عصری مسائل

عصری مسائل (4)



انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان شعور سنبھال رہا تھا تو اس نے اپنی ضروریات اور ماحول کے مطابق چیزیں ایجاد کیں ، بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ایجادات بھی نئی سے نئی سامنے آتی رہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔ ہراہم ایجاد اپنے ساتھ ایک نئی تبدیلی لے کر آتی ہے ۔ جب انسان نے پتھر سے لوہے کا استعمال سیکھا ، جانور کو سواری کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا تو اس سے اس کی زندگی میں ایک نئی اٹھان پیدا ہوئی ۔ جب اس نے خود رو چیزوں کے علاوہ خود چیزیں اگانا شروع کیں تو ایک اور تبدیلی آئی ۔



ان دنوں یہ بحث پھر سے تازہ ہو رہی ہے کہ قومیت و ملت کے مسائل کو کیسے حل کیا جائے پاکستان کی شناخت کیا ہونی چاہیے۔ جب قومی و ملی مفادات میں تصادم ہو تو ترجیح کسے دی جانا چاہیے اور کیوں؟ نیز کیاملی و قومی مفادات میں تطبیق ممکن ہے؟
یہ مسائل بہت پیچیدہ ہیں اور بظاہران کا کوئی سادہ جواب نہیں خصوصاً پاکستان کی شناخت کے حوالے سے موجود سوال کی عمر خود پاکستان سے زیادہ ہے اس لیے کہ اس کے لیے ایسے سوالات پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے ہی پیدا ہوگئے تھے اور آج بھی ان پر معرکہ آرائی جاری ہے۔



تقریباً پون صدی محنت کشوں کے حقوق کے نام پر دنیا میں اشتراکیت کا غلغلہ رہا۔ اشتراکیت کے مسئلے پر دنیا میں نظریاتی حوالے سے خاصی افراط و تفریط رہی۔ ایک گروہ کو اس میں خوبیوں کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا اور دوسرے کو خامیوں کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اشتراکیت کے روس میں عملی زوال اور چین میں جوہری تبدیلیوں کے ساتھ نئی اقتصادی پالیسیوں پر عمل درآمد نے اگرچہ اشتراکیت کے بچے کھچے حامیوں کو بڑی مشکل سے دو چار کر رکھا ہے تاہم اس امر سے انکار نہیں کہ اشتراکیت نے عالمی سطح پر اپنے مدمقابل نظام سرمایہ داری کو ایک طویل عرصے تک فکر و عمل کی دنیا میں سخت مقابلے پر مجبور کئے رکھا۔



معاشرتی و سماجی نظریات ہوں یا کوئی تہذیب اس کی شکل گیری اس کے مفکرین کی انسان شناسی اور تصور کائنات سے وابستہ ہوتی ہے۔ مغرب میں کلیسا کے خلاف ایک ہمہ گیر بغاوت نے جو عملی رخ اختیار کیا اس میں سیاست و حکومت سے مذہب کو بے دخل کردیا گیا اورمذہب کو زیادہ سے زیادہ یہ رعایت دی گئی کہ وہ کسی کا پرائیویٹ معاملہ ہوسکتا ہے۔

تازہ مقالے