الجمعة, 29 نومبر 2019 17:56



 
سید ثاقب اکبر نقوی

گذشتہ رات (28 نومبر 2019ء کو) امریکی صدر ٹرمپ غیر اعلانیہ طور پر افغانستان کے بگرام ایئربیس پر پہنچے۔ ان کے ہوائی جہاز کو دو چھوٹے طیارے حفاظتی حصار میں رکھے ہوئے تھے۔ سکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر اس دورہ کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ بگرام ایئربیس پر ہی افغان صدر کو بھی بلا لیا گیا تھا اور وہیں پر ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کروائی گئی۔۔۔

ان کے نقطۂ نظرکی روشنی میں مسائل کے بیان کا طریقہ رواج پا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ہاں اس وقت یہی طریقہ کار رائج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر اسلام کو
اس کے بعد امریکی فوجی افسروں اور جوانوں سے دونوں صدور نے ملاقات کی اور اس موقع پر دونوں نے چند منٹ خطاب بھی کیا۔ اپنے خطاب میں امریکی صدر نے اعلان کیا کہ افغان تحریک طالبان کے ساتھ امریکا نے دوبارہ بات چیت شروع کر دی ہے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ دورہ شکریہ ادا کرنے کے مغربی تہوار (Thanks giving eve) کے موقع پر کیا ہے، وہ اسی طرح کرسمس کے موقع پر گذشتہ برس عراق بھی غیر اعلانیہ دورے پر اپنے فوجیوں سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔
 
امریکی حکام دنیا میں جب بھی اپنے ’’مقبوضہ علاقوں‘‘ میں قائم فوجی اڈوں پر اترتے ہیں تو وہ اپنے تئیں ایک عالمی سلطنت کا سلطان سمجھ رہے ہوتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ’’اُن کے‘‘ فوجی اڈوں پر ان کی محکوم ریاستوں کے نمائندے حاضر ہو کر کورنش بجا لائیں۔ اسی امر کی طرف صدر ٹرمپ کے دورہ افغانستان کی مناسبت سے ایران کے روحانی پیشوا کے ٹویٹر اکائونٹ پر ایک ٹویٹ میں اشارہ کیا گیا ہے اور ان کے اس طرز عمل کو آزاد قوموں کی ’’سرکاری سطح پر توہین‘‘ قرار دیا گیا ہے، جس میں استعماری نظام کو جبر کا نظام کہا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ دنیا کے جابر حکمرانوں کے نظام نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک استعمار اور دوسرا زیر استعمار، ان کے نقطہ نظر سے کوئی آزاد دنیا وجود نہیں رکھتی۔ یہ تسلط پسندانہ نظام آزادی اور عدالت کا مخالف ہے۔
 
وہ ویڈیوز جو گذشتہ رات کے امریکی صدر کے دورہ افغانستان کی مناسبت سے جاری کی گئی ہیں اور جن میں انہیں اپنے فوجی افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اس امر کی شہادت دینے کے لیے کافی ہیں کہ ان کے پیچھے کس طرح سے افغانستان کے صدر اشرف غنی سمٹے ہوئے کھڑے ہیں اور صدر ٹرمپ کیسے لطیفے اور چٹکلے چھوڑ رہے ہیں اور اپنے جوانوں اور افسروں کا لہو گرما رہے ہیں۔ وہ بتا رہے ہیں کہ گذشتہ دور میں اگر اسامہ بن لادن کا امریکا نے خاتمہ کیا تھا تو ان کے دور جبروت میں داعش کے سربراہ البغدادی کا خاتمہ کیا گیا ہے بلکہ ان کے بعد دوسری اور تیسری قیادت کو بھی ٹھکانے لگا دیا گیا ہے۔ خدا جانے وہ دنیا میں کس مخلوق کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ امریکا کی قیادت کے کئی اہم ستون یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں خود امریکا نے رجعت پسند ممالک کے تعاون سے قائم کی ہیں۔ یہ امریکی قیادت ہی ہے کہ جس پر یہ بات صادق آتی ہے:
وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا
 
جہاں تک طالبان سے از سر نو مذاکرات کے آغاز کا معاملہ ہے تو یہاں بھی ٹرمپ صاحب کی منشاء اور مزاج کو بہت دخل ہے۔ انہوں نے گذشتہ ماہ آخری مرحلے میں داخل ہو چکنے والے مذاکرات کو اچانک ختم کر دیا۔ امریکی ذرائع ابلاغ واضح طور پر صلح کی دستاویز کے تیار ہو جانے کی خبر دے چکے تھے۔ اب فقط امریکا میں حکومت اور طالبان کے مابین ملاقات کے موقع پر اس پر دستخط ہونا باقی تھے کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے خاتمے کے اعلان کر دیا۔ دوحہ میں طالبان کے نمائندوں نے بھی از سر نو مذاکرات شروع ہونے کی خبر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق قطر میں دو تین روز سے طرفین کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بات چیت کا مقصد امریکی اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کے معاہدے تک پہنچنا ہے اور اس کے مقابل طالبان سے سکیورٹی ضمانتیں حاصل کرنا ہیں۔
 
صدر ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس پر خطاب کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر واضح اعلان کیا ہے کہ وہ بیشتر افواج افغانستان سے نکال لیں گے، مگر اس کے باوجود اپنے اڈے اور کچھ فوجی باقی رکھیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ افغان طالبان اس سلسلے میں کس حد تک امریکیوں کی افغانستان میں فوجی موجودگی کو قبول کرتے ہیں۔ جہاں تک ماضی میں افغان طالبان کا موقف رہا ہے، اس کے مطابق ان کا سب سے بڑا مطالبہ ہی یہ ہے کہ امریکی فوجی افغانستان سے نکل جائیں۔ سابق افغان صدر کرزئی کی حکومت نے امریکی حکومت سے ایک معاہدے کے تحت چند ہزار امریکی فوجیوں کی افغانستان میں موجودگی کو قبول کیا تھا، جس کی افغان طالبان کی طرف سے مخالفت کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ کا یہ افغانستان کا پہلا دورہ ہے۔ ان کی خواہش یہ ہے کہ امریکا میں نئے انتخابات سے پہلے وہ اپنے وعدے کے مطابق افغانستان میں امریکا کی فوجی موجودگی کو کم سے کم کرسکیں اور اس طرح طالبان کے ساتھ طویل جنگ کے خاتمے کا اعزاز لے کر نئے دور صدارت کے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتریں اور اسے اپنی ایک کامیابی کے طور پر امریکی عوام کے سامنے پیش کریں۔
 
یہ امر بھی اہم ہے کہ ایک ہفتہ قبل ہی طالبان اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا بھی تبادلہ ہوا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ سیز فائر نہیں جنگ بندی چاہتے ہیں۔ ان کی رائے یہ ہے کہ اب طالبان بھی جنگ بندی کے خواہش مند ہیں۔ البتہ کسی جامع منصوبے تک پہنچنے کے لیے اس سوال کا جواب بھی درکار ہے کہ طالبان موجودہ کابل حکومت کے حوالے سے کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔ کیا وہ موجودہ آئین کے تحت کسی نئے انتخابات کے لیے تیار ہوتے ہیں یا موجودہ حکومت کا حصہ بننے پر آمادہ ہوتے ہیں یا پھر نظام حکومت میں کسی بنیادی تبدیلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ماضی میں ان کا جو نقطہ نظر رہا ہے، اس کے مطابق وہ موجودہ حکومت کو امریکا ہی کی نمائندہ حکومت تصور کرتے ہیں۔
 
امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کا کردار بہت مثبت رہا ہے اور امریکا کی طرف سے اسے سراہا جاتا رہا ہے۔ امریکا کی طرف سے حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کو بھی سراہا گیا ہے۔ پاکستان کی کوششوں سے قطر، سعودی عرب اور امریکا کے مابین بھی برف پگھلی ہے اور اطلاعات کے مطابق قطر کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ایران اور سعودی عرب کے مابین ثالثی کے لیے دورے کرچکے ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں امریکا کی طرف سے بھی ثالثی کے لیے کہا گیا ہے۔ ثالثی کی یہ کوششیں کن نتائج تک پہنچتی ہیں، اس کا جواب ابھی آنا باقی ہے۔


بشکریہ : اسلام ٹائمز

Read 28 times Last modified on ہفته, 30 نومبر 2019 11:51

تازه کالم

تلاش کریں

کیلینڈر

« December 2019 »
Mon Tue Wed Thu Fri Sat Sun
            1
2 3 4 5 6 7 8
9 10 11 12 13 14 15
16 17 18 19 20 21 22
23 24 25 26 27 28 29
30 31          

تازه کالمز