سوموار, 23 نومبر 2020 16:21

عالمی سطح پر بڑی خبروں کے دن



 
سید ثاقب اکبر نقوی

2 جنوری کو بغداد سے القدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے کمانڈر مہندس ابو مہدی کی امریکہ کے ہاتھوں شہادت کی بہت بڑی خبر کے بعد سال کے آخر میں ان دنوں پھر بڑی بڑی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ بڑی خبروں کا اصل سرچشمہ وائٹ ہائوس میں بیٹھے ڈونلڈ ٹرمپ کا دماغ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو اصولی طور پر 21 جنوری 2021ء کو وائٹ ہائوس کو ترک کرنا ہے لیکن وہ مسلسل ایسی تدابیر پرغور کر رہے ہیں یا ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں، جن سے انھیں کچھ عرصہ مزید اقتدار رہنے کا موقع مل جائے۔ تاہم انھیں جتنے دن بھی ملیں گے، وہ اپنے عالمی سطح کے طاغوتی منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے تیز رفتاری سے اقدام کرتے رہیں گے۔

بدھ, 18 نومبر 2020 19:29

وہ خادم نہیں مخدوم ہیں



 
سید ثاقب اکبر نقوی

مولانا خادم حسین رضوی خادم نہیں مخدوم ہیں۔ وہ جب بھی لائو لشکر کے ساتھ تشریف لائے، حکومت نے ان کے چائو چونچلے اور ناز نخرے برداشت کیے۔ ان کی گالیاں گھی کی نالیاں قرار پائیں۔ ان کے کوسنے لوریاں بن گئے۔ بندوق والے بے چارے لشکر مخدوم کی واپسی کا کرایہ دینے کے ’’جرم‘‘ میں جناب قاضی فائز عیسیٰ کے عتاب کا شکار ہوئے۔ ان کا عتاب ہے کہ کم ہونے کو نہیں آتا اور مخدوم ملت کا غصہ ہے کہ ایک بات پر کم ہوتا ہے تو دوسری طرف چڑھ آتا ہے۔ گویا فوارے کا پانی ہے آرام سے اترتا ہے تو نئے جوش سے چڑھتا ہے۔ مخدوم رضوی جو ان کے ماننے والوں کی نظر میں پیر طریقت بھی ہیں اور رہبر شریعت بھی، ان کی ہر ناسزا بھی سر جھکا کر سن لی جاتی ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

علامہ اقبال عالمی سطح کے ایک مفکر کی حیثیت سے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اس دور کی عالمی حرکیات کو پہچانا، ان کی ماہیت کو سمجھا، سماج پر اس کے اثرات پر گہری نظر ڈالی اور انسانی معاشرہ مستقبل میں کس سمت کو اختیار کرے گا، کے بارے میں اپنی رائے پیش کی۔ انھوں نے جہاں مغربی تہذیب کا تجزیہ کیا اور اس کی اٹھان اور تشکل میں سرمایہ داری نظام کی کارفرمائی کا جائزہ لیا، وہاں اس کے ردعمل میں پیدا ہونے والی اشتراکیت کو بھی اپنا موضوع سخن بنایا۔ ان دونوں اقتصادی اور سماجی نظاموں، نیز ان کے تصور کائنات کا تجزیہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنا نقطہ نظر بھی پیش کیا، جو یقینی طور پر ان کے فہم اسلام سے ماخوذ ہے۔ اس کے لیے ان کی فکر کا بنیادی ماخذ اور سرچشمہ قرآن حکیم ہے۔

سوموار, 09 نومبر 2020 14:52

اقبال، ایک نابغۂ روزگار(1)



 
سید ثاقب اکبر نقوی

آج (9 نومبر 2020ء) علامہ اقبال کا یوم ولادت منایا جا رہا ہے۔ وہ 9 نومبر1877ء کو سیالکوٹ میں حکیم نور محمد کے ہاں متولد ہوئے۔ اس وقت کون جانتا تھا کہ آج ایک عام مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ کل کو اپنے دور کے نوابغ میں شمار کیا جائے گا۔ علامہ اقبال کو شاعرِ مشرق، حکیم الامت، مصور پاکستان اور دانائے روزگار جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ جس دور میں تشریف لائے، برصغیر انگریز سامراج کی غلامی سے گزر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر پر انگریزوں کا اقتدار ہمہ گیر بھی ہوچکا تھا اور گہرا بھی۔ عالم اسلام زبوں حالی کا شکار تھا اور رہا سہا مسلم اقتدار زلزلوں کی زد میں تھا۔ علامہ اقبال کے دیکھتے دیکھتے ترکوں کی عثمانی خلافت زمین بوس ہوگئی۔ انھوں نے اپنی جوانی میں جنگ عظیم اول کی تباہ کاریوں کا مشاہدہ کیا۔ مغربی تہذیب کی چکا چوند پورے عالم کو متاثر کر رہی تھی۔ افکار کہنہ لرزہ براندام تھے۔ سائنس اور کائنات کے مادی تصور کی بنا پر تشکیل پانے والی مغربی تہذیب نئی نسلوں کے ذہنوں کو مسخر کر رہی تھی۔ صدیوں سے رائج تصورات و افکار ایک بڑے چیلنج کے سامنے دفاعی حیثیت سے کھڑے تھے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی

امریکہ میں کل (3 نومبر2020ء) کو صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دو بوڑھے پہلوانوں میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔ ایک طرف ریپبلکن کے نمائندے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو گذشتہ چار سال میں اپنے سارے ہنر دکھا چکے ہیں اور دوسری طرف ڈیموکریٹس کے کہنہ کار امیدوار جوبائیڈن ہیں، جو باراک اوبامہ کے دور میں ان کے نائب رہ چکے ہیں اور افغان امور سے گہری شناسائی رکھتے ہیں۔ اکثر ماہرین کی رائے ہے کہ دونوں کی داخلہ پالیسیوں میں کچھ نہ کچھ اختلافات موجود ہیں لیکن بین الاقوامی سیاست کے اہم مسائل پر ان کی پالیسیوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ان انتخابات پر ہمارا میڈیا دیوانہ ہوا جاتا ہے۔

تازہ مقالے