ہمارا راستہ

ہمارا راستہ (6)



 
سید ثاقب اکبر نقوی


مسئلہ کشمیر
تقسیم ہندوستان کے طے شدہ اصول کی بنیاد پر کشمیر پاکستان کا جزو لاینفک ہے۔ شروع ہی سے برطانیہ اور کانگرس کی ملی بھگت سے آزادیٔ کشمیر کا طے شدہ مسئلہ  الجھ کر رہ گیا۔ فوجی مداخلت کے ذریعے بھارت نے کشمیر کے وسیع حصے پر تسلط قائم کر لیا۔ آج بھی کشمیرکا ایک حصہ آزاد ہے مگر بیشتر حصہ بھارت کے غاصبانہ قبضے میںہے جس کے نتیجے میں کشمیر کے مظلوم عوام ہر لحاظ سے ایک ہونے کے باوجود تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام خاص طور پر اپنی آزادی کی طویل جدوجہد میں بے پناہ قربانیاں پیش کر چکے ہیں۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


نظام حکومت
اسلامی نظام حکومت کی بنیادیہ ہے کہ حق حاکمیت اصالتاً صرف اور صرف خدا کو حاصل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان آزاد ہے اور کوئی شخص، طبقہ یا گروہ اس پر حکمرانی نہیں رکھتا، لیکن انسان باذن خدا



 
سید ثاقب اکبر نقوی


اس پس منظرمیں ان حالات میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے۔۔۔ کہ:
پاکستان میں جدوجہد اور جنگ کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے اور یہ جنگ کس کے خلاف ، کس کی حمایت میں کس کس کو، کس انداز سے لڑنا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


مسائل کا آغاز
لا الہ الا اللہ کے ولولہ انگیز انقلابی نعروں کی گونج میں پاکستان معرض وجود میں آ گیا لیکن اس نوزائیدہ  مملکت کو بہت سے مسائل بھی حصہ میں ملے۔ مہاجرین کی آباد کاری، اثاثوں کی تقسیم، معاشی مشکلات اور موثر انتظامی ڈھانچہ کی عدم موجودگی اور زیر خطر سالمیت جیسے سنگین مسائل پر عوام کی پرجوش شرکت اور ہمہ گیر اعتماد کے بغیر صحیح طور پر قابو پانا ممکن نہ تھا۔ ضروری تھا کہ عوام کے اسلامی انقلابی جذبے کو بروئے کار لا کر اس مملکت کی تعمیر کا آغاز کیا جاتا۔ مگر حکمران طبقہ آہستہ آہستہ عوام سے دور ہوتا چلا گیا۔ شاید حکمران چاہتے بھی یہی تھے کہ عوام  امور مملکت میں دلچسپی لینا چھوڑ دیں تاکہ وہ اقتدار کے ایوانوںمیں جو چاہیں کر سکیں۔ حکمرانوں کی اس روش نے مزید کئی ایک سنگین مسائل اور مشکلات کو جنم دیا




انسان اپنے پروردگار کے حسن تخلیق کا شاہکار ہے۔{ FR 797 }   وہ انسان جو احسن تقویم میں پیدا کیا گیا ہے۔{ FR 798 }
جسے اس زمین پر اپنے مقصد تخلیق کو پورا کرتے ہوئے کمال کی طرف بڑھنا ہے۔ اس منزل کمال کے حصول کے لیے اللہ نے اسے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس مقصد کو پانے کے لیے زمین بلکہ کائنات کے وسائل اور امکانات اس کے دست تصرف میں دیے ہیں۔{ FR 799 } اشرف المخلوق ہونے کے ناتے دیگرتمام مخلوقات بھی انسانی مقصد کے حصول کے ذریعہ اور معاون و مددگار کے طور پر تخلیق کی گئی ہیں۔



پاکستان کے بننے کے بعد بعض ایسی دستاویزات سامنے آئی ہیں جن کو بجا طور پر ایک افتخار کے ساتھ پوری قوم کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے اسی طرح ان دستاویزات کو پاکستان سے باہر بھی اپنی نظریاتی اساس نیز ایک مثال کے طور پر دکھایا جاسکتا ہے ۔ یہ ایسی دستاویزات ہیں جو پاکستان کی نظریاتی اساس کو بیان کرتی ہیں ۔ ان میں اکتیس علماء کے بائیس نکات ہیں، جس میں تمام مسالک کے علماء نے اسلامی ریاست کے خدوخال کو بیان کیا ہے ۔  اس کے بعد قرارداد مقاصد جو بعد میں پاکستان کے آئین کا حصہ بنی کو بھی اہم دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے ۔ 

تازہ مقالے