دینی مسالک

دینی مسالک (5)




 
سید اسد عباس

اباضیہ کو ہمیشہ "خوارج" کا گروہ کہا گیا ہے، اِس کی بنیادی وجہ اُن کادیگر خارجی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اموی حکمرانوں کے خلاف برسرِ پیکار رہنا ہے۔




 
سید اسد عباس

زیدیہ معروف شیعہ فرقہ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ "حضرت علی، امام حسن اور امام حسین اور "زید بن علی" کے بعد امامت کا عہدہ ہر اس فاطمی کے لیے ہے جو لوگوں کو اپنی طرف بلائے




 
سید اسد عباس

موحدون یا دروزیہ کا تعلق بھی بنیادی طور پر اسماعیلیہ کے فاطمی سلسلے سے ہے۔ اِس کا شمار بھی دنیا کے اُن فرقوں میں ہوتا ہے جن کی تعداد بہت کم ہے۔موحدون، دروزیہ خالص عرب ہیں۔اِن کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ملین سے دو ملین تک ہے۔موحدون، دروزیہ کی ایک بڑی تعداد لبنان، شام اور فلسطین میں آباد ہے؛ جبکہ دنیا کے دیگر ممالک خاص کر مغربی ممالک میں بھی اِن کی کچھ تعداد موجود ہےجو عرب خطوں سے ہجرت کر کے وہاں گئی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف براٹینیکا کے مطابق موحدون، دروزیہ کی تعداد لبنان میں تقریباً تین لاکھ سے زائد، شام میں اندازاً چھ لاکھ سے زائد جبکہ فلسطین میں ان کی تعدادکا تخمینہ لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ نفوس یا اس سے زائد پر مشتمل ہے، جبکہ موحدون،دروز کا دعویٰ ہے کہ اُن کی تعداد دو ملین سے کچھ زیادہ ہے۔




 
سید اسد عباس

اسماعیلی، شیعہ اثنا عشری کے پہلے چھ اماموں کی امامت کے قائل ہیں؛ بعد ازاں وہ امام جعفر صادق کے بعد اُن کے بڑے بیٹے اسماعیل یا اسماعیل کے بیٹے محمد کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اِس طرح وہ سات اماموں کی امامت کے قائل ہیں۔ یہ عقیدہ تمام اسماعیلی فرقوں میں مشترک ہے اور اسی لیے اسماعیلیہ کو سبعہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس نام کی ایک وجہ تسمیہ یہ بھی ہے کہ اسماعیلیہ، شیعہ اثنا عشریہ سے ساتویں امام پر اختلاف کرتے ہیں۔درج ذیل تحقیق مقالے میں البصیرہ کے محقق جناب مفتی امجد عباس نے اسماعیلیہ کے عقائد، نظریات، فرقوں ، دیگر مسلمانوں سے اختلافات اور امتیازات، بنی فاطمہ کی مصر میں حکومت اور اسی طرح کے موضوعات کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا ہے ۔مفتی امجد عباس اس سے قبل زیدیہ ، اباضیہ کے حوالے سے بھی ایسے ہی مضامین تحریر کر چکے ہیں ۔ یہ مضامین ان فرقوں کو جاننے کے لیے ایک اہم تعارفی منبع ہیں۔ (ادارہ)




 
سید اسد عباس

اسماعیلیہ بھی دیگر شیعہ مسالک کی طرح امام علیؑ کو امامِ منصوص مانتے ہی وہ شیعہ اثنا عشریہ کے پہلے چھ اماموں کی امت کے قائل ہیں؛ بعدازاں وہ امام جعفر صادقؑ کے بعد ان کے بڑے بیٹے اسماعیل یا اسماعیل کے بیٹے محمد کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔اس طرح وہ سات اماموں کی امامت کے قائل ہیں۔ یہ عقیدہ تمام اسماعیلی فرقوں میں مشترک ہے۔ گذشتہ قسط میں جناب مفتی امجد عباس نے اسماعیلیہ کی تاریخ، فرقوں اور ان کے بنیادی اعتقادات کا اجمالی جائزہ پیش کیا تھا۔ زیر نظر مقالے میں معاصر اسماعیلی فرقوں؛ آغا خانیوں اور بوہروں کی آبادی اور ان کے عقائد و نظریات کا اختصار سے جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آئندہ دروزیہ کے عقائد و نظریات کا جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔ مفتی امجد عباس اس سے قبل زیدیہ، اباضیہ اور نور بخشی فرقہ کے حوالے سے بھی ایسے مضامین تحریر کر چکے ہیں۔ یہ مضامین ان فرقوں کو جاننے کے لیے ایک اہم تعارفی منبع ہیں۔ (ادارہ)

تازہ مقالے