اسلام اور ریاست

اسلام اور ریاست (3)



 امت مظلوم کے کس درد کا نوحہ لکھوں۔ وسائل کی فراوانی کے باوجود مسلم عوام کی کسمپرسی کا حال کہوں، یا سوا ارب سے زیادہ آبادی کے حامل مسلمان ممالک کے نا اہل حکمرانوں کی عیاشیوں کا فسانہ چھیڑوں، امت اسلامیہ کی علمی و فکری پسماندگی کی حکایت بیان کروں یا آپس میں دست و گریباں مسلمانوں کی بپتاکہوں۔ایک جانب پاکستانی حکمران ہیںکہ جنہوں نے اپنے تین بے جرم و خطا شہریوں کے قاتل امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کواپنے ہی قانون کا سہارا لیتے ہوئے فرار کرایاتو دوسری جانب لیبیا اور خلیجی ریاستوں کے حکمران ہیں جو اپنے ہی نہتے عوام کو بارود اور بندوق کے زور پر خاموش کرنے کے درپے ہیں۔



آپ پر 45ھ میں مسجد کوفہ میں نماز پڑھتے ہوئے ایک خارجی شقی نے سرپر زہرمیں بجھی ہوئی تلوار کا وار کیا۔ دو روز بعد آپ نے جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ آپ کا دور ابتلائوں اور مشکلات سے بھرا ہوا تھا اس کے باوجود آپ نے اسلامی حکمرانی کے تابندہ نقوش چھوڑے ہیں۔ اسی مناسبت سے ہم ذیل میں آپ کے طرز جہانبانی کے چند پہلوذکر کررہے ہیں۔ اس آئینے میں ہم آج کے عالم اسلام کی حکومتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔



جب اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو عام لوگ اس سے کیا سمجھتے ہیں ؟ عوام کے ذہن میں اس سوال کے جوا ب میں کچھ کمی و بیشی کے ساتھ ایسی تصویر ابھرتی ہے کہ حکومت پر پگڑیوں اور داڑھیوں والے افراد آجائیں گے ۔ ان کی شلواروںکے پائنچے ٹخنوں سے اوپر ہوں گے ۔ جن کے سر پر پگڑی نہیں ہو گی ، ٹوپی ضرور ہو گی ۔ وہ عوام کو بھی اسی طرح کے احکام دیں گے ۔ 

تازہ مقالے