حج

حج (8)



 
سید اسد عباس

موسم حج آن پہنچا، تاہم اس مرتبہ حج گذشتہ روایات سے ہٹ کر انجام دیا جائے گا۔ کرونا کے سبب حکومت سعودیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس مرتبہ دنیا بھر سے مسلمان حج کی سعادت سے بہرہ ور نہیں ہوسکیں گے۔ سعودیہ میں مقیم افراد نیز سعودیہ کے اقامہ ہولڈر ہی اس سعادت سے فیضیاب ہوں گے۔ حج کے حوالے سے یقیناً ایس او پیز کی تیاری بھی جاری ہوگی۔ یہ شاید کعبۃ اللہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ حج کو ایسی پابندیوں کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے۔



تحریر: سید ثاقب اکبر

حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کی پکار پر لبیک کہی۔ اس کی کبریائی کے زمزمے گنگنائے اور اس کے گھر کا طواف کیا۔ کیا اس کی آواز پر لبیک کہنے کے بعد اب اس کے غیر کی آواز پر لبیک کہنا جائز ہے؟ اس کی کبریائی کا زمزمہ دل و جاں کے ساز پر گنگنانے کے بعد اب کسی غیر کی عظمت وقوت کا گیت گایا جاسکتا ہے؟ اس کے گھر کا طواف کرنے کے بعد اس کے غیر کے گھر کا طواف کرنا روا ہے؟ جس پیغمبر اعظم ؐ نے فرمایا تھا کہ حج گناہوں کو یوں دھو دیتا ہے جیسے پانی میل کچیل کو صاف کر دیتا ہے۔ اس کے فرمان کے مطابق اگر اپنی روح کی میل کچیل صاف کر لی جائے حج ادا ہوتاہے۔ایسے ہی مطالب پر مشتمل مدیر اعلی ماہنامہ پیام کا یہ اصلاح شدہ مضمون قارئین پیام کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے ۔یہ مضمون جناب سید ثاقب اکبر کی نئی شائع ہونے والی کتاب معاصر مذہبیات سے ماخوذ ہے۔(ادارہ)



تالیف :شہید محمد باقر الصدر
مترجم : مفتی امجد عباس

تعارف:شہید باقر الصدر عراق کے معروف علمی خانوادے خاندان صدر کے چشم و چراغ ہیں ، آپ نے جوانی میں ہی علم و آگہی کی منازل کو طے کیا اور عراقی معاشرے کے ساتھ دنیا بھر میں نام پیدا کی آپ کی کتب فلسفتنا اور اقتصادنا اپنے متعلقہ موضوع پر لکھی گئی اچھوتی کتب ہیں جن کا کئی ایک زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے نجف سے فارغ التحصیل کئی ایک جید علمائے کرام شہید باقر الصدر کے شاگردوں میں سے ہیں جن میں علامہ سید ساجد علی نقوی قابل ذکر ہیں ۔ زیر نظر تحریر شہید محمد باقر الصدر کی کتاب ’’ نظرۃ عامۃ فی العبادات‘‘ سے ماخوذ ہے جس میں شہید باقر الصدر نے حج کے ہماری زندگیوں پر اثرات پر قلم اٹھایا ہے شہید باقر الصدر تحریر کرتے ہیں کہ’’ حج کے ذریعے وحدتِ امت و اسلامی اخوت کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ اس موقع پر آئے حجاج کی نہ تو زبان ایک ہوتی ہے، نہ رسم و رواج ایک جیسے، نہ علاقہ ایک، نہ ذہنی سطح اور رنگ ایک؛ ہاں اِن سب کا عقیدہ ایک ہوتا ہے۔ سب حاجیوں کی روش اور اعمال بجا لانے کا طریقہ ایک جیسا ہوتا ہے اور اِن سب کا ایک ہی ہدف؛ اللہ کی راہ میں قربانی دینا ہوتا ہے‘‘۔مفتی امجد نے اس مضمون کا ترجمہ مفہوم کے اعتبار سے کیا ہے۔ امید ہے یہ تحریر قارئین پیام کو پسند آئے گی۔(ادارہ)



تحریر: شہید مرتضی مطہری 
ترجمہ: عباس ہمدانی 

تعارف:اسلام ہمیں یعنی مختلف قوموں کو جو نہ ایک نسل سے ہیں، نہ ایک زبان بولتے ہیں، نہ ایک رنگ کے ہیں اور نہ ایک حکومت اور قومیت رکھتے ہیں ایک سرزمین پر انتہائی روحانی آمادگی کے ساتھ جمع کرتا ہے۔ یہ ایک بے مثال اجتماع ہے، ایک ایسا اجتماع جو تعداد کے حوالے سے کم نظیر یا شائد بے نظیر لیکن کوالٹی کے لحاظ سے یقیناً بے نظیر ہے۔ کیونکہ یہ بالکل نیچرل ہے اور اسکے پیچھے کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے۔ یہ ایسا اجتماع ہے جو کسی لالچ کے بغیر ہے، بلکہ ہر لالچ کو ترک کرنے کے بعد ہے، ایک ایسا اجتماع جو عیش و عشرت اور تفریح کی خاطر بھی نہیں ہے۔ آج اسکی مشکلات اگرچہ کافی حد تک کم ہو گئی ہیں لیکن پھر بھی مشکلات کے ہمراہ ہے۔ ایک ایسا اجتماع ہے جس میں کم از کم عارضی طور پر ذاتی افتخارات اور انا پرستی کو ترک کر دیا جاتا ہے۔ سب افراد ایک سوچ اور ایک ذکر اور ایک لباس اور ایک عمل کے ساتھ ایک راستے پر قدم اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 



پیشکش :سید اسد عباس

تعارف:اصولاً برائت از مشرکین حج کے سیاسی فرائض میں سے ہے اور اس کے بغیر ہمارا حج ،حج ھی نہیں ہے ۔حج کے موقع پر برائت از مشرکین وہ سیاسی ، عبادی پکار ہے کہ جس کا امر رسول اللہ نے فرمایا ہے ۔ہماری صدائے برائت ان سب لوگوں کی پکار ہے جو امریکہ کی فرعونیت اور اس کی ہوس اقتدار کو اب مزید برداشت نہیں کر سکتے ۔حج کے ان عظیم مناسک کا سب سے زیادہ متروک اور غفلت زدہ پہلو سیاسی پہلو ہے خائنوں کا ہاتھ اسے متروک بنانے میں سب سے زیادہ کار فرما رھا ہے آج بھی اور آئندہ بھی رہے گا ۔جو درباری ملّا یہ کہتے ہیں کہ حج کو سیاسی پہلوؤں سے خالی ہونا چاہیے وہ رسول اللہ کی مذمت کرتے ہیں ۔آج عالم اسلام امریکہ کے ہاتھوں میں اسیر ہے۔ ہمارا فریضہ ہے کہ دنیا کے مختلف بر اعظموں میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے اللہ کا یہ پیغام لے جائیں کہ وہ خدا کے سوا کسی کی غلامی اور بندگی کو قبول نہ کریں ۔حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے اللہ سے بیعت کریں کہ ہم اس کے اوراسکے رسولوں کے ،صالحین کے اور حریت پسندوں کے دشمنو ں کے دشمن ہونگے ۔



تحریر:مولاناابو الکلام آزاد 

درج ذیل تحریر مولانا ابو الکلام آزاد کی کتاب حقیقت حج سےماخوذ ہے۔اصل کتاب جس کی پی ڈی ایف ہمارے  پاس موجود ہے  میں غیر ضروری طور پر سرخیاں لگا کر سہولت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم تحریر کا ربط ختم ہو گیا جسے بحال کرنے کے لیے ہم نے ان سرخیوں میں سے چند کا انتخاب کیا ہے ۔ تحریر کے اسلوب سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اصل تحریر مسلسل تھی جسے آسان اور عام فہم بنانے کے لیے سرخیوں کا سہارا لیا گیا ۔ لیکن سرخیوں کی اس قدر بہتات ہوئی کہ اصل عبارت اس میں گم ہو گئی ۔ حج کے حوالے سے مولانا کے فہم کو سمجھنے کے لیے یہ ایک مفید تحریر ہے ۔ یہ تحریر کو اس کتاب سے ایک اقتباس بھی کہا جاسکتا ہے۔ (ادارہ)



بانی جماعت اسلامی سید ابو الاعلی مودودی جو کہ پاکستانی معاشرے میں کسی تعارف کے محتاج نہیں نے درج ذیل خطبات مئی ۱۹۶۳ء میں حج کے موقغ پر ۵، ۶ اور ۷ ذی الحجہ کو نماز عصر کے بعد حرم پاک میں زمزم کے مقام پر دئیے۔ پہلا خطبہ بیت اللہ اور اس جڑی الہی نشانیوں سے متعلق ہے جسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انسان زمانہ نبوی میں ہے اور تمام واقعات کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہا ہے۔دوسرے خطبے میں مودودی صاحب نے مناسک حج کے ظاہری اور باطنی مفاہیم پر روشنی ڈالی ہے جس میں احرام سے لے کر رمی جمرات کے مناسک اور قربانی بھی شامل ہیں۔ جبکہ تیسرے خطبے میں فلسفہ حج اور اس کے ضمنی فوائد پر بات کی گئی ہے۔ خطبات میں موجود مطالب کی اہمیت کے پیش نظر ان خطبات کو قارئین پیام کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ یہ مطالب سید ابو الاعلی مودودی اس عنوان سے شائع کردہ کتابچہ سے ماخوذ ہیں۔ (ادارہ)



تحریر:مولاناسید محمد عون نقوی 

یاد رکھو!  خدا تم پر رحم کرے کہ ’’حج‘‘ خداوند عالم کے مقرر کردہ فرائض میں سے ایک اہم، واجب و لازم فریضہ ہے۔ ہر اس شخص کے لیے جس کو وہاں جانے کی استطاعت حاصل ہو۔ یہ پوری زندگی میں صرف ایک بار واجب ہے۔ خداوند عالم نے اس (کی ادائیگی) پر گناہوں کی مغفرت  اور اس کے ثواب کے طور پر جنت کا وعدہ کیا ہے۔ اسے ترک کرنے والے کو کافر کے نام سے یاد کیا ہے اور حج نہ کرنے والے کوجہنم کے عذاب کی خبر دی ہے۔ہم آتش جہنم سے خداوند عالم کی پناہ مانگتے ہیں۔امام رضا علیہ السلام کے اس قول کی مانند دیگر آئمہ علیہ السلام کے حج بیت اللہ کے حوالے سے منتخب اقوال پر مشتمل یہ مضمون قارئین پیام کے پیش نظر ہے۔یہ مضمون مولانا سید محمد عون نقوی کی کتاب عرفان حج سے ماخوذ ہے۔

تازہ مقالے