دین اسلام

دین اسلام (14)



کتاب کا تعارف
تحریر: ثاقب اکبر

امام حسین علیہ السلام محبوب خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کی نسبت سے ساری امت کو محبوب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر ان کے حضور محبتوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اوراسلام کے لیے ان کی عظیم قربانی کو دین مبین کی بقا کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ہم اسلام ٹائمز کے ناظرین کی خدمت میں اہل سنت کے متعدد اکابر و نامور علما کی امام حسین علیہ السلام سے محبت کے اثبات کے لیے ان کی لکھی ہوئی کتابوں کا تعارف پیش کر چکے ہیں۔ پیش نظر سطور میں ہم معاصر شخصیات میں سے ایک ایسی شخصیت کی کتاب کا تعارف پیش کررہے ہیں جو بلند مرتبہ صوفی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ خاندان حضرت سلطان العارفین سلطان باہوؒ سے نسبت کی وجہ سے پاکستان کے عامۃ المسلمین میں ایک خاص محبوبیت رکھتا ہے۔ خود حضرت سلطان العارفین ؒکے بعض اشعار امام حسین علیہ السلام کے بارے میں زبان زدخاص و عام ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:



تحریر: ڈاکٹر سید مقیل حسین میاں
تعارف:
سید موصوف نے واقعہ کربلا پر طویل مرثیے لکھے ہیں جن میں ایک مرثیہ ایک سو تینتیس ابیات اور دوسرا دو سو تینتیس ابیات پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے میدان کربلاء کے مختلف حالات،کیفیت شہادت امام مظلوم ؑ اورحضرت جبرئیلؑ کا خبرشہادت کو مدینہ میں حضور سرور کونینؐ اور مخدومہ کونین سلام علیھا کی بارگاہ میں لے آنا اور ارواح پنجتن پاکؑ کی کربلاء آمد کو احسن انداز میں قلم بند کیا ہے۔ سید میر انور شاہؒ نے اپنے پیر ومرشد امام ہشتم حضرت امام علی رضاؑ کی شہادت پر دوسو تہتر ابیات پرمشتمل ایک  کلام ارشاد فرمایا ہے جس میں آپ نے امام روؤف کے حالات و کرامات ، مدینہ چھوڑنے ، مشہد(ایران) آمد اور یہاں مامون عباسی کا امام کے برتاؤ اور پھر امام کی شہادت پر فرزند امام حضرت امام محمد تقی ؑ کا معجزہ کے ذریعے مدینہ سےمشہد آنا اور بابا کے صحابی خاص حضرت ابوصلتؒ کے ساتھ مل کر اپنے بابا علی ابن موسیٰ رضاؑ کی تجہیز وتکفین کرنے کی کیفیت کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ 



تحریر: سید اسد عباس
مقدمہ:انسانی تاریخ اور اس میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور حادثات اپنی نوعیت کے اعتبار سے  چاہے جس قدر نئے ہوں، اکثر ایسے حادثات یا واقعات کی نظیر تاریخ انسانیت میں ضرور ملتی ہے تبھی تو کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ انسانی تاریخ میں خون ریزی کا پہلا واقعہ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل ہے۔ آج بھی انسانی ہوس کی بھینٹ چڑھنے والا ہر بے گناہ مقتول ہابیل کی یاد تازہ کرتا ہے اور قاتل قابیل کے کردار کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے۔  اسی طرح بعض تاریخی واقعات اور حادثات نہ فقط انسان کی انفرادی روش سے متعلق ہوتے ہیں بلکہ یہ واقعات نسل انسانی کی منزل اور سمت کے تعین میں بھی راہنمائی مہیا کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا، اس کی وجوہات، پس منظر ، اثرات اور امام حسین علیہ السلام کے اقدامات بھی انسانی تاریخ کی ایسی انوکھی مثال ہیں جس سے بلاتفریق مذہب و ملت انسانوں نے راہنمائی لی۔ اس عظیم سانحہ کے بعد جب بھی کوئی انسان ایسی مشکل سے دوچار ہوا جہاں اسے اصولوں اور زندگی میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا پڑا تو امام حسین علیہ السلام کا اسوہ ہمیشہ ایک معیار کے طور پر اس شخص کے پیش نظر رہا۔



تحریر: سیدہ ندا حیدر
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔
(4 : ‎النساء‎،آیت :59)


 


یہ مضمون مولانا طارق جمیل کی کتاب گلدستہ اہل بیتؑ سے ماخوذ ہے۔

تحریر: مولانا طارق جمیل

حضرت حسینؓ نے کس مقصد کے لیے قربانی دی:
حضرت امام حسینؓ ایک عظیم مقصد کی انجام دہی کے لیے بے چین ہو کر مدینہ سے مکہ اور پھرکہ سے کوفہ جانے کے لیے مجبر تھے  اور جس کے لیے اپنے سامنے اپنی اولاد اور اپنے اہل بیت کو قربان کرکے خود راہ حق میںقربان ہو گئے۔ واقعہ شہادت کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس تمام تر سفر سے آپؓ کا مقصد یہ تھا:



ہجری سال1442 ء آغاز ہو چکا ہے۔ ہجری تقویم کی ابتداء ماہ محرم سے ہوتی ہے جو اہل بیت رسول ؐ اور ان کے پیروکاروں نیز محبین کے لیے غم و حزن کا مہینہ ہے ۔ ماہ محرم الحرام اور ماہ صفر امت رسول ؐ کے مابین ایام عزا کے طور پر معروف ہیں۔عرب معاشرے میں یہ مہینے حرمت والے مہینے تصور کیے جاتے تھے جن میں عرب قبائل جنگوں اور کشت و خون کا سلسلہ ترک کر دیتے تھے، تاہم واقعہ کربلا میں یہ روایت بھی ترک کی گئی اور خانوادہ رسول اکرم ؐ کو میدان کربلا میں تین دن کا بھوکا پیاساتہ تیغ کر دیا گیا۔



تلخیص:
قرآن و حدیث میں علم کا مفہوم کیا ہے؟ وہ کون سے علوم ہیں جن کے حصول کو اسلام نے فرض قرار دیا ہے؟ دینی اور دنیاوی علوم کی اصطلاحات کی حقیقت کیا ہے؟ غیر متغیر (Ultimate) علوم کن کو کہا جاتا ہے ؟ حصول علم خود مقصد ہے یا مقصد کے حصول کا ذریعہ؟ علم اور تعلیم میں کیا فرق ہے؟قرآنی طرز تعلُّم کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کو اس مقالہ میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ڈاکٹر سجاد علی استوری کی یہ علمی و تحقیقاتی تحریر قارئین پیام کے لیے قسط وار شائع کی جا رہی ہے۔



تلخیص:
جو لو گ عقل کی نفی اور توہین پر عقید ۂ نبوت کی بنا استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ وہ نبو ت کے کمال آفرینی کے اہم منصب اور حکمت نبوت سے ناآشنائی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔ عقل ہی تو انسان کا عظیم مابہ الامتیاز ہے ۔ عقل انسان کو مخلوقات عالم میں ممتاز کرتی ہے ۔ نبوت کی ضرورت کو عقل کی نفی اور کمزوری و نارسائی کی دلیل سے ثابت کرنا عقل کی توہین کے مترادف ہے ۔ ہم قرآن حکیم میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بار بار عقل انسانی کو پکارتا ہے ۔ انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ۔ اندھی تقلید تر ک کرنے کے لیے اسے دلیل کی بنیاد پردعوت دیتا ہے ۔ انسان کو دنیا کے سب رنگوں کو چھوڑ کر فطر ت کا الٰہی رنگ اختیار کرنے کی طر ف ابھارتا ہے ۔ 



قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر بعثتِ انبیاء کا سبب بیان کیا گیا ہے۔سورہ مبارکہ بقرہ کی یہ آیت اس حوالے سے بہت جامع اور واضح شمار کی جاتی ہے!



انسان کو عقل ووجدان اور ضمیر و فطرت سے نواز گیا ہے ۔ سار ی کائنات کا نظام انسانی فطرت و عقل سے ہم آہنگ ہے ۔

تازہ مقالے