکی استعمار سے لڑنے والے طالبان کی مدد کی، لبنان میں حزب اللہ کے ہم قدم رہے، فلسطین میں حماس اور جہاد اسلامی فلسطین کو مسلح کیا، یمن میں حوثیوں کی ہر ممکن کمک کر رہے تھے، عراق اور شام میں رضاکار فورسوں کی تشکیل نیز ان کی راہنمائی یہ وہ امور ہیں، جس نے شہید قاسم سلیمانی کی محبت کو ان اقوام کے دلوں میں جاگزین کیا۔ قاسم بالخصوص عراق اور شام کے مسئلے کے بعد زیادہ فعال دکھائی دینے لگے، عراق اور شام کے محاذوں پر عام سپاہیوں کے ہمراہ قاسم ہی قاسم تھے۔ ایک جرنیل کا یوں فداکاری اور جانبازی کا مظاہرہ کرنا، جہاں عام سپاہیوں کے حوصلوں کو بلند کرتا ہے، وہیں ان کے دلوں میں اپنے لیے محبت اور احترام کے جذبات بھی پیدا کرتا ہے۔

عام مسلمان عوام جو مسلم امہ کے مسائل کی تھوڑی بہت سوجھ بوجھ رکھتے ہیں، ان کے لیے ایک ایسا شخص جو امت کے مسائل کے حل کے لیے فداکاری کر رہا ہو، بالکل ویسے ہی قابل احترام ہے جیسے تاریخی کردار محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی یا ارتغرل۔ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت نے ان کی امت کے مسائل کے حل کے لیے تگ و دو، اخلاص اور جانثاری کو بھی ثابت کر دیا۔ امریکہ کا جنرل قاسم سلیمانی کو عالمی قوانین اور سفارت کاری کے آداب کو پس پشت ڈال کر دہشت گردانہ کارروائی میں قتل کرنا اس بات کا ثبوت قرار پایا کہ قاسم دشمن کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھتا تھا اور ان کی امت کے مسائل کے حل کے لیے کاوشیں درست نشانے پر لگ رہی تھیں۔ ایسا شخص با ایمان اور توحید پرست مسلمان کے دل سے باہر نہیں رہ سکتا، خواہ اس کا مسلک اور قومیت کوئی ہی کیوں نہ ہو۔





بشکریہ : اسلام ٹائمز
Read 112 times

تازہ مقالے