اجتہاد اور جمود

اجتہاد اور جمود (5)



(مقالۂ حاضر:  انستھیزیالوجی،درد اور انتہائی نگہداشت کی دسویںبین الاقوامی کانفرنس (International Conference of Anaesthesiology, Pain & Intensive Care) کے موقع پر آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈڈیالوجی اینڈ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز (Armed Forces Institute of Cardiology & National Institute of Heart Diseases) راولپنڈی کے شعبہ کی دعوت پر سپرد قلم کیا گیا ہے ۔ اسے پرل کانٹی نینٹل بھوربن میںکانفرنس کی نشست منعقدہ مورخہ 19اکتوبر 2008 میںپیش کیا گیا۔)



۔۱۔ دائمی احکام
روایتی اہل مذہب کا یہ عمومی اصرار رہا ہے کہ جو ’’احکام‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، انھیں ’’دائمی احکام‘‘ کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ روّیہ اہل کلیسا میں بھی ہے اوریہود میں بھی، ہندو مذہبی راہنما بھی یہی کچھ کہتے ہیں اورروایتی مسلمان بھی۔ البتہ شدت میں کمی بیشی بھی ہے اوربعض راہنمائوں کا رویہ اور طرز فکر بھی عمومی روش سے مختلف ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے مختلف مکاتب کے روایتی علماء جن امور پر زور دیتے ہیں ان کی چند مثالیں ہم ذیل میں درج کرتے ہیں:



۱۔ترقی پسندی اوراقبال کا نظریۂ اجتہاد
علامہ اقبال کا نظریہ اجتہاد اسلام کی ترقی پسند روح کا غماز ہے۔اسلامی تعلیمات کی بعض چیزیں ایسی ہیں جن کے تغیر پذیر ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مثال کے طور پر اسلام کی اخلاقی تعلیمات ہیں جیسے سچ بولنا ہے، جھوٹ نہیں بولنا اورایسی دیگر اسلامی اقدار ،اسی طرح اسلام کے بنیادی عقائد مثلاً توحیدپرستی اور شرک کی نفی، اس میں تبدیلی ممکن نہیں۔



اقبال کا نظریۂ اجماع اور عالم اسلام میں اس کا عملی ارتقاء۔۔۔ایک جائزہ
اجتہاد کے بارے میں اپنے معروف خطبے "The Principle of Movement in Islam"میں علامہ اقبال اجماع کے بارے میں کہتے ہیں:



اجتہا د سے متعلق اپنے معروف اور معرکۃ الآراء لیکچر میں علامہ اقبال فرماتے ہیں:
ــ بلاد اسلامیہ میں جمہوری روح کی نشوو نما اور قانون ساز مجا لس کا بہ تدریج قیام ایک بڑا ترقی زاقدم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مذاہب اربعہ کے نمائندے جو سر دست فرداًفرداًاجتہاد کاحق رکھتے ہیںاپنا یہ حق مجالس تشریعی کو منتقل کر دیں گے۔ یو ںبھی مسلما ن چونکہ متعدد فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اس لیے ممکن بھی ہے تو اس وقت اجماع کی یہی شکل ۔ (۱)

تازہ مقالے