منگل, 17 مارچ 2020 09:14

الفاظ و معانی ۲



بیان کی حقیقت:
 
گذشتہ مباحث میں ہم نے ’’اصولِ فقہ‘‘ میں ’’بیان‘‘ کی مختلف صورتوں کا مطالعہ کیا جس میں ہم نے دیکھا کہ یہ تمام صورتیں الفاظ اور تراکیب نیز ان کی صورتوں کے گرد گھومتی ہیں۔ اصول فقہ پر موجود وسیع لٹریچر کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں صرف ایک ہی جہت سے نصوص کا مطالعہ کیا گیا ہے جو الفاظ اوراس کے منطقی فہم سے متعلق اوراس میں ’’منطق ارسطا طالیس‘‘ سے کام لیا گیا ہے۔ جبکہ نصوص کے ’’معاشرتی فہم‘‘کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔

منگل, 17 مارچ 2020 09:07

الفاظ و معانی



بیان التفسیر:
علمائے اصول کے نزدیک بیان تفسیر کا مطلب ہے’’بیان مافیہ خفاء‘‘ جس لفظ، ترکیب اور محاورے میں خفاء پایا جاتا ہو اُسے واضح کرنے کا نام بیان تفسیر ہے(۱) اس ضمن میں علماء مشترک و مجمل ،مشکل اور خفی کا ذکر کرتے ہیں۔ واضح ہوکہ فخرالاسلام بزدوی اور شمس الائمۃ سرخسی نے صرف مشترک و مجمل دو صورتوں کا ذکر کیا ہے بعد کے علماء نے اس میں وسعت دی چنانچہ البزدوی کے شارح عبدالعزیز البخاری نے کہا’’ھو بیان مافیہ خفاء من المشترک والمجمل و نحوھما‘‘ یعنی مشترک ،مجمل اور اسی طرح کی دوسری صورتوں میںجو خفاء پایاجاتا ہے اس کو بیان کرنے کا نام بیان التفسیر ہے۔(۲) چنانچہ ملا خسرو نے واضح طور پر لکھا ہے کہ ’’و ان تخصیص المشایخ المشترک والمجمل بالذکر تسامح‘‘ مشائخ نے محض مشترک ومجمل کا جو ذکر کیا ہے تو یہ تسامح ہے۔(۳

تازہ مقالے