منگل, 03 دسمبر 2019 22:31




 
سید ثاقب اکبر نقوی

طلبہ کا یہ کہنا بجا ہے کہ 18 سال کی عمر میں ووٹ کا حق ہے تو سیاست کا حق کیوں نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ انجمن سازی ایک آئینی حق ہے اور وہ سیاستدان جنھیں 1973ء کے آئین پر مان ہے اور وہ اسے ایک مقدس دستاویز قرار دیتے ہیں اور ان میں سے وہ بھی ہیں،،،


جن کا کہنا ہے کہ یہ آئین ہم نے بنایا ہے، حیرت ہے کہ انہوں نے اقتدار میں آکر اس کے تقاضوں پر کم از کم طلبہ کی یونین سازی کی حد تک عمل درآمد کے لیے اقدام نہیں کیا۔ جنھیں سیاست میں کامیابی طلبہ تحریک کے نتیجے میں ملی، انھوں نے اسے اپنی ترجیح نہیں بنایا۔ جنھوں نے آمریت کے خلاف جنگ کی اور قابل قدر جنگ کی، انھوں نے طلبہ کی یونین سازی پر آمریت کی عائد کردہ پابندیوں کو ختم نہ کیا۔
 
یہ درست ہے کہ طلبہ کی تعلیمی اداروں میں آزادی کے دور سے وابستہ کچھ ناگوار یادیں بھی ہیں، لیکن آزادی سے سوئے استفادہ کی ناگوار یادیں کسی میدان میں کم نہیں۔ نام نہاد جمہوریوں نے جمہوریت کے نام پر عوام کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا، تو کیا سارا ملبہ طلبہ کی یونین سازی پر ڈال دیا جائے؟ جن طلبہ تنظیموں نے ’’آزادی‘‘ کے دور میں بعض یونیورسٹیوں کو یرغمال بنا رکھا تھا، انھوں نے آج تک کئی اہم تعلیمی اداروں سے اپنا قبضہ نہیں اٹھایا۔ ان سے یہ قبضہ واگزار کروانا چاہیئے اور مثبت فعالیت کو بحال کرنے کے لیے قانون سازی کی جانا چاہیئے، کیونکہ طلبہ کی جدوجہد میں اگر بعض منفی باتیں در آئی تھیں تو اچھی باتوں کی بھی کوئی کمی نہ تھی۔
 
پاکستان کی اہم ترین سیاسی جماعتوں کو پرجوش، فعال اور مخلص قیادت سٹوڈنٹ یونینز کی سرگرمیوں نے مہیا کی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے طلبہ کی جدوجہد کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ایوب خان کی آمریت کے خلاف طلبہ نے نتیجہ خیز معرکے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ تحریک پاکستان میں طلبہ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اسے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح بھی خراج تحسین پیش کرچکے ہیں۔ علی گڑھ یونیورسٹی کا کردار تحریک پاکستان میں بہت نمایاں ہے۔ علی گڑھ کے اساتذہ اور طلبہ کے کردار کو تحریک پاکستان کی تاریخ سے نکال دیا جائے تو یہ تاریخ ہی مکمل نہ ہوگی۔
 
یونیورسٹی کے طلبہ 18 سال اور اس سے اوپر کی عمر میں داخل ہوچکے ہوتے ہیں۔ ضروری ہے کہ انھیں مثبت انداز سے سیاسی تربیت کی فضا مہیا کی جائے، تاکہ وہ دور طالب علمی سے فارغ ہو کر سیاسی فیصلوں میں صحیح اور غلط کی تمیز آگاہی کے ساتھ کرسکیں۔ اس کے لیے طلبہ یونینز کی بحالی نہایت اہم ہے۔ تعلیمی ادارے آج دولت جمع کرنے کے مراکز میں تبدیل ہوچکے ہیں اور حصول تعلیم کا ہدف روزگار اور دولت کمانے کے سوا کچھ نہیں رہا۔ اعلیٰ انسانی اہداف تعلیم اور تعلیمی اداروں کے سامنے سے غائب ہوچکے ہیں۔ تعلیمی ادارے زیادہ سے زیادہ فیس بٹورنے اور طرح طرح سے پیسے جمع کرنے کے درپے ہیں۔ فیسوں کو مناسب سطح پر رکھنے اور علم و آگاہی نیز تربیت کو ہدف بنانے والی تعلیم کے ذریعے ہی ہم اپنے معاشرے کو مثبت ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں، ورنہ حرص و ہوس کے سوا معاشرے میں کچھ پروان نہ چڑھے گا۔
 
ان ساری باتوں کے پس منظر میں آپ 29 نومبر 2019ء کو ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے طلبہ کے مظاہروں کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ ان مظاہروں میں اگرچہ بعض منفی باتیں بھی ہوئیں، جو نہیں ہونا چاہئیں تھیں، تاہم سیاسی سطح پر ملک میں اس کے اثرات کا محسوس کیا جانا ایک مثبت پہلو ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دو ٹویٹس نے صورتحال کو خاصا حوصلہ افزا بنا دیا ہے، جس سے امکان پیدا ہوا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور سے طلبہ یونینز پر عائد پابندیوں کا خاتمہ نزدیک ہے۔ انھوں نے اپنے پہلے ٹویٹ میں لکھا: جامعات مستقبل کی قیادت تیار کرتی ہیں اور طلبہ یونینز اس سارے عمل کا لازمی جزو ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی جامعات میں طلبہ یونینز میدان کارزار کا روپ دھار گئیں اور جامعات میں دانش کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ گیا۔ انھوں نے اپنے دوسرے ٹویٹ میں لکھا: ہم دنیا کی صف اول کی جامعات میں رائج بہترین نظام سے استفادہ کرتے ہوئے ایک جامع اور قابل عمل ضابطہ اخلاق مرتب کریںگے، تاکہ ہم طلبہ یونینز کی بحالی کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے انھیں مستقبل کی قیادت پروان چڑھانے کے عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکیں۔
 
اسی اثناء میں سندھ حکومت نے صوبے میں طلبہ یونینز پر عائد پابندی اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ ہم وزیراعظم کے ٹویٹس اور سندھ حکومت کے اقدام کو اصولی طور پر مثبت قرار دیتے ہیں، البتہ اس میں مقابلہ بازی کا تاثر پیدا نہیں ہونا چاہیئے۔ علاوہ ازیں ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر مناسب قانون سازی کر لی جاتی اور ملک گیر سطح کا ایک جامع منصوبہ بنا لیا جاتا تو اچھا ہوتا۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو چاہیئے کہ تمام صوبوں کو اعتماد میں لے کر ایک ملک گیر پالیسی تیار کرے، کیونکہ مختلف صوبوں میں مختلف پالیسیوں کے تحت طلبہ یونینز کی بحالی منفی اثرات کی حامل بھی ہوسکتی ہے۔ پہلے ہی وفاق کی جانب سے تعلیم کے تمام امور کو صوبوں کے حوالے کرکے اپنے آپ کو سبکدوش کر لینے سے بہت سے مسائل نے جنم لیا ہے۔ ایک ہدف رکھنے والی قوم کو تیار کرنے کے لیے تعلیم و تربیت کے حوالے سے متفقہ حکمت عملی کی تیاری نہایت ضروری ہے۔ طلبہ یونینز کے مسئلے کو اس حکمت عملی کا ایک حصہ ہونا چاہیئے۔


بشکریہ : اسلام ٹائمز

Read 550 times Last modified on الجمعة, 13 دسمبر 2019 12:22

تازہ مقالے

تازہ مقالے

  • یہ ٹرمپ کی خلافت کا دور ہے
      اے گرفتار ابو بکر و علی ہشیار باش ایک گروہ کا کہنا ہے کہ امام علیؑ خلیفہ بلافصل ہیں اور دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ خلیفہ بلا فصل ہیں۔ دونوں گروہ تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے اور کسی کے مقام و مرتبہ کو…
    Written on جمعرات, 24 ستمبر 2020 22:41 in سیاسی Read more...
  • ایف اے ٹی ایف اور مسلکی بے چینی (3)
      گذشتہ سے پیوستہ نئی ترامیم میں شامل "اسلام آباد وقف املاک بل 2020ء" کے مطابق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے وقف زمین چیف کمشنر کے پاس رجسٹرڈ ہوگی اور اس کا انتظام و انصرام حکومتی نگرانی میں چلے گا۔ بل کے مطابق حکومت کو…
    Written on بدھ, 23 ستمبر 2020 14:24 in سیاسی Read more...