منگل, 06 أكتوبر 2020 06:30


 
سید ثاقب اکبر نقوی


تحریر: سید ثاقب اکبر
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے 2010کے آخرمیں وحدت اسلامی کی حفاظت کے لیے ایک ایسا تاریخی فتویٰ جاری کیا ہے جس نے عالمی شہرت اور پذیرائی حاصل کی ۔اس سلسلے میں انھوں نے ایک استفتاء کے جواب میں برادران اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے۔ذیل میں مذکورہ استفتاء ، اس کا جواب اور علمائے اسلام کی طرف سے اس کے استقبال کا ایک انتخاب پیش کیا جارہا ہے ۔یہ دستاویز جناب سید ثاقب اکبر کی کتاب امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی سے ماخوذ ہے۔

استفتاء

 سعودی عرب کے شہر ’’الاحساء ‘‘ کے علماء  و  عمائدین نے رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمٰی سے استفتاء کیا ۔ ان کا سوال یہ تھا:
امت اسلامی ایک منظم بحران سے گزر رہی ہے اور یہ بحران اسلامی مکاتب فکر کے پیروکاروں کے درمیان تفرقہ و انتشارکو ہوادیتے ہوئے مسلمانوں کی صفوں میں وحدت کی ترجیحات کو ملحوظ نہ رکھنے کا باعث بن رہا ہے اور یہ مسائل مسلمانوں کے اندرونی اختلافات اور فتنوں کی بنیاد بن رہے ہیں، ان کی وجہ سے وہ مسائل متاثرہورہے ہیں جو امت اسلامیہ کے لیے سرنوشت سازاور حساس ہیں۔ ان کے باعث اسلامی جدوجہد میں رخنہ پڑرہا ہے۔ اس انتہا پسندانہ روش کے نتیجے میں ارادی طور پر سنی مکتب کی علامتوں اور مقدسات کی مسلسل توہین ہورہی ہے۔ ان مسائل کے پیش نظر بعض سیٹلائٹ چینلزاور انٹرنیٹ ویب سائٹس پر علم و دانش سے منسوب بعض افراد کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زوجہ ام المؤمنین حضرت عائشہ کے بارے میں ایسے بھونڈے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن سے ازواج النبیؐ کی صریح اہانت ہوتی ہے اور جو امہات المؤمنین کے شرف کے منافی ہیں  ان کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
ہم آپ سے امید کرتے ہیں کہ آپ اسلامی معاشروں میں اضطراب کا سبب بننے والے مسائل اور مکتب اہل البیت علیہم السلام کی پیروی کرنے والے مسلمانوں سمیت دوسرے مسلمانوںپر نفسیاتی دباؤ کا موجب بننے والے مسائل کے بارے میں واضح شرعی موقف بیان فرمائیں گے جبکہ آپ جانتے ہیں کہ بعض فتنہ پرور عناصر بعض سیٹلائٹ چینلز اور انٹرنیٹ ویب سائٹس پر اسلامی دنیا کو آشوب زدہ کرکے مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔آخر میں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کی عزت کودوام بخشے اور آپ کو اسلام اور مسلمانوںکے لئے ذخیرہ قرار دے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا فتویٰ
اس سوال کے جواب میں آیۃ اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے ایک تاریخی فتویٰ جاری کیا۔ جس کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی اور اکابر شیعہ و سنی علماء نے اس فتویٰ کی تائید کی۔ آپ نے یہ فتویٰ جاری کیا:
برادران اہل سنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے چہ جائیکہ بالخصوص زوجہ رسولؐ پر تہمت لگائی جائے جس سے ان کے شرف وعزت پر حرف آتا ہو بلکہ تمام انبیاء کی اورخصوصاً سید الانبیاءؐ کی ازواج کی توہین ممنوع ہے۔
عالم اسلام کے بہت سے بزرگ علماء اور دینی شخصیات نے اس فتویٰ کی پرزور تائید کی۔ ذیل میں چند ایک کا ذکر ہم بطورِ نمونہ کررہے ہیں۔
شیخ الازہر کی طرف سے فتویٰ کی حمایت
مصر میں اسلامی علوم کی عالمی یونیورسٹی جامعۃ الازہرکے چانسلر ڈاکٹر احمد طیب نے صحابہؓ اور ازواج رسولؐ کی توہین کے حوالے سے آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے فتوے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا فتویٰ دراڑیں پڑنے کا سدباب کرنے اورفتنوں کے دروازے بند کرنے کیلئے بہت مفید اور بروقت ہے۔
ڈاکٹراحمد الطیب نے لکھا :
 میں نے تحسین و تمجید کے ساتھ صحابہ رضوان اللہ علیہم کی توہین کی حرمت کے سلسلے میں حضرت امام علی الخامنہ ای کا مبارک فتوی وصول کیا؛ یہ ایسا فتوی ہے جو صحیح دانش اوراہل فتنہ کی طرف سے انجام پانے والے اعمال کی خطر آفرینی کے گہرے ادراک کی بنیاد پر جاری ہوا ہے اورمسلمانوں کے درمیان وحدت و یکجہتی کے لیے ان کے اشتیاق کی علامت ہے۔
 جو چیز اس فتوے کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ فتوی مسلمانان عالم کے بزرگ علماء میں سے ایک عالم دین، عالم تشیع کے بزرگ مراجع میں سے ایک مرجع اوراسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ ترین رہبر کی جانب سے صادر ہوا ہے۔
 میں اپنے علمی مقام اور جو شرعی ذمہ داری،  میرے دوش پر ہے،  کی بنا پر کہتا ہوں کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے لیے کوشش واجب ہے اور اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان اختلاف ان مذاہب کے علماء اورصاحبان رائے کی حد تک محدود رہنا چاہیے اوراس اختلاف کو امت اسلامی کی وحدت کے لیے نقصان دہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 
وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْھَبَ رِیْحُکُمْ وَ اصْبِرُوْااِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ
میں اسی طرح اعلان کرتا ہوں کہ جو شخص مسلمانوں کے درمیان اختلاف اورتفرقہ ڈالے وہ گنہگارہے نیزعذاب الٰہی اور عوام کی جانب سے دھتکارے جانے کا مستحق ہے۔
شیخ الازہر نے اللہ کی بارگاہ میں التجا کی کہ حضرت امام خامنہ ای کے اس مبارک فتوے کو خیر و نیکی کاآغاز اور مسلمانوں کے متحد ہونے کی بنیاد قرار دے اور خدا کرے کہ غلو یا افراط اورزیادہ روی کی طرف دعوت دینے والے افراد کی دعوت لوگوں کی توجہ کے لائق نہ ٹھہرے۔
ڈاکٹر سید الطیب نے مسلمانوں کو دعوت دی کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں اور انتشار سے بچے رہیں۔
 آیت اللہ نمازی کی تائید
آیت اللہ نمازی نے اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دینے کے سلسلے میں رہبر انقلاب کے فتویٰ کے بارے میں کہا: آپ کے فتویٰ نے وحدت کے دشمن انتہا پسندوں اورشیعہ سنی کے درمیان اختلاف ڈالنے کی صہیونی سازش کو ناکام بنادیاہے۔
آیت اللہ نمازی نے کہا: آپ کے فتویٰ کا مقصد سنی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کا قیام ہے اور اسی بات پرامام خمینیؒ بھی تاکید فرمایا کرتے تھے۔
ایران کی خبر گان قیادت کونسل کے رکن آیت اللہ نمازی نے کہا: شیعہ اور سنی بہت سے مسائل میں متفق الرائے ہیں اور انھیں اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف متحد اور ہم فکر ہونا چاہیے۔
 محمد رفاعہ طہطاوی کی طرف سے خیر مقدم
قاہرہ میں تقریب بین المذاہب کے محقق’’محمد رفاعہ الطہطاوی نے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے پروگرام ’’وراء الاخبار‘‘ میں آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے فتوی کے حوالے سے ان کا شکریہ ادا کیا اورکہا: بحیثیت عظیم اسلامی عالم اورقائد، ان کی طرف سے یہ اقدام بہت زیادہ لائق توجہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا یہ فتویٰ فتنے کی آگ پر ٹھنڈے پانی کی مانند مؤثر ہے ؛یہ ایک درست فتویٰ ہے جو موثر ترین شیعہ راہنما کی جانب سے صادر ہوا۔
انھوں نے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ اسلامی رجحانات کے حوالے سے معروف ومشہور ہیں جو ایک عظیم اسلامی مملکت پر حکومت کررہے ہیں اوراس میں شک نہیں ہے کہ ان کا فتویٰ عالم اسلام کی وحدت ویکجہتی میں بہت زیادہ موثر کردار ادا کرے گا۔
 لبنان کی جماعت علمائے مسلمین کا موقف
لبنان کی جماعت علمائے مسلمین کے ترجمان شیخ محمد عمرو نے بھی فتنہ کی آنکھ پھوڑنے میں آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے فتوی کے موثر کردار پر زور دیا اور کہا: شیعہ اور سنی کے درمیان تنائو ایک سیاسی مسئلہ ہے اوراس کا اسلام کے دینی اصولوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو اختلافات اس وقت ابھارے جارہے ہیں سب سیاسی اختلافات ہیں جو عالم اسلام کے اندر ہی بعض افراد کے اعمال کی دستاویز بنے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ فتنہ انگیزی میں بیرونی استعمار کا کردار بھی قابل غور ہے اور علاقے میں حالیہ جنگ کے بعد اورعراق میں امریکی افواج کے داخلے کے بعد یہ مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ ابھر کر سامنے آیا ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات مسلمانوں کے درمیان اندرونی اختلافات کے مرہون منت ہیں جبکہ کم ازکم 90 فیصد شیعہ اورسنی مسلمان وحدت و یکجہتی کے قیام اوراختلافات سے دوری اوراجتناب کے خواہاں ہیں۔ چنانچہ باقی ماندہ 10فیصد اختلاف پسند عناصر کو مسلمانوں کے تمام امورکی باگ ڈور سنبھالنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
شیخ عمرو نے کہا: 
انقلاب اسلامی کے رہبر کا فتویٰ ایک فقہی اور سیاسی فتوی ہے بایں معنی کا اہل تشیع خواہ امام خامنہ ای کے مقلدنہ بھی ہوں اس پر عمل کرنے کے پابند ہوجاتے ہیں۔یہ فتوی فتنہ پروروں اور اغیار کے غصے سے مرجانے کا باعث ہے۔
 لبنان کے شیخ ماہر مزہر کی تائید
لبنان کی تحریک مزاحمت کے حامی سنی علماء بورڈ کے سربراہ ’’شیخ ماہرمزہر‘‘  نے ایک بیان میں کہا: آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا فتوی امت اسلامی کے قائد وپیشوا کی حیثیت سے آپ کی حکمت، علم و دانش اور اعلیٰ درجے کے ایمان کی علامت ہے کیونکہ اسلامی امہ کا امام وہ ہے جو امت کے درمیان اتحاد ویکجہتی قائم کرکے دشمنوں کو فتنہ انگیزی نہ کرنے دے ۔آپ کا یہ فتویٰ اس بات کا سبب بنا کہ اہل فتنہ اورغیر قوتیں غصے سے مر جائیں۔
لبنان کے رہنما مصطفی علی حسین کی تائید
لبنان کی عوامی علوی تحریک کے سربراہ مصطفی علی حسین نے بھی آیۃ اللہ خامنہ ای کے فتوی کی تعریف کرتے ہوئے کہا: آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ثابت کیا کہ وہ  امت اسلامی کے عظیم رہبراورامام ہیں اوراعلیٰ ذکاوت ، استعداد، قابلیت اور عظیم فکر کے مالک ہیں۔
امل محاذ کی طرف سے استقبال
لبنان کے امل محاذ نے بھی اپنے بیان میں رہبر معظم کے فتویٰ کا خیر مقدم کیا اور کہا: عظیم ترین شیعہ دینی، روحانی اور سیاسی مرجع کی جانب سے اس فتویٰ سمیت لبنان، خلیج فارس کے کنارے واقع ممالک کے شیعہ مراجع اور علماء کی جانب سے اسی قسم کے فتوے مسلمانوں کی یکجہتی اور اتحاد کی تقویت کا سبب بنے اور اغیار کے جاسوسی اداروں خاص طور پر صہیونی ریاست کے بدنام زمانہ جاسوسی اداروں کی ہدایت پر اٹھنے والے فتنوں کی نابودی کا سبب ہوئے۔
اخوان المسلمین اردن کا خیر مقدم
اردن کی جماعت اخوان المسلمین نے ازواج النبیؐ کی حرمت کے حوالے سے آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے فتویٰ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام نہایت قابل قدر ہے اوراس فتوی نے مسلمانان عالم کے اتحاد کا تحفظ کرنے اورمذہبی فتنوں کا سد باب کرنے میں اہم کردارادا کیاہے۔اس فتویٰ پر توجہ مرکوز رکھنا اتحاد بین المسلمین کے لیے ضروری ہے۔
جماعت اخوان المسلمین اردن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی یادداشت میں اس جماعت کے رہنما ’’ڈاکٹر ہمام سعید‘‘ نے کہا کہ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شیعیان اہل بیت کے اعلی ترین دینی مرجع کی حیثیت سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج اور اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دیا ہے اور میں ان کے اس اقدام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ڈاکٹر ہمام سعید نے اس فتوی کو وحدت مسلمین کے تحفظ اور مذہبی فتنے کے سد باب کے لئے بہت اہم قرار دیا اور اسلامی امّہ سے اپیل کی ہے کہ عالم اسلام کی دشمن نمبر۱صہیونی ریاست اور اس کے حامی امریکہ کے خلاف متحد ہوجائیں۔انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے لئے گھات لگائے دشمن مسلمانوں کو دست بگریباں کرنے کی غرض سے فتنوں کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں اور معاندانہ سازشوں پر عمل پیرا ہو کر اپنے مذموم مقاصد تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
 آیۃ اللہ سیستانی کے دفتر کا اعلامیہ
2010کے آخر ہی میں آیۃ اللہ العظمیٰ سیستانی کے دفترواقع نجف اشرف نے بھی بہت اہم اعلان جاری کیا تھا۔اس کے عربی متن کا ترجمہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے:
امت اسلامیہ اس وقت مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ ان میں اُسے ایسے چیلنجز درپیش ہیں جنھوں نے اُس کے مستقبل کو خطرات سے دوچار کررکھا ہے۔ اس وقت اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی صفوں کو مضبوط کریں اور گروہی و مذہبی اختلافات سے اجتناب کریں۔ یہ اختلافات صدیوں سے چلے آرہے ہیں اور ان کے حل کی کوئی ایسی سبیل پیدا نہیں ہورہی جس پر سب کا اتفاق ہوسکے لہٰذا سوائے مضبوط علمی ماحول کے ان پر بحث سے گریز کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر اس لیے کہ ان کا دین کے اصولوں اور بنیادی عقائد سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ سب مسلمان خدائے واحد، نبی مصطفیؐ کی رسالت اورآخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ سب قرآن جسے اللہ نے تحریف سے محفوظ رکھا ہے اور سنت نبوی شریف کو احکام شریعت کا سرچشمہ جانتے ہیں۔ علاوہ ازیں محبت اہل بیت اور ایسے دیگر امور جن پر تمام اہل سنت بھی اعتقاد رکھتے ہیںسب کے نزدیک مشترک ہیں۔ یہی صورت حال نماز، روزہ اور حج جیسے ارکان اسلام کے بارے میں ہے۔ یہ مشترکہ وحدتِ اسلامی کی بنیاد ہیں۔ لہٰذا ان پر ارتکاز نظر ضروری ہے تاکہ فرزندان امت کے مابین محبت والفت پیدا ہو۔ کم ازکم انھیں ایسی عملی زندگی گزارنا چاہیے جو امن وسلامتی کی حامل ہو اور جو باہمی احترام پر مبنی ہو اور جو مذہبی اور گروہی تنازعات سے پاک ہو۔
ہر کوئی جو اسلام اورمسلمانوں کی سربلندی اور ترقی کی تڑپ رکھتا ہے اُسے اپنی تمام تر توانائی مسلمانوں کے مابین قربت اور ہم آہنگی کے لیے بروئے کار لانا چاہیے نیز اُسے چاہیے کہ اس میں سیاست بازی کی دخالت کو کم کرنے کی کوشش کرے تاکہ امت مزید فرقہ واریت سے بچے اور دشمنوں اور حریص قوتوں کو مسلمان ممالک میں اثرو نفود اور ان کے وسائل پر غلبے کا موقع نہ مل سکے۔
یہ بات باعث افسوس ہے کہ بعض لوگ اور گروہ بالکل اس کے برخلاف کام کرتے ہیں اورتفرقہ انگیزی، تفریق اور مسلمانوں کے مابین موجود اختلافات کو گہرا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں علاقے میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور ان قوتوں کے مابین اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے شروع ہونے والی رسہ کشی کے بعد ایسی کوششوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ان لوگوں نے اپنی تقریروں میں مذہبی اختلافات کو زیادہ اجاگر کرنا اورپھیلانا شروع کردیا ہے بلکہ یہ لوگ ان اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے لگے ہیں۔ اس کے لیے یہ لوگ دسیسہ کاری اور بہتان کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ کسی خاص مذہب کے خلاف توہین آمیز باتیں کرتے ہیں اوراس کے پیروکاروں کے حقوق کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دوسروں کو اُن سے خوفزدہ کرتے ہیں۔
ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے یہ لوگ الیکٹرانک میڈیا، انٹرنیٹ اور رسائل وجرائد وغیرہ سے کام لے رہے ہیں۔ حال ہی میں ان میں سے بعض افراد نے کھلم کھلا بعض غیر مشہور فتاویٰ کو بعض اسلامی مکاتب فکر کی اہانت کے لیے غلط طور پر استعمال کیا ہے اور انھیں آیت اللہ سیستانی سے منسوب کیا ہے۔ ان کا مقصد دینی مرجعیت کے مقام کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ لوگ اپنے معین مقاصد کے لیے گروہی اختلافات کو بڑھانا چاہتے ہیں بلاشتہ جناب  سید سیستانی دام ظلہ کے فتاویٰ ان کے توثیق شدہ مصادر میں موجود ہیں۔ ان میں ان کے فتاوی کی معروف کتب شامل ہیں جو اُن کی مہر کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں۔ ان میں مسلمانوں کے تمام مذاہب و فرق میں سے کسی کی بھی ہر گز توہین موجود نہیں ہے۔جو ان سے ادنی واقفیت بھی رکھتا ہے وہ اس کے جھوٹ کو جانتا ہے اور وہ اس کے خلاف واقعہ ہونے کا اعلان کرے گا۔ مزید برآں جناب سیستانی کا نقطۂ نظر اورآپ نے جو بیانات گذشتہ چند سالوں میں مجروح عراق جن حالات سے گزر رہا ہے کے بارے میں جاری کیے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں۔ ان میں انھوں نے اپنے پیروکاروں اور مقلدین کو نصیحت کی ہے کہ وہ اپنے اہل سنت بھائیوں کے ساتھ محبت اورباہمی احترام کے ساتھ زندگی گزاریں۔ انھوں نے بار بار اس امر کی تاکید کی ہے کہ ہر مسلمان چاہے وہ سنی ہو یا شیعہ اس کا خون حرمت رکھتا ہے نیزاس کی عزت اور مال بھی حرمت رکھتا ہے اور انھوں نے ہراُس شخص سے برأت اختیار کی ہے جو ایسا خون بہاتا ہے جسے حرمت حاصل ہے چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ ان سب باتوں سے دینی مرجعیت کا منہج اس حوالے سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ دیگر فرقوں کے ساتھ کیسا تعلق ہونا چاہیے اور ان کے بارے میں دینی مرجعیت کی رائے بھی بالکل واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے۔
تمام لوگ مختلف مکتب فکر رکھنے والوں سے یہی رویہ اختیار کرتے تو آج حالات اس مقام پر نہ پہنچ گئے ہوتے کہ جن میں ہرجگہ اندھی دشمنی کا سلسلہ جاری ہے اور نتیجۃً بچوں، بوڑھوں اورحاملہ عورتوں تک کا بلا استثنیٰ بہیمانہ قتل جاری ہے۔ ہم اس کی شکایت اپنے اللہ ہی سے کرتے ہیں۔ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ ہم سب سے وہ کام لے جس میں اس امت کی خیر وصلاح ہو، بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی کا نقطۂ نظر
آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی نے اتوار (3اکتوبر2010) کے روز فقہ کے درس خارج میں شریک علماء و فضلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
 ’’آپ سب نے سنا کہ حال ہی میں لندن میں مقیم ایک ان پڑھ مولوی نما شخص شیعہ کے نام سے بعض مذاہب کے مقدسات کی توہین کا مرتکب ہوا ہے، اس  نے ازواج النبیؐ میں سے ایک کو بعض عجیب ناروا تہمتوں کا نشانہ بنایا ہے اوربعض ازواج کو سب و شتم اوردشنام طرازی کا نشانہ بنایا ہے۔‘‘
انھوں نے کہا:
’’اس طرح کے افراد مذہب شیعہ کے نمائندے نہیں ہیں، یہ شخص ایجنٹ یا مامور ہے یا پھر سفیہ اور دیوانہ ہے۔۔۔ سینکڑوںشیعہ علماء نے ایران، لبنان، عرب ممالک اوریورپ میں اس عالم نما شخص کی باتوں کی مذمت کی ہے اور سب نے یہی کہا ہے کہ وہ ایک سفیہ اور نادان شخص ہے۔میں نے عقائد ،تفسیر اور دیگر علوم میں 140سے زائد کتابیں لکھی ہیں جن میں ازواج النبیؐ کے خلاف ناجائز بہتان تراشی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ہم سب نے اس شخص کی مذمت کی اور ہم نے کہا ہے کہ ہم ازواج النبیؐ کی کسی قسم کی توہین جائز نہیں سمجھتے کیونکہ یہ رسول اللہؐ کی بالواسطہ توہین ہے۔‘‘
حوزہ علمیہ قم کے مدرسین کی تنظیم کا نقطۂ نظر
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے ایک رکن نے کہا کہ اس تنظیم نے تشیع کا ترجمان بننے کی کوشش کرنے والے ایک عالم نما شخص کی طرف سے ازواج النبیؐ میں سے بعض کی بھونڈی توہین کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین سید احمد خاتمی نے اس فورم کے حالیہ اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: 
حالیہ اجلاس میں دشمنان اسلام کی جانب سے عالم اسلام میں تفرقہ اور شیعہ وسنی کے درمیان اختلاف ڈالنے کی سازش پر غور کیا گیا ۔
انھوں نے مزید کہا:
 بعض ویب سائٹس بعض غیر صالح اور نااہل اشخاص سے ناجائز فائدے اٹھاتی ہیں جن کا علمی میدان میں نہ کوئی ماضی ہے اور نہ ہی مستقبل تاہم انھوں نے اپنے آپ کو تشیع کی ترجمانی کے مقام پر تصور کیا ہوا ہے اور وہ لندن میں بیٹھ کر رسول اللہؐ  کی بعض ازواج کو فحشاء کی جھوٹی اور بھونڈی نسبت دیتے ہیں جس کے سلسلے میں چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے:
٭ یہ پوری طرح انگریز سرکار کی سازش ہے اور اس خائن حکومت کا ماضی تفرقہ اندازی کے حوالے سے رسوائی کی حد تک سازشوں سے بھرا پڑا ہے۔
٭ یہ سازش تشیع کا چہرہ بگاڑنے کی غرض سے مرتب کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا: جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم صراحت کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ:
٭ شیعہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ازواج  کی طرف  فحشاء کی نسبت کو غلط اور نادرست سمجھتے ہیں اور شیعہ علماء نے سورہ نور میں "افک" کے قصے کے حوالے سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج کو فحشاء کے بہتان سے مکمل طور پر پاک قرار دیا ہے۔ 
حجت الاسلام و المسلمین خاتمی نے مزید کہا:
یہ سازش شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف ڈالنے کے لئے ہونے والی سلسلہ وار سازشوں کا حصہ ہے اور یہ بہت پرانا حربہ ہے جو دشمنان اسلام کے زیر استعمال رہا ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ مسلمانوں کی ذکاوت و ذہانت اس سازش کو ناکام بنا سکتی ہے۔ 

 
*****
نوٹ:
مذکورہ بالا تمام مواد (سوائے آیت اللہ سیستانی کے دفتر کے اعلامیے کے) مجمع تقریب بین المذاہب الاسلامیہ کی ویب سائٹ سے حاصل کیا گیا ہے۔ آیت اللہ سیستانی اورآپ کے دفتر کا موقف جاننے کے لیے ان کی اپنی ویب سائٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ دیگر شیعہ مراجع کی بھی اپنی ویب سائٹس ہیں جو اس حوالے سے قابل استفادہ ہیں۔

 
Read 130 times

تازہ مقالے