اتحاد بین المسلمین

اتحاد بین المسلمین (10)



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے ، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے ۔ ہمارے وزیر اعظم اسے نازی ازم کاانڈین برانڈ سمجھتے ہیں کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے ۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے ۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے ۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے ۔
 



 

تحریر: ڈاکٹر محمد حسین(امریکہ)
پاکستان ایک بار پھر فرقہ وارانہ فسادات اور قتل و غارت کی دہلیز پر پہنچتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔گزشہ  کچھ عرصے سے  تسلسل سے پیش آنے والے واقعات نے  فرقہ وارانہ ہوا کو  ایک بار پھر بھڑکایا ہے۔ جبکہ مسلم ممالک کی باہمی چپقلس  اور رسہ کشی میں پاکستانی عوام  جکڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔     لاک ڈاؤن اور معاشی تنگدستی کی عوامی  نفسیاتی فرسٹریشن   اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دستیابی نے  فرقہ وارانہ  منافرت کو مزید ہوا دی ہے۔ خاص طور پر اس دفعہ  شیعہ سنی تقسیم  مزید گہری  ہوتی جا رہی ہے۔    



 

تحریر: ڈاکٹر حمزہ ابراہیم

برصغیر پاک و ہند کے مسلمان معاشرے  میں عوامی سطح پر فرقہ وارانہ تصادم کا آغاز 1820ء میں ہوا، اور محرم  2020ء میں اس سلسلے کو جاری ہوئے دو سو سال پورے ہو چکے ہیں۔برصغیر میں اسلام حضرت علی کےدور میں ہی  آ چکا تھا اور  یہاں آنے والے ابتدائی مسلمانوں میں حکیم ابن جبلہ عبدی جیسے  شیعہ بھی شامل تھے۔  لیکن یہاں  شیعہ  کلنگ  کے  واقعات بہت کم ہوتے تھے۔ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں اس قسم کا پہلا واقعہ عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کے لشکر کے ہاتھوں امام حسنؑ کے پڑ پوتے  حضرت عبد اللہ شاہ غازی ؑاور انکے چار سو  ساتھیوں کا قتل ہے جو  تاریخ طبری کے مطابق 768ء، یعنی151 ہجری، میں  پیش آیا [1]۔ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ  1005 ء میں محمود غزنوی کے ہاتھوں ملتان میں خلافتِ فاطمیہ سے منسلک اسماعیلی شیعہ سلطنت کے خاتمے اور شیعہ مساجد اور آبادی کی تباہی کاملتا ہے[2] ۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے 2010کے آخرمیں وحدت اسلامی کی حفاظت کے لیے ایک ایسا تاریخی فتویٰ جاری کیا ہے جس نے عالمی شہرت اور پذیرائی حاصل کی ۔اس سلسلے میں انھوں نے ایک استفتاء کے جواب میں برادران اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔ذیل میں مذکورہ استفتاء ، اس کا جواب اور علمائے اسلام کی طرف سے اس کے استقبال کا ایک انتخاب پیش کیا جارہا ہے ۔یہ دستاویز جناب سید ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی سے ماخوذ ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
تعارف:

امت اسلامیہ کی صفوں میں اتحاد کے لیے اور انتشار پسند قوتوں کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے عالم اسلام میں وقتاً فوقتاً کوششیں جاری رہتی ہیں۔کئی ایک قدآور مذہبی اورسیاسی شخصیات نے دلسوزی کے ساتھ امت کی اس سلسلے میں مختلف مواقع پر راہنمائی کی ہے۔جناب ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی میں ان کاوشوں اور دستاویزات کو شائع کیا گیا ہے ۔قارئین کے استفادہ کے لیے ان دستاویزات کو پیام میں شائع کیا جارہا ہے۔



تحریر: نثار علی ترمذی
مذکورہ بالا عنوان خود مولانا مودودیؒ نے تجویز کیا ہے اور کیا خوب کیا ہے۔ واقعی یہ ایک فتنہ ہے جس سے امت محمدی اس وقت دوچار ہے ۔خصوصاً پاکستان کے بسنے والے سب مسلمان اس فتنے کی زد میں ہیں۔ اگر یہ فتنہ زبانی حد تک ہوتا تو شاید یہ معاملہ اتنا تشویشناک نہ تھا ۔ مگر اب تو یہ فتنہ ناسور بن کر رہ گیا ہے۔ اس کی زد میں ہرسن و سال کے لوگ اور ہر مبارک اور متبرک جگہ آ چکی ہے کہ جہاں سے امن و آشتی اور صلح جوئی کی آوازیں اٹھنی تھیں وہاں سے اب ایک دوسرے کو کافر کہنے کے اعلانات ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مال و اسباب اور ناموس کو لوٹنے کے علاوہ قتل و غارت گری کے منصوبے بنتے بھی ہیں اور عمل بھی ہوتا ہے۔ اللہ نے اپنے حبیبؐ کو اس لیے مبعوث فرمایا کہ وہ لوگوں کو مسلمان بنائیں جبکہ ان کے امتی ان کے نام پر مسلمانوں کو کافر بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایک مومن کا خون حرم محترم کے تقدس سے بالاتر تھا  جبکہ آج ایک مومن کا خون اس بے دردی سے بہایا جاتا ہے کہ سرزمین پاک اب لہو لہان ہو چکی ہے۔ یہ خون مسلمانوں کا خون ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا ہے۔ نہ جانے یہ لوگ روز قیامت اپنے نبیؐ کو کیا منہ دکھائیں گے۔



محرم الحرام جو قمری سال کا پہلا مہینہ ہونے کے ساتھ ساتھ شہادت امام حسین علیہ السلام کےحوالے سے ایک خصوصی نسبت کا حامل مہینہ ہے میں عموما تمام مسلمان مل کر نواسہ رسول ؐ کا غم مناتے ہیں۔ عاشقان اہل بیت اس غم کو منانے کے لیے اپنے اپنے انداز اور طریقے اختیار کرتے ہیں۔ کہیں مجالس برپا ہوتی ہیں ، تو کہیں کانفرنسیں اور محافل منعقد کی جاتی ہیں ، کوئی تعزیہ نکالتا ہے تو کوئی سبیل و نیاز کا اہتمام کرتا ہے۔ مسلمان تو ایک جانب بہت سے ہندو ، مسیحی اور دیگر ادیان کے ماننے والے بھی اس مناسبت کو اپنے انداز سے مناتے ہیں ۔ اس ہم آہنگی اور یک رنگی کی فضا کو عموماملک میں موجود بعض شدت پسندوں اور غیر ذمہ دار افراد کی وجہ سے نظر لگتی ہے جس سے نفرتیں پورے معاشرے پر حاوی دکھائی دیتی ہیں۔



پس منظر
راقم کی ایک کتاب ’’پاکستان کے دینی مسالک‘‘  2010 کے آخر میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے مختلف مسالک کے علمائے کرام کا نقطۂ نظر شامل کیا گیا ہے۔ بعض علمائے کرام سے اس سلسلے میں راقم نے انٹرویو کیا اور بعض نے تحریری طور پر اپنی رائے سے آگاہ کیا۔ علاوہ ازیں بعض کی تحریروں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ سب قابل احترام علماء نے امت اسلامی کے مختلف مکاتب فکر کے مابین اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے نیز انھوں نے دوسروں کو کافر قرار دینے کے رویے کی بھی مذمت کی ہے۔ اس باب میں ہم مذکورہ کتاب سے اس ضمن میںان کی آراء قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہے ہیں:



دینی مسالک کے مابین قربت کی ضرورت 
اس میں شک نہیں کہ مختلف دینی مسالک کے ماننے والوں کا عمومی رویہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کی بات نہیں سنتے بلکہ  اپنی محفلوں میں دوسروں کو آنے کی دعوت تک نہیںدیتے ۔ اس غیر صحت مندانہ رجحان سے غیر صحت مندانہ معاشر ہ تشکیل پاچکا ہے ۔ اس صورت حال کا ازالہ بحیثیت قوم بقا کے لیے ناگزیر ہے ۔ اس سلسلے میں ہم ذیل میں چند معروضات پیش کرتے ہیں :



الف:   تاریخی تناظر میں 
سیاسی‘ مذہبی اور کلامی حوالے سے مسلمانوں میں مختلف نکتہ ہائے نظر کا وجود نیا نہیں ۔ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے فوری بعد سے تاریخ کی واضح شہادتیں اختلاف نظر کے بارے میں دکھائی دیتی ہیں مختلف آئمہ فقہ کے پیروکار پوری تاریخ اسلام میں موجود رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔

تازہ مقالے