منگل, 06 أكتوبر 2020 06:54
Written by


 

تحریر: ڈاکٹر محمد حسین(امریکہ)
پاکستان ایک بار پھر فرقہ وارانہ فسادات اور قتل و غارت کی دہلیز پر پہنچتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔گزشہ  کچھ عرصے سے  تسلسل سے پیش آنے والے واقعات نے  فرقہ وارانہ ہوا کو  ایک بار پھر بھڑکایا ہے۔ جبکہ مسلم ممالک کی باہمی چپقلس  اور رسہ کشی میں پاکستانی عوام  جکڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔     لاک ڈاؤن اور معاشی تنگدستی کی عوامی  نفسیاتی فرسٹریشن   اور انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دستیابی نے  فرقہ وارانہ  منافرت کو مزید ہوا دی ہے۔ خاص طور پر اس دفعہ  شیعہ سنی تقسیم  مزید گہری  ہوتی جا رہی ہے۔    


پارلیمنٹ،  سیاسی تنظیموں،  اسلامی نظریاتی کونسل، روئت ہلال کمیٹی  کے اجلاسوں،  مدارس کے وفاقوں کی تنظیمات، مذہبی جماعتوں بشمول متحدہ مجلس عمل، ملی یکجہتی کونسل میں ساتھ بیٹھنے والے سرکردہ  رہنما بھی اس صف بندی میں  آگے آگے نظر آ تے ہیں۔یہ قائدین بھی فرقہ وارانہ انتہاپسندی میں ملوث عناصر کی  سرپرستی میں   اس مہم میں برابر کے شریک ہیں جس میں ریاست کے آئین کے مطابق مسلمان کی Category میں شامل ایک پورے  مکتب فکر کی   سر عام ایسی تکفیر  کی جا رہی ہے جس کا  مطلب  اور نتیجہ فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کی صورت میں ماضی میں نکلتا رہا ہے۔
          ملک کی بائیس کروڑ کی آبادی  کا  چونسٹھ  فیصد  تیس سال سے کم عمر کے جوانوں پر مشتمل ہے  ۔ پاکستانی سماجی ساخت اور  بے روزگاری کے باعث جن کی مشغولیت کا سب سے خطرناک  پہلو  فرقہ وارانہ  انتہاپسندانہ  سرگرمیاں ہیں،  کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں نکلنے والی  فرقہ وارانہ ریلیاں اس نوجوان طبقے کو  ایندھن کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔   
حالیہ تناؤ کے تناظر میں سوال یہ ہے کہ   اگر اہل تشیع کے ذمہ دار علما، رہنما اور مراجع کی جانب سے اہل سنت کے مذہبی مقدسات کی توہین کے حرام ہونے  اور اپنے کروڑوں پیروکاروں کو  توہین  سے روکنے کی کوشش کو نظر انداز کر کے چند غیر ذمہ دار  افراد کے قابل اعتراض  مواد کو لے کر ہنگامہ شروع کرنا ہے تو اس کا انجام   فرقہ وارانہ قتل  و غارتگری  کی صورت میں ہی ہوگا۔     اگر چند افراد کی غلط بیانوں یا خطابات جن پر قانونی  کاروائی چل رہی ہے،  کی بنیاد پر کروڑوں شہریوں پر مشتمل ایک پوری کمیونٹی کو نفرت و اشتعال کا نشانہ بنایا جانا ہے تو دوسری طرف سے بھی یہ طریقہ اپنایا جا سکتا ہے کہ طالبان، داعش،  لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ کو اہل سنت کے ہی ترجمان سمجھا  جائے، وہ یہ بھی مطالبہ کر سکتے ہیں کہ   تاریخ کی ان شخصیات جن کو وہ ان کی  مقدس شخصیات کی حریف پارٹی  سمجھتے ہیں  کی توصیف و تعریف سے  ان کے ''جذبات'' مجروح ہو رہے ہیں۔ اف   دونوں اطراف کے یہ نازک جذبات کیا بلا ہیں! جو ہر وقت  مجروح  ہی ہوتے رہتے  ہیں مگر  کراچی کی مروہ، قصور کی زینب اور اسلام آبادہ کی فرشتہ کو درندگی کا شکار ہونے  پر گھروں سے نکلنے  بھی نہیں دیتے۔
اور اگر اس  نفرت انگیز مہم کا   مقصد مقدسات کی توہین  پر برہمی کا اظہار ہے توحالیہ دنوں میں    سویڈن اور ناروے میں  میں سرعام قرآن مجید پھاڑنے اور  فرانس میں پیغمبر اسلام ﷺ کے خاکے شائع کرنے پر   ایسی صف بندی  اس دفعہ نظر نہیں آئی۔     کیا قرآن اور پیغمبر اسلام ﷺ سے بڑھ کر بھی مسلمانوں کے لیے  مقدسات ہیں؟ عرب ریاستوں کی جانب سے یکے بعد دیگرے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر بھی  سال بھر فلسطین کا رونا رونے والے  ایمانی غیرت  و حمیت کے علمبردار اور امت مسلمہ کے دردمند  بھی کہیں کھو گئے۔
   پاکستان میں   مختلف  ادوار میں مذہبی طبقہ  سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ دانستہ یا نادانستہ طور پر  پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ  کشیدگی سے  مقامی اور علاقائی  مقتدر حلقوں نے  اپنے  اپنے  سیاسی فوائد  اٹھائے ہیں۔    ریاستی اداروں کی طرف سے حالیہ مہم کے سپانسروں کو طشت از بام کرنا  اور  ملکی سلامتی کے لیے ان کا مقابلہ کرنا  ابھی باقی ہے۔ فرقہ وارانہ قتل و غارت اور مذہبی  دہشت گردی  میں ہزاروں جانیں ضائع کرنے کے باوجود  ملک  میں اس حوالے سے پھر سے ایسے خدشات کا پیدا ہونا   ایک طرف  تمام ذمہ دار ریاستی حلقوں کی جانب سے انتہاپسندی  کے خلاف جنگ جیتنے   کےدعوؤں پر سوال کھڑا کرتا ہے اور دوسری طرف مذہبی طبقے کی ترجیحات کا بھی برملا اظہار ہو رہا ہے کہ ملک میں کمسن بچوں  کے ساتھ زیادتی و قتل، خواتین کے ریپ کے  بڑھتے ہوئے  واقعات  اور سلگتے، سنگین اور زندہ مسائل اور سماجی و اخلاقی بحران    کے بیچ میں مذہبی طبقہ گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب  ہو جاتا ہے ۔  دینی مدارس و مساجد میں پیش آنے والے درندگی کے واقعات پر پتہ بھی نہیں ہلتا ، کراچی بارش میں ڈوب جاتا ہے مگر اس کی کوئی فکر نہیں،  البتہ  لاکھوں  کی تعداد میں جمع ہو کر اشتعال انگیزی کے ذریعے صف بندی کی جاتی ہے اور  فرقہ وارانہ  انتہاپسندی کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے۔  جس سماجی تفریق  و تشدد کی نئی لہر کا خدشہ و خظرہ اب  ظاہر کیا جا رہا ہے، شیعہ کمیونٹی اس سے پہلے نوے کی دہائی کے فرقہ وارانہ قتال  اور حالیہ   دہشت گردی کے خلاف جنگ  کے دوران اس  بھیانک  عفریت  کا سامنا  کر چکی ہے، سینکڑوں بے گناہ افسران، تاجر، وکلا، ڈاکٹر، اساتذہ، فنکار اور طلبہ اور ہزاروں بے گناہ لوگ اس قتل و غارت کا نشانہ بن چکے ہیں۔   اگرچہ   نوے کی دہائی میں ہی شیعہ تنظیم سپاہ محمد کی جانب سے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی اور ان  تنظیموں کے رہنماؤں  اور ان  کی حمایت کرنے والے  مفتیوں اور  مذہبی قائدین کا بھی نشانہ وار قتل ہوا ہے،  البتہ یہ بالکل واضح ہے کہ   اجتماعات  اور عام بے گناہ لوگوں کے نشانہ وار قتل کا سلسلہ یکطرفہ ہی رہا ہے اور کم و بیش ایسے ہی    نشانہ وار تفریق  اور تشدد سے احمدی کمیونٹی پچھلے پچاس اور مسیحی و ہندو کمیونٹی پچھلے تقریبا پچہتر سالوں سے مسلسل گزر رہی ہے۔  ہاں ایک فرق ضرور ہے کہ ہندو اور مسیحی  کم سن اور نوجوان لڑکیاں ہمیشہ "اسلام قبول کر کے"  مسلمان لڑکوں  کے ساتھ بھاگتی رہیں مگر کسی مسیحی یا ہندو لڑکے  سے مسلمان لڑکی کو عشق نہیں ہو سکا۔
کلام، تاریخ اور فقہ کے معاملے میں مسلمانوں کے ہاں ماضی میں بھی اور اب بھی مختلف مکاتب فکر پائے جاتے ہیں تاہم سماجی  تقسیم اور سیاسی غلبے کی حرکیات نے  اکثر اوقات ان مکاتب فکر  کو دست و گریبان ہی کر رکھا ہے۔ پاکستان میں  دینی مدارس ہوں، مساجد ہوں، مجالس و محافل ہوں، یا سیاسی و سماجی تنظیمیں سب فرقہ وارانہ شناخت  کےخانوں میں بٹی ہوئی ہیں۔ سماج میں فرقہ وارانہ سوچ اور مزاج  اتنا رچ بس چکا ہے  کہ قومی درسگاہوں میں داخلے،  امتحانات،ملازمت کے انٹرویوز، تعیناتی، تقرری اور محکمانہ ترقی ،  محکمانہ فرائض کی ادائیگی، منصوبوں اور ٹھیکوں  کی تقسیم ، سیاسی جماعتوں کی جوڑ توڑ، پارلیمانی سیاست اور وزارتوں کی پیشکش  کے لیے   مسلکی وابستگی  عموماً  دیکھی جاتی ہے، اسی  بنیاد پر تفریق کرنا   ایک حق اور فرض سمجھا جاتا ہے۔ ملک میں موجود ستانوے فیصد  مسلم آبادی  کو لگتا ہے  کہ  ان کا ایمان اور اسلام ہر وقت خطرے سے دو چار ہے۔    ایمان و اسلام خطرے میں ہو یا نہ ہو دو سال کے بچے، بچیوں سے لے کر عمر رسیدہ خواتین  اور قبروں میں پہنچی ہوئی لاشوں تک بالکل محفوظ نہیں ہیں۔ انسانوں کے ساتھ  سماجی تفریق، تشدد، قتل ، منافرت کو فرض اور ثواب سمجھ کر جاری رکھنے کے لیے راستہ مذہب سے وابستہ لوگ ہی فراہم کر  رہے ہیں۔    اس سماجی بحران اور اخلاقی دیوالیہ پن کی غذا و فضا مذہب اور مذہبی طبقے سے ہی دستاب ہوتی رہی ہے۔
اگرچہ شخصیات و واقعات کو گزرے چودہ صدیاں گزر چکی ہیں  مگر ان سے جڑی فرقہ وارانہ  عقیدت و حساسیت آج کے زندہ انسانوں کی زندگی کے تقدس و تحفظ کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ اسی لیے شاید اب عرب   ممالک کے معاشروں  نے تقریبا اس ضرر رساں فرقہ وارانہ حساسیت و تنا ؤ سے کافی حد تک جان چھڑالی ہے۔ وہاں ان شخصیات کو  لے کر  عوامی  حلقوں   میں یا عرب سوشل  میڈیا پر  ایسی کوئی سرگرم  فرقہ وارانہ  منافرت نظر نہیں آتی جس پر ہمارے ہاں ’’سر تن سے جدا‘‘ سے کم پر بخشش کی کوئی صورت دکھائی نہیں  دے رہی۔   سماجی و تاریخی تناظر میں جائزہ  لیں تو  آپس میں بٹی ہوئی تاریخی شخصیات  کے معاملے میں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں  ہے کہ ایک کا ولن دوسرے کے لیے ہیرو ہے۔  جہاں  ایک طرف سے کسی ہیروکی تقدیس و تعریف کی جائے  تو یہ  دوسرے فریق کے لیے " نازک مذہبی جذبات"کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے   اور  ایک فریق کے ولن کی توہین دوسرے فریق کے لیے "نازک مذہبی جذبات"کو  بھڑکانے کے مترادف ہے۔ جبکہ یہی شخصیات حجاز، عراق یا شام  میں اپنے مقابر  سے کہیں چودہ صدیاں بعد  زندہ ہو کر آج سامنے آ جائیں  تو اپنے بارے میں سنائی جانے والی کہانیاں اور  ان سے جڑی عقیدتیں اور حرکتیں  دیکھ، سن کر  یہ شخصیات شاید حیرت میں کھو جائیں۔ 
اس بحران کا مستقل  حل کیا ہے؟ اصولی اور مثالی طور پر  پاکستان میں بسنے والے ہر نسلی، لسانی اور مذہبی طبقے کا مکمل تحفظ اسی صورت میں ہے کہ ملک ایک سیکولر جمہوریت کی طرف بڑھے جہاں ریاست کی نظر میں ہر شہری بلا تفریق یکساں حیثیت و مقام اور حقوق رکھتا ہے، اس کی آزادی، ترقی اور محنت  و صلاحیت کی راہ میں اس کی ماں سمجھی جانے والی ریاست ہی  اس کے عقیدہ کو  رکاوٹ نہ بناتی ہو۔   اس حقیقت کو جتنی جلدی تسلیم  کیا جائے اتنی ہی سب کی عافیت اور تحفظ و ترقی ممکن ہے اور جتنی دیر کی جائے اتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ برسوں تک لڑ کر لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنانے والی یورپی اقوام نے سکھ کا سانس تب ہی لیا تھا جب انھوں نے اپنی ریاستوں کو مذہبی تفریق کے بجائے  انسانی مساوات کا پابند کرنے کا فیصلہ کیا تھا  اور انسانی و علاقائی بنیادوں پر یورپی یونین تشکیل دی تھی۔  اب  تو یہ باتیں  افریقی ممالک تیونس و صومالیہ کو بھی سمجھ آگئی ہیں کہ مذہبی ریاست کا لازمی نتیجہ ہر صورت میں استبداد اور استحصال کے طور پر ہی نکلتا ہے  کہ آج جس فرقہ کو  طاقت ملی ہے اس نے ہر معاملے اور ہر مرحلے پر  مخالف فرقوں کا گلہ ہر صورت دبانا ہے کیونکہ اس کو یقین ہے کہ کل کو اس کے ساتھ بھی وہی ہونا ہے ۔ ڈیڑھ سو غیر مسلم ممالک میں رہنے والے  کروڑوں مسلمان مسلم ریاستوں میں زندگی گزارنے کے خواہش مند نظر نہیں آتے،  ہاں ستاون اسلامی ممالک کے  مسلمان شہری  مشرق و مغرب کے ان ممالک میں زندگی گزارنے کا خواب ضرور دیکھتے ہیں جہاں سیکولر ریاستیں ان کے  شہری اور مذہبی حقوق کا مکمل تحفظ کرتی ہوں۔ بھارت کی بیس کروڑ مسلم آبادی اس خدشے سے دوچار ہے کہ کہیں ہندوستان ہندو ریاست نہ بنے۔   اگراپنے ملک  کو مذہبی ریاست بنائے رکھنے میں ہم  اتنے شدید خواہشمند ہیں تو دنیا کے ڈیڑھ سو دیگر ممالک کو بھی یہ حق ضرور دینے  میں اور وہاں دوسرے درجے کے شہری بنے رہنے  میں ہمیں  نہیں ہچکچانا چاہئے جیسے ہم نے ہندو، مسیحی اور احمدی شہریوں کو پاکستان میں بنا رکھا ہے اور اب یہ صف بندی ہو رہی ہے کہ اس Category میں پونے پانچ کروڑ شیعہ شہریوں کو بھی شامل کریں۔ 
   ہم ادھر توے کو دہکتے   چولہے پر رکھ کر یہ توقع کر بیٹھے ہیں کہ  یہ گرم تو  رہے مگر جلائے نہ، بھڑکتی آگ   کے سامنے کھڑے ہاتھوں میں پٹرول لے کر یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا پٹرول پانی والا کردار ادا کرے، تاہم    زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے  فی الحال اس کی امید کرنا  کہ پاکستان جلد ایک سیکولر ریاست بنے شاید  عبث ہو۔ اس لیے عملی طور پر ایک مذہبی ریاست کے لحاظ  سے  ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی  اور سماجی ترقی کے لیے کچھ اقدامات  کی تجاویز دی جا سکتی ہیں۔ چونکہ مذہبی ہم آہنگی سماجی ترقی کے دیگر بنیادی تقاضوں سے جڑی ہوئی ہے اس لیے مذہبی آزادی، سماجی ترقی اور قانون کی بالادستی سےجڑی  مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کرنا   براہ راست یا بلاواسطہ فرقہ وارانہ کشیدگی  کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے:
1. ملک میں فتوی کا اختیار   صرف  اور صرف اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس ہو۔ جو ہر مذہبی مسئلہ میں تمام مکاتب فکر کی  آراء کو سامنے رکھ کر مشترکہ  فتاوی جاری کرے۔ کسی مسئلہ پر  کسی مسلک کا اختلاف ہو تو اسے اخٹلافی نوٹ میں مذکورہ مسئلہ  میں اس مسلک کے ساتھ  ذکر کیا جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل سے جاری کردہ فتوی کی حیثیت قانونی ہو جبکہ اس کے علاوہ کہیں سے بھی  جاری ہونے والے فتوی کو غیر قانونی  قرار دیا جائے۔ 
2. وفاق ہائے مدارس  یا  دیگر ممالک کی درسگاہوں  سے فراغت کے بعد مفتی، امام، خطیب ، ذاکر بننے کے لیے  قانونی طور پر ضروری ہو  کہ باقاعدہ طور پر   جدید سماجی موضوعات پر اضافی  ایک سالہ ہمہ جہتی   تربیت  لی  جائے اور   امتحان دیے اور  لائسنس لیے  بغیر کسی بھی شخص کو  کسی جگہ بھی عوامی پلیٹ فارم پر  مذہبی ذمہ داری سنبھالنے  کی اجازت نہ ہو۔  یہ کام  اسلامی نظریاتی کونسل یا  وزارت مذہبی  امور  و بین المذاہب  ہم آہنگی سرانجام دے سکتی ہے۔  اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہو تو کی جائے۔اس سلسلے میں   ترکی، ایران، عرب ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔   ریاست جس طرح  جہادی تنظیموں سے پرائیویٹ جہاد کو منسوخ کر کے اپنی رٹ قائم کروا سکتی ہے  اسی طرح  فرقہ وارانہ انتہاپسندی میں ملوث گروہوں سے فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھی مستقل ختم کروا سکتی ہے۔
3. قومی سطح پر بین المسالک و بین المذاہب مشترکہ تحقیق و تدریس اور تربیت  و مکالمہ  اور باہمی آمد و رفت کی سرگرمیوں کو مزید بڑھایا جائے۔ انسداد  دہشت گردی  کے لیے متعین کیے جانے والے سالانہ قومی بجٹ کا خطیر حصہ اس کام پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بہتر انسداد ممکن و موثر  اور نہیں ہے۔ 
4. مذہبی ہم آہنگی پر مشتمل مواد کی کتب و جرائد کی نشر و اشاعت  کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جائے۔
5. سول سوسائٹی، غیر سرکاری تنظیموں اور سماجی طبقات کے ساتھ جدید سماجی مسائل و موضوعات پر   دینی مدارس  اور مذہبی تنظیموں کے ساتھ مکالمے کی فضا کو پروان چڑھایا جائے۔ 
6. قومی اداروں، درسگاہوں اور محکموں میں صنف،   مسلک، عقیدہ اور نسل کی بنیاد پر سماجی تفریق سے  نمٹنے کے لیے  پارلیمینٹ میں  قوانین وضع کیے جائیں ۔
7. کمسن بچوں کے ساتھ جنسی  درندگی کے  بڑھتے ہوئے واقعات  کے تناظر میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی ہاسٹل والے  مدرسہ یا سکول میں داخلہ دینے پر پابندی لگا دی جائے۔  بیشک وہ ڈے سکول یا مدرسہ میں بڑھتے رہیں۔ 
8. مذہبی اجتماعات میں لاوڈ سپیکر سے متعلق قوانین  پر عمل در آمد کیا جائے ۔  
9.  اشتعال  انگیز خطیبوں پر عوامی  ومذہبی اجتماعات سے خطاب کرنے پر موثر پابندی عائد کی جائے۔  اشتعال انگیزی کی صورت میں قانون کے مطابق انہیں قانونی گرفت میں لایا جائے۔ 
10. دہشت گردی میں ملوث مذہبی تنظیموں کو بطور جماعت  انتخابات میں حصہ لینے پر  سختی سے پابندی ہو جبکہ  ایسے افراد جن پر  ایسے  الزامات ہوں یا جن سے جرائم  منسوب ہوں ان کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے سکروٹنی کے عمل  کو مزید سخت کیا جائے۔ 
11. سیاسی تنظیمیں، پولیس  اور  میڈیا  سمیت  ہر ادارے  کو مذہبی طبقے کو کسی وقتی ہیجان میں مبتلا کر کے اپنے مقاصد استعمال کرنے کی روش  ترک کرنی ہوگی اور ایسے عناصر کے خلاف بروقت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 
12. ملک میں کھیل کود، تفریح اور فنون لطیفہ کی سرگرمیوں کو تیز اور عام کیا جائے۔
13. ملک میں سائنس، ٹیکنالوجی اور زراعت و صنعت کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کی جائے  تاکہ روزگار کے  مواقع میں اضافہ کیا جا سکے۔
14. نظام تعلیم  میں  نوجوان طبقے کو نوکری سے زیادہ کاروبار و تخلیقی پیداوار  کے طریقے بتائے جائیں۔
15. بے روزگاری میں کمی کے لیے چھوٹی سطح پر گھریلو صنعت اور کاروباری مواقع کو  فروغ دیا جائے ۔
16. تمام شہریوں کے شہری حقوق کے تحفظ کے لیے قانون اور انصاف کے اداروں میں مزید اصلاحات  اور قابل دید اقدامات کیے جائیں۔ 
17. دینی مدارس سمیت سرکاری و نجی درسگاہوں  کے نصاب میں دستور پاکستان، انسانی حقوق کے عالمی چارٹر سمیت  دیگر مفید مواد کا اضافہ کیا جائے  جس سے سماجی تنوع، شخصی آزادی اور صنفی مساوات سے متعلق شہریوں کی تربیت میں مدد ملے ۔ 
18. انتہاپسندی  کے بنیادی اسباب میں سے  جہالت و غربت   بہت اہم ہیں ، اس لیے خاص طور پر دیہی اور دور دراز پسماندہ  علاقوں میں  غربت کے خاتمے اور تعلیم تک رسائی و معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے  وفاقی و صوبائی سطح پر  ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

 
Read 137 times

تازہ مقالے