تحریر: سید حیدرنقوی
مقالہ کے حصہ اول میں ہم نے اہل سنت منابع کی روشنی میں "امام مہدیؑ، امام حسن ؑ کی نسل سے" پر گفتگو کی۔ اس سلسلے میں اہل سنت اکابر علمائے کرام، فقہاء، محدثین، مورخین، ادباء، مفکرین اور مفسرین کے اقوال نقل کیے گئے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام کی نسل مبارک سے ہیں اور وہ امام حسن عسکریؑ کے فرزند ارجمند ہیں۔ مقالہ کے اس حصے میں ہم نے ضروری سمجھا کہ مختصر طور پر رسول اکرمﷺ کے خلفاء کے سلسلے کو بھی بیان کرتے چلیں کیونکہ علماء، محققین اور مورخین کے کئی ایسے اقوال ذکر کیے جا رہے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام، امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ارجمند اور اسی طرح امامؑ کے تمام اجداد کا ذکر کیا گیا ہے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ رسول اللہﷺ کے جانشینوں کا ذکر کیا جائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام، امام حسن ؑ یا امام حسینؑ کی نسل مبارک سے ہیں۔



تحریر: سید حیدرنقوی
حضرت امام مہدیؑ کا وجود:
نجات دھندہ کا تصور تقریباً تمام قدیم تہذیبوں میں موجود ہے۔یہ تصور اسلام سے قبل کی کتب میں بھی ملتا ہے۔ زرتشتی، ہندو، مسیحی، یہودی وغیرہ سب یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دنیا کے ختم ہونے کے قریب ایک نجات دہندہ کا ظہور ہوگا جو دنیا میں انصاف پر مبنی حکومت قائم کرے گا۔ اسلامی متون میںیہ تصور اس لیے نہیں آیا کہ اس سے پہلے یہ موجود تھا بلکہ یہ عقیدہ احادیث سے ثابت ہے۔ نبی کریمﷺ اور اہل بیت علیہم السلام سے منقول احادیث و روایات کی وجہ سے یہ تصور زیادہ واضح و روشن ہے۔ مسلمان اس نجات دہندہ کو  امام مہدیؑ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ قیامت کے قریب ظہور فرمائیں گے۔ مسلمانوں امام مہدیؑ کے بارے میں جن امور میں اختلاف پایا جاتا ہے ایک تو ان کی ولادت باسعادت کے بارے میں ہے کہ وہ بعض اہل سنت اس کے قائل ہیں کہ ان کی ولادت ابھی نہیں ہوئی اگرچہ بیشتر اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی ولادت ہوچکی ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ امام مہدی علیہ السلام کاامام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہونا ہے جبکہ کئی اہل سنت علماء اور مورخین نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ امام مہدیؑ اولاد امام حسین علیہ السلام میں سے ہیں اور وہ ان کی نویں نسل سے امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔



تحریر: سید حیدر نقوی
کتنا ہی خوبصورت اور کیا پر معنیٰ جملہ ہے، اس جملے پر ہم جس قدر غور و فکر کرتے جائیں، ہمارے لیے نئے سے نئے روحانیت کے باب کھلتے جائیں گے، یعنی ہم اپنے وجود کا احساس کرنے لگیں گے، ایسا وجود جو نرم و ملائم ہو کر عرفاء کا ہم سفر بن جاتا ہے۔ کاش! ہم اس کے صحیح مفہوم سے آشنا ہو جائیں۔ کاش! پروردگار، اس جملے کو ہم درک کرسکیں۔کاش! ظہور ہمارے لیے ظاہر ہو۔ یہ لفظ ظہور اپنے اندر کتنی خوبصورتی کو سمیٹے ہوئے ہے۔



تحریر: سید حیدر نقوی
وہ روایات جن میں امام مہدی علیہ السلام کا مخصوص ایام یا اوقات میں ذکر زیادہ فضیلت کا حامل ہے، ان کے بارے میں کتاب نجم الثاقب میں یوں بیان کیا گیا ہے:
اول: شب قدر
دوم: جمعہ کا دن
سوم: عاشور کا دن



تحریر: سید حیدر نقوی
روشن مستقبل کی اُمیدانسانوں کے لیے اپنی بقاء و ارتقاءکا ایسا روح افزاء تصور ہے جس کے لیے انسان اپنے اوپر آنے والی کئی مشکلات کو ہنسی خوشی برداشت کرجاتا ہے۔ اگر انسانیت کا مستقبل روشن ہی نہ ہو اور انسان کی اس سلسلے میں اُمید باقی نہ رہے تو وہ اپنے حال کو اپنےہی ہاتھوں برباد کربیٹھے گا۔

تازہ مقالے