تدوین و ترتیب : سید اسد عباس
ماہنام پیام ۱۹۹۷ء سے شائع ہورہا ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے قارئین تک علی و فکری مطالب کو بہم پہنچایا جائے تاکہ تشنگان علم کی آبیاری کی سبیل جاری رہی۔ زیر نظر تحریر میں ہم نے ماہنامہ پیام کے دستیاب شماروں میں شائع ہونے والے سیرت النبی ؐ سے متعلق مقالات کی ایک Category کو مرتب کیا ہے نیز اس عنوان سے ماہنامہ پیام کے خصوصی شماروں کا الگ سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ امید ہے یہ Category قارئین کے لیے مفید اور لائق تشویق ہوگی۔ اشاریہ یا Category سازی کا یہ کام قبلا پروفیسر عارف حسین نقوی مرحوم انجام دیا کرتے تھے آج ان کے تشکیل دئیے ہوئے اشاریوں سے استفادے کا سلسلہ جاری ہے۔ مقالات کی تلاش اور موضوعات کے تعین مین یہ اشاریے نہایت مفید ہیں۔ اللہ کریم مرحوم پروفیسر عارف حسین نقوی کو اس علمی خدمت پر اجر عظیم عنایت فرمائے۔



تحریر: ڈاکٹر ندیم بلوچ
مقدمہ:
خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے اسی سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔خاندان کے تمام افراد وہ ستون ہوتے ہیں جو  اس بنیادی معاشرتی اکائی کوتشکیل دیتے ہیں۔یہ اکائی جس قدر مضبوط و مستحکم ہو گی  معاشرہ اتنا ہی  بہتر اور توانا ہو گا۔اسی لیے ہر تہذیب اپنے معاشرتی نظام کی تشکیل کے لیے خاندان پر بہت توجہ دیتی ہے۔مرد و عورت کے  مجموعی حقوق  وفرائض کے دائرہ کار کو طے کیا جاتا ہے،ان کی مختلف حیثیتوں کو واضح کیا جاتا ہے۔خاندانی اقدار  کا تحفظ ہی معاشروں  کو  زندگی کے اتارو چڑھاو میں مدد دیتا ہے۔مغرب نے خاندانی نظام کو اجتماعیت سے انفرادیت کی شکل دے دی  اس سے انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔بہت سے ادارے جو  اجتماعیت میں بے معنی تھے اور انہیں  عیب سمجھا جاتا تھا  انفرادیت کا راستہ اختیار کرنے کے لیے وہ بہت ضروری ٹھہرے ۔اولڈ ہومز کا تصور،بے تحاشہ انشورنس،انفرادیت کے نتیجے میں  پیدا ہونے والی نفسیاتی بیماریاں اور ان کی علاج گاہیں۔ 



تحریر: سید مزمل حسین نقوی 
 
کلیدی کلمات:  ابتدائی جہاد ،دفاعی جہاد،جہاد اکبر ،جہاد اصغر،دہشت گردی
خلاصہ:دین انسان کو دنیا میں پرامن اور آخرت میں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے ،دین میں جنگ، قتل وغارت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اسلام کو فطری اور امن پسند دین کہاگیا ہے، جبکہ اس کی الہامی کتاب میں جہاد پر بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن میں تقریباً چوہتر آیات جہاد کے متعلق ہیں جن میں جہاد کے بہت سے فائدے بیان کئے گئے ہیں۔لغت میں لفظ جہاد جہد سے ماخوذ ہے جس کی معنی طاقت اور مشقت سہنے کے ہیں۔ اصطلاحاًہروہ عمل جہاد ہے جس سے اسلام کا بول بالا ہو، شعائر ایمان قائم ہوں۔جہاد کی مختلف قسمیں بنتی ہیں مثلاً جہاد بالعلم، جہاد بالعمل، جہاد بالمال، جہاد بالنفس اور جہاد بالسیف وغیرہ۔قرآن دفاعی جنگ کی حمایت کرتا ہے اور جنگ  میں پہل کونا پسندیدہ سمجھتا ہے۔



تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل
سابق استاذ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

جسم و روح کے اتصال سے زندگی وجود میں آتی ہے۔ جب انسانی زندگی قائم ہو جاتی ہے، تو وہ سدا قائم رہتی ہے اور اسے کبھی فنا نہیں آتی۔ چنانچہ ’’لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ‘‘(۱) کا یہی مقصد و منشاء ہے۔ یہ اور بات ہے کہ انسانی زندگی کے مختلف مراحل ہوتے ہیں اور یہ زندگی ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتی رہتی ہے اور جدید تجربات اور نئے حالات و کوائف سے گزرتی رہتی ہے۔ اسی طرح یہ امر بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق کائنات ہے وہ رب العالمین  ہے، وہی ہدایت کا مصدر و منبع ہے اور وہی ’’إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ‘‘(۲) کا مستحق اور سزا وار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ مالک کون و مکان جسم و روح کے باہمی اتصال سے انسانی زندگی پیدا کرتا ہے تو وہ حدیث نبوی کی رو سے انسان کی غذا بھی مقرر کردیتا ہے اور اس کی ہدایت کا سامان بھی فراہم کردیتا ہے۔



آمد مصطفی مرحبا مرحبا
افضل الاناس، خیر البشر، ختم الرسل، رحمت دو جہاں، ہادی انس و جاں، داور بے کساں، منجی بشر،احمد ، محمد، مصطفی ، طہ،یس،،مزمل جس کا خود خالق کائنات ثناء خواں ہےاس کی بھلا کوئی انسان کیا تعریف و توصیف بیان کرے۔ ہماری زبان اور قلم میں وہ سکت ہی نہیں کہ اس ہستی کے وصف کو بیان کرسکیں۔ممدوح خدا ہونا ہی وہ وصف ہےکہ پوری انسانیت اس ہستی کے گن گاتی رہی ۔ ماہ ربیع الاول کائنات کی اس بہار کی آمد کا مہینہ ہے۔ یہ اس گل سرسبد کے کھلنے کا موسم ہے جس کی خشبو نے طول تاریخ میں اقوام عالم کو پاکیزگی اور لطافت سے معطر کر دیا۔ یہ اس نور کے ظہور کی گھڑی ہے جس نے دنیا کے گوش و کنار کوتوحید کی کرنوں سے روشن کر دیا۔ اہل ایمان کے دل اس مبارک گھڑی میں خوش کیوں نہ ہوں ؟ کیوں نہ اس بدر کے طلوع کا جشن منائیں اور خوشی کے عالم میں گنگناتے پھریں :
طَلَعَ الْبَدرُ عَلَیْنَا
مِنْ ثَنِیّا تِ الْودَاعٖ
وَجَبَ الشّْکرُ عَلَیْنا
مَا دَ عَا لِلّٰہِ دَا عٖ 



 
سید ثاقب اکبر نقوی

وہ تمام آیات جو اہل بیت رسالت کی شان میں نازل ہوئیں، اُن سب کا ایک بارز مصداق امام حسن مجتبیٰؑ بھی ہیں۔ آیت تطہیر آپ کی طہارت نفس کی شہادت دیتی ہے۔ آیت مباہلہ آپ کے فرزند رسول ہونے اور آپ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے اور آیت مودّت آپ کی مودت و محبت کے اجر رسالت ہونے کو بیان کرتی ہے۔ اسی طرح وہ تمام احادیث جو اہل بیت اطہار ؑکی شان و عظمت پر گواہ ہیں یا ان کی اطاعت کو امت پر فرض گردانتی ہیں، وہ آپ کے عظیم المرتبت ہونے اور امام مطاع ہونے پر شاہد عادل ہیں۔ نبی کریمؐ نے جس طرح اہل بیتؑ کے دیگر افراد کا نام لے لے کر ان کے مقام والا کو بیان کیا ہے، اُسی طرح امام حسن علیہ السلام کے علوّ شان کو نام کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر

بھارت میں اس وقت آر ایس ایس کی حکومت ہے ، بی جے پی اس کا سیاسی ونگ ہے ۔ ہمارے وزیر اعظم اسے نازی ازم کاانڈین برانڈ سمجھتے ہیں کیونکہ تاریخی طور پر آر ایس ایس ہٹلر کے نازی ازم سے متاثر ہے ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کی جان ان کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ آر ایس ایس کو دیکھا جائے تو وہ اسی ناپاک مشن کو پورا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے ۔ وہ مسلمانوں سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے وجود کو ختم کر دینا چاہتی ہے ۔ وہ گائے کو مقدس جانتی ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمان کی جان کو بے وقعت قرار دیتی ہے ۔ نظریات کے اس پورے پیکیج کو ہندوتوا کہا جاتا ہے ۔
 



 

تحریر: ڈاکٹر محمد حسین(امریکہ)
پاکستان ایک بار پھر فرقہ وارانہ فسادات اور قتل و غارت کی دہلیز پر پہنچتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔گزشہ  کچھ عرصے سے  تسلسل سے پیش آنے والے واقعات نے  فرقہ وارانہ ہوا کو  ایک بار پھر بھڑکایا ہے۔ جبکہ مسلم ممالک کی باہمی چپقلس  اور رسہ کشی میں پاکستانی عوام  جکڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔     لاک ڈاؤن اور معاشی تنگدستی کی عوامی  نفسیاتی فرسٹریشن   اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دستیابی نے  فرقہ وارانہ  منافرت کو مزید ہوا دی ہے۔ خاص طور پر اس دفعہ  شیعہ سنی تقسیم  مزید گہری  ہوتی جا رہی ہے۔    



 

تحریر: ڈاکٹر حمزہ ابراہیم

برصغیر پاک و ہند کے مسلمان معاشرے  میں عوامی سطح پر فرقہ وارانہ تصادم کا آغاز 1820ء میں ہوا، اور محرم  2020ء میں اس سلسلے کو جاری ہوئے دو سو سال پورے ہو چکے ہیں۔برصغیر میں اسلام حضرت علی کےدور میں ہی  آ چکا تھا اور  یہاں آنے والے ابتدائی مسلمانوں میں حکیم ابن جبلہ عبدی جیسے  شیعہ بھی شامل تھے۔  لیکن یہاں  شیعہ  کلنگ  کے  واقعات بہت کم ہوتے تھے۔ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں اس قسم کا پہلا واقعہ عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کے لشکر کے ہاتھوں امام حسنؑ کے پڑ پوتے  حضرت عبد اللہ شاہ غازی ؑاور انکے چار سو  ساتھیوں کا قتل ہے جو  تاریخ طبری کے مطابق 768ء، یعنی151 ہجری، میں  پیش آیا [1]۔ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ  1005 ء میں محمود غزنوی کے ہاتھوں ملتان میں خلافتِ فاطمیہ سے منسلک اسماعیلی شیعہ سلطنت کے خاتمے اور شیعہ مساجد اور آبادی کی تباہی کاملتا ہے[2] ۔



 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے 2010کے آخرمیں وحدت اسلامی کی حفاظت کے لیے ایک ایسا تاریخی فتویٰ جاری کیا ہے جس نے عالمی شہرت اور پذیرائی حاصل کی ۔اس سلسلے میں انھوں نے ایک استفتاء کے جواب میں برادران اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔ذیل میں مذکورہ استفتاء ، اس کا جواب اور علمائے اسلام کی طرف سے اس کے استقبال کا ایک انتخاب پیش کیا جارہا ہے ۔یہ دستاویز جناب سید ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی سے ماخوذ ہے۔

تازہ مقالے