ہفته, 17 أكتوبر 2020 09:55


 
سید ثاقب اکبر نقوی

وہ تمام آیات جو اہل بیت رسالت کی شان میں نازل ہوئیں، اُن سب کا ایک بارز مصداق امام حسن مجتبیٰؑ بھی ہیں۔ آیت تطہیر آپ کی طہارت نفس کی شہادت دیتی ہے۔ آیت مباہلہ آپ کے فرزند رسول ہونے اور آپ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے اور آیت مودّت آپ کی مودت و محبت کے اجر رسالت ہونے کو بیان کرتی ہے۔ اسی طرح وہ تمام احادیث جو اہل بیت اطہار ؑکی شان و عظمت پر گواہ ہیں یا ان کی اطاعت کو امت پر فرض گردانتی ہیں، وہ آپ کے عظیم المرتبت ہونے اور امام مطاع ہونے پر شاہد عادل ہیں۔ نبی کریمؐ نے جس طرح اہل بیتؑ کے دیگر افراد کا نام لے لے کر ان کے مقام والا کو بیان کیا ہے، اُسی طرح امام حسن علیہ السلام کے علوّ شان کو نام کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔

بعض احادیث حسنینؑ کریمینؑ دونوں کے بارے میں ہیں اور بعض دونوں کے روحانی و معنوی مرتبے کو الگ الگ بیان کرتی ہیں۔ نبی کریمؐ نے بعض احادیث میں دونوں کے آئندہ کے کردار کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔

حسنین شریفین کے بارے میں یہ حدیث تو زبان زد عام ہے کہ: الحسن والحسین سیدا شبابِ اہل الجنہ "حسن اور حسین دونوں جوانان جنت کے سردار ہیں۔" اسی طرح دونوں فرزندان رسولؐ کے بارے الگ الگ بھی آنحضرتؐ کے فرمودات نقل ہوئے ہیں۔ امام ترمذی نے امام حسنؑ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ: "رسولؐ اللہ امام حسن کو دوش مبارک پر سوار کرکے فرماتے: خداوندا! میں اسے محبوب رکھتا ہوں تو بھی اسے محبوب رکھ۔" ایک اور روایت میں آپ نے یہ بھی فرمایا: "اور (اے اللہ!) جو اسے محبوب رکھے تو اسے بھی محبوب رکھ۔" اسلام میں مرکز و محور رسول ؐاسلام کی ذات ہے۔ ہم نے قرآن انہی کے ذریعے حاصل کیا۔ آپؐ کی ذات ہدایت، خیر، بھلائی اور نیکی کا سرچشمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری محبت کو قبول کرنے کا پیمانہ آنحضرتؐ کی اتباع کو قرار دیا ہے۔ دین اسلام میں عقیدہ توحید کے بعد اصل الاصول خاتم النبیینؐ ہی کی ذات ہے۔ یہی امر امام حسنؑ کی شخصیت کو پہچاننے کے لیے ہمارا مقدمہ ہے۔

آنحضرتؐ نے اُن کے جو مناقب و فضائل بیان کیے ہیں، وہ اس لیے نہیں کہ آپؐ امام حسن کے نانا ہیں بلکہ اس لیے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے نبی و رسول ہیں۔ حق کی طرف سے مخبر صادق ہیں۔ آپؐ کا امام حسنؑ اور امام حسینؑ کو جوانانِ جنت کا سردار قرار دینا ظاہر کرتا ہے کہ یہ دونوں حق کے پیشوا اور ہادیانِ برحق ہیں۔ اُن کے اقدامات منشائے حق کے ترجمان ہیں۔ اس سے ہٹ کر کوئی اصول مذہب کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔ ان اصولوں کی اگر اس اصل الاصول سے مطابقت نہیں تو ان میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ امام حسنؑ و امام حسینؑ کے بارے میں متعدد احادیث سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی خوشنودی رسول اکرمؐ کی خوشنودی ہے اور رسول اکرمؐ کی خوشنودی خدا تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ آنحضرتؐ فرما چکے کہ اہل بیت کی مثال کشتیٔ نوح کی سی ہے، جو اس میں سوار ہوا، اُس نے نجات پائی اور جو دور رہا، وہ ہلاک و غرقاب ہوا۔ جب یہ حقیقت ہے تو پھر ہر وہ شخص جو ان کے مقابل آیا اور جس نے ان کو اذیت دی، اسے کوئی اور مقام و مرتبہ فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اُس کا عمل زیر سوال آئے گا، نہ کہ اہل بیت اطہارؑ کا۔

ہم نے یہ بات اس لیے کہنا ضروری سمجھا کہ امام حسن ؑکے بارے میں ایسے عظیم اور واشگاف حقائق موجود ہونے کے باوجود بعض شاہوں کے قلم کاروں اور جعل سازوں نے امام حسنؑ مجتبیٰ کے بارے میں افسوسناک باتیں پھیلا رکھی ہیں، طرح طرح کی الزام تراشیاں کی ہیں اور اس فرزند رسولؐ کی کردار کشی کی منحوس کوششیں کی ہیں۔ اس کے پیچھے ملوکیت کی دسیسہ کاریاں اور خاندان عصمت و طہارت سے بغض و عناد کی ریشہ دوانیاں کار فرما ہیں۔ البتہ ان سب کے باوصف اگر ہم آنحضرت کے فرامین کے آئینے میں آپؐ کی شخصیت کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے تو آپ کا اجلا اور نورانی چہرہ روشن ہو کر ہمارے سامنے آجائے۔ آپ کے بارے میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس مستبد و سفاک قوت نے آپ کو زہر دلوا کر شہید کروایا، اُسی نے آپ کی کردار کشی کے لیے جعل سازیوں اور افترا پردازیوں کا بھی سامان کیا، لیکن دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں، جنھوں نے مکرو فریب کے پردے چاک کرکے حقیقت شناسی کے لیے راہ ہموار کی۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ امام حسن مجتبیٰ اگرچہ اہل بیت رسالت میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں، لیکن آپ کے بارے میں منفی پراپیگنڈا ریاکار، منافق اور ناصبی گروہ کی طرف سے بہت زیادہ کیا گیا۔ اس کے پیچھے جاہ طلبی، ہوس اقتدار اور مادہ پرستی کے سوا کچھ نہیں۔ ایسے میں ضروری تھا کہ اس فرزند رسولؐ کا حقیقی اسوہ و کردار امت کے سامنے پیش کرنے کے لیے زیادہ کوششیں کی جاتیں، لیکن اس پر افسوس کیے بغیر چارہ نہیں کہ ایسا بہت کم ہوا۔ امام حسینؑ جو آپ سے چھوٹے ہیں اور آپ ہی کی طرح سردار جوانان جنت ہیں، ان کے بارے میں جتنا کچھ لکھا گیا، آپ کے بارے میں اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں لکھا گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فریضۂ فراموش شدہ کو ادا کرنے کے لیے محققین کمر ہمت باندھیں۔

ہماری نظر میں اس پہلو سے امام حسنؑ، امام حسینؑ سے زیادہ مظلوم ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس داستان کو بیان کرنے میں کئی مشکل مقام آتے ہیں۔ صدیوں سے کی گئی ذہن سازی اور جعلی روایات کی تاثیر سے فکر و نظر کو نکالنا اور غیر جذباتی فضا میں حقائق کو قبول کرنے کے لیے طبیعتوں کو آمادہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ تاریخ کے کئی مقامات پر ایسی ایسی ظرافت کاری سے دروغ بافی کی گئی ہے کہ ان کی حقیقت سے نقاب الٹنا اتنا آسان بھی نہیں رہا۔ ان مقامات کو مقامات آہ و فغاں ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ جب ظالم ملوک پر تقدس کی چادر بھی تان دی گئی ہو تو حق بیانی اور بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ تاریخ کے ایسے ہی گوشوں پر نظر ڈالتے ہوئے سلاطین و ملوک کی باران نوازش کے تحت رقم شدہ کتب تاریخ کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے:

 
ظاہریت کی کتابوں میں چھپا کر رکھ دیے
آہ وہ نوحے جو تاریخوں کے خستہ دل میں ہیں

 


بشکریہ: اسلام ٹائمز
Read 88 times

تازہ مقالے